مصنفین:چنار کانافیوا، الفارابی قازق نیشنل یونیورسٹی، فیکلٹی آف اورینٹل اسٹڈیز۔نازیرکے جاربوسینووا، الفارابی قازاق نیشنل یونیورسٹی، فیکلٹی آف اورینٹل اسٹڈیز۔ الماتی، قازقستان۔
قازقستان کی سب سے بڑی قومی درسگاہ، الفارابی قازق نیشنل یونیورسٹی، فیکلٹی آف اورینٹل اسٹڈیز کے محمد علی جناح ہال میں ’’اُردو زبان کا میلہ‘‘ نہایت تزک و احتشام سے منایا گیا۔
یہ دو روزہ بامعنی تقریب پاکستانی تہذیب، ثقافت اور اُردو زبان و ادب کے بیش بہا علمی و ادبی ورثے سے طلبہ کو روشناس کروانے کے لیے منعقد کی گئی۔ اس جشن میں پاکستان کے سفارتی عملے کے نمائندگان، اسفندیاروف قازق نیشنل میڈیکل یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم پاکستانی طلبہ (اردو سوسائٹی کے ارکان)، فیکلٹی آف اورینٹل اسٹڈیز کے اساتذہ، طلبہ اور محققین نے بھرپور شرکت کی۔ بالخصوص مشرقیات فیکلٹی میں اُردو کے پہلے سال کے طلبہ کے لیے یہ ایک نادر موقع تھا، جو بین الثقافتی ابلاغ کی عملی مشق فراہم کرتا ہے۔
پہلے روز اُردو خطاطی کے دو معروف اسالیب — دیوانی اور نستعلیق — سیکھنے کے لیے خصوصی ورکشاپ منعقد کی گئی۔ علاوہ ازیں، اُردو زبان اور پاکستانی ثقافت کے موضوع پر ایک فکری و معلوماتی کوئز مقابلہ بھی ہوا۔
دوسرے روز کی افتتاحی تقریب میں فیکلٹی کی ڈین محترمہ ناتالیا بوریسونا اور معزز قونصل محترمہ رضوانہ قاضی نے شرکت فرمائی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے جشن کے انعقاد پر خوشی کا اظہار کیا اور اس قسم کی علمی و ثقافتی تقریبات کو عالمی سطح پر دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔ رضوانہ قاضی نے اپنے خطاب میں اُردو زبان و ادب کے طلبہ کی موجودہ عالمی تناظر میں اہمیت کو اجاگر کیا، اور دونوں ممالک کے درمیان سرکاری ملاقاتوں اور بین الاقوامی نمائشوں میں ان نوجوانوں کے فعال کردار کو سراہا۔
افتتاحی تقریب کے بعد اُردو کے پہلے سال کے طالب علم، علیخان مکانوف نے ’’اُردو زبان میں آداب کا تصور‘‘ کے عنوان سے بصیرت افروز مقالہ پیش کیا، جس میں انہوں نے “آداب” کے تصور کی معنوی گہرائی اور اس کے فلسفیانہ پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر طلبہ نے اُردو شاعری کے خوبصورت کلام سے سامعین کو محظوظ کیا اور اُردو ادب کے شعری جمال سے روشناس کرایا۔
تقریب کا ایک یادگار لمحہ وہ تھا جب قازقستان کی “ڈومبرا” اور پاکستان کے “رباب” کی سنگت میں ایک دلنشین موسیقی ترتیب دی گئی۔ یہ منفرد پیشکش فیکلٹی آف اورینٹل اسٹڈیز کی طالبہ آیبیکے اور قازق نیشنل میڈیکل یونیورسٹی کے چوتھے سال کے طالب علم احمد محمد نے پیش کی، جس نے حاضرین کے دل موہ لیے۔ علاوہ ازیں، دونوں جامعات کے طلبہ نے پاکستانی ملی نغمے پیش کیے، جنہوں نے جشن کی فضا کو مزید گرمجوش بنا دیا۔
تقریب کے اختتام پر فعال طلبہ کو اسنادِ شرکت سے نوازا گیا۔

اُردو زبان کا میلہ نہ صرف ایک علمی اور تہذیبی سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، بلکہ یہ بین الثقافتی مکالمے، رواداری، اور عالمی ہم آہنگی کو فروغ دینے کی ایک کامیاب اور مؤثر کوشش بھی ہے۔ ایسے میلوں کے ذریعے جہاں اُردو زبان کے فروغ کی راہ ہموار ہوتی ہے، وہیں نوجوان نسل میں دیگر تہذیبوں کے لیے احترام، وسعتِ فکر اور عالمی شعور بھی پروان چڑھتا ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں