اکثر جو افراد کیپٹلزم کی مخالفت کرتے ہیں، ان میں سوائے ان کے جو ویسے ہی کام چور یا محنت سے جی چرانے والے ہو، باقی دراصل کیپٹلزم کی نہیں بلکہ کرونیزم کی مخالفت کر رہے ہوتے ہیں۔ اب یہ کونسا نظام ہوتا ہے؟اور کیا یہ سرمایہ دارانہ نظام سے الگ ہے؟ اس کے لیے سب سے پہلے آپ کو بائیں بازو کی طرف سے کیپٹلزم کا جو ایک caricature بنایا جاتا ہے وہ بھولنا ہوگا اور سب سے پہلے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کیپٹلزم کیا ہوتا ہے۔
کیپٹلزم کو اچھے سے سمجھیں تو یہ ایک ایسا معاشی نظام ہے جو کہ نجی ملکیت، آزاد منڈی اور آزاد تجارت کے اصول کا حامی ہے۔ یہ ایک سادے لیکن جامع اصولوں پر مبنی نظام ہے، اس کی بنیاد بہت سادہ ہے کہ افراد نہ کہ ریاست، اپنے وقت اور محنت کے حقدار ہیں اور لہذا اس سے حاصل ہونے والے فائدے کے بھی۔ ان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ پیداوار کریں اور آپس میں آزادی سے اجناس کا تبادلہ کریں۔
سرمایہ دارانہ نظام میں:
قیمتیں اور تنخواہیں منڈی کے اصولوں کے تحت طے ہوتی ہیں یعنی طلب و رسد نہ کہ کسی سیاسی لیڈر کی منشاء کے مطابق۔
مقابلے کی وجہ سے ٹیکنالوجی میں ترقی ہوتی ہے، لوگوں کو زیادہ اور درست سمت میں محنت کرنے کا incentive ملتا ہے کیونکہ محنت سے کمائی میں اضافہ ہوتا ہے۔
نجی ملکیت موجود رہتی ہے تو لوگ ذاتی فائدے کے لیے اسے جی جان سے اور درست طریقے سے چلاتے ہیں کیونکہ اس کا فائدہ یا نقصان ان کو ہونا ہوتا ہے نہ کہ حکومت یا پورے معاشرے کو۔
کہا جاتا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے اور وہ ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ منافع بنایا جائے لیکن یہ دراصل سرمایہ دارانہ نظام کی misrepresentation ہے۔ سرمایہ داری کا اصل مقصد وسائل کی درست تقسیم ہوتا ہے کیونکہ وسائل ہمیشہ محدود ہوتے ہیں اور ان کے استعمال لامحدود لہذا وسائل کی درست تقسیم لازمی ہے اور ان وسائل کی درست تقسیم کے لیے منافع بطورِ lubricant کام کرتا ہے۔
مثال سے سمجھتے ہیں، اگر ایک کمپنی ہے، وہ پنیر بناتی ہے اگر اسے پنیر سے منافع بنانا ہے تو اس کے لیے یہ بات لازمی ہے کہ وہ کم سے کم دودھ کو ضائع کیے ہوئے یہ کام کرے لہذا وہ دودھ کو خریدتے ہوئے بہت محتاط ہوگی نتیجہ کیا نکلے گا؟ دودھ ان جگہ کام آجائے گا جہاں وہ اصل میں چاہیئے ہوگا۔ ایک سوشلسٹ کمپنی مینجر کے لیے یہ لازمی نہیں کہ وہ یہ اتنی احتیاط سے اور تعداد کو pinpoint کرے کہ کتنا دودھ اسے استعمال کرنا چاہیئے کیونکہ اس کو صرف ٹارگٹ پورا کرنے کا آرڈر ملتا ہے، بچت کرنے کا اس کے پاس کوئی incentive نہیں۔
جیسے ایڈم اسمتھ نے اپنی کتاب میں لکھا تھا کہ:
It is not from the benevolence of the butcher, the brewer, or the baker, that we expect our dinner, but from their regard to their own interest.
ہمارے لیے کھانے کی پیداوار کرنے میں سب کا فائدہ ہے یعنی منافع انھیں ہمارے لیے یہ کام کرنے پر راضی کرتا ہے، اس منافع کی جگہ سوشلزم میں حکومتی زور زبردستی لے لیتی ہے۔
کیپٹلزم ذاتی مفاد کو ایسے قابو کرتا ہے کہ اس سے معاشرے کو بطورِ کُل فائدہ ہوتا ہے اور دولت کی پیداوار ہوتی ہے۔ کیپٹلزم کا معنی ہے آزاد منڈی جس میں حکومت کا کام صرف جان، مال اور آزادی کا تحفظ، منڈی کے اصولوں کو یقینی بنانا اور کنٹریکٹ کو نافذ کرنا ہوتا ہے۔جب حکومت اس سے آگے بڑھتی ہے تو پھر شروع ہوتا ہے جسے ہم کرونیزم کہتے ہیں……
کرونیزم تب ہوتا ہے جب کاروباری افراد اور حکومت آپس میں سمجھوتے کرلیتے ہیں، حکومت کاروباری افراد کی مدد کرتی ہے اور کاروباری افراد حکومت کی۔ اس کی وجہ سے وہ کسی اور کو اوپر نہیں آنے دیتے، سیاسی میدان میں کاروباری افراد حکومت کی مدد کرتے ہیں اور حکومت کاروباری میدان میں ان کی۔
یاد رہے، کرونیزم کیپٹلزم کی زیادتی نہیں ہے، نہ یہ کیپٹلزم کی شدید شکل ہے اور نہ کچھ اور ہے بلکہ اگر ہم موازنہ کریں تو کرونیزم سوشلزم کے زیادہ قریب تر ہے کیونکہ یہ تب پیدا ہوتا ہے جب معاشی اور سیاسی طاقت میں عیلحدگی ختم ہوجاتی ہے، کرونیزم میں دونوں طاقتیں اتحاد کرلیتی ہیں جبکہ سوشلزم میں دونوں طاقتیں ایک ہوجاتی ہیں۔
کرونیزم میں:
حکومتیں کچھ مخصوص کمپنیوں کو مسلسل بیل آؤٹ دیتی ہیں اور بہانہ لگایا جاتا ہے کہ کمپنیاں too big to fail ہیں یعنی ان کے دیوالیہ ہونے سے معیشت کو بہت بڑا جھٹکا لگے گا لہذا ہمیں ان کو بچا لینا چاہیئے جبکہ کیپٹلزم کے مطابق ایسی کمپنیوں کو ڈوبنے دینا چاہیئے کیونکہ وہ وسائل کا درست استعمال نہیں کر رہی یا صارف کی ترجیحات کے مطابق نہیں رہیں تبھی ناکام ہورہیں ہیں۔
اسی طرح حکومتیں کمپنیوں کو “عوامی بھلائی” کے نام پر سبسیڈیز دیتی ہیں، جس سے مارکیٹ کا بیلنس خراب ہوجاتا ہے اور زیادہ تر کمپنی مالکان ہی اضافی پیسہ کماتے ہیں بجائے عوام کو کسی قسم کے ریلیف ملنے کے۔ کیپٹلزم کے مطابق ایسی سبسیڈیاں دینا بےسود ہے اور مارکیٹ میں منافع کافی ہے کسی بھی سرمایہ دار کو مزید پیداوار کی موٹیویشن دینے کے لیے۔
اسی طرح کاروبار شروع کرنے کے لیے بہت زیادہ پیپر ورک کی ضرورت رکھی جاتی ہے اور بڑی کمپنیوں کو اس میں چھوٹ یا نرمی ہوتی ہے جبکہ کیپٹلزم کا مدعا یہ ہے کہ چاہے جیسے مرضی کوئی اپنی روزی کما رہا ہے حکومت کو اس سے دور رہنا چاہیئے۔
یہ کرونیزم ہی ہے جس کی وجہ سے مونوپالیز وجود میں آتی ہیں۔
آسان الفاظ میں کیپٹلزم میں معاشی اور سیاسی طاقت میں مکمل علیحدگی کی جاتی ہے جبکہ کرونیزم میں معاشی اور سیاسی طاقت کا آپس میں اتحاد ہوجاتا ہے اور سوشلزم میں یہ ایک ہوجاتی ہیں۔
کیپٹلزم میں آپ کی کامیابی کا راز صارفین کی ضروریات کو پورا کرنا ہوتا ہے جبکہ کرونیزم میں حکومت سے اچھے تعلقات قائم رکھنا۔
جیسے ملٹن فریڈمین نے ایک دفعہ کہا تھا کہ کاروباری لوگ یقیناً لالچی ہیں لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ حکومت ان کے لالچ میں ان کی مددگار ثابت ہوتی ہے اور ان کا ساتھ دیتی ہے۔
وہ اسی کی بات کر رہے تھے۔
ساٹھ سے ستر فیصد لوگ اسی نظام کے خلاف ہوتے ہیں لیکن معاشیات کی اچھی سمجھ نہ ہونے کی وجہ سے وہ اسے ہی سرمایہ دارانہ نظام سمجھتے ہیں۔
🔷 کرونیزم کی کچھ تاریخی مثالیں
1️⃣ 2008 کا معاشی بحران
2008 میں سرمایہ دارانہ نظام کے اصولوں سے کام نہیں لیا گیا تھا بلکہ کرونیزم کے اصولوں کو اپناتے ہوئے بینکوں کو لاپرواہی پر مبنی فیصلوں کی سزا جو انھیں مارکیٹ سے ملنی چاہیئے تھی سے بچا لیا گیا تھا۔
سرمایہ دارانہ نظام کہتا ہے کہ جو جیسے کاروباری فیصلے لے پھر اسے ان کا نتیجہ بھی بھگتنے دیا جائے لیکن کرونیزم کے حامی مارکیٹ میں مداخلت کرکے اپنے پسندیدہ افراد کو ان نتائج سے بچا لیتے ہیں۔ اسی کی وجہ سے بحران بار بار ہوتے ہیں کیونکہ حکومت اس کمپنی کو bail out دیتی ہے جس کو صارفین رد کرچکے ہوتے ہیں یا جس نے غیرذمہ دارانہ فیصلے لیے ہوتے ہیں ایسی کمپنیاں بار بار فیل ہوتی ہیں۔
اب جو سرمایہ دارانہ نظام کے اصولوں سے واقف نہیں، وہ اسی کو سرمایہ داری سمجھتے ہیں۔
2️⃣ روسی اشرافیہ۔
سوویت یونین کے خاتمے کے بعد روس میں بھی ریاستی اثاثے نجی ملکیت میں دیے گئے لیکن ان اثاثوں کی نجکاری سرمایہ دارانہ نظام کے اصول آزاد مقابلے کے بجائے حکمرانوں کی مہربانی کے بنیاد پر ہوئی۔ اب چند لوگوں نے روس کے تیل، گیس اور دیگر صنعتوں کو قابو کیا ہوا ہے اور ان کے پاس ملک کی 20٪ دولت جبکہ یہ ملک کی آبادی کا 0.01٪ بھی نہیں اور حکومت ان کے ساتھ ملکر ملک چلاتی ہے۔ یہ سرمایہ دارانہ نظام نہیں بلکہ جاگیرداری کا نیا میک اپ ہے۔
3️⃣ پاکستانی شوگر مافیا۔
پاکستان میں بھی شوگر مافیا کا یہی حال ہے، زیادہ تر تو وہ خود سیاسی میدان میں اترے ہیں یا پھر ان کے لوگ سیاست میں موجود ہیں۔ ہر دفعہ وہ چینی کی پیداوار سے انکاری ہوجاتے ہیں اور قیمت بہت زیادہ ہوجاتی ہے بجائے اس کے حکومت مارکیٹ کو اپنے اصولوں کے مطابق اس مافیا کو سبق سکھانے دے کہ جب چینی مہنگی ہوگی تو عوام میٹھے کی دیگر شکلوں کی زیادہ خریداری کرلے گی اور ان کی مہنگی چینی ضائع ہوگی جسے آخرِکار انھیں سستا کرنا ہوگا۔
حکومت انھیں ٹیکس پیئر کے پیسے سے چینی پیدا کرنے کی سبسڈی دے دیتی ہے۔ یہ معاملہ یونہی چلتا جاتا ہے، اگر حکومت اس سے ہاتھ کھینچ لے تو شوگر مافیا کو اپنی بدمعاشی کا نتیجہ خود بھگتنا پڑے گا۔
ان سارے مسائل کا حل سرمایہ دارانہ نظام کو محدود کرنا نہیں بلکہ اس کو بڑھانا ہے یعنی آزاد تجارت، آزاد منڈی، آزاد مقابلہ اور حکومت کا کم سے کم معاملات میں دخل دینا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جو لوگ کیپٹلزم کو امراء کی آمریت کہتے ہیں۔ سبسڈیز دینے تاکہ اشیاء سستی ہو کے سب سے بڑے حامی بھی وہی نظر آتے ہیں جبکہ یہی وہ وجہ ہے جس سے امراء اور حکومت میں اتحاد قائم ہوتا ہے۔
کیپٹلزم کو سمجھیں اور اس پر تنقید کریں۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں