امید اور بس امید

امید اور بس امید
محمود شفیع بھٹی
امید کیا ہے ؟ ایک لاحاصل خواب جو حقیقت پر پردہ پوشی ڈالتا ہے۔ زندگی کی تلخیوں کو میٹھا رکھتا ہے۔ مستقبل کے حسین سپنے آنکھوں میں سجاتا ہے۔ امید کیا ہے؟ کسان کھیتوں میں بیج بوتا ہے۔ صرف اس خواپ پر کہ فصل پکے گی ، اناج آۓ گا، پیسے آئیں گے۔ ماں بچے کی پرورش کرتی ہے ،صرف اس امید پر کہ بڑا ہوکر بڑھاپے کی لاٹھی بنے گا۔
امید کیا ہے؟ایک طالب علم اپنے بہتر مستقبل کی خاطر دن رات عرق ریزی کرتا ہے۔ گهر والے پیٹ کاٹ کر فیسیں ادا کرتے ہیں، کہ مستقبل میں یہی کسی اچھی پوسٹ پر ہوگا۔امید کیا ہے؟ ایک جہد مسلسل جو انسان کو مقاصد کے حصول کی خاطر توانا رکھتی ہے۔ وہ مقاصد جو انسان کے وجود اور معیار کی علامت ہوتے ہیں۔امید کیا ہے؟ امید وہ خوشی ہے جو فرد کو ایک ایسے خواب میں رکھتی ہے۔ جو زندگی کی معمولی ٹھوکر سے ٹوٹ جاتا ہے،ارمان بکھر جاتے ہیں، مقاصد فوت ہوجاتے ہیں۔
امید کیا ہے؟ فرد کے اعصاب کی ایک تشفی ، جو اسے ہر دم تازہ و یکساں رکھتی ہے۔ ہر دم فرد کے اندر ایک عجیب جذبہ پھونکے رکھتے ہے کہ کل یہ ہوگا، پرسوں وہ ہوگا۔
امیدکیا ہے؟ انسان رات کو سوتا ہے۔ صبح اٹھ کر فلاں کے پاس جانا ہے۔ فلاں نے پاس آنا ہے۔ گھر یہ کام کرنا ہے ، وہ کام کرنا ہے۔
امید کیا ہے؟ آدمی نماز پڑھتا ہے، صرف اس لئے کہ خدا کی بندگی کروں گا تو مغفرت بھی ہوگی، آدمی دعا مانگتا ہے صرف اس امید پر کہ میری تمام خواہشات ،امنگیں اسی دعا ہی سے پوری ہوں۔ دعا رحمت کی طلب کا بہترین ذریعہ ہے۔
امید جب ٹوٹتی ہے۔ فرد کے خواب ٹوٹ کر کرچیاں کرچیاں ہوجاتے ہیں۔ امید جب ٹوٹتی ہے تو اولاد سے نفرت ہو جاتی ہے۔ امید جب ٹوٹتی ہے تو تعلیم سے نفرت ہوجاتی ہے۔امید جب ٹوٹتی ہے تو عبادتیں بے اثر لگتی ہیں ۔ خدا سے کامل یقین اٹھنا شروع ہوجاتا ہے۔ کائنات کی تخلیق پر سوالات اٹھنے شروع ہوجاتے ہیں۔ اس لئے امید ایک زہر قاتل ہے جس کی زیادہ مقدار بھی موت کی جانب رجوع کرواتی ہے اور کم مقدار بھی۔
امید سے ہونے سے بہتر ہے کہ بندہ ناامید رہے اور حقائق کا سامنے کرتے ہوۓ زندگی گزارے۔

محمود شفیع بھٹی
محمود شفیع بھٹی
ایک معمولی دکاندار کا بیٹا ہوں۔ زندگی کے صرف دو مقاصد ہیں فوجداری کا اچھا وکیل بننا اور بطور کالم نگار لفظوں پر گرفت مضبوط کرنا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *