پہلگام دہشت گردانہ حملہ بزدلانہ ہے ۔ دہشت گردانہ حملہ چاہے جس نوعیت کا ہو ، چاہے جِس مقصد کے لیے ہو ، بے قصوروں کی بڑی جانیں لیتا ہے ، اس لیے ایسے کسی بھی حملے کی حمایت نہیں کی جا سکتی ۔ ایسا ہر حملہ قابلِ مذمت ہی کہا جائے گا ۔ اور جو ایسے حملوں پر تالیاں بجاتے ہیں ، اگر انہیں دنیا کی سب سے زیادہ بے غیرت اور بے شرم مخلوق کہا جائے ، تو غلط نہیں ہوگا ۔ اور تالیاں بجانے والوں کے مقابلے وہ افراد کہیں زیادہ بے غیرت اور بے شرم کہے جائیں گے ، جو پہلگام جیسے دہشت گردانہ حملوں کو اپنی سیاست کو چمکانے ، اپنی روٹی پر دال کھنچنے اور اپنے بدترین مفادات کی تکمیل کے لیے ’ ہندو – مسلم ‘ کرنے کے لیے استعمال کریں ۔ پہلگام حملے کے بعد یہی ہو رہا ہے ۔ میں وزیراعظم نریندر مودی یا مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کا نام تو نہیں لوں گا ، مگر بی جے پی کے سیاست دانوں کی ایک اچھی خاصی تعداد مذکورہ دہشت گردانہ حملے کے نتیجہ میں سوائے ’ ہندو – مسلم ‘ کرنے کے کچھ نہیں کر رہی ہے ۔ اور کوئی بھاجپائی ’ کلمہ ‘ پڑھنے کی بات کر رہا ہے ، تو کوئی اس بات پر زور دے رہا ہے کہ ’ ذات نہیں دھرم پوچھ کر دہشت گردوں نے گولی ماری ‘ ، یعنی دہشت گرد ہندوؤں کو مارنے آئے تھے ، چاہے ہندو کسی بھی ذات کا ہو ، اس لیے ہندو ’ بٹے نہیں جُٹے ، بٹے گا تو کٹے گا ۔‘ اور یہ جو ساری ’ ہیٹ اسپیچ ‘ ہے ، اسے گودی میڈیا فروغ دے رہا ہے ! کیا گودی میڈیا پہلگام دہشت گردانہ حملے سے اٹھنے والے اُن سوالوں سے بے خبر ہے ، جو مودی اور امیت شاہ کو کٹگھڑے میں کھڑا کر رہے ہیں ؟ یقیناً وہ بے خبر نہیں ہوگا ، اسے سب پتا ہے ، لیکن اُسے اپنے آقاؤں کی ناراضی مول لے کر اپنا دھندہ چوپٹ نہیں کرانا ہے ۔ جی یہ جھوٹ پروسنا اور اس کے عوض ایک بڑی رقم بغیر ڈکار لیے ہضم کر جانا گودی میڈیا کا دھندہ ہی ہے ۔ ایک بڑا سوال یہ ہے کہ بھلا جِس جگہ دو ڈھائی ہزار سیاح موجود ہوں ، اس جگہ کیوں کوئی سیکیورٹی نہیں تھی ؟ مرکزی حکومت نے ’ چُوک ‘ یعنی سیکیورٹی کی غلطی قبول کی ہے ، سوال یہ ہے کہ ’ چُوک ‘ کا ذمہ دار کون ہے ؟ سیکیورٹی ایجنسیاں ، انٹلی جنس ایجنسیاں ، فوج ، متوازی فوج ، یا بی ایس ایف ؟ یا ’ چُوک ‘ کی ذمہ دار مرکزی وزارتِ داخلہ پے ؟ اگر ’ چُوک ‘ ہونا مانا جا رہا ہے ، تو اُس ’ چُوک ‘ کے لیے کیا کسی کے خلاف کارروائی کی گئی ہے ؟ کیوں امیت شاہ اس حملے کے ذمہ دار نہ قرار دیے جائیں ، پولیس اور سب سیکیورٹی ایجنسیاں تو انہی کو جوابدہ ہیں ؟ یہ کوئی پہلا حملہ نہیں ہے ۲۰۱۴ ء سے لے کر اب تک ۲۷ بڑے دہشت گردانہ حملے ہو چکے ہیں ، جیسے کٹھوعہ ، اُری ، پٹھان کوٹ ، کلگام ، امرناتھ یاترا ، پلوامہ ( جس میں ۴۰ فوجی شہید ہوئے تھے ) اور یہ پہلگام حملہ ؛ اتنے زیادہ حملوں کے بعد بھی کیوں کسی کو ذمے دار نہیں مانا گیا ؟ کیوں سیکیورٹی اور انٹلی جنس کی ناکامیوں پر اعلیٰ افسروں اور متعلقہ وزارتوں کے خلاف تفتیش اور کارروائی نہیں کی گئی ؟ کیا یہ بھارتی شہریوں سے دھوکہ نہیں ہے ؟ ’ ہندو – مسلم ‘ چاہے جس قدر کر لیں اب ہندو بھی سمجھ چکا ہے کہ یہ سارا کھڑاگ ناکامی چھپانے کے لیے ہے ۔ وہ جو پہلگام میں متاثر ہوئے ہیں مودی حکومت سے سوال پوچھ رہے اور جان خطرے میں ڈالنے والے عام کشمیریوں کی تعریف کر رہے ہیں ۔ کیا یہ حکومت اور زہریلے سیاستدان اور گودی میڈیا اب بھی ’ ہندو – مسلم ‘ کرنے سے باز نہیں آئے گا !

بشکریہ فیس بک والمک
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں