کلَب فُٹ: ایک پیدائشی چیلنج/ڈاکٹر مسلم یوسفزئی

جب ایک بچہ پیدا ہوتا ہے تو والدین کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا۔ وہ اس ننھے سے معصوم وجود کو دیکھ کر زندگی بھر کی محبت ایک لمحے میں نچھاور کر دیتے ہیں۔ لیکن کچھ بچے اپنے ساتھ ایسی مشکلات لے کر پیدا ہوتے ہیں جو والدین کے لیے پریشانی کا باعث بن جاتی ہیں۔ انہی میں سے ایک مسئلہ “کلَب فُٹ” یا “Congenital Talipes Equinovarus (CTEV)” ہے، جس میں بچے کا پاؤں اندر کی طرف مڑا ہوا ہوتا ہے، جیسے گولف کا کلَب ہو۔ یہ کوئی نایاب حالت نہیں، بلکہ ہزاروں بچے ہر سال اس کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے معاشرے میں ایسے بچوں اور ان کے والدین کو وہ تعاون اور علاج میسر ہے جس کے وہ مستحق ہیں؟

کلَب فُٹ کی وجوہات پر اگر بات کی جائے تو اب تک سائنسدان اس کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ جینیاتی عوامل کی وجہ سے ہو سکتا ہے، جبکہ کچھ کا ماننا ہے کہ حمل کے دوران بچے کی پوزیشن یا uterus میں جگہ کی کمی اس کا سبب بن سکتی ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں زیادہ تر والدین اس حالت کو قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں، یا پھر کسی توہم کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کچھ لوگ اسے کسی “نظر” یا “بدفالی” کا نتیجہ قرار دے دیتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک طبی مسئلہ ہے جس کا علاج موجود ہے۔

اس حالت میں بچے کا پاؤں یا تو ایک طرف یا دونوں طرف مڑا ہوا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ عام بچوں کی طرح چل پھر نہیں پاتا۔ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ مسئلہ عمر بھر کے لیے معذوری کا باعث بن سکتا ہے۔ لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ اگر ابتدائی دنوں میں ہی علاج شروع کر دیا جائے تو زیادہ تر بچے بالکل نارمل زندگی گزار سکتے ہیں۔ علاج کا سب سے عام طریقہ “Ponseti Method” ہے، جس میں پاؤں کو خاص طریقے سے سیدھا کیا جاتا ہے اور پھر بریسز پہنائے جاتے ہیں۔ یہ طریقہ تقریباً 90 فیصد کیسز میں کامیاب ہوتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے دیہات اور غریب علاقوں میں لوگوں کو اس بارے میں علم ہی نہیں ہوتا۔ وہ یا تو جھاڑ پھونک کرنے والوں کے چکر میں پڑ جاتے ہیں یا پھر یہ سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی لاعلاج مسئلہ ہے۔

ایک اور اہم پہلو جس پر بات کرنا ضروری ہے وہ ہے معاشرے کا رویہ۔ ہمارے ہاں معذور بچوں کو اکثر ترس کی نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ کچھ لوگ تو انہیں “نقص والا” کہہ کر پکارتے ہیں، جس سے نہ صرف بچے کے اعتماد کو ٹھیس پہنچتی ہے بلکہ والدین کے دل بھی ٹوٹ جاتے ہیں۔ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ اگر ہمارا اپنا بچہ کسی ایسی حالت کے ساتھ پیدا ہو جائے تو ہم کیا محسوس کریں گے؟ شاید تب ہمیں ان کی تکلیف کا اندازہ ہو۔

حکومتی سطح پر بھی اس سلسلے میں کام ہونا چاہیے۔ سرکاری ہسپتالوں میں اسپیشلسٹ ڈاکٹرز کی کمی ہے، اور جو ہیں وہ اکثر مریضوں کی بھیڑ کی وجہ سے ہر کسی کو صحیح وقت پر توجہ نہیں دے پاتے۔ نجی ہسپتالوں کا علاج مہنگا ہوتا ہے، جسے عام آدمی برداشت نہیں کر سکتا۔ کیا ہی اچھا ہو کہ اس حوالے سے آگاہی مہم چلائی جائے، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس کے علاج کے بارے میں پتہ چل سکے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ کلَب فُٹ کوئی لعنت نہیں ہے۔ یہ صرف ایک چیلنج ہے، جس کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ دنیا بھر میں ایسے کئی کھلاڑی، اداکار اور کامیاب شخصیات ہیں جنہوں نے اس حالت کے باوجود اپنی زندگی میں شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم اس مسئلے کو سمجھیں، اس کا بروقت علاج کروائیں، اور معاشرے میں ایسے بچوں کے لیے ہمدردی اور تعاون کا جذبہ پیدا کریں۔

julia rana solicitors london

آخر میں، یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ہر بچہ انمول ہے، چاہے وہ کسی بھی حالت کے ساتھ پیدا ہو۔ اس کی زندگی کو خوبصورت بنانے کی ذمہ داری صرف والدین کی ہی نہیں، بلکہ پورے معاشرے کی ہے۔ اگر ہم سب مل کر کوشش کریں تو کلَب فُٹ جیسے مسائل کو شکست دی جا سکتی ہے، اور ہر بچے کو صحت مند اور خوشگوار زندگی گزارنے کا موقع مل سکتا ہے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply