کتابوں سے عشق کی آخری صدی۔۔۔ابو بکر قدوسی

یوں جانیے دلدل میں اتر گئی تھی اور اب دھیرے دھیرے ڈوب رہی ہے۔ ممکن ہے بچ نکلے اور کوئی معجزہ ہو جائے کہ امید پر دنیا قائم ہے۔ امید اس لیے کہ چند برس پہلے اردو زبان پر ایک آفت اتری تھی۔ وہ یہ کہ ہر طرف رومن اردو کا چلن ہو گیا۔ سوشل میڈیا کا آغاز تھا، دنیا اس پر پل پڑی۔ شروع شروع میں وہاں اردو رسم الخط کی سہولت موجود نہ تھی۔ سو ہر بندہ رومن اردو میں لکھنا شروع ہو گیا۔ حتی کہ بعض سنجیدہ حلقوں نے یہ تجاویز تک دینا شروع کر دیں کہ اردو کا رسم الخط بدل دیا جائے۔ یعنی کہ نامعقولیت اپنی انتہاؤں کو چھونے کو تھی۔ وہ تو اللہ کا کرم ہو گیا، سوشل میڈیا پر اور وٹس ایپ پر اردو رسم الخط جاری ہو گیا، ورنہ ہمارے ہاں کے ’’جنم جنم کے دیسی گورے‘‘ ہمیں اردو سے محروم کرنے کے درپے تھے۔

اب صورت حال یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر رومن اردو میں لکھا کوئی پڑھنا بھی پسند نہیں کرتا۔ فللہ الحمد۔ اس واقعے کو سامنے رکھ کر میں نے لکھا کہ ممکن ہے ایسا ہی کوئی ’’معجزہ‘‘ کتاب کے باب میں بھی ہو جائے وگرنہ ’’کتاب مر رہی ہے‘‘ ویسے تو یہ مجموعی طور پر تمام دنیا میں ہو رہا ہے کہ کتاب کی فروخت میں نمایاں کمی آ چکی ہے۔ لیکن ہمارے پاکستان میں حالات نسبتاً دگرگوں ہیں۔ مجھے اس کے تین اسباب سمجھ آئے ہیں۔

پہلا سبب یہ ہے ہمارے ہاں کتاب کی قیمت لوگوں کی جیب کی نسبت زیادہ ہے۔ اس کا بنیادی سبب کاغذ کی آسمان کو چھوتی قیمتیں ہیں۔ ظاہر ہے کہ ہمارے حکمران طبقات آپس میں ہزار بار لڑتے رہیں لیکن قوم کو جاہل رکھنا ان کا مشترکہ ’’مشن‘‘ ہے۔ ایک المیہ اس پر یہ بھی ہے کہ اگر کوئی ایسا حاکم آ بھی جائے کہ جو مہنگائی کی مصیبت ختم کر دے اور کاغذ پر ٹیکس کم کر دے تب بھی ہمارے تاجر اس کمی کے اثرات اپنے گھر لے جانے کے لیے تو فوراً تیار ہو جائیں گے۔ لیکن عوام کو اس کے ثمرات سے بہرہ مند کرنے کے لیے قطعاً تیار نہیں ہوں گے۔

کتاب کی فروخت میں کمی کا دوسرا بڑا سبب، کتاب پڑھنے والے طبقے کا سوشل میڈیا کی طرف حد سے زیادہ راغب ہونا ہے۔ جو لوگ فیس بک کے سحر کے شکار ہیں، وہ بھی اور جو لوگ وٹس ایپ کے گروپ بنا کر بیٹھے ہیں وہ بھی ہر وقت موبائل ہاتھ میں پکڑے، اکیلے اکیلے مسکرا رہے ہیں، یا چہرے پر شکنیں ڈالے جلدی جلدی ٹائپ کررہے ہیں اور تمام رات بیت جاتی ہے۔ ساری رات جاگدیاں لنگ جاندی کدی غم دے مارے نئیں سوندے، خود مجھے بہت زیادہ گروپس نے شامل کر رکھا ہے۔ چونکہ دوست اجازت لے کر ’’ایڈ‘‘ کرتے ہیں اسی لیے میں بھی وہاں موجود ہوتا ہوں۔ لیکن گفتگو میں کم حصہ لیتا ہوں۔ میرا زیادہ وقت فیس بک کی نذر ہو جاتا ہے۔ اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ جب سے سوشل میڈیا زندگی میں آیا ہے کتاب سے ہوا تعلق بھی بہت کمزور ہو گیا ہے۔ جن لوگوں کے ہاتھ میں کبھی کتاب ہوتی تھی اب بڑی سی سکرین والا موبائل ہوتا ہے اور اس سبب سے کتاب پڑھنا تقریباً ختم ہو چلا ہے۔

تیسرا اور سب سے بڑا سبب کتابوں کے جعلی اور برقی ایڈیشن ہیں۔ اس کو آپ ’’پی ڈی ایف‘‘ بولتے ہیں۔ اس نے تو کتاب کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ کوئی بھی کتاب تیار کرنے میں مصنف اور ناشر کی برسوں کی محنت ہوتی ہے۔ یہ جو کتاب آپ بہت آسانی سے کمپیوٹر سے ڈاؤن لوڈ کر لیتے ہیں، اس میں کبھی کبھی ایسے مشکل مراحل گذر چکے ہوتے ہیں کہ آپ تصور بھی نہیں کر سکتے۔ مدت گذری جب میں اردو پبلشنگ کے میدان میں نووارد تھا اور شوق بے پناہ، تو کتاب ’’اللولووالمرجان‘‘ شائع کرنے کا ارادہ کیا۔ ان دنوں ہماری رہائش راوی روڈ پر تھی۔ اور میں ٹائٹل معروف خطاط جناب عبدالرشید قمر سے ہی لکھواتا تھا۔ ان سے ہمارا گہرا تعلق ہے جو والد صاحب سے وراثت میں ملا ہے۔ میں راوی روڈ سے چلتا اور گلشن راوی کے پہلو میں ساندہ کلاں جا پہنچتا۔ گپ شپ بھی چلتی اور کام بھی۔ ان کی خطاطی کا عروج تھا اور وقت بھی اس عروج سے کئی گنا ضرب کر کے لیتے تھے۔

مجھے آج بھی یاد ہے کہ اس ایک ٹائٹل کے لیے اٹھارہ بار ان کے گھر جانا پڑا تھا۔ اردو زبان میں تفسیر ابن کثیر کی تخریج والا نسخہ سب سے پہلے ہمارے مکتبہ قدوسیہ نے شائع کیا تھا۔ تب اس کی عربی میں بھی تخریج نہ ہوئی تھی کہ راہنمائی ہو جاتی۔ مجھے شاید اس کو مکمل کرتے کرتے دو برس لگے۔ اور روپیہ لاکھوں صرف ہوا۔ یعنی کتاب کی تیاری میں محض وقت نہیں لگتا جگر کا لہو بھی صرف ہوتا ہے۔ لیکن ادھر کتاب مارکیٹ میں آتی ہے ادھر اس کی پی ڈی ایف آ جاتی ہے۔ اب خود فیصلہ کیجیے کہ کتاب کون شائع کرے گا؟ بڑے بڑے نام ور مصنّفین کی کتب کی تعداد اشاعت اگر آپ کو بتا دوں تو آپ حیرت سے انگلیاں دانتوں تلے داب لیں۔ ہمارے اردو بازار کے کتنے ہی ناشر حضرات نے بہت سی کتب کے کام ادھورے چھوڑ دیے ہیں۔ اس لیے کہ کون برسوں کی محنت سے ترجمہ کروائے، لاکھوں روپے خرچ کرے اور سو دو سو نسخے فروخت ہونے کے بعد کتاب گودام میں کسی عمر گزری دوشیزہ کی طرح بے بسی سے ہر آہٹ پر امید لگا بیٹھے کہ ابھی کوئی آئے گا اور… لیکن اب یہاں کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا دل تنہا غم تنہائی میں ڈھل جائے گا لگے ہاتھوں اردو شاعری کی کتب کا احوال بھی پڑھ لیجئے۔ کچھ عرصہ پیشتر ایک پبلشر سے پوچھا تو بتانے لگے کہ میں نے تو سو روپے کی پانچ کتابیں کا نرخ مقرر کر دیا ہےکہ چلو ردی سے تو بہتر ہےاور یوں موصوفہ “جدید” شاعری اس نرخ پر”نرک” میں جا گری۔۔ کوئی پبلشر چھاپنے کو تیار نہیں.. شاعر خود پیسے کا انتظام کرتا ہے.. دکاندار پرنٹ کر دیتا ہے…اور “صاحب کتاب” اپنی کتاب بیوی کو ، اس کی سہیلیوں کو اور دوستوں کو پیش کر کے خوب داد پاتا ہے۔

ایک دل چسپ بات بتاتا چلوں کہ جو دوست پی ڈی ایف بنانے والا نیکی کا کام کرتے رہے اور کتاب کی تجہیز و تکفین کا سامان کرتے رہے، اپنے گمان کے مطابق بہت نیکی کا کام کرتے رہے۔ جب کہ ان کی یہ ’’نیکی‘‘ کتاب کی موت کا سامان بن گئی۔ میں بطور مثال صرف ایک آدھ کتاب کا ذکر کرتا ہوں اور امید ہے کہ اسی سے آپ کو سمجھ آ جائے گی کہ یہ نیکی ہے یا خرابی۔ اگر آپ تفسیر ابن کثیر جیسی کتاب کا ترجمہ شائع کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں اور اصل کتاب کے دو ہزار صفحات ہیں تو اس کے ترجمے، کمپوزنگ اور پروف ریڈنگ کے اخراجات تقریباً آٹھ سے دس لاکھ روپے ہیں۔ یاد رہے اس میں کاغذ، طباعت اور جلد بندی شامل نہیں۔ صرف وہ اخراجات جو کتاب کی طباعت کا عمل شروع ہونے سے پہلے کے ہیں۔

اور مزید یہ بھی بتا دوں کہ ترجمہ، کمپوزنگ کے مراحل بسا اوقات برسوں پر محیط ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ جابجا اس میں مشکلات آنا معمول کی بات ہے۔ بہرحال تفسیر ابن کثیر کے حجم کی کتاب کو اگر دو برس میں مکمل کر لیا جائے تو یہ شاندار کارکردگی مانی جائے گی۔ لیکن یہ سب کرنے کے بعد جب کتاب کی چند ہفتے میں پی ڈی ایف آ جاتی ہے تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ پبلشر پر کیا گذرتی ہے۔ لیکن چھوڑیے جو گذرنی تھی سو گذر چکی۔ اب ناشر حضرات، کوئی اور کاروبار دیکھ رہے ہیں، بہت سے جا چکے باقی تیار بیٹھے ہیں۔… لیجئے عثمان قدوسی کا انتخاب اور ہمارے ایک ناشر دوست سعود عثمانی کا شعر ملاحظہ کیجئے کاغذ کی یہ مہک، یہ نشہ روٹھنے کو ہے یہ آخری صدی ہے، کتابوں سے عشق کی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *