بے گھر نسلیں/ندیم اکرم جسپال

چند دن ہوتے ہیں بی بی سی کی ایک ڈاکیومنٹری “ کھاریاں کی ویران حویلیاں”Abandoned Mansions of Kharian دیکھنے کا اتفاق ہوا۔اس ڈاکیومنٹری سے کُچھ کرنے کی تحریک بھی ملتی ہے،اور ساتھ ساتھ یہ آپکو اداس بھی کر جاتی ہے۔یہ ضلع گجرات کے شہر کھاریاں کے اُن لوگوں کی کہانیاں ہیں جو ساٹھ اور ستر کی دہائی میں یوکے اور یورپ آئے تھے۔یہ لوگ چھوٹے چھوٹے گھروں سے اُٹھ کے آئے اور اپنے خاندان کی کایا پلٹ دی۔ایسی ایسی معاشی ترقی کی مثال گجرات کے چھوٹے چھوٹے قصبوں میں موجود ہے جو شاید ہی لاہور یا کراچی جیسے کارپوریٹ شہروں کے حصے میں آئی ہو۔گجرات،منڈی بہاؤالدین، جہلم اور جی ٹی روڑ کے ساتھ جہاں سے گزر ہو ،گمان ہوتا ہے جیسے کسی بڑے اربن سنٹر سے گزر  رہے ہوں۔بنگلے،گاڑیاں اور ایسا شاہانہ طرزِ زندگی جو شاید لاہور میں بھی کسی کا خواب ہو۔ا

ن بڑے بنگلوں نے مگر بڑی قربانیاں لی ہیں۔اتنی قربانیوں کے بعد آج یہ بنگلے اجاڑ پڑے ہیں۔چار چار کنال میں محلوں جیسے بنے گھروں میں رہنے والا کوئی نہیں۔ہجرت کرجانا،گھر چھوڑ جانا کوئی عام بات نہیں ہوتی،اور خاص کر اس ہجرت کے ساتھ ایک ستم جُڑا ہے۔کھاریاں سے یوکے یورپ آنے والی پہلی نسل جیسے ہی کُچھ آسودہ ہوئی تو انہوں نے اس امید پہ حویلیاں بنائیں کہ  ایک روز وہ واپس اسی گاؤں میں لوٹ جائیں گے،مگر ایسا کبھی نہ ہو سکا۔

اُس نسل کے یورپ میں بنائے مکان ان کی اگلی نسل کے گھر بن گئے۔ایک نسل پنجاب کو یاد کرتی ہے،دوسری نسل کے لئے ولائت ہی گھر بن گیا ہے۔ایک نسل کو رہ رہ کے گاؤں کی کچی گلیاں،تھڑے پہ بیٹھےتائے چاچے،محلے کی پسماندہ سی کریانے کی دُکان یاد آتی ہے،شادی پہ ڈھول کی تھاپ پہ بے ہنگم سے بھنگڑے یاد آتے ہیں،جنازوں پہ رونے کو جو کندھے دستیاب تھے وہ یاد آتے ہیں،دادی کی جھڑکیاں ،مفلس باپ کی قربانیاں یاد آتی ہیں،مگر دوسری نسل ان سب سے بہت پرے،بہت دور ہے۔نئی نسل کے لیے یورپ نئی حقیقت ہے،انکا بچپن بریڈفورڈ میں گزرا ہے،ان کی بچپن کی یاد میں ولائت کی گلیاں اور برمنگھم کا سوہو روڑ ہے۔

عام طور پہ دو نسلوں میں “جنریشن گیپ” ہوتا ہے،ان نسلوں میں صرف “گیپ “ہے۔بچپن کی یادیں،اور جوانی کے خواب،اداسیاں، خاموشیاں اور محفلیں سب یکسر مختلف ہیں،سب کے الگ معنی ہیں۔جنریشن گیپ میں فقط نظریات اور خیالات کا فرق ہوتا ہے،ان میں مگر اتنا فاصلہ ہے کہ باپ جن جملوں پہ ہنس ہنس  کر لوٹ پوٹ ہوجائے،اولاد کے لئے بے معنی ہیں،اور باپ جس بات پہ راتیں جاگ کے گزار دے،اولاد کے نزدیک وہ کوئی لایعنی سا کانسپٹ ہوتا ہے۔ان دو نسلوں کی زبان مختلف ہے،لب و لہجہ الگ ہے،اخلاقیات کے معیار الگ ہیں،رسم و رواج اور ثقافت مختلف ہے۔

ان دونوں نسلوں کے درمیان میلوں کا نہیں نصف صدی کا فاصلہ ہے۔ایسا فاصلہ کہ ایک نسل کا گھر دوسری نسل کا مکان ہے،اور ایک نسل کی حویلیاں دوسری نسل کے نزدیک شاید بھوت بنگلے ہیں۔یہ حویلیاں بنانے والے کبھی واپس نہیں جا سکیں گے،جس مکان میں پچاس برسوں سے رہتے ہیں نہ اُسے گھر کہیں گے۔یہ پچاس برس بعد بھی گجرات واپسی کی آس پہ بیٹھے ہیں۔

julia rana solicitors london

انہیں معلوم ہے جو مکان یہ چھوڑ آئے تھے وہ نہیں رہا،وہ دارا، چوبارہ اور محلے کی دُکان بھی نہیں رہی،تھڑے بھی اجڑ چُکے،زمانے بدل گئے،لوگ مصروف ہوگئے،ساتھ کھیلنے والے قبرستانوں میں جا بسے،یا شہروں کو منہ کر گئے،ان کے بچپن کا کوئی حصہ بھی کہیں موجود نہیں،مگر کیا کریں،دل آج بھی انہی گلیوں میں اٹکا ہے،کیا کریں کہ یہ نسل یورپ کے  پکے مکانوں میں رہتے ہوئے بھی بے گھر ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply