• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • خون کا ایک اور دریا؟ – جنگی جنون، عوامی محرومیاں اور جنوبی ایشیا کا المیہ/کامریڈ فاروق بلوچ

خون کا ایک اور دریا؟ – جنگی جنون، عوامی محرومیاں اور جنوبی ایشیا کا المیہ/کامریڈ فاروق بلوچ

“ہم ایک جیسے ہیں، پھر بھی دشمن کیوں ہیں؟”

پاکستان اور بھارت—دو ایسے ہمسایہ ممالک جو کبھی ایک ہی وجود کا حصہ تھے۔ دونوں کے بطن سے ایک تاریخ، ایک تہذیب، ایک زبان، ایک دکھ، اور ایک خواب جنم لیتے رہے۔ لاہور کے بازار میں گھومنے والی ہوا اور امرتسر کے صحنوں میں بہنے والی روشنی میں فرق کہاں ہے؟ ملتان کے مزارات اور اجودھیا کے مندر، دہلی کے قلعے اور لاہور کے دروازے، سب ایک جیسے زخموں اور خوابوں کی گواہی دیتے ہیں۔

ہندوستان اپنے آپ کو ایک سیکولر، جمہوری، اور عدم تشدد پر یقین رکھنے والی ریاست کہلاتا ہے۔ اس کی بنیاد میں گوتم بدھ کا آہنسا، اشوک کا قلم، کبیر کا پیغام، بابا فرید کی رواداری، اور رحمان بابا کی فطرت دوست شاعری شامل ہے۔ اسی ہندوستان میں اکبر نے صلح کل کا نعرہ بلند کیا، گاندھی نے عدم تشدد کو مذہب بنایا، اور نہرو نے سیکولرزم کو قوم کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا۔

لیکن آج کا ہندوستان—کیا وہی ہندوستان ہے؟ جب بابری مسجد کے انہدام پر بجاتے ڈھول اور کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالی کو میڈیا کی زبان سے چھپایا جائے تو یہ وہی سرزمین لگتی ہے جس نے گاندھی کو جنم دیا؟

اور پاکستان؟ جس نے علامہ اقبال کی وسعت فکر، قائداعظم کی اصول پسندی، اور فیض احمد فیض کی امن پسندی کو مشعل راہ بنایا، کیا وہی ملک آج جنگی ترانے گاتا ہے، اور اپنے بچوں کو میزائلوں کے سائے میں بڑا کر رہا ہے؟

ہم نے چار جنگیں لڑیں۔ 1948، 1965، 1971 اور 1999—ہر بار دونوں ملکوں نے زخم کھائے، مگر مرہم کبھی نہ رکھا۔ ہر بار امن کی بجائے نفرت کو جنم دیا گیا، اور ہر بار میدان میں مرنے والے وہی لوگ تھے جنہوں نے بندوق کبھی نہیں اٹھائی تھی—کسان، مزدور، طالب علم، ماں، بیٹی، باپ، بھائی۔

ہندوستان اور پاکستان دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں۔ دونوں کے عوام بے شمار معاشی و سماجی مسائل میں جکڑے ہوئے ہیں۔ بھارت میں آج بھی کروڑوں لوگ غربت کی لکیر سے نیچے جی رہے ہیں، اور پاکستان میں بچوں کو کتابیں کم اور نعروں کی گونج زیادہ سنائی دیتی ہے۔ کیا ہم واقعی ایک اور جنگ کے متحمل ہو سکتے ہیں؟

اب سوال صرف یہ نہیں کہ جنگ ہو گی یا نہیں، سوال یہ ہے کہ اگر جنگ ہوئی تو جیتے گا کون؟ مارے گا کون؟ بچے گا کون؟ اور جلے گا کون؟ شہباز شریف صاحب اور مودی جی شاید اس سوال کا سامنا نہیں کرتے، کیونکہ وہ اپنی اپنی کرسیوں پر براجمان ہیں، محفوظ کمروں، گارڈز، اور جہازوں کے درمیان۔ ان کی جنگ عوام کی نہیں، اقتدار کی جنگ ہے۔ مگر میدان میں اترنے والا سپاہی، چاہے پاکستانی ہو یا ہندوستانی، وہ درحقیقت اپنی زندگی، اپنے خاندان اور اپنے خواب قربان کرتا ہے۔

ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ امن کی راہ کبھی بندوق کے دہانے سے نہیں نکلتی۔ وہ راستہ قوالی کے ساز، بھجن کی آواز، سندھی اور پنجابی لوک گیتوں، بنگال کی بارش، کشمیر کی جھیلوں، اور بلوچستان کے پہاڑوں سے گزرتا ہے۔

خوشحال خٹک نے لکھا تھا: “دَ امن پہ خو کڑہ نہ دے، تڑونہ پہ کڑہ نہ دے” — امن کو چھوڑنا نہ، نفرت کو پھیلانا نہ۔

دونوں ممالک کو اب ہوش کے ناخن لینے ہوں گے۔ کشمیر کے مسئلے کو انسانی ہمدردی، سیاسی حکمت اور ثقافتی شراکت داری سے حل کرنا ہوگا۔ دہشت گردی کا خاتمہ امن کے ذریعے، تعلیم کے ذریعے، برابری کے ذریعے ممکن ہے۔

جنوبی ایشیا کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ ہم نفرت کی سیاست کو چھوڑ کر انسانیت کی بنیاد پر فیصلے کریں۔ اگر ہم گوتم بدھ، بابا فرید، رحمان بابا، گاندھی، اقبال، اور فیض کے خوابوں کا احترام کرتے ہیں تو ہمیں اب اس آگ سے بچنا ہوگا، جس میں صرف معصوم جلتے ہیں۔

ہم جنگ نہیں چاہتے۔ ہم امن چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ بچے دونوں طرف اسکول جائیں، ماں باپ کو دوائیں ملیں، کسان کو پانی ملے، نوجوان کو نوکری ملے۔ ہمیں یہ خواب مشترکہ طور پر دیکھنا ہے، اور ان خوابوں کو جلانے والوں کے خلاف مل کر کھڑا ہونا ہے۔

julia rana solicitors

ورنہ… ایک اور نسل راکھ ہو جائے گی، اور تاریخ ایک اور ماتم لکھے گی۔

Facebook Comments

فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply