پہلگام حملہ، گودی میڈیا اور ہندو مسلم/ شکیل رشید

پہلگام دہشت گردانہ حملہ بزدلانہ ہے ۔ دہشت گردانہ حملہ چاہے جس نوعیت کا ہو ، چاہے جِس مقصد کے لیے ہو ، بے قصوروں کی بڑی جانیں لیتا ہے ، اس لیے ایسے کسی بھی حملے کی حمایت نہیں کی جا سکتی ۔ ایسا ہر حملہ قابلِ مذمت ہی کہا جائے گا ۔ اور جو ایسے حملوں پر تالیاں بجاتے ہیں ، اگر انہیں دنیا کی سب سے زیادہ بے غیرت اور بے شرم مخلوق کہا جائے ، تو غلط نہیں ہوگا ۔ اور تالیاں بجانے والوں کے مقابلے وہ افراد کہیں زیادہ بے غیرت اور بے شرم کہے جائیں گے ، جو پہلگام جیسے دہشت گردانہ حملوں کو اپنی سیاست کو چمکانے ، اپنی روٹی پر دال کھنچنے اور اپنے بدترین مفادات کی تکمیل کے لیے ’ ہندو – مسلم ‘ کرنے کے لیے استعمال کریں ۔ پہلگام حملے کے بعد یہی ہو رہا ہے ۔ میں وزیراعظم نریندر مودی یا مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کا نام تو نہیں لوں گا ، مگر بی جے پی کے سیاست دانوں کی ایک اچھی خاصی تعداد مذکورہ دہشت گردانہ حملے کے نتیجہ میں سوائے ’ ہندو – مسلم ‘ کرنے کے کچھ نہیں کر رہی ہے ۔ اور کوئی بھاجپائی ’ کلمہ ‘ پڑھنے کی بات کر رہا ہے ، تو کوئی اس بات پر زور دے رہا ہے کہ ’ ذات نہیں دھرم پوچھ کر دہشت گردوں نے گولی ماری ‘ ، یعنی دہشت گرد ہندوؤں کو مارنے آئے تھے ، چاہے ہندو کسی بھی ذات کا ہو ، اس لیے ہندو ’ بٹے نہیں جُٹے ، بٹے گا تو کٹے گا ۔‘ اور یہ جو ساری ’ ہیٹ اسپیچ ‘ ہے ، اسے گودی میڈیا فروغ دے رہا ہے ! کیا گودی میڈیا پہلگام دہشت گردانہ حملے سے اٹھنے والے اُن سوالوں سے بے خبر ہے ، جو مودی اور امیت شاہ کو کٹگھڑے میں کھڑا کر رہے ہیں ؟ یقیناً وہ بے خبر نہیں ہوگا ، اسے سب پتا ہے ، لیکن اُسے اپنے آقاؤں کی ناراضی مول لے کر اپنا دھندہ چوپٹ نہیں کرانا ہے ۔ جی یہ جھوٹ پروسنا اور اس کے عوض ایک بڑی رقم بغیر ڈکار لیے ہضم کر جانا گودی میڈیا کا دھندہ ہی ہے ۔ ایک بڑا سوال یہ ہے کہ بھلا جِس جگہ دو ڈھائی ہزار سیاح موجود ہوں ، اس جگہ کیوں کوئی سیکیورٹی نہیں تھی ؟ مرکزی حکومت نے ’ چُوک ‘ یعنی سیکیورٹی کی غلطی قبول کی ہے ، سوال یہ ہے کہ ’ چُوک ‘ کا ذمہ دار کون ہے ؟ سیکیورٹی ایجنسیاں ، انٹلی جنس ایجنسیاں ، فوج ، متوازی فوج ، یا بی ایس ایف ؟ یا ’ چُوک ‘ کی ذمہ دار مرکزی وزارتِ داخلہ پے ؟ اگر ’ چُوک ‘ ہونا مانا جا رہا ہے ، تو اُس ’ چُوک ‘ کے لیے کیا کسی کے خلاف کارروائی کی گئی ہے ؟ کیوں امیت شاہ اس حملے کے ذمہ دار نہ قرار دیے جائیں ، پولیس اور سب سیکیورٹی ایجنسیاں تو انہی کو جوابدہ ہیں ؟ یہ کوئی پہلا حملہ نہیں ہے ۲۰۱۴ ء سے لے کر اب تک ۲۷ بڑے دہشت گردانہ حملے ہو چکے ہیں ، جیسے کٹھوعہ ، اُری ، پٹھان کوٹ ، کلگام ، امرناتھ یاترا ، پلوامہ ( جس میں ۴۰ فوجی شہید ہوئے تھے ) اور یہ پہلگام حملہ ؛ اتنے زیادہ حملوں کے بعد بھی کیوں کسی کو ذمے دار نہیں مانا گیا ؟ کیوں سیکیورٹی اور انٹلی جنس کی ناکامیوں پر اعلیٰ افسروں اور متعلقہ وزارتوں کے خلاف تفتیش اور کارروائی نہیں کی گئی ؟ کیا یہ بھارتی شہریوں سے دھوکہ نہیں ہے ؟ ’ ہندو – مسلم ‘ چاہے جس قدر کر لیں اب ہندو بھی سمجھ چکا ہے کہ یہ سارا کھڑاگ ناکامی چھپانے کے لیے ہے ۔ وہ جو پہلگام میں متاثر ہوئے ہیں مودی حکومت سے سوال پوچھ رہے اور جان خطرے میں ڈالنے والے عام کشمیریوں کی تعریف کر رہے ہیں ۔ کیا یہ حکومت اور زہریلے سیاستدان اور گودی میڈیا اب بھی ’ ہندو – مسلم ‘ کرنے سے باز نہیں آئے گا !

julia rana solicitors london

بشکریہ فیس بک والمک

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply