قیادت کا قحط اور پاکستان/اختر شہاب

بنگلہ دیش میں انقلاب آچکا ہے حسینہ واجد ملک چھوڑ کے فرار ہو گئی ہیں ۔ 400 افراد ہلاک ہو چکے ہیں بلکہ حسینہ واجد کے ملک چھوڑ جانے کے بعد بھی ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے اور ہنگامے ختم نہیں ہوئے۔۔حکومت جرنیلوں نے سنبھال کر ایک عبوری حکومت بنا دی ہے۔ لیکن آئندہ کیا ہونے جا رہا ہے ابھی  کسی کو بھی  اندازہ نہیں ہے۔

کچھ لوگ اسے بنگالی طلبہ کا انقلاب کہہ کر پاکستانی طلبہ کا مذاق اڑا رہے ہیں کہ یہ کیا انقلاب لائیں گے۔۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی کی جا رہی ہے کہ پاکستان میں انقلاب تو آ ہی نہیں سکتا کہ پاکستان کے زیادہ تر مدرسوں میں تو بھینسیں ہی بند ہیں یا پڑھائی نہیں ہوتی ۔ اس بارے میمز بنائے جارہے اور اس معاملے پر ہر شخص اپنے حساب سے بات کر رہا ہے اور اندازے لگا رہا ہے۔

میں اپنے ادارے میں کئی دہائیوں تک تربیت دیتا رہا ہوں ۔۔ اس لحاظ سے  میں نے بھی محسوس کیا کہ طالبعلموں  میں پوچھنے ، بات کرنے اور سوال کرنے کی ہمت نہیں رہ گئی ہے۔اس کی بڑی وجہ شاید یہ ہے کہ ہمارے ہاں تعلیمی اداروں میں ایسے لوگوں کو لگا دیا جاتا ہے جو خود بڑھانے کے اہل نہیں ہوتے۔۔یا جو خود تو تعلیم یافتہ ہوتے ہیں لیکن پڑھانا نہیں جانتے۔  دونوں صورتوں میں جو بچہ سوال کرتا ہے اور اسے تسلی بخش جواب نہیں ملتا تو پھر وہ آئندہ سوال نہیں کر پاتا،یا سوال کرنے کے جواب میں جب ا سے ڈانٹ دیا جاتا ہے تب بھی وہ آئندہ سوال نہیں کرتا۔اصل میں اس میں بچوں کا  کوئی قصور نہیں ہے انہیں تو اپنے شعور سے ہی محروم کر دیا گیا ہے۔ اس میں سب سےبڑا قصور ہمارے نظام کا ہے کہ جس کی جہاں جگہ نہیں ہوتی اسے وہاں ٹھونس دیا جاتا ہے۔

بنگلہ دیش میں جو انقلاب آیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں طلبہ کی سیاسی سرگرمیوں پر کبھی پابندی نہیں لگائی گئی۔۔ لیکن چونکہ پاکستان میں عقلمندوں نے یہ بات پہلے ہی محسوس کر لی تھی کہ طلبہ کسی بھی انقلاب کا ہراوّل دستہ ہوتے ہیں لہذا طلبہ تنظیموں پر پابندی لگا دی گئی تھی ۔

1972 میں بنگلہ دیش نا منظور کے ہنگاموں کے بعد بھٹو نے یہ کہتے ہوئے کہ مجھے اپوزیشن کا اتنا خوف نہیں ہے جتنا ان طلبہ کا ہے۔طلبہ پر تشدد کی انتہا کر دی تھی ۔اس دور میں طلبہ میں عزم اور حوصلہ تھا۔آپس میں اتحاد تھا اور سیاسی شعور اور بیداری تھی۔ اگرچہ آج کل کے طلبہ کا علم ان سے زیادہ ہے لیکن   طلبہ تنظیموں پر پابندی کی وجہ سے ان میں وہ شعور نہیں پیدا ہو سکا۔ جو پرانے دورمیں تھا ۔ اس دور کے طلبہ لیڈروں میں سے لیاقت بلوچ، جاوید ہاشمی وغیرہ ابھی تک موجود ہیں جو انتہائی باشعور اور منجھے ہوئے سیاستدان سمجھے جاتے ہیں۔۔

اب طلبا کیا کریں ۔چونکہ ان طلبہ کے جذبات کا اخراج کہیں نہیں ہے تو پھر یہ اوندھی سیدھی حرکتیں کرتے پائے جاتے ہیں۔ شعور آنے کی ایک شکل طلبہ یونین بھی ہے۔ جس سے نظم و ضبط بھی آتا ہے اور رستہ بھی ملتا ہے۔ بنگلہ دیش اس کی ایک بڑی مثال ہے.بنگلہ دیش کی طالب علم تحریک ایک زمانے میں بنگالیوں کے جمہوری حقوق کی جدو جہد کے ہر اول دستہ کا حصہ ہوا کرتی تھی۔ یہ طلبہ نصف صدی سے زیادہ عرصہ تک بنگال میں تحریک پاکستان کا بنیادی جزو بنے رہے۔ 1952ء میں زبان کی تحریک میں آگے آئے ۔ 1954ء میں مشرقی پاکستان میں مسلم لیگ کی انتخابی شکست میں مدد گار بنے ، 1968ء کی دہائی کی ابتداء میں ایوب آمریت کے خلاف سینہ سپر ہوئے اور 1969ء میں اس کی شکست کا موجب بنے۔ 1970ء کے چناؤ میں انہی  نے بنگلہ بندھو (شیخ مجیب) اور عوامی لیگ کو کامیابی سے ہم کنا ر کیا ۔

مغربی پاکستان میں اسلامی جمعیت طلبہ کا طلبہ سیاست میں ایک بڑا کردار تھا ۔ پنجاب میں اس کی طاقت تھی ۔کراچی میں 1972ء میں جمعیت نے ایک ٹھنڈر سکواڈ قائم کیا تھا جس کا مقصد مخالفین سے طاقت کے زور پر نمٹنا تھا۔ 12 اگست 1979 ء کو یونین کے عہدے داروں کی حلف وفاداری کی تقریب کے موقعے پر جمعیت کے مخالفین نے مظاہرہ کیا۔ اس مظاہرہ کو منتشر کرنے کے لئے جمعیت کے سٹین گن بردار کارکن میدان میں آگئے۔ ان کی جانب سے ہونے والی فائرنگ سے 16 طلبہ اور 2 طالبات زخمی ہوئیں۔ اس طرح سے کراچی کے تعلیمی اداروں میں جدید اسلحہ کے استعمال کی بنیاد اسلامی جمعیت طلبہ نے رکھی اس سےقبل کبھی بھی بات چاقو اور پستول سے آگے نہیں گئی تھی۔

ضیاء حکومت نے فروری 1984ء میں تعلیمی اداروں میں یونینوں پر پابندی لگانے کا اعلان کر دیا۔ کراچی میں جمعیت پر دباؤ ڈالنے کے لئے آل پاکستان مہاجر سٹوڈنٹس آرگنائزیشن (APMSO) کے سرپردستِ  شفقت رکھا گیا۔ یہ تنظیم 1974 ء میں جود میں آنے والی فارمیسی ایکشن کمیٹی کی کوکھ  سے برآمد ہوئی تھی۔ ایکشن کمیٹی کے قائم کرنے والوں میں الطاف حسین کے علاوہ عظیم احمد طارق ، سلیم شہزاد اور زریں مجید شامل تھے۔ ضیاء الحق کی نظر کرم سے پہلے اے پی ایم ایس او برے حال میں تھی۔ تاہم جب مارشل لاء کے حکام نے اس کی سرپرستی شروع کی تو اس کی قوت میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔

بنگالی انقلاب کے بعد پاکستان میں ایک اور بات شدت سے کہی جا رہی ہے کہ اچھی قیادت کا قحط پڑ گیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس قیادت کی غیر موجودگی کی پہلی وجہ تو سیاسی نظام میں طلبہ کا شامل نہ ہونا ہے۔ طلبہ یونینوں سے ملک میں جو پڑھے لکھے باشعور اور اچھے لیڈر مل جاتے تھے وہ اب نہیں مل رہے ہیں اور اس کی دوسری سب سے بڑی وجہ پرویز مشرف کی گریجویٹ اسمبلی کا قیام تھا۔اس سے پہلے پاکستان میں چند باشعور اور ان پڑھ یا کم پڑھے لکھے سیاستدان بھی ملک کے سیاسی شعور میں اپنا کردار ادا کیا کرتے تھے لیکن جب گریجویٹ اسمبلی کا قانون بنا تو ایک بحران پیدا ہو گیا اور چونکہ پاکستان میں پڑھے لکھے لوگ کم تھے لہذا لوگوں نے اپنے بی اے پاس رشتہ داروں کو جو سیاست کی الف ب بھی نہیں جانتے تھے سیاست میں داخل کرنا شروع کر دیا۔ یوں سیاست میں برادریاں اور رشتہ داریاں اور خاص طور پر خاندان انتہائی طاقتور ہو گئے۔جس کی وجہ سے پاکستان میں اصلی سیاست کا بیڑہ غرق ہو گیا اور دو نمبر سیاست دانوں کے اسمبلی میں اور سیاست میں انے سے جو بحران پیدا ہوا وہ ابھی تک جاری ہے یوں جینوئن سیاست دانوں کا سیاست میں آنا ناممکن ہو گیا ہے اور پاکستان میں آج کل ان بندر نما انسان سیاست دانوں پر ہی گزارہ کرنا پڑ رہا ہے۔

اب اگر پاکستان میں انقلاب لانا ہے اور اچھی قیادت چاہیے تو سب سے پہلے طلبہ کو سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دینی دینا ہوگی اور طلبہ یونین کو بحال کرنا ہوگا۔۔ اس کے بعد بھی اچھی اور باشعور قیادت کے آگے آنے کے لیے ایک طویل عرصہ انتظار کرنا ہوگا۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply