ڈیجیٹل رشتے کا نوحہ اور ورچوئل کنفیوژن/احمر نعمان

سوشل میڈیا سے تعلق دو دہائیوں سے بھی زیادہ ہے۔ پہلے orkut پرتھے، پھر اسی فیس بک اکاونٹ پر ۲۰۰۷-۰۸ میں پہنچے مگر استعمال بہت ہی کم رہا، کئی سال لاگن ہی نہ کیا۔ ۲۰۱۱ میں شاید ٹویٹر پر جانا ہوا مگر اس کا باقاعدہ استعمال ۲۰۱۶-۲۰۱۷ میں شروع کیا اوروجہ شاعری تھی۔ مختصر سا حلقہ احباب تھا، گنے چنے لوگ جن میں سے ایک نیوجرسی میں مقیم رفیع عامر تھے۔ ہمارا کیرئر ملتا جلتا تھا، کمپیوٹر ٹیچنگ سے سوفٹ وئرانجینرنگ ، پاکستان سے امریکا ہجرت، ہر تھوڑے عرصہ بعد نوکری چھوڑ دینی، آلو گوشت، بلھے شاہ اور مصطفی زیدی سے محبت۔ ۲۰۲۰ میں ٹویٹر کا اکاونٹ بوجوہ ختم کر دیا اور کچھ عرصہ کے لیے رابطہ منقطع رہا، پھر ایسے ہی ایک آدھ پرانے روابط کے باعث اکاونٹ تو بنا لیا مگر خاموش فالوور کی طرح ۔ اور گزشتہ دو تین برس سے فیس بک پر شفٹ ہو گیا۔
گزشتہ برس دو تین بار ڈیلس کا چکر لگا مگر ملاقات میں ہمیشہ تذبذب رہا، آخری بار ڈیلس پہنچ کر رابطہ کرنے لگا تو معلوم ہوا کہ وہ کسی اور ریاست آوارہ گردی پر نکلے ہوئے تھے۔ گزشتہ ماہ ٹویٹر پر ایک دن دیکھا کہ رفیع اپارٹمنٹ خریدنے جا رہے اور اپنے مخصوص انداز میں لکھا ہوا ، اپارٹمنٹ لینے جا رہا ہوں روک سکو تو روک لو۔ نیچے پانچ کرسیوں کی تصویر پر کیپشن دیا ہوا کہ سوچ رہا ہوں اتنی کرسیوں پر بٹھاوں گا کسے۔ مصمم ارادہ کیا کہ بس اب تو اگلے دو ماہ کے اندر یہیں ملاقات ہے ؛ ہفتے دو بعد رفیع بیمار ہوئے۔ غالبا کینسر کا بتایا گیا مگر وہ تھا نہیں۔ اس لیے بہت خوشی ہوئی مگر جب وہ ہسپتال سے لوٹے تو کمپنی نے نکال دیا۔ ان سے رابطہ ہوا کہ اپارٹمنٹ نہیں لیا تو کیا ہماری ریاست میں آنا پسند فرمائیں گے۔ بہت خوشی اور حیرت ہوئی جب انہوں نے ہفتے بعد جواب دیا کہ اچھی آفر پروہ تیار ہیں۔ آفس میں ان کے لیے بات کی اور گراونڈ ورک بنانا شروع کیا، سوچ رہا تھا کہ اب شاید آلو گوشت پر اور اپنے گھر ان سے ملاقات ہو گی۔، مگر اسی دن سے رفیع سوشل میڈیا سے غائب ہو گئے، ہفتے بعد ان کے ایک دوست نے پولیس سے رابطہ کیا، انہوں نے غالبا دروازہ توڑا تورفیع مردہ پائے گئے۔ آہ وہ ان چند احباب میں تھے جو ہمیشہ ہنستے مسکراتے ہی دیکھے، بےیقینی غالب رہی۔ چند روز تو سمجھ بھی نہ آئی، دو روز قبل انکی قبر کی تصویر دیکھی تو وہ بہت سی باتیں یاد آ کے رہ گئیں جن پر اختلاف ہونے کے باوجود چاروناچار متفق ہی ہونا پڑا تھا۔ وہ شروع سے ہی الٹرا لبرل تھے اور اپنی سوچ میں بالکل واضح، مجھے اس میں ہمیشہ اختلاف رہے۔
یہ تو ہوا نوحہ اب کنفیوژن یہ ہے کہ یہ ڈیجیٹل رشتے عجیب سے ہیں، اصل ہونے کے باوجود دھند میں لپٹے رہتے ہیں۔ ذاتی تعلقات کی جسمانی موجودگی نہ ہونے کے باوجود طاقتور اور بامعنی تعلق ہو سکتے ہیں۔ مگر نازک اتنے کہ مصطفی زیدی کے شعر پر ہی کچھ تصرف کریں تو
سانس لینے سے ٹوٹ جاتے ہیں
‘ڈیجٹل’ رشتے عجیب رشتے ہیں
ایک کلک سے ایسے غائب ہوتے ہیں کہ پھر خوابوں میں ہی ملیں۔ خواب کی طرح کچھ چیزیں اس سمے سچ لگتی ہیں اور کچھ خواب میں بھی غیر حقیقی۔ دیگر احباب کا علم نہیں مگر میرا سوشل میڈیا ہمیشہ حقیقی اور غیر حقیقی کے بین بین ہی کہیں رہتا ہے۔ ایک پل میں رونے والی ایموجی اور اگلے ہی پل میں دانت نکالنے والی ایموجی کا استعمال کرنے کے بعد اکثر خود پر یقین نہیں ہوتا کہ یہ کیا کر دیا ہے؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک پل میں آپ کسی سے اظہار ہمدردی کر رہے ہوں، کسی کے سامنے رونے والی شکل بنائیں اوراگلے ہی پل بنا توقف دانت نکالنے کی تصویر پر کلک کریں اور ہا ہا لکھ رہے ہوں؟ رفیع والی بار الٹ ہوا، کہیں دانت نکالے اور ساتھ ہی رفیع کی تصویر دیکھ کر بس ششدر ہو گیا۔
عظیم فلسفی ہیراکلائٹس نے کہا تھا کہ خواب دیکھنے والے یہ نہیں جان پاتے کہ وہ عالم نیند میں ہیں اور عالم بیداری میں نہیں۔ جبکہ غالب نے فرمایا؛
؂ ہے غیب غیب جس کو سمجھتے ہیں ہم شہود
ہیں خواب میں ہنوز جو جاگے ہیں خواب میں
بعض اوقات لگتا ہے کہ سوشل میڈیا کا جہاں افلاطون کے عالم امثال کی طرح ہمارے جہاں سے الگ جہاں ہے۔ اس کے لیے ہمارا جہاں عالم امثال ہے، اور وہ خود محض ایک عکس ہے، سوشل میڈیا بریک لینے کے دنوں ہمیشہ یہ بشپ برکلے کی دنیا لگتی ہے جہاں سب عالم گماں ہے اور ادراک ہے؛ آپ ہی آپ ہیں بلکہ ایک معروف ڈائلاگ کی طرح سالا اپن ہی بھگوان ہے، Solipsism کی وہ شکل کہ ساری سوشل میڈیائی دنیا، بشمول اس کی جنتا آپ کے کلکس ، فالو، لائیک اور آپ کے’ دیکھنے’ کے عمل کی محتاج ہے۔
کبھی کبھار یہ حقیقی لگنے لگتی ہے اور اصل دنیا غیر حقیقی بن جاتی ہے، کیا آپ کے ساتھ بھی یہ ہوتا ہے؟

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply