ایک چھوٹی سی پتی جو لوگوں کو لکھ پتی بنا رہی ہے۔۔زبیربشیر

یہ سال 2011 کی بات ہے جب میرا چینی دوستوں کے ساتھ پہلا باضابطہ رابطہ ہوا ۔ میں ایک کانفرنس میں شریک تھا اور شنگھائی شہر میں موجود تھا۔ کانفرنس کے دوران میرے سامنے پورسلین کا نہایت خوبصورت مگ موجود تھا ۔  اس مگ پر رکھے ڈھکن کو ہٹاتے ہی گرم پانی کے بخارات بلند ہوئے۔ ستمبر کا مہینہ تھا۔ کمرے میں ائر کنڈیشنر پوری طاقت کے ساتھ ٹھنڈک پھیلا رہا تھا۔ میں نے آدھے بازووں  والی شرٹ  پہن رکھی تھی۔  اس لیے مجھے سردی لگ رہی تھی ۔ میں نے مگ  کو دنوں ہاتھوں میں تھامہ اور اپنے منہ کے قریب لے آیا۔ مگ میں سے ایک غیر مانوس خوشبو آرہی تھی ۔ اس کے علاوہ  مشروب کا رنگ بھی غیر مانوس تھا۔ میرے خیال میں یہ قہوہ تھا لیکن میرے ساتھ بیٹھے چینی ساتھی نے بتا یا یہ چین کے علاقے آن جی کی “وائٹ ٹی ” ہے۔  میں نے جب اس کا ذائقہ چکھا تو ایک فرحت بخش احساس ہوا۔

وقت گزرتا رہا یہ واقعہ میرے ذہن سے فراموش ہو گیا لیکن  قریب ایک دہائی کے بعد میں چین کی آن جی کاؤنٹی میں موجود ہوں اور وہ  بھی وائٹ ٹی کے پودوں سے ڈھکی ٹی ماؤنٹینز میں ، میرے ہر طرف چائے کے پودے ہیں۔ جن کی تعداد لاکھوں میں ہے اور میرے سامنے ایک بڑے پتھر پر   چین کے صدر مملکت شی جن پھنگ  کا کہا گیا ایک تاریخی جملہ موجود ہے۔  جس کے معنی ہیں “ایک چھوٹی سی پتی جو لوگوں کو لکھ پتی بنا رہی ہے” ۔ چین میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران ماحول دوست ترقی پر بڑا زور دیا گیا ہے۔ یہ اسی ترقیاتی سوچ کا نتیجہ ہے کہ سرکاری رہنمائی میں یہاں مقامی لوگ تیزی سے ترقی کررہے ہیں۔

آن جی کاؤنٹی میں چائے کے پودوں کی دیکھ بھال کے جدید طریقے استعمال کیےجارہے ہیں۔ جب ہم چائے کے باغات میں چہل قدمی کر رہے تھے تو اچانک مجھے اپنے سر  بھن بھناہٹ  محسوس ہوئی میں سمجھا شاید شہد کی مکھیوں کا کوئی غول ہے لیکن غور کرنے پر احسا س ہوا کہ اوپر ایک ڈرون اڑ رہا ہے جس سے باغ کا مالک نگرانی کا کام لے رہا ہے۔ آب پاشی کے لیے فورے موجود  ہیں جن  کی مدد سے باغات کو پانی دیا جاتا ہے۔  یہ فوارے سمارٹ سسٹم سے منسلک ہیں جو باغ کی ضرورت کے مطابق پانی دینے کی سہولت رکھتے  ہیں۔ اسی طرح  باغات کو نقصان پہنچانے والے طفیلی کیڑوں کو تلف کرنے کے  لئے بھی بہترین   ماحول دوست طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ یہاں کرم کش ادویات کی بجائے  سولر سسٹم کی مدد سے چلنے والے “لائٹ لیمپ ” موجود ہیں جو کیٹروں کو اپنی روشنی کی جانب راغب کر کے بے جان بنا دیتے ہیں۔

یہاں لوگوں نے اپنے گھروں میں چائے کی پراسیسنگ کے لیے چھوٹے چھوٹے کارخانے بنا رکھے ہیں  ۔ جن میں میں باغات سے چن کر لائی گئی چائے کی پتیوں کو پراسیس کیا جاتا ہے۔ آن جی اور چین کی ایک خاص بات یہ ہے آج کل ہر چیز ماحول دوست ہے۔ چائے کی پیکنگ اور پراسیسنگ کے تمام مراحل میں اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ کاربن اخراج کم سے کم ہو۔ نوجوان نسل اپنے باغات کی چائے فروخت کرنے کے لیے آن لائن پلیٹ فارمز اور جدید طریقوں کی مدد لیتی ہے۔   کئی لوگوں نے گھروں میں چائے کی پراسیسنگ کے ساتھ قہوہ خانے یا ٹی ہاؤس بنائے ہیں جہاں آپ آن جی  کی وائٹ ٹی سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

ہماری گاڑی کے ڈرائیو ر  کو جب پتہ چلا کہ  میرا تعلق پاکستان سے ہے تو انہوں نے گاڑی آہستہ کی اور بڑے  پرجوش انداز میں ہاتھ ملایا اور کہا پاتھئیے اور پاکستان کے لیے اپنے والہانہ پن کا اظہار کیا۔ یہ ایک ایپ کے ذریعے بک کی گئی گاڑی تھی ۔ ہمارے چینی بھائی نے کہا کہ اب شام ہونے والی ہے آپ کو واپسی  کی گاڑی  مشکل سے ملے گی لہذا میں آپ کا انتظار کرتا ہوں۔ آپ ہمارے مہمان ہیں   میں آپ کو بیچ راستے نہیں چھوڑ سکتا۔ اردو سروس کی ساتھی تبسم صاحبہ اور میں نے ایک فیس بک لائیو کیا۔   ہمارے چینی دوست نے  ہمارا طویل انتظار کیا ، عموماً ایسا نہیں ہوتا۔ واپسی پر  انہوں نے ہمیں ایک حلال ریسٹورنٹ تک ڈراپ کیا۔

Advertisements
julia rana solicitors london

آن جی کے چائے کے باغات مختلف حوالوں سے مقامی لوگوں  کو خوشحال بنا رہے ہیں۔ یہاں رہنے والے لوگ امیر ہیں۔ وہ چائے کی پتی اگاتے ہیں، پراسیس کرتے ہیں ، پیک اور فروخت کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اپنے گھروں میں گیسٹ ہاؤس بنا کر لوگوں کو فطرت کے قریب رہنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ حکومت نے چائے کے باغات کے بیچوں بیچ دو رویہ سڑکیں بنا دی ہیں ۔ خوبصورت مقامات پر ریسٹ ایریا اور فوٹو گرافک پلیٹ فارم بنا دئیے ہیں یوں   چائے کے باغات کے اردگرد  خوبصورت ماحول میں سیاحتی صنعت بھی خوب ترقی کر رہی۔ شاندار ریاستی پالیسیوں کی وجہ سے لوگ   مزید خوشحال ہوتے جا رہے ہیں۔

Facebook Comments

Zubair Bashir
چوہدری محمد زبیر بشیر(سینئر پروڈیوسر ریڈیو پاکستان) مصنف ریڈیو پاکستان لاہور میں سینئر پروڈیوسر ہیں۔ ان دنوں ڈیپوٹیشن پر بیجنگ میں چائنا میڈیا گروپ کی اردو سروس سے وابستہ ہیں۔ اسے قبل ڈوئچے ویلے بون جرمنی کی اردو سروس سے وابستہ رہ چکے ہیں۔ چین میں اپنے قیام کے دوران رپورٹنگ کے شعبے میں سن 2019 اور سن 2020 میں دو ایوارڈ جیت چکے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply