آپ نے اکثر کمیونسٹوں کو پروپیگنڈا کرتے دیکھا ہوگا کہ لبرل دراصل جدلیاتی منطق کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور جدلیاتی منطق اعلیٰ شکل ہے منطق کی اس لیے اس نتیجے میں پیدا ہونے والے نظریات قدرتی طور پر عام منطق کے نظریات سے بہتر ہوتے ہیں وغیرہ۔
اب یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ لبرل جدلیات کیوں استعمال نہیں کرتے۔ دیکھیں جدلیات کو استعمال نہ کرنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ تاریخیت کا عنصر اپنے اندر رکھتی ہے جو کہ لبرل فلسفے کے خلاف ہے کیونکہ لبرل فلاسفہ کا ماننا ہے کہ کوئی بھی جدت پسند اور آگے کی طرف دیکھنے والا نظریہ کبھی بھی ماضی میں کیا ہوا تھا سے سروکار نہیں رکھتا۔ اس کے علاوہ چونکہ لبرل فرد کو اہمیت دیتے ہیں ان کے لیے یہ ماننا ممکن نہیں کہ تاریخ کا ارتقاء کچھ تجریدی اصولوں کے تحت ہوتا ہے بجائے انفرادی سطح پر کیے گئے کاموں سے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ جدلیات نام نہاد “کُلی تجزیے” کے نام پر ہر چیز کو جوڑ کر دیکھتی ہے جو کہ چیز کی انفرادی حیثیت کو نظرانداز کردیتا ہے اور عملی طور پر اجتماعیت کی طرف لے کر جاتا ہے اور چونکہ لبرل اجتماعیت کے خلاف انفرادیت کے حامی ہوتے ہیں لہذا ان کے لیے جدلیات کوئی سودمند طریقہء تجزیہ نہیں کیونکہ یہ ان کی فلسفیانہ سوچ کے ہی سرے سے خلاف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کمیونسٹوں کے علاوہ جدلیات کے فاشسٹ بھی بہت دلدادہ ہوتے ہیں اور وہ ایسی باتیں کرتے ہیں کہ ریاست اور فرد کا جدلیاتی تعلق ہے اور فرد ریاست کے بغیر کچھ بھی نہیں وغیرہ وغیرہ۔ ایسی باتیں اس نظریے کے ماننے والوں کو گہرا تجزیہ لگتی ہونگی لیکن لبرلز کو یہ ان کے انفرادیت میں یقین کے خلاف لگتی ہیں۔
تیسری وجہ اس تمام جدلیاتی طریق میں فرد کو اکیلے اہمیت نہیں بلکہ فرد کا معاشرے کے ساتھ جدلیاتی تعلق بنا دیا ہے جس کی وجہ سے معاشرے کو بھی فرد کے برابر بلکہ کچھ معاملات میں فرد سے بھی زیادہ اہمیت مل جاتی ہے جو کہ لبرل سوچ کے خلاف ہے کہ فرد چونکہ معاشرے سے پہلے وجود رکھتا ہے لہذا وہ معاشرے سے اہم ہے۔
آخر میں اہم بات یہ ہے کہ یہ بھی صرف مارکسسٹوں کی خوش فہمی ہے کہ لبرل کسی جدلیاتی طریقہءِ کار کے لیے بہت بےتاب ہے لیکن ان کے دانشور ایسا کچھ پیدا کرنے سے قاصر ہیں۔ انھیں یہ بات یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ تھامس ہل گرین ہیگلین فلسفے اور جدلیات کا ماہر تھا اور اس کا social liberalism کا فلسفہ بھی اسی کے پیشِ نظر پیدا ہوا تھا کیونکہ وہ معاشرے کو ایک کُلی organic انداز میں دیکھتا تھا بجائے لبرل ازم کے عمومی انفرادی انداز میں تو اگر مارکسسٹوں کی بات درست مان لی جائے تو گرین تو لبرلوں کا سب سے بڑا دانشور ہونا چاہیئے تھا اور انھیں چاہیئے تھا کہ گرین کے ہی فلسفے کو آگے بڑھاتے جب کے حقیقت اس کے الٹ ہے۔ گرین کا فلسفہ لبرلز میں کافی وقت تک شک کی نظروں سے ہی دیکھا جاتا رہا کیونکہ یہ لبرل ازم کے کلاسیکل یقین کہ حکومت کو ہر کام سے باہر رکھنا چاہیئے کی نفی پر مبنی تھا گو کہ اس کو عملی وجوہات کی وجہ سے کافی مقبولیت ملی لیکن اسے آج بھی لبرل فلاسفہ اپنی روایت سے ہٹی ہوئی اور اجتماعیت کا رنگ رکھنے والی چیز ہی سمجھتے ہیں۔
اور گرین نے صرف فلسفہ ہی نہیں دیا تھا بلکہ اس نے یہ بھی کہا تھا اپنی کتب میں کہ ہیگلین فلسفہ کسی طرح بھی لازمی طور پر مارکسی نظریات کا حامی نہیں اور اسے ہم بھی استعمال کرسکتے ہیں اور کرنا چاہیئے اس کے باوجود بیسویں صدی کے لبرل فلاسفہ اور دانشوروں نے اسے رد کردیا اور باقاعدہ اس پر تنقید بھی کی۔ جنھوں نے گرین کے فلسفے کو مانا انہوں نے بھی جدلیات کو مزید استعمال کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔
بلکہ لوڈوگ وون مائیسس اور فریڈرک ہائیک نے مل کر سماجی تجزیے کے لیے ایک نئے اندازِ فکر پیدا کیا جس کی بنیاد بھی قدیم یونان سے لی گئی تھی جسے praxeology کہتے ہیں اور اس کے ذریعے جدلیات کے بغیر ایک اپنا طریقہء تجزیہ نکالا جسے methodological individualism کہتے ہیں جس میں لبرل نظریات کے مطابق شخص کو بطورِ شخص دیکھا جاتا ہے بجائے کسی اجتماعی انداز میں دیکھنے کے۔
اسی لیے کمیونسٹ حضرات سے گزارش ہے صرف “غیر جدلیاتی” کہہ کر کوئی کسی چیز کو رد نہیں کرسکتا اس کے بجائے کوئی مدلل اور جامع بات کیا کریں اور یہ معروضِ خاطر رکھا کریں کہ سامنے والا آپ کے چیزوں کے دیکھنے کے انداز کا قائل ہو یہ لازمی نہیں۔ ہم نہیں بھی مانتے لیکن اگر آپ کی منطق “اعلیٰ” ہے تو آپ کی منطق کو منطقی طور پر عمومی منطق سے استدلال کرنے والوں پر بھاری پڑنا چاہیئے۔ صرف رٹے رٹائے احساسِ برتری جسے اور کوئی نہیں مانتا اس سے کچھ نہیں ہوتا۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں