16اگست بروز جمعرات شام ڈھلنے سے پہلے ،سرزمین عراق کی شدید گرمی ،بدن پسینے سے شرابور ،چہرے پر گرمی کے آثار لیے ،عراق کی گرم و مرطوب فضا میں سانس لینے کی توفیق ہونے پر شارع الرسول نجف اشرف کے نکڑ پہ بیٹھے ،منہ حرم امیر المومنین علی علیہ السلام کی طرف کیے بار بار مولا کا شکریہ ادا کر رہے تھے۔اے امیر المومنین،اے مشکل کشاء،اے سردار اولیاء،اے آدم الاولیاء ہم سیاہ کار و عاصیوں کو ایک بار پھر شرفِ زیارت بخشی۔ہم اس قابل تو نہ تھے۔فقط کرم ہی کرم ،عطا ہی عطا ہے۔ورنہ ہم سیاہ کار کہاں اور شہر نجف کی گلیوں میں پھرنے ،شہر نجف کی خاک چھاننے،شہر نجف کی فضا میں سانس لینے کی توفیق کہاں۔
میں موبائل میں مولانا وحید الدین خان کی کتاب”راز حیات”کھولے کچھ صفحات پڑھنے کی کوشش کر رہا تھا۔اتنے میں ہمارے دوست میثم عباس ظفر صاحب نے کہا یار سراج وادی السلام جانے کا پروگرام بنا ہے۔وہاں چلتے ہیں۔آپ بھی چلیں۔بہ ہر کیف میں چلنے پہ آمادہ ہوا ۔اور ہم وادی السلام کی جانب چل پڑے۔اس سفر کا محرک ہمارے دوست میثم صاحب کی اہلیہ سمیت کچھ خواہرانِ دینی کو وہاں تک کی راہنمائی باعث بنی۔قدم قدم پر زاِئرین ابا عبداللہ علیہ سلام کی خدمت کےلیے سجائے “موکب” سے “ھلا بزوار الحسین “کی صدائیں فضا میں بلند ہو کر کانوں سے ٹکرا کر دل کی تاریں چھیڑ رہی تھیں۔اور میرے دل و دماغ سے ” اِنّا لقتل الحسین حرارت”کے کلمات ابھر ابھر کر مجھ سے سرگوشی کر رہے تھے اور میں چپکے چپکے سے” این حسین کیست کہ عالم ہمہ دیوانہ اوست “زیر لب گنگنا رہا تھا۔عجب دیوانگی کا عالم تھا۔کون کہاں سے ہے؟کس ملت و ملک سے ہے،کس مسلک و مذہب سے ہے؟تمام تفریق سے بالاتر ہو کر صرف زائر ابا عبد اللہ الحسین کے پرچم تلے جمع ہو کر قدم سے قدم ملا کر چل رہے تھے۔سچ ہے حسین ع کسی مسلک و مذہب سے خاص نہیں ۔
خواہران دینی کی اصرار کہ وادی عرفان کے معروف شیعہ بزرگ سید علی قاضی طباطبائی کے مرقد کی زیارت کرنی ہے۔
“وادی السلام” سرزمین عراق کے شہر نجف میں موجود ایک تاریخی قبرستان ہے۔جہاں حضرت ہود و حضرت صالح علیہم السلام سے منسوب قبور بھی ہیں۔اس کے علاوہ شیعہ مسلک کے بہت سے اکابرین بھی اس شہر خموشاں میں ہمیشہ کےلیے خوابیدہ ہیں۔آیت اللہ سید علی قاضی رح کے بارے میں اساتید و علما کی زبانی بار بار بہت کچھ سننے کو ملاتھا، لیکن مدرسہ مومنیہ کی لائبریری سے آیت اللہ قاضی کے حوالے سے ناول کی شکل میں لکھی گئی کتاب”کہکشان نیستی”مختلف مقامات سے پڑھنے کا موقع ملا تھا۔طوالت کے خوف سے بہت ساری باتیں یہاں پر قلم زد کرتا ہوں۔
قبرستان وادی السلام میں موجود حضرت صالح و ہود علیہما السلام سے منسوب قبور اور سید علی قاضی طباطبائی رح کی قبور کی زیارت سے مشرف ہو کر ہم اپنی قیام گاہ کی طرف واپس پلٹے تھے ۔بیچ رستے میں خواہران دینی کی طرف سے پیغام موصول ہوا کہ مقام “راس الحسین”مسجد حنانہ کی زیارت کےلیے جانا ہے۔ہم نے کسی سکیورٹی والے سے پوچھا تو اس نے رستہ سمجھا دیا۔ہم سب غریب الدیار تھے۔شہر نجف کی گلیاں ہمارے لیے انجان تھیں۔راستے ناآشنا، لوگ اجنبی،شام ڈھل چکی تھی ۔ہواؤں میں گرمی کی تپش باقی تھی۔سر راہ کھڑے کسی سکیورٹی فورس والے سے پوچھا تو اس نے کہا مسجد حنانہ پیدل چلے تو آدھا گھنٹے تک کا سفر ہے۔ہم حرم امام علی علیہ السلام سے وادی السلام تک ویسے پیدل ہی گئے تھے ۔وہاں سے واپسی بھی پیدل۔اس لیے ہم نے از راہ ہمدردی خواہران سے پوچھا کہ سفر طویل ہے راہ حیات چھوٹی ہے۔کیا ارادہ ہے ؟پیدل چلنا ہے یا تھک ہار کے قیام گاہ واپس جانا ہے۔خواہران کے درمیان مختصر سرگوشی چلی اور جواب آیا کہ مسجد حنانہ جانا ہے۔تھکن نہیں پیدل چلنے کا حوصلہ ہے۔
اس وقت مجھے صنف نازک پروین شاکر کا شعر یاد آرہا تھا۔
چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کردیا
عشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کردیا
مگر ہمیں اس عشق کے سفر نے تو اور سرِ حال کردیا۔ہماری رگوں میں خون کی روانی تیز تھی۔ہم خراماں خراماں چلے جا رہے تھے
کیونکہ یہاں عشق سے ہماری مراد بقول اقبال؛
بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی
کیوں نہ جاؤں اس جگہ کی زیارت کےلیے جہاں امام عالی مقام کے سر اقدس کو کوفہ لے جاتے ہوئے رکھا تھا۔جہاں اسیرانِ کربلا و یتیمان کربلا و مخدارات عصمت رکیں تھیں۔ایک روایت کے مطابق حضرت علی علیہ السلام کے جسد اطہر کو نجف لاتے ہوئے اس مقام سے گزر ہوا تو ستون مسجد خم ہوئی تھی۔یہاں سے رونے کی آواز آئی تھی۔اسی لیے اس جگہ کا نام حنانہ یعنی “رونے والی جگہ پڑ گیا۔
عمر ابن سعد نے امام عالی مقام ع کے سر اقدس کو عاشور کے روز خولی بن یزید اصبحی اور حمید بن مسلم ازدی کے ہاتھوں عبیداللہ بن زیاد کے پاس بھیج دیا تھا۔خولی بن یزید سر مقدس کو لے کر کوفہ آیا۔کربلا سے کوفہ لے جاتے ہوئے سر مقدس کو اسی حنانہ نامی مقام پر رکھے تھے۔
نہیں معلوم پروین شاکر کس عشق کی وادی میں سفر کر رہی تھی کہ چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کردیا” ہم چلتے رہے اور مسجد حنانہ پہنچ گئے۔
سرزمین عرب کی گرمی تو مشہور ہے ہی پھر موسم بھی بھی گرم پیدل سفر ہو تو پیاس کی شدت میں کمی نہیں رہتی لیکن قدم قدم پر عشاق حسین کی طرف سے سبیلیں لگی ہوئی تھیں۔اکل و شرب مہیا تھے۔مجھے رہ رہ کر بوا سید عباس شاہ کا یہ بلتی بند یاد آرہا تھا۔
حاتم نہ یانگ ترود تنگمنہ حاتم کھڑیلے سینگ جوکسے یود
یری برکتی کھا میولی میونگ دقسن سا روزی زین چی یود
انہی ہستیوں کے طفیل ہے۔کہ ہزاروں نہیں لاکھوں سے پرے زائرین مسلسل کھا رہے ہیں۔مسلسل پی رہے ہیں۔مگر کھلانے والوں کی چہرے پر بشاشت و نشاط ہیں۔نہ کھانے میں کمی نہ پینے میں۔واقعا عشق دیکھنا ہے تو اربعین کے سفر میں شرکت ضروری ہے۔
عشق انساں کو قلندر بو علی کرتا ہے
عشق پاگل نہیں پاگل کو ولی کرتا ہے۔
نہیں معلوم غالب میاں کس عشق کی بات کر رہے ہیں؛
عشق نے غالب نکما کردیا
ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے

میں اور میثم عباس ظفر صاحب مسجد حنانہ میں مغرب و عشاء کی نمازیں پڑھ کر زیارت سے فارغ ہوئی تو ہم باہر آئے۔اور میں دل ہی دل میں “جبرئیلی عرشیکھا کھیرفی رگوبونگپو یو اینا”والی نوحہ پڑھا رہا تھا۔لیکن میثم صاحب نے کہا کوئی نوحہ بلند آواز میں پڑھیں مگر نوحہ پڑھنے کی توفیق نہیں ہوئی ۔اور ہم اپنی آنکھوں میں یہ منظر سمائے ،دل میں یادیں لیے اس امید پر واپس ہوئے کہ خدا نے توفیق دی تو مولا کا دوبارہ بلاوا آئے گا۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں