ہمارے دیرینہ دوست نما شاگرد، عادل فاروق نے ایک سوال بھیجا۔ وہ سوال آج کے کالم کا محرک ٹھہرا ہے۔ لکھتے ہیں … انگریزی میں ہی لکھتے ہیں، انگریزی کے باکمال شاعر ہیں … میں اس کا ترجمہ پیش کر رہا ہوں: ’’میں سوچتا ہوں کہ میرا یہ خیال کہ مجھے اللہ کی طرف سے جلد ہی کوئی اچھی خبر ملے گی، کیا یہ میری کوئی خوش فہمی یا خوش خیالی یا delusional wishful thinking ہے، یا اس میں کوئی حقیقت ہے؟‘‘
ایک کلمہ گو کے لیے یہ ایک بہت بنیادی سوال ہے۔ لوگ اسے زمینی حقائق دکھا کر، مادی، معاشی اور معاشرتی کلیات سنا کر مایوس کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اسے غربت سے ڈرانے کے کوشش کرتے ہیں ۔ قرآن میں درج ہے کہ غربت سے ڈرانے والا شیطان ہوتا ہے۔ شیطان کے چیلے چانٹے، اہلِ ایمان کو ان کے انفرادی اور اجتماعی مستقبل سے مایوس کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مایوسی ہی ان کا ہتھیار ہے۔ مایوسی ایک دلدل کی طرح ہوتی ہے۔ راہِ امید پر چلتے چلتے ایک مرتبہ مایوسی کی دلدل میں پاؤں دھنس جائے تو انسان اس میں گرتا ہی چلا جاتا ہے۔ مایوسی بعض اوقات ایک نشے کی طرح انسانی شعور کو لگ جاتی ہے۔ ہر نشہ باز یہ جانتا ہے کہ نشہ باعثِ ہلاکت ہے، لیکن وہ اس میں تسکین محسوس کرتا ہے اور وہ زہر پھر اپنے اندر داخل کر لیتا ہے۔ مایوسی ایسی خود لذتی سے بھی اللہ پناہ دے۔ مایوسی کا نشہ ہمیں حقائق دیکھنے میں مانع ہوتا ہے۔ مایوسی فریب ہے۔ امید حقیقت ہے۔ امید سے فرار حقیقت سے فرار ہے۔ جس طرح حق ایک حقیقت ہے، حق تعالیٰ ایک حقیقتِ کل ہے، اس طرح امید بھی ایک حقیقت ہے۔ حق کے مقابلے میں باطل ہے اور باطل کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ باطل اس اندھیرے کی طرح ہے جس کی عمر سورج کے طلوع ہونے تک ہے۔ امید روشنی ہے، مایوسی اندھیرا۔ ایمان روشنی ہے، تشکیک تاریکی! گھپ اندھیروں میں روشنی کی امید، تاریک فضاؤں میں سورج طلوع ہونے کا انتظار، ناممکنات میں ممکنات کی امید … ایمان کا تقاضا ہے۔
صاحبِ ایمان صاحبِ دعا ہوتا ہے اور صاحبِ دعا اگر مادی فارمولوں کو حتمی تصور کر لے تو وہ کیا دعا کرے گا۔ دعا انسان کو صفات کے عالم سے نکال کر ذات کے روبرو کرتی ہے۔ ذات سے صفات ہیں، صفات سے ذات نہیں۔ یعنی ذات مجموعہ صفات نہیں، بلکہ ذات صفات کی محتاج نہیں۔ وہ ذات قبل از کن بھی ذات تھی، اور تخلیق کرنے کے بعد بھی وہی ذات ہے۔ اس کی صفات میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوئی۔ اس کی قدرت جس طرح کن سے پہلے کامل اور مکمل تھی، اسی طرح بعد از کن بھی کامل ہے۔ اس نے اپنی تخلیق کو تخلیقی کلیوں کے حوالے نہیں کر دیا، بلکہ وہ ہر آن متوجہ ہے ، بہر شان حاضر و موجود ہے۔ وہ سمیع و بصیر ہے۔ وہ قریب ہے … جب کوئی دعا کرتا ہے تو قریب ہی ہوتا ہے۔ خواہ اسے کوئی دل ہی دل میں پکارے یا باالفاظ و آواز ۔وہ قریب ہے۔ ہمارے خیالوں سے تو وہ اس قدر قریب ہے کہ ہمارے نفسوں میں پیدا ہونے والے وسوسوں کو بھی خوب جانتا ہے … وہ اپنے کلام قرآن میں بھی محوِ کلام ہے … وہ کلام کرتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ ہم تمہاری رگِ جاں سے بھی زیادہ قریب ہیں۔ اس سے دوری ایک فریب ہے۔ ہم اس سے دور ہیں، بقدرِ غفلت دور ہیں۔ جس قدر غافل ہیں، اسی قدر دور ہیں۔۔ وہ ہم سے دور نہیں، ہم اسے بھول جاتے ہیں، وہ نہیں بھولتا۔ ہم خوابِ غفلت میں کھو جاتے ہیں، وہ ہمہ حال بیدار ہے، اسے نیند آتی ہے، نہ اونگھ! ہم اسے بھول جاتے ہیں ، ہم معصیت میں اسے بھول جاتے ہیں ، ہم بھول جاتے ہیں کہ وہ ہمارے قریب ہے۔ ہم دوری کے فریب میں آ جاتے ہیں اور اس کے فرمان سے دور ہو جاتے ہیں۔ ہمارے پاس اس سے فرار کے راستے کم ہیں، اس کے پاس ہمیں اپنے قریب کرنے کے بہت سے راستے ہیں۔ دور ہونے والا بھی دور نہیں رہتا۔ اس کی رحمت ہمارے قریب رہتی ہے۔ ہم نعمتوں کا شکر ادا کرنے میں بخیل ہیں ۔ وہ نعمتیں عطا کرنے میں فراخ دل ہے۔ کس قدر حوصلہ افزا ہے، کلامِ مجید میں یہ اعلان کہ : کتب علی نفسہ الرحم … اس نے اپنے لیے رحمت ہی لکھ لی ہے۔ رحمت، فضل اور کرم کے الفاظ ہمیں ہمارے اعمال اور حالات کی سنگینیوں سے نکالنے کے لیے کافی ہیں۔ کیا خوب فرمان ہے، حضرت واصف علی واصفؒ کا ،حریمِ لامکاں کا رازداں ہی یہ بات کہہ سکتا ہے ۔ ’’رحمت ہوتی ہی ہے، اعمال کی عبرت سے بچانے کے لیے۔ اگر اعمال کے ساتھ صرف انصاف ہی ہونا ہے تو پھر رحمت کیا ہے؟‘‘
یوں تو وہ لفظوں کے بغیر بھی اپنی ہر مخلوق سے مخاطب ہے، لیکن انسان کو اس نے یہ شرف بخشا ہے کہ وہ اس کے ساتھ لفظوں کے ساتھ ہم کلام ہوتا ہے۔ انسان دعاؤں کے الفاظ کے ذریعے اس سے ہم کلام ہوتا ہے ، اور وہ کلامِ مجید کے ذریعے لفظوں کے ساتھ محسوسات کے عالم میں بھی ہم سے ہمہ حال مخاطب رہتا ہے۔ ہم اس کا کلام سنتے نہیں، ہم باوضو نہیں رہتے۔ ہماری نیت باوضو نہیں رہتی، اس لیے ہم اس کے کلام کے معانی تک نہیں پہنچتے۔ معانی کلام ’’کتابِ مکنون‘‘ ہے … پاک لوگ ہی اس سے تمسک کر سکتے ہیں۔
ہم اپنی دعاؤں میں باادب نہیں رہتے۔ ہمیں ہم کلام ہونے کا سلیقہ نہں۔ ہم اپنی دعا میں درخواست نہیں کرتے، بلکہ ہم اپنی دعا پر اصرار کرتے ہیں۔ پھر وہ ایک اور مہربانی کرتا ہے کہ ہماری دعا فوری قبول نہیں کرتا۔ جس انسان اس کائنات کا حتمی نقشہ اور حتمی انجام نہیں جانتا، اسی طرح وہ اپنی زندگی کا حتمی نقشہ بھی از خود تشکیل نہیں دے سکتا۔ یہ ایک ایسا نادان بچہ ہے جو چاقو سے کھیلنا چاہتا ہے، آگ کو چھونا چاہتا ہے۔ وہ ستر ماؤں سے زیادہ مہربان ہے، اس لیے وہ مہربانی کرتا ہے اور بہت سی دعائیں قبول نہیں کرتا۔ دعائیں فوری قبول نہ ہوں تو یہ نادان بچہ ناامیدی کی طرف راہِ فرار اختیار کر لیتا ہے۔
وہ انسان جو ایک خالق و مالک پر ایمان رکھتا ہے، جو اس پر بھی ایمان رکھتا کہ اس کا خالق قادر مطلق بھی اور علیم و حکیم بھی، جو یہ بھی مانتا ہے کہ وہ سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے … اسے یہ حق حاصل نہیں کہ وہ مایوس ہو جائے۔ جو شخص اس بات پر ایمان رکھتا ہے کہ اس کی تصویر کا مصور اس کی تقدیر کا بھی مصور ہے، اسے یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی خواہشات کو دعاؤں کی شکل دے اور پھر ان دعاؤں پر اصرار کرے …! بندہِ مومن پر لازم ہے کہ اپنی تقدیر کا شعور حاصل کرے، اپنی تقدیر بدلنے پر اصرار نہ کرے۔ اس کی زندگی جن مراحل سے گزر رہی ہے، اسے رب العالمین کی حکمت سمجھے۔ ہماری تقدیر اس کی تدبیر ہے … اور اس کی تدبیر بہرطور بہترین ہے۔ اچھائی یا برائی زندگی میں کسی مقدار کے کم یا زیادہ ہونے کا نام نہیں، انسان کی اپنے خالق کی طرف توجہ کے کم یا زیادہ ہونے کا نام ہے۔
وہ انسان جو رب العالمین کے محبوب رحمت للعالمین، حضرت محمد مصطفیﷺ کی رسالت پر ایمان رکھتا ہے۔ اسے یہ حق حاصل نہیں کہ اپنے اعمال کمی یا کجی کی وجہ سے اپنے رب کی رحمت و مغفرت سے مایوس ہو جائے۔ رحمت للعالمینؐ شفیع المذنبین ہیں … یہاں اور وہاں ہر دو جہاں اپنے امتیوں کے باعثِ رحمت ہے … آپؐ کے دم معصیت مغفرت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ آپؐ کے وسیلے سے شفاعت نصیب ہوتی ہے۔
پھر میرے گناہوں کا کس لیے ہے احتساب
جب واسطہ دیا ہے تمہارے حبیبؐ کا
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں