• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • بلاول کا مباحثے کا چیلنج مثبت جمہوری سیاسی ثقافت کی طرف ایک قدم ہے /ڈاکٹر ابرار ماجد

بلاول کا مباحثے کا چیلنج مثبت جمہوری سیاسی ثقافت کی طرف ایک قدم ہے /ڈاکٹر ابرار ماجد

انتخابات میں ایک عشرہ باقی ہے اور انتخابات کو متنازع بنانے کے خدشات سے لے کر ایک دوسرے پر سہولت کاری اور لاڈلے پن تک کے الزامات کی بھرمار ہے اور ایسے میں انتخابات سے ممکنہ مفادات کے حصول کی کوششں پوری طرح سے کامیاب ہوتی ہوئی نظر نہیں آتی جس سے نہ صرف عوامی مینڈیٹ مشکوک ہوگا بلکہ ریاست کے وسائل اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبے بھی متاثر ہونگے جو کسی بھی طرح سے ملک و قوم کے مفاد میں نہیں۔

میں نے بلاول بھٹو کو اپنے 3دسمبر کے کالم میں اس طرف اشارہ دیتے ہوئے لکھا تھا “جدید جمہوری ریاستوں کا انداز سیاست اپنانا ہوگا جس میں سیاسی جماعتوں کی قیادتیں اپنے منشور اور کارکردگی کے ساتھ میڈیا پر براہ راست عوام کے سامنے پیش ہوتی ہیں اور ان کے درمیان مکالمہ بھی ہوتا ہے جسے پوری قوم سن رہی ہوتی ہے” اور میں سمجھتا ہوں کہ ان کی طرف سے مسلم لیگ نون کی قیادت کو یہ چیلنج جدید مثبت جمہوری سیاست کی ترویج کی طرف بڑھتا ہوا ایک مثبت قدم ہے اور اس سے یقیناً اچھے نتائج مرتب ہونگے۔

اب تک ساری جماعتیں اپنا منشور پیش کر چکی ہیں۔ اس براہ راست نشریات کے ذریعے سے مکالمے کی سہولت سے سیاسی جماعتوں کو اپنا منشور عوام تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ ان پر اٹھنے والے سوالوں پر اپنے دفاع اور ان کے حقائق سے مطابقت رکھنے پر دلائل کا بھی موقعہ ملے گا اور جو جماعیتں لیول پلینگ فیلڈ نہ ملنے کی شکائتیں کر رہی ہیں ان کا بھی شکوہ دور ہو جائے گا اور عوام کو اس سے رائے قائم کرنے کے ساتھ ساتھ اعتماد بھی ملے گا۔

ویسے تو یہ سیاسی جماعتوں کو چاہیے تھا کہ وہ آپس میں مل کر کوئی ایسا لائحہ عمل ترتیب دیتیں جس سے آئین و قانون پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جاسکتا یا پھر عملی طور پر وہ الزامات کی سیاست کو چھوڑ کر کارکردگی کے بیانیے کے ساتھ عوام میں جاتے اور تمام سیاسی جماعتوں کے لئے لیول پلینگ فیلڈ کے لئے وہ اپنے اپنے کردار کو واضح کرتے ہوئے اپنے اوپر لگائے جانے والے الزامات کا جواب دیتیں اور سب حکومت سے یک زبان شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کا مطالبہ کرتیں لیکن ایسا ممکن نہیں ہوسکا کیونکہ ان کے اپنے اندر بھی ابھی تک وہ اصولی اور جمہوری اقدار والی سیاست پروان نہیں چڑھ سکی جو صحیح معنوں میں جمہوریت کی بنیاد ہوتی ہے جن کی سیاسی شعور اور اعلیٰ اخلاقیات پہلی شرط ہیں جو ہمارے اندر بحیثیت قوم ابھی یہ حل ڈھونڈنے سے قاصر ہیں۔

لہذا ایسے وقت میں جو فوری طور پر قابل عمل اور نتائج کے لحاظ سے کامیاب حکمت عملی بنائی جاسکتی ہے وہ حکومت کی طرف سے قومی نشریاتی ادارے پر براہ راست تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان مکالمے کی سہولت کی فراہمی کا انتظام ہے بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ الیکشن کمیشن کو سیاسی جماعتوں کو ہدایات چاری کرنی چاہییں کہ وہ ان خدشات کو دور کرنے کی غرض سے اپنے موقف کو دلائل کے ساتھ واضح کرنے کے لئے اپنے اپنے منشور اور سابقہ کردار و کارکردگی کی روشنی میں اپنی مستقبل کی حکمت عملی کو عوام کے سامنے رکھیں اور سیاسی جماعتوں کے مرکزی قائدین کے درمیان مکالمہ ہو تاکہ نہ صرف ان کے اپنے خدشات دور ہوں بلکہ عوام پر ان کے جھوٹ پر مبنی سیاسی بیانیے بھی بے نقاب ہوں اور ان کے ایک دوسرے پر الزامات کے جوابات بھی ایک ہی نشست میں سننے کو ملیں تاکہ عوام حقائق کو سمجھتے ہوئے اپنے ووٹ کے حق کے ذریعے سے رائے کا صحیح استعمال کر سکیں۔

ان مکالموں میں اگر ممکن ہو تو اداروں کے نمائندے بھی موجود ہوں جو سیاسی جماعتوں کے خدشات اور ان کے لئے لیول پلینگ فیلڈ کے لئے قانونی طور پر اٹھائے جانے والے اقدامات اور اس پر ادارے کی کاروائی کو بھی عوام کے سامنے رکھیں تاکہ عوامی اور سیاسی جماعتوں کی غلط فہمیاں بھی دور کی جاسکیں۔ اس سے عوام کو سیاسی جماعتوں کے قائدین کی علمی، ادبی، آئینی و قانونی، سیاسی اخلاقی سوجھ بوجھ کا بھی اندازہ ہو گا جو ہماری بہتری میں رکاوٹ کے اسباب میں سے ایک ہے۔

اس سے سوشل میڈیا کی تباہی کے نقصانات کو بھی کافی حد تک کم کرنے میں مدد ملے گی اور عوام پر واضح ہو جائے گا کہ کون سی سیاسی جماعت ملک و قوم کے لئے مخلص، ان کے لئے خیر خواہ اور مستقبل کے لئے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ عوام کو اچھے اور برے میں تمیز کرنے کے لئے ماحول کی فراہمی حکومت کی ذمہ داریوں میں شامل ہے اور اگر ایسا نہ کیا جائے تو پھر ان کو سوشل میڈیا کی جادوگری والی تباہی کے نقصانات کا نشانہ بننے کا مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ جب تک عوام کو ہر طرف کے موقف تک رسائی نہ ہو ان کی سوچوں کو نیوٹرل کیسے کیا جا سکتا ہے؟ سوشل میڈیا کا یہ طریقہ واردات ہے کہ اس کو اگر کسی کی دلچسپی معلوم ہو جائے خواہ غلطی سے ہی کیوں نہ ہو، تو وہ اس کی مدد کے لئے اس کو اس سے ملتا جلتا مواد بھیجنا شروع کر دیتا ہے اور اس کی سوچوں کو یقین کی حد تک پہنچا کر چھوڑتا ہے جس سے حق کو جاننے کی راہیں ہی بند ہوجاتی ہیں۔

ان خدشات، تحفظات اور شکوک و شبہات پر حکومت اور ادارے اپنا موقف بھی گاہے بگاہے دے رہے ہیں اور ان پر لگائے جانے والے الزامات کو دور کرنے کی پوری کوشش کی جارہی ہے مگر اس کے باوجود ان سے مکمل طور پر چھٹکارہ ممکن نظر نہیں آ رہا۔ بین الاقوامی جریدوں کی رپورٹس بھی حقائق کو واضح کر رہی ہیں مگر ان تک عوام کی اتنی رسائی نہیں جتنی انکی سوشل میڈیا کے ذریعے سے پھیلائی جانے والے پراپیگنڈے تک ہے جس کی وجوہات میں دولت کا کمال، تکینکی مہارتیں اور کم شرح خواندگی شامل ہیں جن کے توڑ کے لئے لمبا وقت اور تحقیقی مہارتیں درکار ہے۔

julia rana solicitors london

اس کے علاوہ میں سمجھتا ہوں کہ اگر مفرور ملزموں کے انتخابات میں حصہ لینے میں کوئی قانونی قدغن نہیں تو پھر جو جیلوں میں قید ہیں ان کو اگلے دس دنوں کے لئے پیرول پر رہائی دے دینی چاہیے تاکہ وہ اپنی انتخابی کمپین چلا سکیں اور اس سے بھی انتخابات میں لیول پلینگ فیلڈ کا شکوہ دور کرنے میں مدد ملے گی۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply