بڑی چاچی کے مطابق وہ اُن کے “جَتی سَتی “دُلارے اور اپنی ماٹی کے پیارے ہیں۔ اسی رشتہ و پیوند کے مارے وہ ہمارے “مامے”لگتے ہیں ۔ لیکن ہیں وہ بھی ہماری طرح مثالی”وہیلے”، مکمل فارغ ۔ اور سیانے بیانے جانتے ہیں کہ فارغ بندے سے زیادہ مصروف کوئی شخص نہیں ہوتا۔ وہ علی الصّباح گُڑ کی چاء کے ساتھ مکا کی روٹی، اور ہم نِکّی بے بے سے نہار منہ مار کھا کر چِڑیوں کے شکار کو نکلتے تھے ۔اور سارا سارا دن جھُنڈ جھولے میں اُس “ہیک کُڑی”(چِڑیا) کی تلاش میں رہتے جسے ماٹی کے لعل سنسار نے چار روز قبل تاک کر غُلّہ جڑا تھا۔ اپنے دعوے کے ثبوت میں مضروب ہیک کُڑی کا ایک پر بطور “اگزیبٹ نمبر ونّ” جیب میں رکھتے تھے۔”تیرے مامے نےکبھی تیری طرح بے ثبوتی نئیں چھوڑی ۔”،وہ کہتے۔ تلاش کے اسی مشن کا چوتھا روز تھاکہ ماٹی کا واویلا پوری وادی میں بلند ہوا۔:
“جوانی کھایا! دوڑ ،تیری ما اِلّ(چیل) معصوم بالے چوُزے کو جھپٹ کر مرگوں کی اور نکل گئی ہے ۔ نامرادا ہیٹھی ہیٹھی دوڑ۔”
اور وہ سرپٹ بھاگ نکلے۔ ہانپتے کھانستے کیراکی تک پہنچے تو آگے مِشری چاچا کا سانڈ سینگوں پر مٹّی لگائے “کھوروُ” کر رہا تھا۔ جائے رفتن نہ پائے ماندن۔ اُنہوں نے فرضی “تھُک سِن”(ٹاس؟) کیا اور ٹاس کے مطابق ایک طرف کو سرپٹ بھاگے۔ آگے ببّولی چاچی نالے کے یخ پانی میں پیر ڈالے آپس میں “ہک آنج” (تخلیہ؟) فرما رہی تھیں۔: “نی تجھے قولنج کا گولہ ، توُ لتیڑنے کو کوٹھے پر جائے تو ٹھیک آخری سیڑھی پر تیرے پیر میں موچ آجائے ۔ اور اُوپر سے سیر سیر کے گولے (اولے) برسیں۔توُ اِدھر کی ٹیس سہلائے تو اُدھر کی ہائے چھوُٹ پھوُٹ جائے۔۔نی تیرا ککّھ نہ رہے۔”
“مرگوں کو یہی رستہ جاتا ہے۔؟” اُس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔
“ہاں ، مگر توُ مرگوں کے مگر کیوں پڑگیا ہے۔ ؟ ماں نے پکا ہوا ابّا پکڑ لانے کو کہا ہے۔؟ جا خصماں نوں کھا، یہی شارٹ کٹ پڑے گا۔ لیکن پلّے باندھ رکھ کہ اس رستے میں متیالمیرہ کا کٹھّا اور جوانی کھایا نبّوُ کا کٹّا بھی پڑتا ہے۔ توُ راستے میں جمّاڑوُ نہ کھانے لگ پڑا اور ناک کی سیدھ میں لگا گیا تو چوتھے دیہاڑے مرگوں کے نیچے کُکّو کی نَکّی تک تو اَپّڑ ہی جائے گے۔۔ ،پکّا۔”
وہ ببّولی چاچی کے روڈ میپ پر بڑھتے چلے گئے۔ مگر گوراہ کی گلی پوٹھی مکوالاں سے بھی اُتنی ہی دوری پر واقع تھی جتنی پوٹھی چھپریاں سے۔یعنی دوُریوں کا کوئی انت نہیں۔لیکن روشن ماما نامراد چیل کے چنگل سے چوُزا چھڑوانے نکل چکے تھے ۔ اُدھرپیچھے پوری وادی میں وہ سماں کہ شامِ غریباں کہیں جسے۔وہ اپنی زندگی کا پہلا موقع تھا کہ ہم سے مامے کا دامن چھوُٹ گیا ۔ اور اندھا دھند دوڑ نے کے باوجود بمشکل تمام پارے والی چاچی کے گھر تک پہنچ پائے۔ اس سے آگے فرشتوں کے بھی پر جلتے تھے ۔چاچی کا خونخوار “ترِکھّی”ہشیار کھڑا تھا۔ وہ ظالم اُڑ کر ایسے نازک مقام پر”چُکّا”مارتا تھا کہ حیا دار بندہ سرِ عام مَل دَل بھی نہیںکر پاتا تھا۔ اُس معرکہ حق و باطل سے روشن ماما جب لوٹ کے آئے تو اُن کے دونوں پیر زخمی تھے ، لیکن چہرہ بھخاں بھخاں کر رہا تھا۔ “وہ نئیں ہے ، برتھال میں مِشری چاچا کا باغ۔؟،اُس کے بنیرے پر لش لش کرتے آلو بخارے دیکھ کر چنگے بھلے بندے کو تپ چڑھ جاتا ہے۔میں دو تین بخار تیرے لئے بھی لایا ہوں ، لیکن کسی کو بتانا نئیں ۔۔ سمجھے کہ نئیں۔۔”۔دوسرے روز معلوم ہوا کہ وہ آلو بخارے نہیں،ویسا ہی کوئی اور بہشتی میوہ تھا ۔ اور ڈنگر مال کا پیٹ صاف کرنے کو سال میں صرف ایک بار دیا جاتا تھا۔ہم تو پورے تین دانےکھا چکے تھے۔ (اس کے بعد ہم نے کبھی کوئی خوشنما پھل چکھ کے نہیں دیکھا۔ بہت ہوا تو سُنبلوُ اور گیاہنی کا “خارقہ” کر لیا سو کر لیا۔ اور بس۔مغوی چوُزا بازیاب نہ کر سکنے پر مامے پر کیا گذری؟ معلوم نہیں ، لیکن پچھلے سال کی نئی پُولیں ادھیڑ لانے کی پاداش میں رات کو سونے تک اُن کے ساتھ چاربار سخت “کُتّی” ہوچکی تھی ۔ پھر رنج و غم سے نڈھال ماٹی آپ چڑھے ہوئے “گڑھ” کے ساتھ “چلا چلا” کرتی نیند کی وادی میں اُتر گئیں۔
روشن ماما شکار شکور کے علاوہ کھیل کوُد میں بھی یدِ طولیٰ رکھتے ہیں۔ وہ ذات برادری کے واحد کھلاڑی واقع ہوئے ہیں جو بڑے بوُٹوں میںماٹی کے سابق اُونی سویٹر کا کلبوت چڑھا کر کھِدّوُ سے “فُٹ بال” کھیلنے کا جگرا رکھتے ہیں۔ تاہم حُوّا کے تھاپے، یا اَلی، نِکّے یَلّےاور بڑے ٹھَلّے سے متّھا لگانا وہ قرینِ مصلحت نہیں جانتے ۔ لیکن کسی بھی کھیل میں نِت نئی “روہڑی”(پسہوُڑی) ڈالنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے ۔ ( ہمیں نہیں یاد کہ ہماری ٹیم نے ٹنٹے کے بغیر کسی میچ کو “تمت بالخیر” کہا ہو)۔اُن کی ذاتی کاوشوں کے نتیجہ میں ہماری ٹیم پر مجموعی طور پر تب تلک پورے تیس تحت تصفیہ میچ چڑھے ہوئے تھے۔ اللہ پاک معاف کرے تو کرے، کوئی “ریفلی” فیصلہ شاید ہی کر پاتا۔ ہم دل سے دعا گو ہیں کہ اللہ پاک روشن مامے سے اُن اعمال کا حساب کبھی نہ لے جو ابھی تک بستہ “ب” میں تحت تصفیہ پڑے سڑ رہے ہیں۔
مامے نے ایک بار ہرقسم کی پھڈّے بازی سے تائب ہو کر اپنی لائن سیدھی رکھنے کے لئے محکمہ برقیات میں لائن مینی بھی اختیار کی تھی ۔ لیکن وہ بجلی کو راہ راست پر نہ لا سکے۔ کرنٹ کبھی کالی تار سے سُرخ میں دوڑ جاتا کبھی سُرخ سے سیاہ میں۔ اور کبھی کبھی تو بے تار ہی چھُٹا پھرتا۔اسی برقی علّت کو دُور کرتے ہوئے ایک بار کرنٹ سے اُن کی دست بدست لڑائی بھی ہو گئی ۔ اپنے دست و بازو تو تڑوابیٹھے لیکن کھمبے بھی سال بھر ہسپتال میں پڑے مرہم پٹیاں کرواتے اور کراہتے رہے ۔۔۔۔” ہائے سوُل مُوئیا کہ بِیلے”۔اس عرصہ اصلاح میں روشن ماما چہڑھ والے دیالے کی طرح کتاب دیکھ کر بھی پیچیدہ برقی مسائل حل کیا کیئے۔ (ہمارے محلّـہ میں اب بھی بجلی کے بعض کھمبوں کے گلوں میں مڑھے ہوئے تعویز پڑے ہیں۔ ) وہ دُکھی انسانیت کی خدمت کرنے کی پریکٹس بھی کرتے رہے۔ لیکن بوجوہ کسی کا دُکھ دوُر کرنے میں خاطرخواہ کامیابی نہ مل سکی۔
“اس میں قصور میرا نہیں ، اُس عارضی لین سپری ڈَنٹھ کا ہے جو بِنجلی سے زیادہ بِنجلی کے کھمبوں پر چڑھنے والے ککڑولوں(کھیروں)پر نظر رکھتا ہے۔ اور یاروں پر بے ثبوتیاں جَڑتا رہتا ہے۔ خدا ہونی کہو، دن دیہاڑے لوہے کے کھمبے سے لپٹنے والی بیل پرائی باڑی میں میں نے بیجی ہے۔۔۔؟شرافتوں کا تو زمانہ ہی نہیں رہا۔۔۔۔ پِیر جنّات شاہ کی قَسم، اس لین سُپری نے شکایتوں کی سرکاری کانپی میں لین کے ساتھ ساتھ اُگنے والی ککڑیوں کا ریکارڈ بھی میں نے ضبط کر رکھا ہے ؟۔ اور ہر دوسرے تیسرے روز کون گھروں کی مالکنوں کو خبردار کر جاتا ہے کہ بجلی کی لین کے نیچے جون جون سے پھل فروٹ ازقسم ککڑولے وغیرہ اُگائے گئے ہیں ، وہ بحق سرکار ضبط ہوں گے۔۔۔۔۔ کس واسطے کہ جہاں جہاں بجلی کے تاروں کا سایہ پڑتا ہے،وہاں وہاں تک باڑی آپی آپ بحق سرکار محفوظ ہو جاتی ہے۔ وہاں سے کوئی مائی کالال ککڑولا اور آرواڑا کُجا گھاس کا تیلا بھی نہیں کاٹ سکتا۔ اور یہ کہ اس ڈائری میں سب کا ریکارڈ محفوظ ہے۔ پھر نہ کہنا محکمہ والوں نے خبر نہیں دی۔”
2
“لین مینی” کے اس عہدِ زرّیں میں ماما مذکور سرکاری دورے پر نکلتے تو تین چار غرض مند اُن کے بستہ “ب” بردار ہوتے۔اپنے منصب کے بارے میں وہ کبھی “لاہڑ پاڑی”نہیں چھوڑتے تھے۔ کبھی کبھی موُڈ میں ہوتے تو کہتے :” لین مینی کیا بلا ہے؟، متی پوچھو۔۔۔باچھاو ! یاروں نے ایک بار سُپرمائیزر سے کہا کہ سانبھو اپنا تھیلا ۔۔۔” کہ مزید
ہم سے یہ بارِ لطف اٹھایا نہ جائے گا
وہ تڑپ کر رہ گیا۔ اپنے دونوں خالی ہاتھ یاروں کی ٹھوڑی میں دے دیئے۔۔۔اور بولا۔۔۔بال بچّے دار ہوں،اوپر سے گھروالی بھی بے پاوتی پائی ہے ۔فٹا فٹّ کوٹھے پر چڑھ کر کَبِت پڑھنے لگتی ہے۔اور آدھی رات تک اسی توے پر سوُئی اٹکائے،راڑ لگائے رکھتی ہے۔ قسم سے اُسے وہ بھی منہ زبانی یاد ہے، جو کبھی میری دادی نے بھی نہیں اُگلا ہو گا۔ اپنا گزارا تو پھر بھی ہو ہی جائے گا، لیکن تمہارے بغیر وچارے ایسکی اُنّ صاب کا کیا بنے گا؟ نیک بختا ! حالی تائیں اُن کے کوٹھے کی پُٹھّی چھت بھی پوری نئیں پڑی۔ کیوں کسی کال سرے کی ہائے لینے لگے ہو۔۔۔؟ توبہ تنّ سوُئے کی کر”۔ بس اپن بھی تہوُر تک کانپ گئے۔۔۔۔کہا جاوء معاف کیا۔ تب سے جب بھی ایس کی اُنّ صاب اُدھر سےاُلانگتے پھلانگتے ہیں ،یاروں کی خذمت ہک دُسّ میں سلام ٹھوک کے نکلتے ہیں ۔ اس سے زیادہ یاروں کو چاہیے بھی کیا۔۔۔”
ماماں عموما” کارِ سرکار میں گوڈے گوڈے مصروف رہتے ہیں ۔ لیکن اپنی سماجی ذمہ داریوں سے غافل نہیں رہتے ۔ لگ لڑ میں کوئی خوشی غمی آکر ٹھنڈی بھی ہو جائے،بھولتے نہیں ۔ جب بھی فرصت ملی متعلقہ گھر گھرانے پہنچ کر اپنی مصروفیت کا رونا روتے ہیں ۔پھر واقعہ کے بارے میں اپنے نیک خیالات کا اظہار کرتے ہیں ۔ اور متاثرین مخمصے میں پڑ جاتےہیں کہ چالیسویں کی دعا کرنے آئے ہیں یا “بند پھیرے”کی مبارک باد پڑھ پھونکنے؟۔ دیر سویر کی بدولت بسااوقات تاریخی گھپلے واقع ہو جاتے رہے۔ چنانچہ جس گھر میں شاباشی دینا ہوتی، وہاں “بُجّا” شو کر آتے ، اور جہاں بُجّا واجب ہوتا وہاں شاباشی برسا آتے۔ لیکن ماما کے خلوص کی شدّت میں ذرّہ برابر کھوٹ نہ ہوتا۔ ماما کی سب سے بڑی خوش قسمتی یہ رہی کہ مامی عین عالمِ شباب میں ثقلِ سماعت کی شکار ہو گئیں ۔ چنانچہ گھر میں یک طرفہ نقص امن کے امکانات “اللہ ولّوں” معدوم ہو گئے۔ اور گھر میں مستقل شانتی اُوم ،شانتی ہوُم ۔
(برسوں پہلے کی ایک تحریر ، جو کل کہیں سے نکل آئی)
*******************
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں