وہ تین ووٹ ،آدھا سچ اورعملی طور پر ناکام قرارداد/ اعظم معراج

23 جون1947 کو غیر منقسم پنجاب کی اسمبلی میں مغربی پنجاب کو پاکستان میں شامل کرنے کی قرارداد پیش ہوئی۔ جس میں تین مسیحو نے بھی قائد اعظم کی درخواست پر مسلم لیگ کی اس قرارداد کے حق میں ووٹ ڈالا ۔اس میں 91 ووٹ مسلم لیگ ن کو جبکہ 77 ووٹ یوننسٹ آور کانگریس کے الحاق کی جماعتوں کو ملے۔ لیکن 25 جولائی 1947 باؤنڈری کمیشن کے فیصلے سے بہت پہلے راولپنڈی کے نواحی گاؤں سے شروع ہوئی قتل وغارت میں اس فیصلے کے بعد اتنی شدت آگئی، جو اس قرارداد کو انسانی خون میں بہا کر لے گئی۔۔ یوں کاغذات میں مسلم لیگ یہ قرارداد جیت گئی لیکن عملی طور پر وہ ناکام رہی۔۔لیکن مسیحیوں  نے اپنے ان تین ووٹوں کو فیصلہ کُن ووٹ بنا کر اس سے اپنی ہزاروں سال پہلے چھینے گئے فخر کی پیاس کو آدھے سچ سے بجھانے کا انتظام کرلیا ۔ اب 78 سال سے یہ ڈھول پیٹا جارہاہے  کہ پاکستان ہم نے بنایا ہے۔۔جبکہ اپنی موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لئے یہ ہی وارثت چھوڑنا کافی ہے  کہ ہمارے اجداد تاریخ کی صحیح سمت کھڑے تھے۔۔

یہ تمام حقائق راجہ نھتنائیل اور میری جیمز  گل کی کتاب اور میری کتاب شناخت نامہ میں بھی درج ہیں۔اور یقیناً پنجاب اسمبلی کے ریکارڈ میں بھی ہونگے۔ لیکِن تحقیق تو تب ہو جب پنجاب کے تقریباً 30 لاکھ مسیحیوں  کے سماجی، سیاسی اور مذہبی ورکروں کو چاندی کی تجارت، محرومیوں کی سوداگری اور جمہوری غلامی سے فرصت ہو تو۔۔

julia rana solicitors london

آج پھر یہ بات دوبارہ اس لئے یاد آگئی کہ ایک خاصے پڑھے لکھے صاحب ان تین ووٹوں کا  ذکر کررہے تھے۔باقی خدا نہ کرے آئندہ 78 سال بھی ایسے آدھے سچ ان فخر کے بھوکوں کو ڈستے رہے ،اور انکی فکری انارکی کا سبب بن کر انھیں اوپر بیان کی گئی تینوں صنعتوں کا ایندھن بنائے رکھے۔بے شک سچ ایسا سورج ہے جو جلاتا تو ہے لیکِن اسکا اصل تعارف  روشنی ہی ہے۔۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply