علم نفسیات میں مرد کو کس نظر سے دیکھا جاتا ہے؟-عارف خٹک

کہتے ہیں کہ مرد کے بڑھاپے اور اس کے بے ضرر ہونے کا پتہ اس کی زبان دیتی ہے۔ مرد جو گناہ اپنے اعضاء سے کرنے کا قائل ہوتا ہے، وہ بہ زبان کرنا شروع کر دیتا ہے۔ فحش گوئی اور گندے لطیفے، جوانی کی جھوٹی کہانیاں جن میں ہر زیر بار جسم خاتون کے رونے دھونے کی کہانیاں وافر مقدار میں ہوتی ہیں، سمجھو یہ مرد اب بے ضرر ہو چکا ہے۔ مگر ایک بات بتاؤں، مرد کی ٹھرک کبھی ختم نہیں ہوتی۔ نفسیات میں ٹھرک “جنسی رویے کی شدت” والے جذبے کو کہا جاتا ہے۔ مرد میں یہ جذبہ عورت سے زیادہ پایا جاتا ہے۔ مرد کا احساس برتری اسے کبھی یہ نہیں بتاتا کہ عورت کے جذبات اس سے کس بات کے متقاضی ہیں۔ بلکہ مرد میں ٹھرک کے ایک رویے پر بھی بات کی جاتی ہے جس کو نفسیات کی زبان میں “Erotomania” کہا جاتا ہے، جس میں مرد سمجھتا ہے کہ ہر صنفِ نازک اس کی محبت میں مری جا رہی ہے۔ یہ ایک غیر حقیقی کیفیت ہوتی ہے۔ زیادہ بازاری عورتوں کے پاس جانے والے مرد عمر آخر میں اس کیفیت کا شکار ہو کر کسی بازاری عورت کو گھر لے آتے ہیں۔

مردوں میں مردانگی کا تصور بہت مختلف ہے۔ مردانگی کی تعریف کچھ یوں بنتی ہے کہ مرد خوداعتمادی، اعصاب کی مضبوطی، بھرپور قوت فیصلہ، اور اخلاقی رویوں کا حامل ہونا ہے، جبکہ ٹھرک جنسی مسائل کا شکار بنا کر مرد کو اخلاقی پستی کا سامنا کرا دیتی ہے۔
قارئین، اوپر یہ سب لکھنے کا مقصد یہی ہے کہ ہم کوئی گنوار نہیں ہیں، مستند ماہر علومِ نفسیات ہیں۔ ایک عدد پی ایچ ڈی کی ہے، مگر ہمارے مضامین پڑھ کر انبکس بہنوں کی صلاوتیں سن کر ہم مجبور ہوئے کہ اپنی صفائی دیں۔ تو بات یہ ہے کہ پڑھے لکھے ہم بھی ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ کیا کہنا چاہیے، کہاں منہ بند اور کہاں قلم کو غلاف پہنانا چاہیے۔ ہم اس بات پر فخر کر سکتے ہیں کہ اپنے علاقے کے پہلے پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہونے کا اعزاز ہمیں حاصل ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس پر کسی کو یقین نہیں ہوتا جیسے آپ کو نہیں ہو رہا۔ اب ہم کسی سے کیا کہیں کہ بھیا، ہماری ڈاکٹریٹ کے پیچھے کیا عوامل کارفرما تھے۔ پڑھے لکھے تو ہم بچپن سے تھے، یہ الگ بات کہ نصاب کم پڑھا، چترالی میگزین کا ہر شمارہ ابھی تک ازبر ہے۔ ماسکو اسٹیٹ یونیورسٹی میں کلینیکل نفسیات کی تعلیم کے پیچھے ہماری وہ سپروائزر تھی جو بقول کرنل محمد خان، جب معانقہ کرتیں تو پہلے ان کی چھاتیوں سے گلے ملنا پڑتا۔ یہیں سے ہماری ڈاکٹریٹ کا آغاز ہوا، جو بالآخر اٹلی کی فلورنس پبلک یونیورسٹی کی اس لڑکی پر ختم ہوا جو بقول ابا مرحوم کے فلاں کے، “کولہے اتنے بھاری ہیں کہ ایک کلومیٹر بھگاؤ تو بھی کولہوں پر دھرا گلاس چھلکے بھی نہ”۔
ڈاکٹریٹ کرنے کے بعد فخر سے اماں کو بتایا کہ “ماں تیرا بیٹا ڈاکٹر بن گیا ہے”۔ تو اماں گاؤں میں چار دن تک سسکیوں سے ہر ایک کو بتاتیں پھریں کہ “میں نہ کہتی تھی ایک دن میرا بیٹا گاؤں کے کمپاؤنڈر سیف اللہ سے بھی بڑا ڈاکٹر بنے گا”۔ جب گاؤں کی دادیوں اور حاملہ چاچیوں کو بتایا کہ ہم دوائی والے ڈاکٹر نہیں ہیں تو ان کو یقین نہیں آیا کہ بھلا کوئی ایسا بھی ڈاکٹر کہلانے کا مستحق ہو سکتا ہے جس کو انجکشن لگانا نہ آئے۔ اماں نے بے یقینی سے پوچھا کہ “ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟” تو جھجھکتے ہوئے بتایا کہ “اماں، ہم نے کافی کتابیں پڑھی ہیں، ہم کتابوں کے ڈاکٹر ہیں”۔ تو آگے سے نازیبا کلمات سے نوازا گیا کہ “بے غیرت! کتابیں تو گاؤں کے مسجد کے ملا امام دین نے بھی بہت پڑھیں ہیں، اس نے تو اپنے ماں باپ کا اتنا پیسہ برباد نہیں کیا اور نہ وہ ڈاکٹر ہونے کا دعویدار ہے”۔ اس دن کے بعد نہ ہم نے اپنے ساتھ ڈاکٹر لکھا اور نہ پی ایچ ڈی، جس کا مخفف ایک دن دوست سے سنا کہ لفظ “Ph.D” پھد سے نکلا ہے۔

خیر، بات ہو رہی تھی کہ ٹھرک کیا ہے؟۔ میں یہاں ماہرین نفسیات سے متفق نہیں ہوں کہ لفظ ٹھرک اخلاقی پستی کا دوسرا نام ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ مرد یا عورت میں سے ٹھرک کی کیفیت نکال کر باہر پھینک دی جائے تو مرد اور عورت “محبوب عرف لیلیٰ کھسرے” کی قطار میں آئیں گے۔ میں نے ٹھرکی مرد یا عورت دونوں کو بہت مشکل سے بوڑھا ہوتے دیکھا ہے کیونکہ یہ کیفیت انسان کو “Hypersexual” کا شکار بنا دیتی ہے۔ اس کیفیت کے زیر اثر آپ کی جنسی طاقت بڑھ جاتی ہے اور میاں بیوی کے تعلقات کے بیچ ہیجانی جنسی کیفیت، رشتوں کی مضبوطی اور ایک دوسرے کو احساسِ فخر میں مبتلا کرتی ہے۔ میں نے شریف میاں بیوی کی زندگی پھیکی اور ٹھنڈی ہی پائی ہے۔ بلکہ آپ کو ایک مزے کی بات بتاؤں، میں نے بشیر چرسی کی بیوی کو ہمیشہ خوش دیکھا ہے جبکہ ہماری والی کا بس نہیں چلتا کہ وہ جلد از جلد ہم سے “خلع” لے لیں۔
میرے رشتے کا ایک نانا تھا، جو دراصل میری نانی کا رشتے کا بھائی تھا۔ عمر بادشاہ، جس کی ساری عمر حالتِ ٹھرک میں کراچی نیپئر روڈ کے بازارِ حسن “بلبل ہزار داستان” میں گزری تھی۔ سو، جوانی وہاں تیاگی، جب پیروں میں جان نہ رہی اور جوانی نے منہ موڑ لیا، تو چادر کندھے پر ڈال کر خراماں خراماں اپنے علاقے پدھارے۔ داڑھی رکھی گئی، آنکھوں میں سرمہ ڈال کر بے اولاد جوڑوں کے لیے تعویذ لکھنے بیٹھ گئے۔ چاروں دام علاقے میں کہرام مچ گیا کہ بابا عمر بادشاہ کو خصوصی معجزہ کراچی کے معروف “غازی بابا” نے دیا ہے کہ اس کی تعویذ سے بچے پیدا ہوتے ہیں۔ بابا کی بقیہ زندگی اولاد بانٹتے گزری۔ نوے سال کی عمر میں موصوف کی دونوں آنکھوں کی بینائی چلی گئی۔ جب کالج سے ہم گاؤں جاتے تھے تو معلوم ہوا کہ ہمارے نانا کی بینائی پریاں لے کر چلی گئیں۔ جب خواتین جوق درجوق ان کی زیارت کے لیے آتی تھیں، جیسے ہی کوئی خاتون ان کے قریب آ کر سلام کرتی تو یہ جلدی سے ہاتھ بڑھا ان کے چھاتیوں کو چھوتے اور پوچھتے “کسی کی بیٹی ہو؟”۔ وہ والد کا نام بتاتیں تو نانا جان منع کرتے کہ “وہ ان کے والد کو نہیں جانتے بلکہ ان کی ماں کو جانتے ہیں اور بتاتے کہ زلیخا کی بیٹی ہو”۔ لوگوں کو حیرت کی انتہا نہیں رہتی کہ بابا دل کی آنکھ سے دیکھتا ہے۔ ہم حیرت زدہ ہوئے اور تفتیش کی تو معلوم ہوا کہ بیٹی کا چھاتیوں کا موازنہ وہ ان کی ماں سے کرتے اور ہمیشہ ان کا اندازہ صحیح ہوتا۔ اور ان کی آنکھوں کا نور جو پری لے کر گئی تھی، اس کا نام گلوکوما یا کالا موتیا تھا۔

ٹھرک کی روحانی خوبیاں اتنی ہیں کہ ان پر کتاب لکھی جا سکتی ہے بلکہ کتابیں۔ ہمارے ایک جاننے والے ہیں، ملتان کے رہائشی ہیں۔ اچھے خاصے تبلیغی جماعت سے تعلق تھا۔ اسی کیفیت کے زیر اثر تھے۔ دو فٹ لمبی داڑھی چہرہ مبارک پر سجائی ہوئی، جو بھی دیکھتا تعظیم دیتا۔ ہمارے ساتھ کچھ ادبی محفلوں کا شریک بھی تھا۔ خواتین دیکھ کر فوراً ان کو گلے لگایا جاتا کہ “میرا بیٹا کیسی ہے؟”۔ خاتون یا بچی سمٹ جاتی۔ تو یہ ان کی کمر پر ہاتھ مار کر ان کی برا کی اسٹریپ محسوس کرکے اپنی آنکھیں بند کر لیتے اور ان کو بتاتے کہ اس کے لیے دعا فرمائی گئی ہے کہ ان کی شادی ہو۔
سوشل میڈیا پر بیٹھ قرآنی آیات کے مفہوم بیان کرتے تھے اور احادیث کی افادیت بتاتے تھے کہ “ہماری بیٹیوں کے شوہروں کی بے توجہی کی ذمہ دار ہماری اپنی بچیاں ہیں”۔ خواتین جوق درجوق ان کے انبکس میں حاضری لگاتیں کہ واقعی ہم شوہر کی نگاہِ التفات سے محروم ہیں”۔ موصوف فوراً ان کو ویڈیو کال پر لے کر ان کو نصیحت فرمانا شروع کر دیتے تھے کہ “بیٹا، اپنے فیگر کا خاص خیال رکھیں کیونکہ فیگر ڈھلکا ہو تو مرد باہر منہ مارنے لگ جاتا ہے۔۔۔ ذرا اپنا فیگر دکھانا تاکہ مشورہ دینے میں آسانی ہو”۔ بعد میں معلوم ہوا کہ داڑھی منڈوا کر موصوف بیس سالہ کسی لڑکی کو پیارے ہو گئے ہیں اور آج کل کوٹ پینٹ پہن رہے ہیں اور ردِ احادیث میں سب سے آگے ہیں۔

درجہ بالا اسٹڈی کیس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہی ٹھرک والی کیفیت انسان کو ولی بھی بنا دیتی ہے عمر بادشاہ نانا کی طرح اور جب حد سے بڑھ جائے تو ساٹھ سالہ ولی کو گلی کا لونڈا بنا دیتی ہے۔ اسی تناظر میں ڈاکٹر سگمنڈ فرائڈ کے تصورات کو غلط ثابت کیا جاتا ہے۔ اور روسی پی ایچ ڈی اسکالر کو کم از کم اتنا اسپیس تو دیجیے کہ علم شریفوں کی میراث نہیں ہے۔ علم پر ہم جیسوں کو بھی دسترس حاصل ہے، بس شرط یہ ہے کہ علم حد سے نہ بڑھ جائے کیونکہ حد سے تجاوز کوئی چیز نقصان دہ ثابت ہوئی ہے۔ باقی عزت کا کیا ہے؟ آنے جانے والی شے ہے، بس بندے کو ذرا ڈھیٹ ہونا چاہیے۔

Facebook Comments

عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply