• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • گلگت بلتستان میں اقوام متحدہ  کی قراردادوں کی خلاف ورزیاں اور قومی تحریکوں کی ناکامی کی وجوہات/شیر علی انجم

گلگت بلتستان میں اقوام متحدہ  کی قراردادوں کی خلاف ورزیاں اور قومی تحریکوں کی ناکامی کی وجوہات/شیر علی انجم

پاکستان کی خارجہ پالیسی میں مسئلہ کشمیر کو ایک مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق،ریاست جموں کے عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق حاصل ہے، اور پاکستان نے ہمیشہ اس اصول کی حمایت کی ہے۔ تاہم، جب ہم گلگت بلتستان جیسے حساس اور متنازع علاقے میں زمینی حقائق کا جائزہ لیتے ہیں، تو بہت سے سوالات جنم لیتے ہیں، جن کا جواب دینا ریاستی سطح پر نہایت ضروری ہے۔

5 اگست 2019 کو بھارت نے اپنے زیر انتظام جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کا خاتمہ کر کے بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی کی تھی۔ پاکستان نے اس اقدام کی شدید مخالفت کی اور عالمی برادری میں بھرپور آواز بلند کی۔ لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ گلگت بلتستان میں حالیہ اقدامات جن میں شدید عوامی احتجاج اور اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کی مخالفت کے باوجود لینڈ ریفارمز بل کی منظوری، گرین ٹورزم پالیسی، سٹیٹ سبجیکٹ رول کی خلاف ورزیاں، اور مقامی وسائل پر وفاقی قبضہ شامل ہیں،بھی بظاہر اسی نوعیت کے اقدامات دکھائی دیتے ہیں۔

گزشتہ دنوں ایک مقامی سینئر صحافی نے سوشل میڈیا پر ایک انٹرویو کے دوران انکشاف کیا کہ گلگت بلتستان کا نقشہ تیزی سے بدل رہا ہے۔ ان کے مطابق غیر مقامی افراد اور کاروباری طبقات کی یلغار اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ عام شہری کو اس تبدیلی کا صحیح اندازہ ہی نہیں۔ انہوں نے خاص طور پر ضلع شگر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کی آبادیاتی ساخت (ڈیموگرافی) مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہے۔یہ صورت حال نہ صرف مقامی ثقافت اور شناخت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے بلکہ پاکستان کے بین الاقوامی موقف پر بھی اثر ڈالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ پاکستان ہمیشہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کا حوالہ دے کر بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں آبادیاتی تبدیلیوں کی شدید مخالفت کرتا آیا ہے۔ ایسے میں اگر گلگت بلتستان جیسے حساس خطے میں بھی اسی نوعیت کی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں تو پھر لازم ہے کہ ہم خود بھی اپنے اقدامات کا جائزہ لیں۔دامن کو ذرا دیکھ، ذرا بندِ قبا دیکھ،  یہ مصرعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اخلاقی برتری کا تقاضا ہے کہ تنقید سے پہلے اپنے عمل کا احتساب کیا جائے۔ گلگت بلتستان کے مستقبل کے حوالے سے پالیسی سازی میں شفافیت، مقامی مشاورت اور آئینی رہنمائی کو اولیت دینا از حد ضروری ہے تاکہ نہ صرف مقامی لوگوں کے حقوق محفوظ رہیں بلکہ پاکستان کا اصولی اور اخلاقی موقف بھی مضبوط ہو۔

حال ہی میں گلگت بلتستان کی اسمبلی نے شدید عوامی مخالفت کے باوجود لینڈ ریفارمز بل منظور کر لیا ہے۔ یہ قانون نہ صرف مقامی آبادی کے لیے گہری تشویش کا باعث ہے بلکہ ریاست کی آئینی حیثیت، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور قانون باشندہ ریاست (State Subject Rule) سے متصادم بھی ہے۔ اس قانون کے تحت خطے کی زمینوں پر ملکیت کا اختیار مقامی کمیونٹی کے بجائے ریاستی بیوروکریسی کو منتقل کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں مقامی باشندے اپنی صدیوں پرانی زمینوں سے محروم ہو سکتے ہیں۔یہ وہی زمینیں ہیں جن پر نسل در نسل مقامی آبادی کا انحصار رہا ہے جنہوں نے نہ صرف ان زمینوں کو آباد کیا بلکہ ان کے ساتھ اپنی تہذیب، شناخت اور معیشت کو پروان چڑھایا۔ زمین صرف معیشت کا ذریعہ نہیں بلکہ ان کی ثقافت اور وجود کا لازمی جزو ہے۔اس قانون کی منظوری بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ اصولوں اور اقوام متحدہ کی ان قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہے جن کے مطابق ریاست جموں و کشمیر کی کسی بھی اکائی بشمول گلگت بلتستان کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ ایسے قوانین وضع کرے جو خطے کی ڈیموگرافی یا زمینی ملکیت میں بنیادی تبدیلی لائیں۔

مزید برآں، گرین ٹورازم جیسے منصوبے بظاہر ماحولیاتی تحفظ کے نام پر متعارف کرائے جا رہے ہیں، مگر درحقیقت یہ غیر مقامی سرمایہ دار گروہوں اور کارپوریٹ اداروں کو علاقے کے قدرتی وسائل تک رسائی دینے کا راستہ ہموار کرتے نظر آتے ہیں۔ ان منصوبوں میں مقامی برادری کو شریکِ کار بنانے کے بجائے ان کی آواز کو دبایا جا رہا ہے، جو کہ نہایت افسوسناک اور غیر جمہوری عمل ہے۔

گزشتہ دنوں میں پرامن احتجاج کرنے والے مقامی افراد کی گرفتاریاں اور ان پر مقدمات کا اندراج نہ صرف آزادی اظہار رائے کے بنیادی حق کی نفی ہے بلکہ ایک جمہوری ریاست کے لیے باعثِ شرم بھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر گلگت بلتستان مسئلہ کشمیر کا ایک فریق ہے، اور پاکستان اس علاقے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت متنازعہ تسلیم کرتا ہے، تو پھر وہاں ایسے یکطرفہ اقدامات کیسے کیے جا سکتے ہیں جو عوام کی رائے اور بنیادی حقوق کے منافی ہوں؟ ریاست اگر ایک طرف ریاست کے عوام کے حقِ خودارادیت کا علَم بلند کرے، تو دوسری طرف گلگت بلتستان کے عوام کی آواز کو کیوں دبایا جا رہا ہے؟یہ صورتحال ریاست پاکستان کے بیانیے میں تضاد کو جنم دیتی ہے۔ ایک طرف بین الاقوامی برادری میں مسئلہ کشمیر پر اصولی مؤقف اختیار کیا جاتا ہے، تو دوسری طرف اپنے ہی زیرانتظام علاقے میں وہی اقدامات کیے جا رہے ہیں جن پر ہم بھارت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔

یہ طرزِ عمل نہ صرف اخلاقی طور پر کمزور ہے بلکہ سیاسی طور پر نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے۔اقوام متحدہ کی قراردادیں، انسانی حقوق کا عالمی منشور، اور پاکستان کا آئین بھی تینوں ہی اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ گلگت بلتستان کے عوام کو ان کے بنیادی حقوق دیے جائیں، ان کے وسائل پر ان کا اختیار تسلیم کیا جائے، اور کسی بھی قانون سازی یا پالیسی سازی میں انہیں برابر کا شریک بنایا جائے۔وقت آ گیا ہے کہ ریاست پاکستان اپنے بیانیے اور عمل میں ہم آہنگی پیدا کرے۔ گلگت بلتستان کو محض ایک جغرافیائی اثاثہ نہ سمجھا جائے، بلکہ اسے ایک جیتا جاگتا انسانی معاشرہ تسلیم کیا جائے، جو اپنی شناخت، حقوق اور وسائل کے تحفظ کا مطالبہ کر رہا ہے۔ یہ مطالبات نہ غداری ہیں، نہ علیحدگی پسندی، بلکہ ایک انصاف پر مبنی ریاستی نظام کی بنیادی شرط ہیں۔

بدقسمتی سے  ایسا لگتا ہے کہ اقوام متحدہ کی وہ قراردادیں جو ریاست کے عوام کو ان کے مستقبل کے تعین کا حق دیتی ہیں، عرصہ دراز سے سرد خانے کی نذر ہو چکی ہیں اور بیانات کی حد تک زندہ اور وجود رکھتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت دونوں نے ان قراردادوں کو اپنی سیاسی ضروریات کے مطابق استعمال کرتے رہے ہیں، مگر عمل درآمد کی سنجیدہ کوششیں نہیں کی گئیں۔

تاریخی طور پر دیکھیں تو گلگت بلتستان میں اقوام متحدہ کے قرارداد 13 اگست 1948 جس پر پاکستان اور ہندوستان باقاعدہ دستخط کار ہیں ، جس میں باقاعدہ کہا گیا تھا کہ ریاست کے تمام حصوں کو عارضی حیثیت دی گئی اور دونوں ممالک (پاکستان اور بھارت) سے کہا گیا کہ وہ وہاں سے اپنی فوجیں نکال کر ایک غیرجانبدار ماحول پیدا کریں۔ لیکن پاکستان نے اس قرارداد پر عمل درآمد کرکے لوکل اتھارٹی گورنمنٹ قائم کرنے کے بجائے گلگت بلتستان کو پاکستان نے کشمیری قیادت کے زریعے 28 اپریل 1949 کو معاہدہ کراچی کے زریعے عملی طور پر وفاقی انتظام میں لے لیا، جو ان قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے اور موجودہ اسمبلی کے حوالے سے عوامی تاثر یہ گلگت بلتستان اسمبلی ایک طرح کے بیوروکریسی کے ماتحت چلتی ہے اس وجہ سے عوام ووٹ سے منتخب ہونے والوں کیلئے عوامی رائے کی کوئی اہمیت نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ یہاں کے عوام نے ہمیشہ اپنی شناخت، آئینی حقوق، اور خودمختاری کے لیے جدوجہد کی ہے۔ لیکن ان تحریکوں میں واضح نظریاتی و عملی اتحاد کی کمی رہی۔ قیادت اکثر وقتی مفادات یا بیرونی اثرات کا شکار ہو گئی۔کسی بھی تحریک کی کامیابی کے لیے سب سے پہلے مقصد کا تعین ضروری ہوتا ہے۔ گلگت بلتستان کے سیاسی کارکنان اور عوامی نمائندوں کو چاہیے کہ وہ ایک متفقہ مقصد طے کریں اوراجتماعی سوچ، عوامی بیداری، اور سیاسی تعلیم کو فروغ دیں ایک واضح روڈ میپ ترتیب دینا، جس میں مختصر، درمیانی اور طویل مدتی اہداف شامل ہوں، تحریک کو سمت دے سکتا ہے۔

julia rana solicitors london

ایک منظم عوامی تحریک ہی ایک حساس، مگر نظرانداز کیا گیا خطے کی افق پر انقلاب برپا کر سکتا ہے۔ جہاں اقوام متحدہ کی قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزی اور عوامی تحریکوں کی ناکامی نے اسے ایک سیاسی بن باس میں دھکیل دیا ہے۔ اگر عوامی نمائندے اور کارکنان ایک واضح لائحہ عمل کے تحت جدوجہد کریں، تو یہ خطہ نہ صرف اپنے آئینی و سیاسی حقوق حاصل کر سکتا ہے بلکہ خطے میں امن و ترقی کا استعارہ بھی بن سکتا ہے۔ وقت کی ضرورت ہے کہ جذباتی نعروں کے بجائے عملی حکمت عملی اپنائی جائے۔

Facebook Comments

شیر علی انجم
مصنف بینکاری کے شعبے سے وابستہ ہیں اور معیشت و بین الاقوامی امور اور مسلہ کشمیر، گلگت بلتستان کے مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply