پہ نظر آنکھ میں آنسو ہوں بیاض ؔ لب پہ ہو صلِی علیٰ کاش وہ لمحہ دیکھوں
بیاض سونی پتی کی حمد ونعت اردو ادب کا ایک سرمایہ
احساس کے انداز بدل جاتے ہیں ورنہ
آنچل بھی اسی تار سے بنتا ہے کفن بھی
۱۹۶۰ء کی دھائی تک ادبی حلقوں میں پسند کی بلندیوں کو چھو جانے والے اس شہرہ آفاق شعر کے خالق کو کوئی نہ جانتا تھا مگر یہی شعر ادبی دنیا میں بیاض سونی پتی کی پہچان اور شناخت بنا اور پھر ریڈیو پاکستان ملتان نے ان کی شاعری کو بام عروج تک پہنچا دیا اور آپ ملک گیر مشاعروں اور ادبی رسائل واخبارات کی جان بن گئے کوٹ ادو کی سر زمین ایک مردم خیز خطہ ہے جہاں سے سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ ادب اور فنون لطیفہ کے بھی بے شما ر بڑے بڑے نام سامنے آےُ اور ملکی سطح پر اپنے اپنے حلقوں میں بے حد مقبول ہوے ۔فنوں لطیفہ میں صدارتی تمغہ حسن کاکردگی حاصل کرنے والے مشہور لوک گلوکار استاد پٹھانے خان اور اسی طرح ادب کی دنیا میں بیاض سونی پتی مرحوم(تمغہ خدمت پاکستان ) کا شمار ان استاد شعراء میں ہوتا ہے جن کا کلام اور اشعار ان کے اپنے نام سے بھی آگے نکل گئے ان کی منفرد غزلوں اور اشعار کو جہاں ادبی حلقوں میں پذیرائی حاصل ہوئی وہیں عام لوگوں میں بھی مقبولیت کی معراج پر جا پہنچے اور “شاعر احساس “کہلاے آج بھی لوگوں کے دلوں میں ان کے اشعار کا سحر طاری ہے بیاض سونی پتی کی زندگی ایک اہم موڑ ۱۹۷۵ء میں آیا جب وہ پیر طریقت حضرت خواجہ صوفی محمد علی وادی عزیز کے دست بیعت ہوےُ اور ایک سال میں ہی ان کے خلیفہ مجاز کا منصب حاصل کر لیا اور پوری طرح صوفیانہ رنگ میں رنگ گئے اور ذکر ووجد کی محافل ان کا سرمایہ حیات ٹھہرا۔اس دور میں ان کی حمد ونعت بھی بام عروج تک جا پہنچی جو اردو ادب میں فنی لحاظ سے ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔
حمدجس کے معنی تعریف کے ہیں حمد اللہ کی بڑائی و بزرگی کے اقرار اور اسے اپنا ما لک و آقا تسلیم کرکے اپنی قلم اور زبان سے اس معبود حقیقی کی ثناء و تعریف کرنے کا نام ہے حمد دراصل خدا بزرگ وبرتر کے اوصاف حمیدہ اور اسماء حسنیٰ کی تعریف کو اشعار کی لڑیوں میں پرو کر بیان کرنے کو کہا جاتا ہے ۔اردو شاعری کی مختلف اصناف سخن میں سے پہلی اور قدیم ترین صنف حمد کہلاتی ہے جس میں صرف رب ذوالجلال کی بزرگی اور قدرت کا اعتراف ہوتا ہے اسلیے شاعر کو بے شمار فنی باریکیوں کو پیش نظر رکھنا پڑتا ہے تاکہ ثناء وتعریف کے ساتھ ساتھ رب عظیم کی نوازشات کا شکر بھی ادا کیا جاے ۔بیاض سونی پتی ایک درویش صفت صوفی بزرگ تھے اور جانتے تھے کہ حمد با عث تسکین قلب اور ثنا ےُ جمیل ہے اس لیے انہوں نے اپنی عقیدت و ایمان کے گل ہاےُ معطر حمدیہ اشعارکی لڑیوں میں پرو کر ثناو توصیف سے اپنے دلی جذبات اپنے مخصوص انداز میں بیان کیے اور رب کی عنایات کا شکر اور شان کریمی کے بیان کو شعر میں لفظی جامہ پہنانے کی سعادت حاصل کی ہے ۔ ان کے کلام کا بڑا حصہ حمد باری تعالیٰ پر مشتمل ہے اردو میں طویل حمدیہ نظم”ربوبیت” اور” انوار عزیزیہ “لکھی اور اردو ادب میں پہلی مرتبہ آپ نے سورۃ فاتحہ کا منظوم ترجمہ کرکے حمد ثنائی اور اردو ادب میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا ۔
سورۃ فاتحہ ( منظوم اردو ترجمہ )
بسم اللہ الرحمںٰ الرحیم
الحمدللہ رب العلمین
حمد بس اس خدا کو ہے زیبا پالنے والا جو جہانوں کا
اَلرحمَن الرحیم مالک یوم الدین
اور رحمان بھی رحیم بھی ہے مالک حشر بھی کریم بھی ہے
ایاک نعبد
تیری ہی کرتے ہیں عبادت ہم دم تیرا بھرتے رہتے ہیں ہر دم
ایاک نستعین
تجھ ہی سے چاہتے ہیں ہم امداد تجھ ہی سے کرتے ہیں سدا فریاد
اھدناالصراط المستقیم
ہم کو تو سیدھے راستے پہ چلا نیک منزل کی ہم کو راہ دکھا
صراط الذین انعمت علیھم
ان کے رستے پہ جن پہ فضل ترا بے حساب ان گنت اور عام ہوا
غیرالمغضوب علیھم
مبتلاےُعذاب ہیں جو لوگ اور زیر عتاب ہیں جو لوگ
ولا الضآ لین
نہ چلا ان کی راہ پر ہم کو ۔ بھولے بھٹکے ہیں راستے سے جو لوگ
چند حمدیہ اشعا ر جن سے ان کے اپنے رب سے قلبی احساسات و جذبات نمائیاں ہوتے ہیں اور جو اس بابرکت میدان محبت میں بیاض سو نی پتی کی انفرادیت کے ترجمان ہیں۔ ان کی حمد ونعت میں ایک خاص عقیدت اور روحانیت پائی جاتی ہے جس کا پڑھنا اور سننا باعث سعادت ہے
مجھے یہ راز بتایا ہے اک قلندر نے
ہے عرش ایک قدم لا الہ ٰالاللہ
تجھے بتاوںمیں مرگ و حیات کا نکتہ
دل شہود و عدم لا الہٰ الاللہ
یہ بات کہ گیا مستی میں ایک مست ازل
بناےُ لوحوقلم لاالہٰ الا للہ
اسی کی لو سے تو ظلمت کدے منور ہیں
چراغ طاق حرم لا الہ ٰ الا للہ
نعت
پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدحت ۔تعریف و توصیف کے نظمی انداز بیان کو نعت یا نعت گوئی کہا جاتا ہےعربی زبان میں نعت کے لیے لفظ ” مدح رسول ” استعمال ہوتا ہے۔نعت کا تعلق خاص طور سے عشق رسول ؐ سے ہے اور عشق رسول ؐ کمال ایمان کی اہم شرط ہے عشق رسول ؐ کا ثبوت اطاعت اور پیروی رسول میں پوشیدہ ہے اس لیے نعت گو کے لیے ضروری ہے کہ نعت گو حب رسوؐل میں ڈوب کر اطاعت رسولؐ کا عملی نمونہ پیش کرتے ہوےُ اپنی نعت کے ذریعہ آپ ؐ کی تعریف و توصیف سے اظہار نعت گوئی کا حق ادا کرےُ ۔تمام اصناف سخن میں نعت وہ واحد صنف سخن ہے جو بہت کٹھن ہے گو پڑھنے میں بہت آسان نظر آتی ہے لیکن فنی باریکیوں اور نزاکتوں کے مطالعہ کے بعد اس فن سے عہدہ برا ٓ ہونا آسان نہیں ۔بیاض سونی پتی ایک سچے عاشق رسول تھے اور ان تمام نزاکتوں اور احترام کی باریکیوں کو سمجھتے تھے اسلیے ان کی نعت گوئی میں ایک منفرد عقیدت واحترام محسوس کیے بغیر نہیں رہا جا سکتا ۔اور پھر جن لوگوں پر حضور ؐ کا فیض ہو جب وہ نعت کہتے ہیں تو وہ الگ ہی نعت ہوتی ہے اورنعتوں مییں آسمان عقیدت سے رم جھم اترتی محسوس ہوتی ہے وہ کبھی ذہن ۔کبھی زبان ۔کبھی قلم۔کبھی شعور۔اور کبھی دل سے محو نعت ہوتے ہیں ۔
جب تصور میں نبی کا رخ زیبا دیکھوں
عبد کے روپ میں معبود کا جلوہ دیکھوں
پاک ہے ذات وہ جس کا نہیں سایہ کوئی
اس کی رحمت کا دو عالم پہ میں سایہ دیکھوں
روح اس جسم کے گنبد میں مچل جاتی ہے
جب مدینے کو مسافر کوئی جاتا دیکھوں
لوح احساس پہ جب اسم محؐمد لکھوں
سوچ کے گرد اک انوار کا ہالہ دیکھوں
محفل ناز میں نظریں جو اُٹھانا چاہوں
چشم پر شوق پہ پلکوں کا میں پہرا دیکھوں
سبز گنبد پہ نظر آنکھ میں آنسو ہوں بیاض ؔ
لب پہ ہو صل علی کاش وہ لمحہ دیکھوں
خوبصورت نعتوں کے چند اشعار ”
نغمہ بلبل جانِبہاراں شافع محشر فخر دو عالم رنگِ چمن اور بوےُ گلستاں شافع محشر فخر دو عالم
تم ہو فلک پر نجم فروزاں تم ہو ضیاےُ ماہ ضوافشاں تم ہو شعاع مہر درخشاں شافع محشر فخر دوعالم
تم ہو سراپا عکس حقیقت تم ہو مجسم جلوۃوحدت تم ہو پیکر حسن یزداںشافع محشر فخر دو عالم
قلب وجگر ہیں غم میں نالاںزوروں پر ہے درد عصیاں کیجیے کچھ درد کا درماں شافع محشر فخر دو عالم
تم ہو بیاض ؔ صبح صادق تم ہو شاہ خاور مشرق ظلمت شب میں شمع فروزاں شافع محشر فخر دو عالم
آپکی یاد کی مشعل نہ ہو روشن جس میں سوچ بےجان ہے وہ دل ہے سراسر پتھر
کرتا ہوں اپنے تصور میں تلاوت اسکی ہے کھلا مصحف حق آپکا روےُ انور
سلام بحضور سرور کائنات ”
جناب خیر الانام آےُ
درود پڑھیے سلام پڑھیے
وہ انبیا ٗء کے امام آے
درود پڑھیے سلام پڑھیے
یہ ایک نقطہ ہے یاد رکھنا
ہر ایک مشکل کا حل ہے اس میں
جہاں بھی مشکل مقام آےُ
درود پڑھیے سلام پڑھیے
خدا کے جن کو سلام آئیں
فرشتے جن پر صلوٰۃ بھیجیں
لبوں پر جب ان کا نام آےُ
درود پڑھیے سلام پڑھیے
حضرت امام حسین ؑ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوے ان کے لافانی اور بے حد مشہور اشعار ادب کی دنیا میں آج بھی ایک شاہکار ہیں۔آپ کی اہل بیعت سے محبت کسی سے پوشیدہ نہ تھی مگر طریقہ اظہار نے تو کمال ہی کردیا ۔
اےُ چرخ تو نے حوصلہ دیکھا حسین کا
ہر زخم کھا کے کھلتا ہے چہرہ حسین کا
جو وقت کے یزید سے ٹکرا گیا بیاض ؔ
تم جان لو کہ ہے وہی پیارا حسین کا
آج بھی مرحوم کےمرقد پر آویزاں کتبہ پر نقش یہ شعر ان کی خدا کے حضور عاجزی و انکساری کا مظہر اور ان کی روحانی کیفیت کو نمائیاں کرتا دکھائی دیتا ہے

ہر چیز پہ قادر وہی معبود خدا ہے
انسان تو مجبور ہے راضی بارضا ہے
کب جانیے کب اس کو بجھا دے کو ئی جھونکا
یہ زیست لرزتا ہوا مٹی کا دیا ہے
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں