زندگی کے بعض ادوار میں محسوس ہوتا ہے کہ مخصوص رویوں کو بدلنا ممکن نہیں رہا، منشیات، جوا، سیکس، پورنو گرافی ، مشت زنی یا کوئی بھی ایسا فعل یا پھر لت دراصل رویہ ہی کہلائے گا، ایسا کوئی بھی رویہ شروعات میں بڑے لطیف طریقے سے مزاج میں سرایت کرتا ہے، اور ایک پہلو سے اچھا بھی لگتا ہے کہ اس کی بدولت کسی اندرونی ناراحت سے وقتی چھٹکارے کا احساس ہوتا ہے، وقت کے ساتھ یہ لطافت عادت میں بدلتے ہوئے ایسی مضبوط ہوتی ہے کہ پہلے اندرونی خلا کو پر کرنے کا جو دلنشیں نسخہ ہاتھ آیا تھا اب وہ شیطانی دائرے کی صورت فرد کو ناکوں چنے چبوانے پہ مجبور کر دیتا ہے۔
آخر کیا ایسی وجہ ہے کہ انسان ،یہ جاننے کے باوجود کہ یہ آسان نسخہ کس قدر خطرناک ہو سکتا ہے، واپس اسی کی طرف پلٹتا ہے؟ آج فیشن تو یہی ہے کہ کسی بھی نفسیاتی معمے کو بچپن کے ٹراما سے جوڑ دیا جائے، اور پھر بچپن میں چونکہ ہر شخص کسی نہ کسی ٹراما سے گزرا ہی ہے تو فرد کو آسانی سے اس پہ قائل کرتے ہوئے کسی بھی تھراپی پہ راضی کیا جا سکتا ہے۔
کوئی بھی addiction ہو، اس کے پیچھے کسی ایسے خلا کو پر کرنے کی کوشش ہے جس بارے انسان خود جانتا ہے کہ اسے کسی صورت پر نہیں کیا جا سکتا، یا پھر وجود کے کسی ایسے پہلو کے ساتھ تعلق بحال کرنے کی سعئ لاحاصل ہے جس تک دسترس ممکن نہ رہی ہو۔ بظاہر طبیعت کو لگی ایسی کوئی بھی لت (خوگرفتگی) جسے دلنشیں نسخے سے مندمل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہو، نقصان دہ معلوم ہوتی ہے، لیکن جو فرد اس کیفیت سے گزر رہا ہے اس کیلئے یہ اس درد کو پکڑنے کی کوشش ہے جو شعوری آئینے پر اس کی آنکھوں کے سامنے پھسل رہا ہے لیکن ہاتھ نہیں آ رہا ، بعض لوگ آسانی سے کسی ایسی لت میں پڑ سکتے ہیں جبکہ بعضے اس سے ہمیشہ دور رہتے ہیں، addiction شاید نفسیات کا مشکل ترین مضمون ہے کہ خوگرفتگی کی کوئی ٹھوس اور اکلوتی وجہ کا ڈھونڈھنا آسان نہیں۔
سب سے موزوں مگر دل کو نہ بھانے والا جواب یہ ہے کہ لامقصدیت ہی اس کی اصل وجہ ہے، یہ جواب چاہے درست بھی ہو، اور ہے بھی، لیکن دماغ کے کسی گوشے میں کسک باقی رہتی ہے کہ کچھ اور وجوہات بھی ہو سکتی ہیں، چاہے وہ وجہ بیرونی ہی کیوں نہ ہوں ۔ ویسے بھی کتنے ہی ایسے افراد ہمارے گرد موجود ہیں جن کی زندگی کا کوئی مقصد نہیں لیکن وہ بظاہر کسی بری لت میں مبتلا نہیں ۔
تو کیا یہ کوئی اندرونی خلا ہے جو اڈکشن کو جنم دیتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو کیا قوت ارادی سے اس پہ قابو پایا جا سکتا ہے؟
ہماری یہ لت صرف سماجی ناانصافی یا ظلم کا نتیجہ ہی نہیں ہے بلکہ ہمارے اندرونی وجود کے غیر حل شدہ تنازعوں کا عکس بھی ہے، کارل یونگ کے مطابق وجودی خلا ایک خوف کو جنم دیتا ہے اور کمزور نفسیات کے مالک افراد اس خوف سے ٹکرانا نہیں چاہتے، اس لئے مخالف سمت کو بھاگتے ہیں لیکن چونکہ یہ خوف بھی طاری رہتا ہے کہ خوف کہیں پیچھا کرتے ہوئے کسی موڑ پہ آن پکڑ لے تو کیا ہوگا، اس درد کی شدت کو مٹانے کیلئے کسی ایسی لت کا سہارا لیا جاتا ہے جو شعور کی سمت موڑتے ہوئے وقتی طور پر توجہ کی رسد کاٹ ڈالے ، اور ایسی لت چونکہ مفید ہونے کے ساتھ ملذذ بھی ثابت ہوتی ہے تو انحصار بڑھتا جاتا ہے۔
یونگ کا دعویٰ ہے کہ لت کی طرف جھکاؤ لاشعوری سطح سے ابھرتا ہے، گویا اندرونی خلا کو کسی بیرونی شغل سے بھرنے کی کوشش لاشعوری ہے، یہ اندرونی خلا کئی وجوہات کی بنا پہ پیدا ہوتا ہے، جیسے زندگی میں کسی مقصد کا نہ ہونا، جذباتی ہم آہنگی کا فقدان، سماجی غیر قبولیت، شخصی پہلوؤں کو اجاگر نہ کر سکنے کا دکھ وغیرہ، محبت یا روزگار کے مسائل درج بالا وجوہات کی ذیلی شاخیں ہیں اور یہ تمام وجوہات ثانوی ہیں ۔
اڈکشن کی تعریف یہ ہے کہ ہر وہ چیز یا ہر وہ رویہ جسے عملی جامہ پہنانے یا استعمال/آشکار کرنے کے بعد بھی اصل مسئلہ تو حل نہ ہو لیکن سرکردہ فعل دہرانے کی خواہش پھر سے سر اٹھائے تو ایسے فعل/رویہ کو اڈکشن کہیں گے،
ہم صرف بری عادتوں ہی کو لت یا اڈیکشن کا نام دیتے ہیں،یعنی substantial والی قسم تک محدود رہتے ہیں، حالانکہ یہ صرف ایک رخ ہے، دوسرا رخ خاص رویوں کی لت کا لگ جانا ہے، یعنی behavioral, بلاوجہ روٹھنا، شدید غصہ کرنا، رونا دھونا، ناشکری وغیرہ گویا کہ اقبال کے شاہین کا وہ بلاوجہ پلٹنا جھپٹنا بھی ایک طرح کی لت ہی ہے،،، سرائیکی محبوب، جیہرا ہر ویلے سہائی بیٹھے، بھی رویوں کی اڈیکشن میں مبتلا ہے۔
روٹھنے یا غصہ کرنے کو اگر کوئی ٹھوس وجہ موجود نہیں ہے اور فرد مستقل ایسے رویوں کا شکار ہے تو جان لینا چاہئے کہ وہ بھی ایسی ہی کمزور نفسیات کا مالک ہے جیسا کوئی نشہ کرنے والا، وجودی خلا دونوں کا ایک ہی ہے ، فرق صرف اس کے آشکار کرنے میں ہے ۔ سرائیکی ڈھولے کو منانے والا اگر کوئی نہ ہو تو اسے ملنگ بنتے دیر نہیں لگتی ۔
گابر ماته کینیڈا کے نفسیات دان ہیں، انہوں نے Addiction کے موضوع پہ جو سیر حاصل گفتگوئیں کی ہیں وہ شاندار ہیں ، حالانکہ وہ بھی اپنی گفتگو بچپن کے ٹراما ہی سے شروع کرتے ہیں، اگرچہ اس کی اہمیت سے انکار نہیں لیکن اب ہر چیز کو بچپن کی محرومیوں سے جوڑنے کا فیشن چل پڑا ہے تو یہ طبیعت پہ گراں گزرتا ہے، ان کا کہنا ہے کہ بچے کا بلاوجہ انگوٹھا چوسنا بھی ایک علت ہے جو شکایت ہے کہ اسے توجہ نہیں دی جا رہی۔ یہ انسان کے اندر کا ایک خلا ہے جو درد کی شکل اختیار کرتا ہے اور اسی درد کے مٹانے کیلئے فرد کسی بھی لت میں گرفتار ہو سکتا ہے۔ گابر نے ایک نشئی سے پوچھا کہ کس لئے منشیات کا استعمال کرتے ہو؟ اس کا جواب بہت دلچسپ تھا کہ تاکہ میں ان احساسات کو محسوس نہ کر سکوں جو میں نشے کے بغیر والی حالت میں محسوس کرتا ہوں ۔
بحث طویل ہے، مواد بھی بے تحاشہ ہے، وجوہات اور علاج معالجے پر بھی کئی نظریات ہیں، راقم الحروف کے نزدیک اس کی اصل وجہ اور اصل علاج کو اگر چند جملوں میں سمیٹا جائے تو کہانی کچھ یوں بیان کی جا سکتی ہے۔
اگر یہ کہا جائے کہ اڈیکشن کی اصل وجہ دراصل فرد کے اپنے subjective feelings کو بہتر کرنے کی کوشش ہے تو غلط نہ ہوگا، اسی کوشش کا دوسرا رخ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ object کو اپنی پسند کے مطابق ڈھالا جائے تاکہ سبجیکٹو فیلنگ میں بہتری آ سکے، یہ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، اڈیکشن کی یہ بنیادی وجہ اڈیکشن کی دونوں صورتیں substantial اور behavioral کا احاطہ کرتی ہے۔ یہ ایک طرح کا احساسِ کمتری بھی ہے یا کم از کم ایک کمزور نفسیات کا اشارہ ضرور ہے، اس کمزور نفسیات کے پیچھے ایسی کڑی کا کھو جانا ہے جو تمہارے ماضی، حال اور مستقبل کو آپس میں جوڑے ہوئے ہے، غور کرنے پر معلوم ہوگا کہ یہ کڑی دراصل اس نسل کے لوگ ہیں جنہوں نے تمہارے پرکھوں کو اپنے ہاتھوں سے دفنایا اور یہی وہ لوگ ہیں جو تمہاری آنے والی نسل کی پرورش کرتے ہیں، یہ وہ بزرگ ہیں جو تمہارے روحانی، سماجی ، تہزیبی اور نفسیاتی تسلسل کے امین ہیں، ان سے رابطے کا کٹ جانا تمہارے اندر کسی ایسے خلا کو پیدا کرے گا کہ جسے بھرنے کیلئے تم کسی نہ کسی لت میں لگنے پر مجبور ہو جاؤ گے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں