نام اور صنف سے تو سبھی واقف ہوں گے ,جو اس وقت ہر بندہ اپنی ضر ورتِ زندگی میں شامل کر چکا ہے۔ جس کے استعمال اور بے جا خریداری نے خریدنے والوں کی وقعت اور اصلیت کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ یہ ایک بڑا ہی اچھا اور بہترین موقع ہے پرکھنے کا ،او بھائی جتنا بڑا آدمی اس کے استعمال اور خریداری پر زور لگاتا ہے اُتنی ہی اس کی حقیقت عام آدمی سے مختلف اور منفرد ہوگی ۔ آپ ایک دم تجسس کا شکار ہو چکے ہیں کہ وہ کیسے اور کیوں کر ؟ اس کے لیے یہی جان لینا کافی ہے کہ جب کسی کو تکلیف حقیقی دیں اور تسلی مصنوعی ہو تو یہ کُھلا تضاد قرار پاتا ہے۔ جو اپنی اوقات کو چُھپانے اور دوسروں کو جھوٹی محبت کی جھلک دکھانے کے مترادف ہے بالکل اس چیز کا استعمال بھی آج ایسا ہی ہے۔
اپریل 2014 ء میں پاکستانی عدلیہ کا حصّہ بننا پڑا، جس کا اندازہ تو بعد میں ہوا کہ یہاں تو سارے اس کی مانند ہیں جو جسم پر لگاتے ہیں ۔ مصنوعی خوشبو اور دکھاوے کی تسلی دیتے ہیں مگر بعد میں ان کے ہر عمل میں تضاد کا گوہر ملتا ہے صرف یہیں پر نہیں نیچے سے اوپر تک ۔ جو اس سیاہ رنگ کے باطن میں چُھپا ہوا ہے اور مزید پرفیوم لگا کر اس کو خفیہ رکھنے کی سعی کی گئی ہے۔ خیر یہ تو ایک اس خطے کے رہنے والوں کا پہلو ہے یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ مصنوعی خوشبوؤں کے میدان میں مصنوعی چہروں کی منڈی ، اس میں رہنے والو اپنی اصلیت کو جتنا مرضی پس پشت ڈال لو یہ ہمیشہ تمھیں ایسے ننگا کرے گی جس طرح تم ماں کے پیٹ سے نکلتے وقت تھے۔
دوسری جانب دیوار پر پینٹ کیا جائے تو نچلی تہہ جو اینٹوں اور سیمنٹ سے بنائی ہوتی ہے اُس کی کیفیت اور حقیقت کو چھپاتی ہے اور دن بدن اس پر لیپ کرنے سے ایک موٹی تہہ دیوار پر لگ جاتی ہے۔ تو سمجھ جاؤ پھر اس کا استعمال کرنے سے کرنے والوں کی عقل و فہم پر بھی یہی کچھ ملتا نظر آیا۔ جو اپنی وقعت اور اوقات کو چُھپانے کی خاطر نہ جانے کیاکیا ہربے استعمال کرتے ہیں ۔ نتیجہ اس کا وہی عقل پر گہری پرت چھا جانے کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے ان کا تعلق ختم ہو کر نااہلی ، سُستی ، ہڈحرامی اور شور سے وابستہ ہو جانا۔ پھر یہی لوگ بے موقع محل گفتگو ، دوسروں کو حقیر ، مسلسل نافرمانی اور طنز کا دامن پکڑے قدرت پر انگارے برساتے ملتے ہیں۔
جب ان سے پوچھا جائے عقل بڑی کہ بھینس؟ تو بغیر سمجھے بولیں گے کہ بھینس ۔ وجہ کیا ہے جو اس بھینس کا انتخاب کیا ؟ وہ صرف ایک ہی ہے کہ بلاوجہ دماغ پر وہ تہہ جمائی ہے جس نے مصنوعی خوشبوؤں کے ساتھ مصنوعی تسلی کا دامن تھام لیا ہے جو آہستہ آہستہ سراپا نگاری پر آگیا ہے۔ یہ طبقہ اُمیدیں تو آدمیوں سے لگاتا ہے اور پھر شکوے خُدا سے کرتا ہے۔
فطرت کو للکارنا اور اپنی ہوس کا نشانہ بنانا ان کی بنیادی عادات اور رسوم کا حصہ بن جاتا ہے۔ یہ بوتل خالی ہونے پر دوسری اور اس کے بعد اگلی پہ نظر رکھتے ہیں ۔ جب وہ خالی ہو تو کوڑے دان میں پھینک دی اور واپس نظر بھی نہ کی ۔ اسی طرح یہ اپنی ہوس کا نشانہ بنانے والوں کے ساتھ بھی یہی سلوک کرتے ہیں۔ نوبت تو یہاں تک بھی آن پہنچی ہے کہ جس عقل پر ان مصنوعی رنگوں کی پرتیں جمائی ہیں اس کی طرف بھی کبھی نگاہ نہیں کی۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ میرا ضمیر جاگ جائے اور میری اصلیت سامنے آ کر مجھے میری پہچان کروادے۔ یہ لوگ جب فطرت کے متضاد قدم رکھتے ہیں تو رات کو نیند کی گولیاں کھا کر سوتے ہیں مگر نیند پھر بھی نہیں آتی۔
اپنا وزن کم کرنے کے لیے ہزاروں اور لاکھوں روہپے جم خانوں کو دیے جاتے ہیں مگر غریب کی جھونپڑی میں آگ جلنے نہیں دینی ۔ گاڑی پر بیٹھ کر جم جانا ہے کہیں پسینہ آ کر ان کی اصلیت کا اعلان نہ کر دے۔ سردی کو ہیٹر اور گرمی میں اے سی کے بغیر نہیں رہنا کہیں کوئی ایسی بیماری نہ رہ جائے جو ان کو نہ لگی ہو۔ زندہ کو تو ایک روٹی بھی دینا گوارا نہیں کرتے مگر مَرے ہوئے کے نام پر دیگیں بانٹنا ثواب کبیرہ سمجھتے ہیں۔ ہمسائے کا حق تو پہلے بتایا ہے مگر اس کا حال احوال پوچھنا شان کے خلاف ہے ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ ان کی بدبو کا راز معلوم کر لے ۔ ان کی جیبوں میں پیسہ ہے مگر زندگی میں سکون نہیں۔ گھروں میں فریج ،اے سی، واٹر کولر موجود ہیں مگر زندگی میں ٹھنڈی ہوا نہیں۔ ہاتھوں میں موبائل فون موجود ہیں مگر استعمال نہیں ۔ چال ہے جو عمدہ , مگر چال چلن نہیں۔ اسی بنا پر وہ اپنی تاریخ , اوقات, مجموعہ اور رنگ کو چھپانے میں سرگرم عمل ہیں۔ان کے لیے پرفیوم اور مصنوعی خوشبوؤں کا سہارا لیتے ہیں۔
مجھے نشتر کالونی لاہور کے مین بازار سے 17 جولائی 2023ء کی شب گزرنے کا اتفاق ہوا۔ اچانک میری نظر ایک پرفیوم کی دُکان پر پڑی جہاں بے شمار عِطر اور پرفیومز کو بڑے ہی معزز انداز میں رکھا گیا ۔ میں جان بوجھ کر اس دُکان میں جا گُھسا کیونکہ میرا مقصد کچھ جاننا تھا ۔ جاتے ہی دکاندار سے سلام دُعا ہوئی اور پوچھا کون سی خوشبو لینا پسند کریں گے؟ میں ایک دم سوچ میں پڑ گیا اور بولا آپ کے پاس وہ ہے جو میں کہنے والا ہوں؟ وہ بولا جناب حکم کریں آپ کے سامنے دکان بھری پڑی ہے آگے پیچھے ،دائیں بائیں سب خوشبوں کا سٹاک ہے ۔ تجسس کی بات کہ وہ ابھی بھی بات کو بڑھاتے ہوئے اپنی دکانداری چمکا رہا اور کہتا ہے کہ جناب پسند کریں کوئی بھی خوشبو، گارنٹی دیتا ہوں پسینے کی بدبو اور اس جیسی کوئی بھی چیز لگانے سے نزدیک بھی نہیں آئے گی۔ میں اس حیرانی میں مبتلا کہ کیسا کمال ہے یہ ان لوگوں کے ذہنوں میں کیسا اثر انداز ہو چکا ہے کہ اپنی غلاظت کو ہی پس پردہ ڈالنے میں اتنی مہارت سے کام لے رہے ہیں۔ پھر ایک دم بولا
” جناب آپ چاروں طرف دیکھتے ہی دیکھتے جا رہے ہیں مگر کوئی قسم یا نام بھی بتائیں جو میں آپ کو پیش کروں۔ ”
چند لمحات کے لیے میں خاموش رہا اور پھر بولا،
” تمھارے پاس کردار کی خوشبو ہے؟”
وہ ایک دم غصے سے میری طرف آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے لگا اور دیکھتا ہی رہ گیا۔ میں ایک دم سے باہر نکلا اور بلند آواز سے دوبارہ کہا تمھارے پاس کردار کی خوشبو ہے۔ ؟
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں