پی ایس ایل سپاٹ فکسنگ ذمہ داروں کو تا حیات معطل کیا جائے

پی ایس ایل سپاٹ فکسنگ ذمہ داروں کو تا حیات معطل کیا جائے
طاہر یاسین طاہر
پاکستان کرکٹ کے ساتھ یہ بد قسمتی رہی کہ میچ فکسنگ جیسے سکینڈلز سامنے آنے کے باوجود ان پہ عادلانہ تحقیق نہ ہوئی ۔ اگرچہ جسٹس عبد القیوم رپورٹ میں کرکٹ میں جوئے اور اس جوئے میں پاکستانی کھلاڑیوں کے ملوث ہونے بارے شواہد موجود ہیں۔ یہ امر بھی واقعی ہے کہ سابق فاسٹ باولر اور ریورس سوئنگ کے موجد سرفراز خان ہمیشہ اس بات کا رونا روتے ہیں کہ کچھ کھلاڑی میچ فکسنگ میں ملوث ہیں، انھیں کڑی سزا دے کر نشان عبرت بنایا جائے ۔ کئی بار سرفراز خان لائیو ٹی پروگرامز میں بعض کھلاڑیوں کا نام لے کر اپنے خدشات کا اظہار کر چکے ہیں۔چند سال پہلے جب پاکستانی کرکٹ ٹیم انگلینڈ کے دورے پر تھی تو فاسٹ باولر محمد عامر،محمد آصف اور کپتان و اوپننگ بیٹسمین سلمان بٹ سپاٹ فکسنگ میں ملوث پائے گئے اور سکینڈل سے پاکستان کرکٹ،کھلاڑیوں اور ملک کی بہت بدنامی ہوئی۔
حالیہ پی ایس ایل میں اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیم کے دونوں اوپنر بیٹسمین شرجیل خان اور خالد لطیف سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں ملوث پائے گئےجس کی بنا پر انھیں معطل کر کے وطن واپس بھیج دیا گیا ہے۔ جبکہ محمد عرفان اور ذوالفقار بابر سمیت دیگر کھلاڑیوں سے پوچھ گوچھ بھی کی گئی۔پی ایس ایل کے چیئرمین نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ لیگ میں اسپاٹ فکسنگ کے حوالے سے اطلاعات پہلے سے تھیں لیکن شک کا فائدہ دیتے ہوئے کھلاڑیوں کو کھیلنے دیا گیا۔ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں نجم سیٹھی نے برطانیہ میں ہونے والی کارروائی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس جو معلومات ہیں اور آئی سی سی کے پاس جو معلومات ہیں اس کا تبادلہ کیا جارہا ہے اور اسی کی بنیاد پر یہ کارروائی ہورہی ہے۔نجم سیٹھی کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے اینٹی کرپشن یونٹ کے بیشتر افراد آئی ایس آئی کے ریٹائرڈ انٹیلی جنس افسر ہیں جنھوں نے بڑی ذمہ داری سے کام کیا اور کچھ کھلاڑیوں کا بھی تعاون ہے جنھوں نے بتایا کہ کس طرح کی پیش کش ہوئی ہے۔ شرجیل خان اور خالد لطیف کے حوالے سے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انھوں نے جو کیا ہے وہ اس کو مانتے ہیں اور معافیاں بھی مانگ رہے ہیں، 2 دن میں چارج شیٹ جاری کردی جائے گی، جس میں تفصیل ہوگی۔
انھوں نے کہا ہمیں ٹھوس معلومات تھیں کہ یہ ہونے جارہا ہے، پھر یہ سوچنا تھا کہ اس کو روکا جائے یا ہونے دیا جائے تا کہ جرم ثابت ہو کیونکہ یہ اسپاٹ فکسنگ کا مسئلہ تھا، میچ فکسنگ کا نہیں، اور کسی کو سنے بغیر یا کسی کے جرم کیے بغیر کسی کو پکڑنا مناسب نہیں تھا تو پھر مشترکہ فیصلہ یہ ہوا کہ شک کا فائدہ دے دینا چاہیے۔نجم سیٹھی نے مزید بتایا، مگر پھر ہم نے کہا کہ انھیں جرم کرنے دیں اور پھر جب انھوں نے توقع کے مطابق وہ بات کی تو پھر ہم نے سوچا کہ اب انھیں بلایا جایا اور آگاہ کیا جائے کہ آپ کے اوپر یہ قانون لاگو ہوتا ہے اور یہ کہ ان کو معطل کیا جائے۔چیئرمین پی ایس ایل کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے پاس بہت سی معلومات ہیں، ان کے ٹیلی فون اور اس کا سارا ڈیٹا ہم نے دیکھا ہے، ہمارے پاس بہت سے ثبوت ہیں۔
دریں اثنا قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے بھی پاکستان سپر لیگ میں کرپشن اسکینڈل منظر عام پر آنے اور بکیز کی کھلاڑیوں تک رسائی پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور نجم سیٹھی سے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔یہ بھی یاد رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اوپننگ بلے باز ناصر جمشید کو انسداد کرپشن قواعد کی خلاف ورزی پر کرکٹ کے تمام طرز سے عبوری طور پر معطل کردیا ہے۔یہ امر واقعی ہے کہ بکیز سےشرجیل خان اور خالد لطیف کے روابط کروانے میں ناصر جمشید کا نام آ رہا ہے،گذشتہ روز انھیں اور ایک دوسرے شخص یوسف جو کہ مبینہ بکی ہے کو برطانیہ میں گرفتار کر لیا تھا جنھیں تحقیق کے بعد ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔ یہ سوال بڑا اہم ہے کہ جب فکسنگ کی پہلے سے اطلاعات تھیں تو اسے روکنے یا وارننگ کے لیے اقدامات کیوں نہ کیے گئے؟کرکٹ سمیت دیگر کھیلوں میں سٹے بازی ایک عالمی رواج بن گیا ہے۔لیکن یہ امر واقعی ہے کہ اس میں جب تک چند بڑے نام شامل نہ ہوں غیر معروف کھلاڑیوں یا جن کی ٹیم میں کبھی جگہ بنتی ہو کبھی نہ، وہ ایسا اقدام نہیں کر سکتے۔۔ناصر جمشید کے ملوث ہونے سے یہ افسوس ناک حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ ہمارے کھلاڑیوں کا ایک نیٹ ورک بکیز کے ساتھ گہرے رابطے میں ہے۔
اگر پاکستان کرکٹ بورڈ محمد عامر کی وکالت کرنے کے بجائے محمد آصف،محمد عامر اور سلمان بٹ پر کسی بھی نوع کی کرکٹ کھیلنے اور،وزارت داخلہ ان پر ملک سے باہر جانے کی پابندی لگا دیتی تو آج شرجیل خان اور خالد لطیف ایسے لڑکوں کی یہ جرات نہ ہوتی۔محمد عامر کو کم عمری کا ایڈوانٹج دیا جاتا رہا جبکہ افلاطون دماغوں نے یہ نہ سوچا کہ جس کو اتنا معلوم ہے کہ نو بال کیسے کرائی جاتی ہے اور اس کے عوض اسے کتنے پیسے ملیں گے وہ ایسا بھی کم عمر نہیں۔ نیز یہ کہ جب کوئی کسی بھی شعبے میں ملک کی نمائندگی کرتا ہے تو پھر اس کی عمر اور معصومیت نہیں دیکھی جاتی بلکہ کارکردگی دیکھی جاتی ہے۔کھلاڑیوں کو جب یہ معلوم ہو گا کہ اگر وہ جوئے یا سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہوئے تو انھیں نہ صرف تا حیات پابندی کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ غداری کا مقدمہ بھی چلے گا تو یقین جانئے کہ ان میں سے کوئی بھی آئندہ ایسی جرات نہیں کرے گا۔جب تک کم عمری، پہلی غلطی اور اسی طرح کے دیگر لاڈ ملتے رہیں گے یہ بد دیانتی بہر حال ہوتی رہے گی۔ ابھی بھی وقت ہے کہ جو کوئی کھلاڑی کسی بھی وقت کسی بھی طرح کی فکسنگ میں ملوث رہا ہو اسے کھیل سے دور کر دیا جائے وگرنہ کرکٹ کا حال ہاکی سے بھی بد تر ہو جائے گا۔

اداریہ
اداریہ
مکالمہ ایڈیٹوریل بورڈ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *