گداگری اور اس کے اسباب۔۔محسن علی

ہمارے ملک میں یوں تو بے شمار مسائل ہیں لیکن گدا گری کے عفریت نے ملک کو  بری طرح سے اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔مگر کیا سارے گداگر ہی گداگر  ہیں؟۔۔ ایسا نہیں ہے،

کئی سال پہلے کراچی میں موجود گداگروں  کے بارے میں ایک کالم پڑھا تھا جو کہ کافی مفصل تھا جس میں بتایا اور سمجھایا گیا تھا کہ یہ فقیر کس حد تک خطرناک ہوتے ہیں جن کو ہم اُن کی آواز یا معذوری کے باعث پیسے دے دیتے ہیں۔ان فقیروں کے بارے میں لکھنے والے نے انکشاف کیا تھا کراچی کو چھ ضلعوں میں تقسیم کرکے ان پر الگ الگ گروہ ملوث ہیں اور یہ سب تمام تر کالے دھن کے کام سے منسلک ہیں دانستہ یا غیر دانستہ۔اگر آپ کسی بھی فقیر کو ایک ہی جگہ چھ ماہ دیکھ لیں تو سمجھ لیں وہ کہیں نہ کہیں بک چُکا اُس کی قیمت لگ چکی۔

اس کے سوا میں بذات خود ایک فقیر سے ملا جو کہ کاشف سینٹر کے سامنے سڑک پر ہوتا تھا۔اُسکا کہنا تھا مہینے کے تیس سے ساٹھ ہزار کمالیتا ہوں۔معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ وہ ایک بی کام کیا ہو ا شخص ہے جو نوکری نہ ہونے کی وجہ سے بھیک مانگ رہا تھا اور اُس کا دماغ مضبوط ہوچکا تھا کہ بینک میں نوکری  کرکے سات سے دس سال میں اتنے پیسے  نہیں کماسکوں گا  جتنا اس پیشے میں کما لیتا ہوں  یہ تو فقیری کی ایک وجہ تھی۔
مگر فقیری کی ایک وجہ کاہل الوجودی اور آسان طریقے سے پیسے زیادہ کمانے کا رجحان بھی ہے ساتھ یہ کہ رمضان سے قبل تیس ہزار کے قریب ہر سال نئے فقیر آتے ہیں اور پھر ان میں سے کافی فقیر پلاٹوں میں قبضہ مافیا کے ساتھ جُڑ کر کراچی میں مستقل ہوجاتے ہیں،یا پھر کسی ایجنسی یا کسی پارٹی کے لئے یا پولیس کے لئے کام کرنے لگتے ہیں اور بہت سے کیسز میں یہ فقیر ٹارگٹ کلر کے بھی کام آتے ہیں۔اس کی ایک مثال علامہ حسن ترابی کا کیس ہے جو فقیر کے روپ میں آکر بیٹھنا شروع ہو ا تھا اور چند مہینے بعد   انہیں شہید کردیا گیا۔گداگری سے منسلک لوگ اُسی حال میں اس لئے خوش ہوتے ہیں کہ سب ادھر اُدھر سے مل جاتا ہے بہت سے فقیر ایسے بھی ہیں جنہیں  واقعی  ضرورت ہوتی ہے، اس کے سوا  کوئی چارہ نہیں مگر ایک بڑی تعداد نشے کی لت میں فُٹ پاتھ  پر موجود ہوتی ہے۔

مسئلہ یہ ہے  کہ ہم لوگ ان کو پیسے تو دے دیتے ہیں مگر ان کی کہانیاں یا ان کی زندگی کے بارے میں بیٹھ کر سننے سے ڈرتے ہیں۔وجہ ان کا  حلیہ ہوتا ہے یا پھر ہمارا خوف۔ایک دفعہ  بس میں ایک فقیر سوا ر ہوا، نوکری نہیں ہوں  پریشان ہوں۔ مانگنے پر مجبور ہوں ،کی گرادان کرنے لگا۔۔۔اتفاق سے سیلانی ویلفئیر میں کام کرنے والا بندہ موجودتھا اُس نے کہا میں دلواتا ہوں تمھیں   نوکری میرے ساتھ چلو میں وہاں کام کرتا ہوں قرض لو اور اپنا کام کرلو یا وہاں نوکری کرنے چلو پڑھے لکھے ہو میٹرک تک کام مل جائےگا ورنہ میر ے پاس کام ہے اگر تُم کرنا چاہو اُس شخص نے اپنا جاب کارڈ دکھایا اور کہا، میرے ساتھ اُتر جانا ورنہ مجھے کال کرنا
وہ بندہ سیلانی آنے سے پہلے ہی بس سے اُترکر نو دو گیارہ ہوگیا۔

گداگری کے سدباب کے لئے ریاست یا حکومتی مشینری کے پاس کوئی بھی طریقہ نہیں نہ ا س پیرائے میں سوچنے سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے جب کہ دوسری طرف ہماری عوام ان کو بڑی تعداد میں روز  پیسے دے کر ایک بوجھ بنارہی ہے معاشرے میں،شہری حکومت ہو یا دیہی یا وفاق اس حوالے سے کبھی کسی نے سوچنے کی کوشش نہیں کی غریبوں کو ہزار روپے دے کر بینظیر انکم سپورٹ کے طرز پر ریاست شہریوں کو ناکارہ بنارہی ہے اس کے لئے جامع پالیسی اور لائحہ عمل کی ضرورت ہے

محسن علی
محسن علی
اخبار پڑھنا, کتاب پڑھنا , سوچنا , نئے نظریات سمجھنا , بی اے پالیٹیکل سائنس اسٹوڈنٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”گداگری اور اس کے اسباب۔۔محسن علی

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *