مدینہ کا نام آتے ہی دل سکون سے بھر جاتا ہے، آنکھیں جھک جاتی ہیں، اور زبان بے ساختہ درود پڑھنے لگتی ہے۔
مدینہ کی فضیلت صرف اس کے تاریخی پس منظر یا روحانی نسبت کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس وجہ سے بھی ہے کہ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شہر کے لیے خصوصی دعائیں فرمائیں، اسے محبوب قرار دیا، اور اس کی مٹی، فضا اور لوگوں کے ساتھ خاص تعلق قائم کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: “مدینہ میرے لیے ایسا ہی ہے جیسے ابراہیم علیہ السلام کے لیے مکہ تھا۔” آپ نے اس کے لیے برکت اور امن کی دعا بھی فرمائی، اور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ دجال مدینہ میں داخل نہیں ہو سکے گا۔
مدینہ کا سب سے بابرکت اور محبوب مقام “روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم” ہے، جہاں محبوبِ خدا آرام فرما رہے ہیں۔ اور اسی مبارک جگہ کے قریب واقع ہے “ریاض الجنہ”۔ یہ وہ جگہ ہے جسے جنت کا ٹکڑا قرار دیا گیا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: “میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان کی جگہ جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے۔” (صحیح بخاری و مسلم)
ریاض الجنہ کا تصور ایک عام مقدس مقام کی حد سے کہیں بلند ہے۔ یہاں قدم رکھتے ہی دل کی دنیا بدل جاتی ہے۔ ہر مسافر، ہر حاجی، ہر عاشقِ رسول کی سب سے بڑی خواہش یہی ہوتی ہے کہ اسے روضۂ رسول کے سامنے چند لمحے میسر آئیں، اور وہ ریاض الجنہ میں دو نفل پڑھ کر، ہاتھ بلند کر کے، اشکوں کی زباں میں دعا کرے۔ وہاں کا سکون، وہاں کی خاموشی، وہاں کی روحانی کیفیت کسی دنیاوی لفظ میں بیان نہیں کی جا سکتی۔
ریاض الجنہ میں نماز پڑھنا، دعا مانگنا، اور کچھ دیر کے لیے خاموش بیٹھ کر درود پڑھنا، گویا دنیا و آخرت کی کامیابی کے دروازے کھول دیتا ہے۔ یہاں عبادت قبولیت کے خاص درجے پر فائز ہوتی ہے۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ وہاں جگہ پانا آسان نہیں ہوتا، لیکن جس کو توفیق مل جائے، وہ اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہے۔
ریاض الجنہ میں موجود منبر، جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے، آج بھی لوگوں کے دلوں کو گرما دیتا ہے۔ اسی جگہ پر بیٹھ کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے دین کی عظمت کو سنا، ایمان کو تازگی بخشی، اور ہدایت کے نور کو قبول کیا۔ اس مقام کی زیارت صرف ایک رسم نہیں بلکہ ایک روحانی تربیت ہے، جو انسان کو نرمی، عاجزی اور بندگی سکھاتی ہے۔
مدینہ اور ریاض الجنہ کا تعلق محض مقام یا جگہ سے نہیں، بلکہ روح سے ہے۔ اس شہر میں داخل ہوتے ہی دل کا میل دھلنے لگتا ہے۔ جو یہاں سچائی سے قدم رکھتا ہے، اس کے دل میں عجز اور محبت کی کیفیت بڑھتی ہے۔ یہاں کے لوگ، یہاں کی فضا، یہاں کا ادب، سب کچھ خاص لگتا ہے۔ مدینہ میں اونچی آواز میں بات کرنا بھی گوارا نہیں کیا جاتا، کہ یہی وہ جگہ ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: “اے ایمان والو! اپنی آوازوں کو نبی کی آواز سے بلند نہ کرو…” (سورۃ الحجرات)
مدینہ کی خاک بھی اہلِ ایمان کے لیے مقدس ہے۔ کتنے ہی اولیاء، علماء، اور صالحین نے اپنی زندگی کی آخری دعا یہی کی کہ وہ مدینہ میں مر جائیں اور جنت البقیع میں دفن ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی مدینہ میں وصال فرمایا اور یہیں دفن ہوئے۔ آپ کا روضہ آج بھی عشق و عقیدت کا مرکز ہے، جہاں ہر زبان درود پڑھتے ہوئے جھکتی ہے، اور ہر دل مغفرت کا طلب گار ہوتا ہے۔
آج کے دور میں جب دنیا کی چمک دمک اور مادیت نے دلوں کو سخت کر دیا ہے، مدینہ اور ریاض الجنہ کا تصور ہمیں روحانیت، عاجزی اور اصل دین کی طرف بلاتا ہے۔ وہاں جا کر انسان کو احساس ہوتا ہے کہ اصل نفع کس چیز میں ہے، اصل سکون کہاں ہے، اور اصل عزت کس کی محبت میں ہے۔
جو لوگ مدینہ کی زیارت سے محروم ہیں، ان کے دلوں میں بھی اس شہر کی یاد دھڑکتی ہے۔ اور جو ایک بار وہاں جاتا ہے، اس کا دل دوبارہ جانے کے لیے تڑپتا ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں جانے کے بعد انسان اپنے آپ سے وعدہ کرتا ہے کہ وہ دنیا میں بھی مدینے جیسی سادگی، محبت، اور رحمت کو اپنائے گا۔

ریاض الجنہ صرف ایک جگہ نہیں، یہ دلوں کی جنت ہے۔ یہاں کی چند لمحوں کی حاضری صدیوں کے گناہوں کو مٹانے کی طاقت رکھتی ہے، بشرطیکہ نیت خالص ہو، دل جھکا ہو، اور آنکھیں اشکبار ہوں۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں