ملک کے طول و عرض میں بچھائے جانے والے نیرو گیج اور میٹر گیج ٹریکس کی کہانی
داؤد خیل سے ماڑی انڈس تک کا دس کلومیٹر ٹریک اب بھی فعال ہے جبکہ اس سے آگے کا تمام نیرو گیج ٹریک اکھاڑ دیا گیا ہے۔ اس برانچ لائن پر داؤد خیل جنکشن، ماڑی انڈس، کالاباغ، کمر مشانی، تراگ، عیسیٰ خیل، ارسالا خان اور لکی مروت جنکشن کے اسٹیشن آتے تھے۔ 2019 میں جب کالاباغ کا اسٹیشن ڈھونڈتے ڈھونڈتے میں وہاں پہنچا تو دل درد سے پھٹ گیا۔ ایک بند پڑی عمارت جس کا رنگ اڑ چکا تھا لیکن اس کے ماتھے پر ہلکے رنگ سے لکھا کالاباغ اب بھی دیکھا جا سکتا تھا۔ اس اسٹیشن کا علاقہ بچوں کے کھیلنے کا میدان بن چکا ہے لیکن تنگ گیج کی پٹڑی نے کہیں کہیں اپنا وجود برقرار رکھا ہے۔
5) ژوب ویلی ریلوے ؛
یوں تو بلوچستان کی ہر لائن اور اسٹیشن دلچسپ اور عجیب ہے لیکن ژوب وادی ریلوے لائن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اگر یہ آج بھی چل رہی ہوتی تو بلاشبہ کسی عجوبے سے کم نہ ہوتی۔
762 ملی میٹر (یعنی 2 فٹ 6 انچ) چوڑائی کے ساتھ یہ پاکستان کا طویل ترین نیرو گیج نظام تھا۔ موجودہ شمالی بلوچستان کے اضلاع ژوب، قلعہ عبداللہ اور پشین کو کوئٹہ سے ملانے والی ژوب ویلی ریلوے 298 کلومیٹر تک پھیلی تھی جس پہ بوستان، خانائی، خانوزئی، زرغون، چورمیاں، کان مہتر زئی، مسلم باغ، قلعہ عبداللہ، آلوزئی، شمزئی، مسافر پور اور ژوب کے اسٹیشن واقع تھے۔ یہ اس خطے کا سب سے طویل نیرو گیج ٹریک تھا جو جسے 1985 میں بند کر دیا۔ 2008 تک اسے مکمل طور پہ اکھاڑ دیا گیا تھا البتہ کہیں کہیں کچھ متروک شدہ اسٹیشن دیکھے جا سکتے ہیں۔
یہ پاکستان کے ان چند ریلوے ٹریکس میں سے تھا جہاں ندی نالے، وادیاں ، پہاڑ اور برف باری دیکھی جا سکتی تھی۔
اس ٹریک کے بارے میں مصنف رضا علی عابدی اپنی کتاب ریل کہانی میں لکھتے ہیں کہ ؛
”کوئٹہ کے شمال میں بوستان سے ژوب تک تقریبا” 296 کلومیٹر لمبی یہ لائن صحیح سلامت ہوتی تو ریلوے کے عجائبات عالم میں شمار ہوتی۔ دنیا میں ڈھائی فٹ چوڑی یہ سب سے لمبی لائن تھی۔ اس کے راستے میں کان مہتر زئی کا سٹیشن آتا تھا جو سمندر کی سطح سے 7221 فٹ اونچائی پر ہے اور یہ نارتھ ویسٹرن ریلوے کا سب سے اونچا اسٹیشن تھا۔ برصغیر کی تقسیم سے پہلے 499 اَپ سہ پہر کو بوستان سے چلتی تھی اور رات بھر پہاڑوں، دریاؤں اور وادیوں کا سفر طے کر کے اگلی دوپہر سے ذرا پہلے فورٹ سنڈیمن پہنچتی۔ پھر وہاں سے 500 ڈاؤن شام پانچ بجے کے تھوڑی دیر بعد روانہ ہوتی اور اگلی دوپہر بوستان پہنچتی۔ کبھی کبھی برفانی طوفان آ جاتے تو گاڑی راستے میں پھنس جاتی اور ٹرین کا سارا پانی جم جاتا۔ جاڑوں میں ڈبے گرم رکھنے کا کوئی بندوبست نہیں تھا صرف ریلوے کے افسر اپنے ڈبوں میں تیل کے چولہے جلاتے تھے۔ 1970 میں اس لائن پر اتنی زیادہ برف گری کہ اس کی مثال نہیں ملتی اس وقت بوستان اور ژوب کے درمیان ہفتے میں صرف ایک مسافر گاڑی چلا کرتی تھی۔
برف باری کے دوران ایک ٹرین چلی جا رہی تھی جو کان مہتر زئی کے قریب برف میں دھنس گئی۔ ڈرائیور اور فائرمین نے لاکھ چاہا کہ گاڑی کو نکال لے جائیں مگر بے سود۔ اخر وہ تھک ہار کر بیٹھ گئے اور مدد کا انتظار کرنے لگے۔ اب تصور کیا جا سکتا ہے کہ اسٹیشن ماسٹروں نے تار بھیجنے کے لیے اپنے قدیم آلات پر کس طرح جھنجھلا کر اپنے سر پٹخے ہوں گے۔ یہ تو معلوم نہیں کہ امداد کا پیغام کوئٹہ یا چمن پہنچ سکا یا نہیں البتہ یہ ضرور معلوم ہے کہ امداد نہ پہنچ سکی۔
برف میں دسی ہوئی ٹرین وہیں کھڑی رہی۔ مسافر نکل کر کسی طرح سڑک تک پہنچے اور جیسے بھی بنا اِدھر اُدھر چلے گئے۔ سنا ہے کہ بوستان سے ایک امدادی انجن چلا تھا وہ بھی کہیں برف میں دھنس کر رہ گیا۔ کہتے ہیں کہ آسمان کو چھونے والی یہ ریلوے لائن کئی روز بعد کھلی تھی۔
پھر یہ ہوا کہ ماہ مئی 1985 میں ہفتہ وار گاڑی ژوب سے بوستان پہنچی۔ اسے دھویا گیا اور سنوارا گیا کیونکہ اگلے ہفتے اسے واپس جانا تھا مگر وہ اگلا ہفتہ پھر کبھی نہیں آیا۔ بظاہر چھوٹی سی مگر انجینئری کی یہ شاہکار ریلوے لائن اجڑ کر رہ گئی۔ یا یوں کہیئے کہ اسے اجڑنے کے لیے قدرت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا کہتے ہیں کہ آج کے جدید زمانے میں کوئی مصر کے اہرام دوبارہ بنانا چاہے، نہیں بنا سکتا۔ بالکل وہی حال اس بے یار و مددگار پڑی ہوئی ریلوے لائن کا ہے۔ اب شاید کوئی اس میں نئی روح پھونک نہ سکے۔ نہ ہوتی تو رنج بھی نہ ہوتا۔ تھی، اور اسے مر جانے دیا گیا۔ کتنا بڑا خسارہ ہوا، کتنا بڑا خسارہ۔
یہ لائن ہندو باغ سے معدنیات لانے کے لیے ڈالی گئی تھی بعد میں کسی کو اس سے دلچسپی نہیں رہی غالبا اسے ٹھیک ٹھاک رکھنے پر بھاری خرچا آنے لگا، فالتو پرزے ملنے بند ہو گئے، علاقے کے لوگوں نے ٹکٹ خریدنے کی زحمت ترک کر دی لہذا اس پوری لائن کو زنگ کھانے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ اب اس کے پل گر چکے ہیں پٹریوں کے نیچے سے مٹی بہہ گئی ہے اور خود پٹڑیاں نشیبوں میں جھول رہی ہیں (اب مکمل اکھاڑ لی گئی ہیں)۔”
میٹر گیج ؛
ریلوے ٹریک کا یہ گیج تنگ گیج کی ہی ایک قسم ہے جس میں دو پٹڑیوں کا درمیانی فاصلہ صرف 1 میٹر ہوتا ہے۔ اگرچہ دنیا بھر میں یہ ٹریک انتہائی کم ہیں لیکن سوئٹزرلینڈ اور اسپین جیسے ملک سیاحتی مقاصد کے لیئے انہیں اب بھی استعمال کر رہے ہیں۔ ویتنام، ملائیشیا اور تھائی لینڈ میں میٹر گیج ہی استعمال کیا جاتا ہے۔
پاکستان میں اس وقت صرف دو میٹر گیج لائنیں ہیں جو صوبہ سندھ میں واقع ہیں۔
آئیں ان کے بارے میں جانتے ہیں۔
میر پور خاص، نوابشاہ میٹر گیج اور جمراؤ – پتھارو لُوپ لائن ؛
میر پور خاص کو جنوب مشرقی سندھ میں ریلوے کے میٹر گیج نیٹ ورک کا مرکز کہا جا سکتا ہے۔ حیدر آباد سے شادی پلی براستہ میر پور خاص جانے والی لائن بھی پہلے میٹر گیج تھی جسے براڈ گیج میں تبدیل کر دیا گیا۔
قیامِ پاکستان کے بعد اس علاقے میں تین میٹر گیج لائنیں تھیں ؛
1میرپور خاص تا نواب شاہ جنکشن (شمالی لائن)
2- میر پور خاص تا کھوکھرا پار (مشرقی لائن، جو اب بھی زیر استعمال ہے۔ اسے 2006 میں براڈ گیج میں تبدیل کر دیا گیا تھا)۔
3 جمراؤ – پتھورو لوپ لائن ( جنوبی لائن)۔
ان میں سے پہلا اور تیسرا ٹریک اب بند کر دیا گیا ہے۔
قریباً 130 کلومیٹر طویل میر پور خاص، نواب شاہ میٹر گیج ریلوے لائن میر پور خاص جنکشن سے نوابشاہ جنکشن تک بچھائی گئی تھی جو اس خطے کی چند ایک میٹر لائنوں (ایک ہزار ملی میٹر) میں سے ایک تھی جہاں زیادہ تر بھاپ سے چلنے والے انجن دوڑا کرتے تھے۔ 1939 میں کھولی جانے والی اس لائن کا بنیادی مقصد اس خطے میں کپاس، آم، مرچوں اور تازہ سبزیوں کی ترسیل تھی۔
اس لائن پر لگ بھگ سترہ اسٹیشن واقع تھے جن میں میرپور خاص جنکشن، خان، نازک آباد، ناد آباد، بوبی روڈ، جھول، سنجھورو، راجر، کھڈرو، شاہ پور چکر، سرور نگر، ٹنڈو سرور، جام صاحب، گل بیگ مری، شفیع آباد اور نواب شاہ جنکشن شامل ہیں۔
مختلف فنی خرابیوں کی وجہ سے اس لائن کو اکیسویں صدی کے اوائل میں ہی بند کر دیا گیا تھا۔
میٹر گیج لُوپ لائن کی بات کریں تو 192 کلومیٹر لمبی یہ لائن، میر پور سے قریباً دس کلومیٹر دور جمراؤ کے مقام پہ الگ ہوتی تھی اور جنوب میں ایک دائرے کی صورت واپس مرکزی لائن پر پتھورو کے مقام پر مل جاتی تھی۔
یہ لائن جمراؤ، جھلوری، کچلو، جیمز آباد، ٹنڈو جان محمد، ڈگری، جھڈو، ناؤ کوٹ، بنی سر روڈ، کنری، سمارو روڈ سے ہو کر واپس مرکزی لائن پر واقع پتھورو سے جا ملتی تھی جو اس لوپ لائن کا شرقی کونہ بنتا ہے۔ یوں یہ لائن موجودہ میر پور خاص، تھرپارکر اور امر کوٹ کے اضلاع سے گزرتی تھی۔
اس ٹریک کو 2005 میں بند کر دیا گیا تھا۔
جون 2020 میں چھپنے والے اپنے ایک مضمون میں ”گیرتھ ڈیوڈ” اس میٹر گیج لائن کے اپنے سفر کی دلچسپ باتیں بتاتے ہیں جو انہوں نے جون 2005 میں کیا تھا۔
اپنے پڑھنے والوں کے لیئے میں اس کا خلاصہ یہاں پیش کرنا چاہوں گا۔
سفر کے پہلے دو دن ہم پرانے برطانوی لوکوموٹیوز پہ کھوکھراپار گئے، تیسرے دن نوابشاہ اور آخری دو دن لوپ لائن پہ۔
صحرائے تھر کا زیادہ تر حصہ، جس سے میٹر گیج لائنیں گزرتی ہیں، بھارت میں واقع ہے اور یہ پاکستان کے ساتھ ایک قدرتی سرحد بناتا ہے۔ یہ دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا صحرائی خطہ ہے۔
میرپور خاص کے ارد گرد ریلوے کی ایک دلچسپ تاریخ ہے، جو کہ انیسویں صدی کے آخر میں کراچی کی ترقی سے متعلق ہے جو برطانیہ اور یورپ سے سمندری مال برداری کے لیئے ہندوستان کی قریب ترین بندرگاہ تھی۔
کراچی اور بمبئی کے درمیان براہ راست ریلوے روٹ کی عدم موجودگی میں، ہندوستان کے لیے مال بردار ٹریفک کو مشرق کی طرف جانے سے پہلے لاہور سے شمال میں 750 میل کا سفر کرنا پڑتا تھا، جس سے ہندوستان کے مغربی علاقوں جیسے گجرات، مہاراشٹرا اور راجستھان کے لیے ٹریفک کے پابند ہونے کی صورت میں کراچی کو بمبئی کے لیے کافی نقصان پہنچا۔
برطانوی حکومت حیدرآباد سے شادی پلی تک 55 میل (89 کلومیٹر) براڈ گیج لائن تعمیر کرنے پر کام شروع کیا اور یہ لائن اگست 1892 میں کھولی گئی۔ آٹھ سال بعد (1900) حکومت نے پھر ایک میٹر گیج لائن تعمیر کی جو مشرق کی طرف شادی پلی سے جودھ پور تک جاتی تھی اور ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیئے حیدر آباد سے شادی پلی تک کے ٹریک کو بھی میٹر گیج میں بدل دیا گیا۔
میٹر گیج کی توسیع اگلی چار دہائیوں تک جاری رہی۔ 1909 میں میرپور خاص سے جھڈو تک 50 میل (80 کلومیٹر) لائن بنائی گئی، اور لوپ لائن 1935 میں مکمل ہوئی جب اس راستے کو پتھورو جنکشن تک 65 میل (104 کلومیٹر) تک بڑھایا گیا۔ ایک شمالی لائن 1912 میں کھدرو (50 میل) تک کھلی اور آخر کار 1939 میں نواب شاہ جنکشن تک پہنچ گئی۔
1965 کی پاک بھارت جنگ سے پہلے کھوکھروپار کے قریب سرحد کے پار میٹر گیج ٹرین کے ذریعے سفر کرنا ممکن تھا، لیکن اس تنازعے کے نتیجے میں سرحد بند ہو گئی اور بھارت نے کھوکھروپار اور مناباؤ کے درمیان چار میل طویل ٹریک کو ختم کر دیا۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان ریل لنک کو دوبارہ کھولنے کا معاہدہ 2004 میں طے پایا تھا، اور جودھ پور سے مناباؤ روٹ کو براڈ گیج میں تبدیل کرنے کے بعد اس بات پر اتفاق ہوا کہ میرپور خاص سے کھوکھروپار تک کی لائن کا گیج بھی تبدیل کیا جائے گا۔
میرے اس دورے سے کچھ ہی عرصہ پہلے اس لائن کو براڈ گیج میں تبدیل کرنے کا کام شروع ہو چکا تھا۔ بھارتی شہر موناباؤ سے ایک رابطہ ٹریک (جو کہ 1965 میں سرحد بند ہونے پر منقطع ہو گیا تھا) تعمیر کیا گیا اور امیگریشن خدمات فراہم کرنے کے لیے سرحد کے قریب ’زیرو پوائنٹ‘ کے نام سے ایک نیا اسٹیشن بنایا گیا۔
اکتالیس سال کے وقفے کے بعد 18 فروری 2006 کو سرحد پار ریل سروس دوبارہ شروع ہوئی، جب تھر ایکسپریس نے کراچی اور جودھ پور کے درمیان ہفتہ وار رابطہ بحال کیا، جس میں کراچی سے کھوکھروپار تک 237 میل (381 کلومیٹر) کا سفر صرف سات گھنٹے سے زیادہ کا تھا۔
میٹر گیج نیٹ ورک کے ختم ہونے سے پہلے یقینی طور پر ہمارا میرپور خاص کا آخری منظم سفر تھا، 2006 تک تمام سرگرمیاں روک دی گئیں، اور 8-2007 میں مون سون کے نقصان سے کسی بھی بحالی کی امیدیں ختم ہو گئیں۔
سب سے تنگ پٹڑی ؛
زکر ہے گنگا پور سے بُچیانہ تک بچھائی گئی پٹڑی کا جو ایک وقت تک پاکستان میں موجود سب سے تنگ پٹڑی تھی۔
یہ پنجاب کا منفرد ترین ٹریک ہے جسے محکمہ ریلوے کی طرف سے نہیں بلکہ نجی سرمایہ کاری سے بچھایا گیا تھا اور اسے کوئی انجن نہیں بلکہ گھوڑے کھینچتے تھے۔
بات ہو رہی ہے گھوڑا ٹرین کی جسے محسنِ پنجاب سر گنگا رام نے اپنے ذاتی سرمائے سے بچھایا تھا۔
اگرچہ انیسویں صدی کے اوائل میں پورے مغرب میں گھوڑوں سے چلنے والی ٹرینوں کا رواج تھا مگر آہستہ آہستہ ان کی جگہ بھاپ والے انجنوں نے لے لی۔ لیکن سر گنگا رام کی گھوڑا ٹرین آزادی کے بعد کئی دہائیوں تک چلتی رہی۔ یہ ٹرین لائل پور کے دو دیہاتوں، بُچیانہ اور گنگا پور کو آپس میں ملاتی تھی۔
جب سر گنگا رام کو برطانوی حکومت نے ان کی خدمات کے عوض نئی آباد کی گئی چناب کالونی (لائل پور) میں پانچ سو ایکڑ اراضی الاٹ کی تو اس پر انہوں نے گنگا پور کے نام سے ایک گاؤں بسایا۔ اسی گاؤں کو تین کلومیٹر دور منڈی بُچیانہ کے اسٹیشن سے ملانے کے لیئے 1898 میں دو فٹ کی پٹڑی بچھوائی جو نہ تو براڈ گیج میں آتی ہے نہ ہی میٹر گیج میں۔ یعنی سائز کے لحاظ سے یہ پاکستان کا منفرد ترین ٹریک تھا جو بنیادی طور پر ان کے فارم ہاؤس کے لیئے مشینری لانے کی غرض سے بچھایا گیا تھا لیکن عوام کو اس سے بہت فائدہ پہنچا۔
ریلوے کی تاریخ میں اپنی نوعیت کی یہ منفرد سواری 1998 تک چلتی رہی اور پھر
مالی وجوہات کی وجہ سے بند کر دی گئی۔
ضلعی حکومت نے اس منصوبے کی تزئین و آرائش کی اور 2009 میں اسے دوبارہ کھولا لیکن محض 5 سال بعد اکتوبر 2014 میں اسے دوبارہ بند کر دیا گیا اور یہ آج تک بند ہے۔
اس ٹریک کی پٹڑی اب بھی کہیں نا کہیں ہماری ازلی بے حسی کے ثبوت کے طور پہ موجود ہے
یہ سب ٹریک ہماری حکومتوں اور ریلوے کی مجرمانہ غفلت اور بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ پاکستان اگر کوئی ترقی یافتہ ملک ہوتا تو آج ان ٹریکس کو سیاحتی مقاصد کے لیئے استعمال کر کے کثیر زر مبادلہ کما رہا ہوتا۔
تحریر و تحقیق
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں