یہ دیکھنا لازم ہے کہ آخر پانی کہاں مر رہا ہے۔ قرآن ایسی جامع کتابِ ہدایت کے ہوتے ہوئے، امام الانبیاء محمد مصطفیﷺ کی تابناک سیرتِ طیبہ ایسی اسوہِ حسنہ کے موجود ہوتے ہوئے، امت مسلمہ ذلت و پستی کے پاتال میں کیوں اترتی جا رہی ہے۔ ہماری اخلاقیات اقوامِ مغرب کی روز مرہ اخلاقیات سے بھی زبوں تر حالت میں کیوں ہیں … وہ اقوامِ مغرب جو کسی آسمانی ہدایت کو سرے سے مانتے ہی نہیں۔ کیا وجہ ہے کہ درجنوں بلکہ سیکڑوں دینی جماعتوں اور تنظیموں کی موجودگی میں بھی عوام الناس کی مجموعی اخلاقی صت سدھرنے میں نہیں آ رہی؟ بقول حضرت واصف علی واصفؒ: ’’کئی لاکھ مساجد ہیں اور کئی لاکھ آئمہ، لیکن قوم بے اِمام نظر آتی ہے۔کیوں!؟‘‘
ہمارے ہاں طبی دنیا میں ایک محاورہ بولا جاتا ہے: Diagnosis is half the treatment یعنی تشخیص آدھا علاج ہے۔ تشخیص بے رحمانہ ہونی چاہیے۔ خود احتسابی کے باب میں کوئی رعائت نہیں ہونی چاہیے۔ ہر ممکنہ وجہ کو شک کے کٹہرے میں لا کھڑا کرنا چاہیے۔ ہم دینِ اسلام کی روشنی میں اپنے ہاں ایسا سماجی فلاحی پروگرام اور نظام Socioeconomic welfare system کیوں نہیں تشکیل دے سکے جو دوسری اقوام کے لیے ایک مثال ہوتا۔ زمینی حقائق یہ ہیں کہ گزشتہ چار صدیوں سے ہم اقوامِ مغرب کے سیاسی اور سماجی نظام کو ایک مثال سمجھ کر ہوبہو نقل کر رہے ہیں … آج کی اصطلاح میں کاپی کیٹ کر رہے ہیں۔ کسی بہتر شے کو اپنے نظام کا حصہ بنانا کچھ ایسا عیب بھی نہیں، کہ حکمت مومن کی گمشدہ میراث ہے، لیکن مشکل یہ پیش آ رہی ہے کہ اس نقل میں عقل کا استعمال ہم کم ہی کرتے ہیں۔ طب کی دنیا ہی لیں، دنیا میں ہر جگہ لوگ اپنی مقامی جڑی بوٹیوں پر مشتمل ادویات زیادہ استعمال کرتے ہیں، اور یہ بجا بھی ہے، جس جگہ سے وجود اگتا ہے، اسی جگہ اور ماحول میں اس کو طاقت دینے والی، اسے شفا دینے والی جڑی بوٹیاں بھی اگتی ہیں۔ طبی نظام ہی پر موقوف نہیں، ہم اپنے تعلیمی نصاب میں بھی بدیسی تعلیم من و عن قبول کر لیتے ہیں۔ یہی حال ہمارے ہاں سیاسی نظام ِ فکر میں پایا جاتا ہے۔ جمہوریت کے تمام اصول و ضوابط مغرب سے برآمد کر نے کے بعد ان کی نظر میں سرخرو ہونے کے لیے ہم اپنے گالوں کو فسطائیت کے طمانچے مار مار کر سرخ کر لیتے ہیں۔ عجب تماشا ہے، ہماری جمہوریت … ہر چند کہیں کہ ہے، نہیں ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہم ابھی تک جمہوریت کی الف ب بھی نہیں سیکھ پائے، کجا یہ کہ ہم مغربی جمہوریت کے سقم دور کرتے اور اس میں بندوں کو گننے کے ساتھ ساتھ تولنے کا بندوبست بھی کرتے۔ لازم تھا کہ انہیں بتاتے کہ انسانی معاشرے میں تہذیبی و فکری ارتقا میں مقدار نہیں بلکہ معیار کی قدر معاون ہوا کرتی ہے۔ کسی چیز کی قدر و قیمت میں قدر پہلے اور قیمت بعد میں معین ہوتی ہے۔ آسمانی ہدایت کی قدر کرو تاکہ زمینی دانش کی کوئی قیمت پڑ سکے، بڑھ سکے۔
خود احتسابی کے باب میں اپنی تاریخ کا ایک بے رحمانہ تجزیہ کرنا بھی ضروری ہے۔ تاریخ کو عقائد اور عقیدت کی عینک اتار کر پڑھنا چاہیے۔ ہماری تاریخ بتاتی ہے کہ اڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہوئے ہم۔ ہم بہت جلد ملوکیت کے ہاتھوں زیر ہو گئے۔ ہم نے مادہ پرستی اور ملوکیت کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ اسلام کی حریتِ فکر ہمارے طالع آزما حکمرانوں اور تاریخ دانوں کے ہاتھوں اغوا ہو گئی۔ ہمارے سرکاری مؤرخین نے سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ لکھنا شروع کر دیا۔ ’’الناس علی دین ملوکہم‘‘ کے مصداق رعایا نے جوق در جوق بادشاہوں کا دین قبول کر لیا۔ حقیقی دین کو سرزمینِ نینوا میں انتہائی سفاکیت سے خاک و خون میں نہلا دیا گیا۔ کربلا کے بعد ملوکیت کے خلاف پھر ایسی ہمہ گیر آواز نہ اٹھی جس کی طرف پوری مسلم امہ متوجہ ہو جاتی۔ دینِ حقیقی کے وارثین صداقت کی امانت سینوں میں چھپائے خاموش ہو گئے، در بدر کر دئیے گئے اور روپوش ہو گئے۔ اب سرکاری سطح پر اس دین کی ترویج زور و شور سے شروع ہو گئی جس میں ملوکیت کو جائز اور حریت اور حق کی آواز کو خروج قرار دیا جاتا ہے۔ دراں حالے کہ دین میں ملوکیت و بادشاہت کی ذرّہ برابر گنجائش تھی، نہ ہے۔ بادشاہوں کے زیرِ نگیں مفتیوں نے معاملات و اخلاقیات ِانسانی کے مقابلے میں رسمی عبادات پر زور دینا شروع کر دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ عوام الناس عبادات کو کافی اور اخلاقیات کو ناکافی سمجھنے لگی۔ دین دار شخص اسے سمجھا جانے لگا جو عبادت گاہوں میں پایا جاتا ہے، اس کے مقابلے میں معاملات و اخلاق میں بہتر انسان کی دین سے وابستگی کو بس واجبی قرار دیا جانے لگا۔ عوام یہ بھول ہی گئے کہ دین کا اصل تعارف معاملات و اخلاقیات ہے۔ روحِ دین سے متعارف مصلحین و مخلصین نے اپنے متعلقین کو اخلاق و حکمت کی تعلیم پہلے دی اور عبادات کی بعد میں۔ یہی اصفیاء و حکماء تھے جنہوں نے پہلے اپنے وجود پر دین کی اخلاقیات کو نافذ کیا اور پھر اپنے کردار سے دیگر افراد کو مائل بہ اسلام کیا۔ ان کے ہاتھوں مشرف بہ اسلام لوگ دین سے تادیر وابستہ رہے۔ وگرنہ فاتحین کے زیرِ اثر حلقہ بگوشِ اسلام ہونے والے خطے جلد یا بدیر سپین میں مسجدِ قرطبہ کا منظر پیش کرنے لگے۔

کچھ خرابی مبلغین کے قول و فعل میں تضاد نے پیدا کر دی۔ ہمارے مبلغین یہ بھول گئے کہ قرآن میں واضح حکم ہے: کبر مقتاً عنداللہ عن تقولو مالا تفعلون … اللہ کے نزدیک یہ بات بہت بُری ہے کہ تم وہ کہو جو تم کرتے نہیں۔ دینیات کو اخلاقیات سے جدا کرنے میں بے عمل مبلغین کے کردار نے بھی اپنا کردار ادا کیا ہے۔ بے عمل مبلغ کو نظریات اور عقائد پر بات کرنا زیادہ آسان محسوس ہوتا ہے۔ اگر وہ اخلاقیات پر بات کرتا ہے تو اس کے سامعین کی توجہ فوراً اس کے کردار کی طرف مبذول ہو جاتی … ظاہر ہے، پڑتی ہے اس میں محنت زیادہ! عقائد و نظریات اور جذبات مجرد حقائق ہیں، ان پر قائم ہونے کے دعوے کی کوئی دلیل طلب نہیں کی جاتی۔ ایک شخص کہتا ہے کہ میں توحید کا اقرار کرتا ہوں، فرشتوں کو مانتا ہوں، رسالت پر ایمان رکھتا ہوں، روزِ قیامت پر یقین رکھتا ہے … اس کی دلیل طلب نہیں کی جا سکتی۔ اس کے برعکس ایک شخص یہ کہتا ہے کہ جھوٹ مت بولو، حرام مت کھاؤ، دھوکا مت دو، رشتوں کا احترام کرو … یہ دعوت ایک دعویٰ ہے، جس کی دلیل میں یہ دیکھا جاتا ہے، کہ کہنے والا کیا خود بھی ان باتوں پر عمل پیرا ہے؟ ظاہر ہے اس کا جواب عمل اور پیہم عمل کی صورت ہی میں دیا جا سکتا ہے … اور یہ ایک مشکل کام ہے۔ لوگوں نے اس کے برعکس آسان کام پکڑ لیا ہے … محض نظریات اور عقائد کی تبلیغ میں مصروف ہو کر خود کو مبلغِ دین سمجھ لیا۔ ایسے مبلغین حاکمِ وقت کو بہت مرغوب ہوا کرتے ہیں۔ وہ انہیں اپنے قریب کرتے ہیں اور باآسانی ان سے دین دار ہونے کا سرٹیفیکیٹ حاصل کر لیتے ہیں۔ ایک آمر کو بااخلاق معاشرہ قبول نہیں، کیونکہ اخلاقیات اور معاملات میں تربیت یافتہ معاشرہ اپنے حاکم سے بھی شفافیت کا مطالبہ کرے گا۔ اخلاقیات و معاملات میں سب سے پہلے وہ اپنے حاکم سے اقرباء پروری پر سوال اٹھائیں گے، امیر غریب میں غیر ضروری فرق پر سوال اٹھائیں گے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ اپنے حاکم کی حاکمیت کی legitimacy قانونی حیثیت پر سوال اٹھائیں گے۔ ایک غاصب حکمران سوال اٹھانے والے کو اٹھا لیتا ہے … اور مسجدوں، خانقاہوں اور درسگاہوں میں رسمی دین کا پرچار بدستور جاری رہتا ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں