شاعر نے کہا تھا— اور شاعروں کو تلامیذ الرحمٰن بھی کہا جاتا ہے:
زندگی کیا ہے؟ عناصر میں ظہورِ ترتیب
موت کیا ہے؟ انہیں اجزاء کا پریشاں ہونا
یہ کلیہ ، یہ مشاہدہ ظاہری زندگی ہی پر موقوف نہیں، بلکہ معنوی زندگی پر، روحانی زندگی پر بھی درست پایا گیا ہے۔ افکار میں ترتیب انسان کو مفکر بناتی ، الفاظ میں ترتیب اسے ادیب بناتی ہے، اور الفاظ، افکار اور جذبات ہم آہنگ ہو جائیں تو اسے شاعر کہتے ہیں۔
افکار کی ترتیب کسی الہامی ہدایت کے تابع ہو جائے تو اسے عقیدہ کہتے ہیں۔ عقیدہ افکار کو رفعت آشنا کرتا ہے۔ زمینی علم اور آسمانی ہدایت جب ایک خاص حسنِ ترتیب اختیار کرتے ہیں تو انسان پر رموزِ تصوف آشکار ہوتے ہیں۔ یہاں علم اور عمل میں ایسی ترتیب کا تقاضا کیا جاتا ہے کہ عمل ہر آن علم کے تابع رہے۔ کوئی حال ایسا نہ گزرے کہ عمل علم کی تجویز شدہ ترتیب سے تجاوز کرے، سرتابی کرے، یا کسی کوتاہی کا مرتکب ہو۔ یہاں عمل سے پہلے خیال پر گرفت کی جاتی ہے۔ خیال اگر بے ترتیب ہو گیا، تو سمجھو صاحبِ خیال اپنے حال سے گیا۔ حق کو ناحق اور ناحق کو حق سمجھنا تو ُدور کی بات، اگر ایسا سوچا بھی تو حق پامال ہوگیا۔ یہاں شرکت میانِ حق وباطل قبول نہیں کی جاتی۔ یہاں قبولیت اور مقبولیت کو گڈ مڈ نہیں کیا جاتا۔ یہاں فرض کے نام پر احسان سے روگردانی کرنے کا رواج نہیں۔ یہاں نوافل سے کم درجے پر بات نہیں کی جاتی۔ نوافل سے مراد انسانوں کے وہ حقوق ادا کرنا ہیں جو قانون کی کتابوں میں درج ہی نہیں — اور یہ اسی صورت ممکن پذیر ہوتے ہیں جب رب کا جلوہ ہر آن مشاہدے کے پردہِ بصارت پر متجلٰی ہو— ” احسان یہ ہے کہ تُو اپنے رب کی عبادت اس طرح کرے جیسے تُو اسے دیکھ رہا ہو”
ہماری زندگی میں ترتیب اسے پُرمعنی بناتی ہے— اور بے ترتیبی اس سے معنویت اور معنویت کا شعور چھین لیتی ہے۔ کائنات سے قبل سب کچھ “ھباء” تھا — بکھرا ہوا دھواں — زمان ومکاں میں ترتیب مفقود تھی— خالقِ کائنات نے حرفِ کُن کہا اور سب کچھ ترتیب میں آگیا — ایک حرفِ کُن کے اندر عناصر میں ظہورِ ترتیب کا اذن موجود تھا — اور یہ کائنات ترتیب آشنا ہوتے ہی ظہور پذیر ہونا شروع ہوگئی۔ کائنات زمان و مکاں میں ترتیب ہی کا نام ہے، اور قیامت اس ترتیب کے برہم ہو جانے کا نام ہے۔ لفظی اعتبار سے بھی دیکھا جائے تو کائنات (کوسموس) cosmos ، افرتفری وبے ترتیبی (کیووس) chaos کا اُلٹ لفظ ہے۔ گویا بے ترتیب وجود کو ترتیب آشنا کر دیا جائے تو کائناتِ حسن آشکار ہو جاتی ہے۔ راقم کی پہلی کتاب “پہلی کرن” مطبوعہ 1987ء میں، کائنات کی ترتیب کے حوالے سے ایک جملہ رقم ہوا، اور بہت معروف ہوا۔ جملہ یوں تھا: “یہ کائنات ایک حادثہ نہیں — حادثے میں اس قدر حسن نہیں ہوتا— کیونکہ حسن، حسنِ ترتیب کا نام ہے —اور حادثہ کسی ترتیب کے بکھر جانے کا نام!”۔ اس کتاب کو یہ اعزاز حاصل رہا کہ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ کے حکم پر اشاعت پذیر ہوئی اور اس کا ایک ایک جملہ آپؒ کے دستِ مبارک سے اصلاح شدہ ہے۔ سوشل میڈیا کی ایجاد سے بعض اوقات حوالوں کی ترتیب تبدیل ہو جاتی ہے، پھر ہوا یوں کہ کسی دوست نے اس جملے کی نسبت حضرتِ واصفؒ کی طرف منسوب کی، اور سوشل میڈیا کے انجن پر چلا دیا— اور پھر چل سو چل! ایک مرید اور شاگرد کی حیثیت سے میرے لیے بڑا اعزاز ہے کہ مجھ ایسے ناقص کی کوئی تحریر مرشد کے خوشبودار نام کے ساتھ منسوب ہو جائے — یہ نسبت کے اَمر ہونے کی دلیل بھی ہے۔ بحمدللہ، ثم الحمد للہ! یہ نکتہِ حمد آج کے نوجوان کے لیے اس مثال سے فہم آشنا کیا جا سکتا ہے: پکاسو کے شاگرد کے لیے اس سے بڑا اعزاز کیا ہو سکتا ہے کہ کوئی اس کی پینٹنگ دیکھے اور کہے یہ تمہارا نہیں ، تمہارے استاد کا شاہکار ہے۔ تعلیٰ کے لیے نہیں، ریکارڈ کی درستی کے لیے اس موقع پر یہ اظہار یوں ضروری تھا۔ حسنِ ترتیب اور حسنِ ادب یہی ہے کہ اللہ کے کلام کو قرآن کہا جائے، رسولِ کریمؐ کے کلام کو حدیث، اولیاء اللہ کے کلام کو ملفوظات اور دانشوروں کے جملوں کو اقوال سے موسوم کیا جائے۔ ایک ناقص جملہ کامل ذات کی طرف منسوب نہ ہونا چاہیے۔ شاگرد ناقص ہے ، استاد کامل!
آمدم برسرِ مطلب! لفظوں میں ترتیب ، افکار میں ترتیب، افکار کے اظہار میں ترتیب زندگی کو معنویت عطا کرتی ہے اور یہ ترتیب برہم ہو جائے تو معنویت خاک میں مل جاتی ہے۔ الفاظ اور جذبات اگر اپنے اظہار میں ترتیب کھو دیں تو انسان بے ادب کہلاتا ہے۔ ضبط— لفظوں میں ترتیب پیدا کرنے کا ہنر ہے۔ لفظوں کی نشست و برخاست بے ترتیب ہو جائے تو کئی نشستیں برخاست ہو جاتی ہیں۔
ترتیب زندگی کے ہر شعبے میں اہم ہے۔ عبادت بھی ترتیب مانگتی ہے۔ ہر وقت کی ایک عبادت ہے اور ہر عبادت کا ایک وقت ہے۔ حج ، اپنے ہی وقت پر ہوگا۔ روزہ رمضان کے مہینے میں فرض ہوگا۔ ہر نماز کا ایک مخصوص وقت ہے—وقت نکل گیا، نماز قضا ۔ فجر سورج نکلنے سے پہلے ہے ، مغرب ڈوبنے کے بعد۔ زکوٰاۃ ادا کرنے کی بھی ایک ترتیب بتا دی گئی ہے — پہلے اپنے مستحق اعزاء واقرباء، پھر آس پاس محلے دار— پھر کوئی اور! خدمت سے لے کر نصیحت تک ہر جگہ “اوّل خویش بعد درویش ” کالائحہِ عمل ہی قابلِ عمل ہے۔
آداب کے میدان میں بھی ترتیب درکار ہے۔ ٹوپی کی جگہ سر ہے، اور جراب اور موزے پاؤں کے لیے ۔ والدین سَر کا تاج ہوتے ہیں، جائے عزت واحترام میں اُن کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا— والدین اپنے بچوں کے لیے مقامِ احسان کی جگہ پر ہیں — جہاں احسان نافذ ہو جائے ، وہاں فرائض کے نام پر راہِ فرار اختیار نہیں کی جا سکتی۔ بھائی بہنوں کی جگہ دوست نہیں لے سکتے۔ ہر رشے کا ایک الگ ادب ہے ، الگ مقام ہے۔ رشتوں میں ادب کے باب میں یہ ترتیب ، بلکہ حسنِ ترتیب، خالق و مالک نے عطا کی ہے۔ننھیال اور ددھیال ، میکہ اور سسرال ( نسباً وّ صہراء)اسی کے مقرر کردہ ہیں۔
اسی طرح ہماری عقیدتیں بھی ایک ترتیب طلب کرتی ہیں— تا آن کہ ہمارا عقیدہ درست رہے۔ توحید کی جگہ رسالت، اور رسالت کی جگہ ولایت نہیں لے سکتی۔ ہر دائرے کا ایک الگ مقام، تقدس اور تشخص ہے۔ نصاب میں مقرر ترتیب ترک ہو جائے تو عقیدہ بے ترتیب ہو جاتا ہے۔ہر مقام کی ایک عقیدت ہےاور ہر عقیدت کا ایک مقام ہے۔عقیدتوں کے باب میں حسنِ ترتیب برقرار رہے تو ہی وہ آفاقی پیغام ہمارے گوشِ شعور تک آتا ہے جو اللہ مالک الملک نے بذریہ رسالت، بواسطہ ولایت ہمیں ارسال کیا ہے۔ انبیاء سب کے سب برحق ہیں، ہم ان میں سے کسی کی تفریق نہیں کرتے ، یعنی یہود و نصاریٰ کی طرح کسی کو منفی نہیں کرتے ، لیکن اللہ ہی کا ارشاد ہے کہ ” یہ سب رسول ہیں، ہم نے ان میں بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے”۔ اب اگر کوئی شخص یہ کہے کہ پیغمبرِ آخرالزماں حضرت محمد مصطفیٰﷺکو سب نبیوں کا امام نہ کہیں ، انہیں سب نبیوں سے افضل نہ جانیں ، اس سے دوسری اُمتیں ناراض ہو جاتی ہیں، تفریق پیدا ہو جاتی ہے، اتحاد بین المذاہب خطرے میں پڑ جاتا ہے، اس لیے سب نبیوں کو برابر کہیں— تو یہ بات افضلیت کی ترتیب کے خلاف ہے۔ یہ بات خلافِ عدل ہے۔ عدل ہر شے کو اس کے درست مقام پر رکھنے کا نام ہے۔ آدم ؑصفی اللہ ہیں، نوحؑ نجی اللہ ہیں، ابراہیمؑ خلیل اللہ ہیں، اسماعیلؑ ذبیح اللہ ہیں، عیسیٰؑ روح اللہ ہیں— اور ہمارے رسولِ کریمﷺ رسول اللہ ہیں — اللہ کے آخری رسول ، اللہ کے محبوب ہیں —جامع ، کامل اور مکمل ہدایت لے کر آنے والے نبی — خاتم النّبییّن ہیں— اب قیامت تک کسی اور نبی کی بعثت خارج اَز اِمکان ہے ، خارج اَز بحث ہے۔ فضیلتِ رسولِ کریمؐ کا اقرار، درحقیقت ختمِ نبوّت ؐ کا اعلان ہے۔ ہر نبی کا مقام الگ ، تشخص الگ اور بابِ فضیلت جدا ہے۔ اسی طرح ولایت کے باب میں بھی ترتیب کا اقرار اور اظہار لازم ہے— بصورتِ دیگر ہمارے لیے ولایت قابلِ عمل راہِ فکرو عمل کی بجائے ایک نظری بحث بن کر رہ جاتی ہے۔
بہرطور ترتیب ،ترتیب ہے۔ترتیب میں حسن ہے اور حسن میں ترتیب۔ ترتیب عناصر میں ہو توزندگی ہے، الفاظ میں ہو تو ادب ہے، افکار میں ہو تو معنویت ہے، عقیدتوں میں ہو تو صحتِ عقیدہ ہے، عمل میں ہو تو حسنِ کردار ہے — اور عبادت میں ہو تو چہرے کا نور ہے۔ ترتیب تعلق سے پیداہوتی ہے۔ تعلق قائم ہو تو ترتیب دائم رہتی ہے — تعلق برہم ہو جائے تو ترتیب درہم ہو جاتی ہے۔ وما علینا الّا البلاغ!
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں