کبھی کبھی تو مجھے لگتا ہے کہ مجھ میں بھی ڈاکٹروں والی امیونٹی آگئی ہے۔جیسے وہ لاشیں دیکھ دیکھ کر بے حس ہو جاتے ہیں، میں بھی عورتوں پر ہونے والے ظلم و ستم کے واقعات پڑھ پڑھ کر شاید بےحس ہوگئی ہوں۔اب سوشل میڈیا پر صبح سے اس خبر کے بارے میں نوجوان لڑکیوں کا واویلا دیکھ رہی ہوں کہ ویہاڑی میں ایک جواری نے بازی ہارنے پر جیتنے والے کو اپنی بیوی کا ریپ کرنے کی اجازت دے دی اور میں سوچ رہی ہوں کہ ان لڑکیوں کے لئے شاید یہ پہلی خبر ہے مگر میں تو بچپن سے اس طرح کی خبریں پڑھتی چلی آ رہی ہوں کہ جواری نے جوئے میں اپنی بیوی کو ہاردیا،بیوی نہ ہوئی جنس یا مال مویشی ہو گئی جسے آپ نے جب جی چاہا کسی کے سپرد کر دیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہمارے مولوی صاحبان اس بارے میں کیا ارشاد فرماتے ہیں۔وہ زلزلوں اور سیلابوں کی وجہ تو عورت کی بے حیائی کو ٹھہراتے ہیں مگر اس طرح کے واقعات پر ان کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔سلام ہے اس عورت کو اور اس کے باپ کو جس نے تھانے میں جا کر اس ظلم کے خلاف رپورٹ لکھوائی۔ا ب دیکھنا ہے کہ قانون کے رکھوالے کیا کرتے ہیں۔
اتفاق سے میں صبح سے خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے جو اس مرتبہ رمضان میں پڑ رہا ہے،اپنی تقریر کے نکات تیار کر رہی تھی کیونکہ جس تعلیمی ادارے نے مجھے مدعو کیا ہے وہ رمضان کی وجہ سے فروری کے اواخر میں اپنا پروگرام کر رہا ہے۔لیکن جو باتیں میں ‘‘مکالمہ’’ میں کر سکتی ہوں ، وہ وہاں نہیں کر سکتی۔ ان اداروں میں تو ہم اقوام متحدہ کے دئیے ہوئے موضوعات پر ہی بات کرتے ہیں ۔ہم میں سے سے بہت کم کو یاد رہتا ہے کہ یہ عالمی دن تو نیو یارک کی گارمنٹس فیکٹریوں کی مزدور خواتین کی جدو جہد کے حوالے سے منایا جاتا ہے۔اسی طرح عورتوں پر تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر ‘‘تتلی بہنوں’’کی بات کرتے ہوئے ہم یہ نہیں بتاتے کہ ان بہنوں کے جدوجہد سرا سر سیاسی تھی۔ آمریت کے خلاف تھی اور جمہوریت کی بحالی کے لئے تھی ۔لیکن سرمایہ داری کا کمال یہی ہے کہ ہر چیز کو منافع یا فنڈنگ کا ذریعہ بنا لیا جاتا ہے۔ چی گیوارا کی تصویر والی ٹی شرٹس ، کیپ اور کافی کے مگ اچھا خاصا کاروبار بن چکے ہیں۔
خیر تو بات ہو رہی تھی عورت کو بھیڑ بکری سمجھنے کی، اسے جوئے میں داؤ پر لگانے کی۔کسی بھی تعلیم یافتہ اور تہذیب یافتہ معاشرے میں اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا لیکن ہماری اکثریت تعلیم سے محروم ایک ایسے معاشرے میں رہ رہی ہے جو قبائلی، جاگیرداری اور سرمایہ داری روایات کا ملغوبہ ہے اور فیصلہ سازی کا اختیار اشرافیہ کے ہاتھ میں ہے ۔اور میں صبح سے یہی سوچ رہی ہوں کہ سوشل میڈیا پر غم و غصہ کا اظہار کرنے والی لڑکیوں کو کیسے سمجھاؤں کہ تعلیم کے حصول اقتصادی خود مختاری اور سائنسی ترقی کے بغیر ہمارے حالات کبھی نہیں بدلیں گے۔

خیر شروع میں، میں نے کہا تھا کہ کچھ باتیں ایسی ہیں جو میں صرف ‘‘مکالمہ ’’پر ہی کر سکتی ہوں۔تو آئیے، آپ کو فلم ‘‘دھوم دھام’’ کے کچھ ڈائیلاگز سناتی ہوں۔ہیرو لڑکی سے پوچھتا ہے:‘‘تم لڑکیاں جھوٹ کیوں بولتی ہو؟’’لڑکی کہتی ہے: ‘‘جھوٹ بولنے کا کوئی شوق نہیں ہمیں
ہمیں جھوٹ بولنا پڑتا ہے
یہاں پرکتنا مشکل ہے عورت ہونا
شادی سے پہلے ماں باپ کے رولز فالو کرو
شادی کے بعد پتی کے ماں باپ کے رولز فالو کرو
پھر بچے پیدا کرو
لڑکی پیدا ہوئی تو اور بچے پیدا کرو
اس سے کیا فرق پڑتا ہے
صرف نو ماہ میں تو ایک بچہ ہو جاتا ہے۔
اپنے سپنوں کی تو تم بجا لو
اور جہاں بھی جاؤ ، جتنے مرد ہیں
ایسے دیکھتے ہیں جیسے پتا نہیں کیا دیکھ رہے ہوں
اور جو آنکھ نہیں ملاتے ،وہ انگلیوں سے اپنا کام کر لیتے ہیں(طرح طرح کے القابات سے الگ نوازتے ہیں۔)
پنتالیس ڈگری درجہ ء حرارت میں بھی ماں باپ کہتے ہیں
‘سر سے پاؤں تک خود کو ڈھک کر نکلو’
چاہے پاپ کارن بن جاؤ
تو صاحب یہ صورت حال ہے ،‘مشرقی’ لڑکیوں کی لیکن پھر ان ہی لڑکیوں میں ڈاکٹر رشید جہاں، عصمت چغتائی، قرت العین، فہمیدہ ریاض، کشور ناہید جیسی قلم کار بھی سامنے آئیں۔برطانوی سامراج کے خلاف جنگیں لڑنے اور سیاسی تحریکوں میں حصہ لینے والی خواتین کی فہرست تو خاصی طویل ہے۔تو پیاری لڑکیو، حوصلہ مت ہارو ، ان باپ بیٹی کا ساتھ دو جنہوں نے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کے خلاف قانون کا دروازہ کھٹکھٹایاہے ۔ اب تو پنجاب کی وزیر اعلی ٰ بھی ایک خاتون ہیں ، ہمیں امید ہے کہ وہ اس واقعے کا فوری نوٹس لیں گی۔اور آئندہ اس طرح کا کوئی واقعہ سامنے نہیں آئے گا۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں