انسان عجب ہے۔ ہر وقت اور ہر مقام پر فرار کی راہ ڈھونڈ لیتا ہے۔ سکون ملے تو مصروف ہونا چاہتا ہے، مصروف ہو تو سکون حاصل کرنے کی تمنا کرتا ہے۔ ذکر میں سکون ہے، لیکن یہ ذکر سے بھی فرار حاصل کرتا ہے اور غافل ہو جاتا ہے۔ غافل ہو تو بے چین رہتا ہے، تسکین قلب کے لیے ذکر، تسبیحات اور اَوراد پوچھتا ہے۔ انسان شاید خود سے فرار چاہتا ہے۔ خود سے فرار ہی خدا سے فرار ہے۔
انسان تنہائی سے فرار ہو کر ہجوم میں آتا ہے اور ہجوم سے فرار ہو کر خلوت میں پناہ لیتا ہے۔ خلوت اور تنہائی میں فرق ہے۔ وہی فرق جو انگریزی کے Solitude اور Loneliness میں ہے۔ خلوت تنہائی میں انجمن آرائی ہے۔ تنہائی فقط اکلاپا ہے۔ خلوت نشین اپنی ذات کا عارف ہوتا ہے۔ وہ اپنی ذات میں انجمن ہے۔ اس کی زندگی میں کوئی لمحہ، کوئی واقعہ، کوئی فرد ایسا نہیں جو اس کے بامعنی خیال کا حصہ نہیں۔ اس کی زندگی کا جزو اس کے کل سے ایک معنوی ربط رکھتا ہے۔ اس کی زندگی بامعنی ہے، بامقصد ہے … اور اس کی موت بھی اسی طرح بامعنی اور بامقصد۔ خلوت نشیں کو شہرت سے کوئی واسطہ نہیں۔ وہ جانتا ہے، شہرت دوسروں کا منظر ہے۔ اس کا اصل تعارف اس کے اندر کا انسان ہے، اس کا باطن ہے … اور اس کے باطن کو ظاہر کی حاجت نہیں۔ ظاہر باطن سے بے نیاز نہیں رہ سکتا، باطن ظاہر سے، ظاہرداری سے بے نیاز ہے۔ ظاہر کثرت ہے، کثرت کا خوگر ہے۔ باطن وحدت ہے، شیدائے وحدت ہے۔ خلوت اختیاری ہے، تنہائی اضطراری! صلہ، جزا، انعام … اختیاری عمل پر واجب ہوتا ہے۔ اضطرار، مجبوری، سزا کی مستحق ہے، نہ جزا کی! انعام یافتگان صاحبانِ اختیار ہوتے ہیں۔ وہ اپنے اختیار کو اختیار دینے والے کے ہاں سرنگوں کر دیتے ہیں اور یوں سرفراز ٹھہرتے ہیں۔ اُن کا یہ اختیاری عمل انہیں مالک و مختار بنا دیتا ہے۔
قرآن میں ہے: اللہ کی طرف فرار اختیار کرو۔ ایک غافل شخص اللہ کی راہ سے فرار ہونے کے عمل میں مصروف ہوتا ہے۔ اُس ذات ِبے ہمتا سے فرار کسی طور ممکن ہی نہیں … کیونکہ وہ سمتوں سے ماورا ہے، اُس کی طرف اشارہ بھی نہیں کیا جا سکتا ہے۔
ہادی بھی وہی ہے اور مضل بھی وہی۔ قریب بھی ہے اور بعدن بھی وہ۔ اس کے لیے مشارق ہیں اور مغارب ہیں۔ ہر طلوع ہونے والا اسی کی طرف سے طلوع ہوتا ہے اور ہر غروب ہونے والا اسی کی طرف غروب ہوتا ہے۔ ماضی اس کا، مستقبل اس کا … اس کا حال ہمہ حال ہے۔ وہ جو omnipresent ہے، ہر جگہ موجود ہے، ہر طرف موجود ہے، اس سے فرار کیسے ممکن ہے؟ … ممکن ہی نہیں۔ عالمِ موجودات میں اس کے کچھ شعائر ہیں جن کا احترام، اس کا احترام ہے، جن کی تعظیم، اسی کی تعظیم ہے۔ کعبہ کی ایک سمت ہے، صفیٰ مروہ دو پہاڑیاں ہیں، اللہ کے خاص بندوں کے ساتھ نسبت کے سبب معظم ٹھہرا دی گئیں۔ یہاں تک کہ حرم میں پیش کی جانے والی قربانیوں کے چوپائے بھی شعائر میں شامل کر دئیے گئے۔ اللہ اللہ … انسان کا کیا مقام ہو گا!!
اللہ سے فرار اللہ کے حکموں سے فرار ہے، اللہ کے احکام اللہ کے بندوں کے ذریعے ہی ہمیں وصول اور موصول ہوتے ہیں۔ انبیاء و اوصیاء … اللہ کے بندے ہیں۔ اولیاء اللہ … اللہ کے بندے اور دوست ہیں۔ اقرار اور انکار کا سارا امتحان انسانوں میں انسانوں ہی کے ذریعے مکمل ہو جاتا ہے۔ والدین انسان ہیں، لیکن اللہ کے ٹھہرائے ہوئے قابلِ تعظیم انسان … حکم ہے کہ اُن کے لیے اپنے بازو کشادہ کر دو، اپنے کندھے جھکا دو، یعنی اپنی انا کو قربان کر دو، اُن کے ساتھ احسان کرو، انہیں اُف تک نہ کہو … یہ اللہ کو راضی کرنے، یا ناراض کرنے کی گوشت پوست کی بنی ہوئی چیک پوسٹیں ہیں۔ یہی حال رحم کے رشتوں کا ہے، یہی ہمارے اساتذہ اور مرشدوں کا ہے۔ استاد کا بے ادب علم سے اور مرشد کا بے ادب روحانیت سے محروم ہو جاتا ہے۔ معلومات بڑھ جاتی ہیں لیکن معلومات میں ربط ختم ہو جاتا ہے۔ راست سفر، سفرِ معکوس بن جاتا ہے۔ پہلے جس چیز کے حق میں دلائل دئیے جاتے تھے، اب اس کے انکار میں دلائل قائم کیے جاتے ہیں۔ باادب کو بانصیب کہا گیا ، اس کے برعکس بھی سچ ہے۔ بے ادب بے نصیب ہی لکھا گیا ہے۔ ’’با‘‘ اور ’’بے‘‘ کا فرق بہت بڑا فرق ہے۔ یہ فرق سمتیں بدل دیتا ہے۔ یہ ’’با‘‘، ’’بائے بسم اللہ‘‘ بھی ہو سکتی ہے۔ حفظِ مراتب ملحوظ نہ رکھے جائیں تو ادب بھی ملحوظِ خاطر نہ رہے گا۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ فرماتے ہیں: ’’جو بات نہیں مانتا، وہ ذات کو نہیں مانتا‘‘۔ گویا حکم اور حکم دینے والی ذات کو الگ الگ خانوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ جب ہم زمین پر کھڑے ہیں تو ہمارے اوپر سات آسمان ایک ہی آسمان ہے۔ پہلے اور ساتویں میں فرق علمی نوعیت کا ہے، عملی نوعیت کا نہیں۔ گھر کے قریب مسجد قبلہ رو ہے، اس لیے یہ مسجد اس بڑی مسجد کی طرح قابلِ تعظیم ہے۔ ایک مسجد کی بے حرمتی سب مسجدوں کی بے حرمتی ہے۔ سمت ایک ہو اور نسبت ایک ہو، تو حرمت بھی ایک سی ہوتی ہے۔ متلاشی نسبت تلاش کرتا ہے، یکسوئی اور وحدت تلاش کرتا ہے اور جزو میں کل اور قطرے میں قلزم کا جلوہ دیکھ لیتا ہے۔ اعتراض کرنے والا اعراض کر جاتا ہے۔ یہ فرار ہے … یہ سفرِ معکوس ہے۔ سفرِ معکوس پر گامزن ہر آنے والے لمحے کے ساتھ منزل سے بعید ہوتا چلا جاتا ہے۔
خوب کو ناخوب اور راست کو معکوس کرنے والی جبلت کا نام فرار ہے۔ عقل اگر سلیم نہ ہو تو اقرار کے بجائے انکار کی دلیل سجھاتی ہے۔ قلب اگر منیب نہ ہو تو توبہ کے بعد توبہ شکنی کا عمل جاری رہتا ہے۔ سلامتی عقلِ سلیم ہی کو حاصل ہے۔ عقلِ سلیم وہ ہے جسے راہِ تسلیم میں کوئی دقت پیش نہ آئے۔ عقلِ سلیم سے دُور اور قلبِ منیب سے محروم شخص کی ہر ذہنی کاوش وحدت کی اُلٹ سمت میں کام کرتی ہے۔
اطاعت میں راحت ہے، بغاوت میں کلفت ہے۔ انسان راحت کو چھوڑ کر کلفت کا راستہ اپنا لیتا ہے۔ حیرت ہے انسان آسانی کو چھوڑ کر مشکل کا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔ سلامتی کی راہ کو ترک کر کے بربادی کے راستے پر چل پڑتا ہے۔ عافیت کی جگہ آفت قبول کر لیتا ہے۔ اطاعت میں لطافت ہے، بغاوت میں کثافت۔ انسان جائے لطافت سے فرار اختیار کرتا ہوا اور جب کثافت کی دلدل میں دھنس جاتا ہے تو فریاد کرتا ہے … توبہ کرتا ہے۔ توبہ بجا، سو بار بجا … لیکن وہ توبہ سے بھی فرار اختیار کر لیتا ہے … وہ توبہ شکنی کرتا ہے … اور بار بار کرتا ہے۔ یہ فرار دَر فرار ہے۔ فرار کا راستہ اقرار ہی روکتا ہے … اقرار باللسان و تصدیق بالقلب!
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں