عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ ڈپریشن کا شکار صرف بالغ افراد ہی ہوتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ کم سن اور نوعمر بچے بھی ڈپریشن کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ڈپریشن کا شکار بچوں کی ایک کثیر تعداد صرف اس وجہ سے علاج سے محروم رہ جاتی ہے کہ ان کے والدین یا سرپرستوں کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ ان کا بچہ ڈپریشن کا شکار ہو چکا ہے۔
**والدین، اساتذہ اور ایسے تمام افراد جن پر بچوں کی ذمہ داری ہے، ان کے لیے بچوں میں ڈپریشن کی علامات، وجوہات اور علاج کے بارے میں بنیادی معلومات کا ہونا بے حد ضروری ہے تاکہ بچوں میں ڈپریشن کی بروقت تشخیص اور علاج ہو سکے۔
علامات؛ Symptoms
کم سن اور نو عمر بچوں میں ڈپریشن کی مندرجہ ذیل بنیادی علامات ہو سکتی ہیں۔
* چڑچڑا پن۔ (Irritability)
* غصہ۔ (Anger)
* سرکش رویہ۔ (Defiant Attitude)
* پڑھائی اور دیگر سرگرمیوں میں عدم دلچسپی۔ (Declining Performance)
* جسمانی علامات (سر درد اور پیٹ میں درد کی شکایت)۔ (Physical Complaints)
یاد رہے۔۔۔بچوں میں ڈپریشن کی علامات بڑوں سے یکسر مختلف ہوتی ہیں۔ بڑوں میں ڈپریشن کی حالت میں اداسی کا غلبہ دیکھنے میں آتا ہے جبکہ بچے میں آپ پہلے سے زیادہ توانائی محسوس کر سکتے ہیں جسے وہ منفی طور پر استعمال کرتا ہے. (مار کٹائی والی کھیلیں، کھلونے اور چیزیں توڑنا، ساتھی بچوں کو ہراساں کرنا وغیرہ)**
ڈپریشن کے دوران بچے اس بات پر اسرار کر سکتے ہیں کہ وہ بالکل تندرست ہیں۔ اس طرح بہت سے والدین بچوں کے غصے اور چڑچڑے پن کو سنجیدگی سے نہیں لیتے اور اسے سختی سے اور بچے کو ڈانٹ ڈپٹ کر کے ٹھیک کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے مزید پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں. اگر کسی بچے میں مندرجہ بالا علامات مسلسل دو ہفتے سے زیادہ رہیں تو یہ ڈپریشن کی علامات ہو سکتی ہیں۔ اکثر لوگ خیال کرتے ہیں کہ بچوں پر کوئی معاشی اور سماجی دباؤ اور ذمہ داریاں نہیں ہوتیں اس لیے بچوں کو ڈپریشن نہیں ہو سکتا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ خوشگوار ماحول میں رہنے والے بچے بھی ڈپریشن کا شکار ہو سکتے ہیں۔
وجوہات؛ (Causes)
ڈپریشن کسی قسم کی کمزوری کی علامت نہیں ہے، کوئی بھی اس کا شکار ہو سکتا ہے۔ اگر آپ کا بچہ ڈپریشن کا شکار ہے تو ہو سکتا ہے آپ اس کے ذمہ دار نہ ہوں۔ تناؤ زدہ گھریلو ماحول، والدین میں علیحدگی، اساتذہ اور ہم جماعتوں کا رویہ بھی اس کے اہم اسباب میں سے ہیں تاہم اس کے درجنوں مزید اسباب بھی ہو سکتے ہیں، جینیاتی عوامل بھی ان اسباب میں سے ایک ہیں۔
دماغی کیمیکلز اور ہارمونز کا غیر متوازن ہونا؛
نیورو ٹرانسمیٹرز (Neurotransmitters) اور ہارمونز (Hormones) دماغی سرگرمیوں میں بنیادی کردار کے حامل ہیں۔ جذبات (Emotions)
اور رویے (Behavior) میں توازن کےلیے ان دو میں توازن ضروری ہے۔ ان میں عدم توازن ڈپریشن کے امکانات جو وسیع تر کر دیتا ہے۔
خاندانی روایت؛ (Family History)
جن گھرانوں میں مندرجہ بالا عوارض کی روایت موجود ہے ان گھرانوں کے بچوں میں ڈپریشن کا خدشہ نسبتاً عام بچوں سے زیادہ ہوتا ہے۔
غیر معمولی واقعہ، حادثہ یا صدمہ؛ (Trauma)
اچانک غیر معمولی حالات مثلاً گھر کی تبدیلی، اچانک معاشی تنگدستی، والدین میں علیحدگی یا جنسی ہراسگی بھی بچوں میں ڈپریشن کی علامات ظاہر ہونے کے اسباب ہو سکتےہیں۔
ماحولیاتی عوامل؛ (Envoironmental Factors)
دماغی صحت پر ماحولیاتی عوامل گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ اگر گھر کا ماحول غیر صحت مندانہ، تناؤ اور عدم برداشت پر مبنی، غیر یقینی اور ابتر ہو تو بچوں میں ڈپریشن کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں۔ سکول میں اساتذہ یا ساتھی طلباء کا رویہ جارحانہ اور متشدد ہونا بھی ڈپریشن کے بڑے اسباب میں سے ہے۔
تشخیص؛ (Diagnosis)
اگر آپ کو خدشہ ہو کہ آپ کے بچے میں ڈپریشن کی علامات ظاہر ہو رہی ہیں تو فوراً کسی مستند ماہر امراضِ اطفال (Paediatrician) سے رجوع کریں۔
بچے میں ڈپریشن کی تشخیص کے لیے پانچ یا اس سے زیادہ علامات کا مسلسل دوہفتوں تک رہنا ضروری ہے. ان علامات میں؛ “رویے میں چڑچڑا پن ” اور “ایسی سرگرمیاں جن سے بچہ پہلے لطف اندوز ہوا کرتا تھا ان میں عدم دلچسپی” لازمی طور پر شامل ہوتی ہیں۔
اس کے علاوہ مندرجہ ذیل علامات میں سے کم سے کم تین علامات کا ہونا ضروری ہے؛
* نیند میں کمی یا زیادتی۔
* بھوک کا نہ لگنا اور وزن میں کمی۔
* سُستی اور کمزوری۔
* تھکاوٹ اور جسمانی سرگرمیوں میں کمی۔
* قوتِ فیصلہ اور خود اعتمادی کا کم ہو جانا۔
* احساسِ جرم اور کم مائیگی کا احساس نمایاں ہونا۔
* موت یا خودکشی کے خیالات.
زیادہ تر جسمانی علامات اور کمزوریوں پرجو کہ بچے کے ڈپریشن کے اسباب کو بڑھاوا دینے والی ہیں، ڈاکٹر دواؤں کی مدد سے قابو پا لیتے ہیں۔ والدین کی عدم موجودگی میں ڈاکٹر کی طرف سے دماغی صحت کے حوالے سے گفتگو بھی ایک مثبت پیش رفت کا آغاز ہو سکتی ہے۔ اگر یہ سب کرنے کے باوجود بھی بہتری کے آثار نظر نہ آئیں تو ماہرِ نفسیات اور ماہرِ دماغی امراض سے رجوع کرنا چاہئے.**یاد رہے۔۔۔بچے سے بہت زیادہ سوالات کرنے کی بجائے اس کے رویے اور معمولات میں واقع ہونے والی تبدیلیوں کو نوٹ کریں تاکہ معالج کی بہتر معاونت ہو سکے***
غیر طبی طریقہ ہائے علاج:
Cognative-Behavioral Therapy (CBT)
غیر طبی طریقہ ہائے علاج میں CBT سب سے مستند مانا جاتا ہے۔ اس طریقہ علاج میں مریض کے فہم و ادراک کو مثبت رخ دیا جاتا ہے اور منفی سوچوں اور خیالات کی جگہ مثبت اور صحت مندانہ خیالات کو پروان چڑھانے میں مدد کی جاتی ہے. CBT مختلف قسم کو خوف و خدشات اور خاص طرح کے ناپسندیدہ رویوں پر قابو پانے کے لیے بھی بہت مددگار ہے۔
رہن سہن میں مثبت تبدیلیاں؛ (Lifestyle Changes)
کم شدت کے معمولی ڈپریشن سے نمٹنے کے لیے رہن سہن میں مثبت تبدیلیاں بھی کافی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ بچوں کو پیار اور احساسِ تحفظ کے ساتھ ساتھ بھر پور جسمانی سرگرمیوں کی بدولت ڈپریشن کی کم شدت والی حالت سے باآسانی نکالا جا سکتا ہے۔
*** آپ اپنے بچوں کو ڈپریشن سے ہر صورت بچا تو نہیں سکتے لیکن ان کی ذہنی و جسمانی نشوونما کو مثبت رُخ ضرور دے سکتے ہیں۔ جذباتی لگاؤ (Emotional Bond)، پیار اور احساسِ تحفظ بچے کے لیے آکسیجن کی طرح ضروری ہیں اور یہ بچوں کا بنیادی حق ہے کہ انہیں یہ “آکسیجن” وافر مقدار میں فراہم کی جائے.
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں