حرافہ۔۔مریم مجید ڈار

آٹھ سالہ منی نے بودی لکڑی کے پھٹوں سے بنے جھولتے دروازے کو دیکھا تو مسرت  سے  آنکھیں  چمک  اٹھیں ۔باہر کچی گلی کے پار والے میدان سے اس سڑی شکر دوپہر میں گونجتی بانو،گڈی، پینو اور شاداں کی “کیکلی کلیر دی ” کی آوازوں نے منی کے پیروں میں لٹو باندھ دیے تھے اور وہ اندر ڈیوڑھی میں بیٹھی اپنے ہاتھوں میں سہیلیوں کے ہاتھ محسوس کر رہی تھی۔۔دو چار بار جھانک کر دیکھا تو بے بے اندر کی جھلنگا سی بان کی الانی منجی پہ ڈھیر ہوئی کاکے کو سلا رہی تھی۔

“بھاگ پینو۔۔۔۔بھاگ نئیں تے دوبارہ واری دینی پئے گی” گڈی کی باریک آواز اس کے کانوں میں گونجی تو وہ مزید خود کو روک نہ سکی اور بلی کی طرح چاروں ہاتھ پیروں پہ چلتی دروازے کے پاس پہنچ گئی ۔کنڈا کھلا ہی تھا وہ باہر نکلتے نکلتے کچھ سوچ کر پلٹی اور اسی طرح بلی کی سی چال چلتی ڈیوڑھی میں واپس آئی جہاں ایک طرف مٹی کا چولہا بنا تھا اور نمک مرچ چینی پتی کی پلاسٹک کی برنیاں پڑی تھیں ۔اس نے دو پیڑھیاں اوپر نیچے رکھیں اور جھولتے ہوئے چھینکے سے دوپہر کی بچی ہوئی روٹی اٹھا لی۔پھر اسی خاموشی سے چینی کی برنی کھولی، دو چار پھنکے مار کر مٹھی بھر چینی روٹی پر پھیلائی اور اسے گول مول کر کے میلی سی چنی کی آڑ میں کر لیا۔” باہر جا کے کھاؤں گی” خوشی اور جوش سے اس کا ننھا سا دل تیز تیز دھڑک رہا تھا ۔

جھکے جھکے دوبارہ دروازے تک آئی اور بے حد احتیاط سے پٹ کھولا ۔۔بچپن خوشیاں اور ہمجولیاں سامنے ہی تو تھیں ۔ابھی ایک قدم اندر اور ایک باہر تھا کہ ایک زوردار دھموکا اس کی کنڈ پہ پڑا اور بے بے نے جو جانے کب جاگ گئی تھی اس کے پتلے اور تیل بھرے پراندے سے پکڑ کر اسے اندر گھسیٹ لیا۔۔”نی ست خصمی۔ کدھر خصم کرنے چلی تھی مجھے سوتا دیکھ کر۔۔۔چل اندر دفع ہو۔۔گشتی کو لور لور پھرنے کا چسکہ پڑا ہے۔۔حرافہ!!

” منی کچے ویہڑے میں پڑی تھی اور بے بے کی زبان اور ہاتھ ایک ہی رفتار سے چل رہے تھے۔منی کے ہاتھ سے چینی بھری روٹی چھوٹ کر چوکھٹ کے پار گر پڑی تھی اور اب ندیدے کوے سامنے بجلی کے کھمبے پر بیٹھے اس تاک میں تھے کہ ہنگامہ سرد پڑے تو اس روٹی کو جا اچکیں ۔منی نے ذلت اور آنسوؤں سے لتھڑی آنکھوں سے پینو شاداں اور گڈی کو ہنستے ہوئے دیکھا۔اور آنکھیں بند کر لیں ۔بے بے اب اسے کوٹ پیٹ کر اندر جا چکی تھی۔منی وہیں حسرت بھری نگاہوں سے کوؤں کو روٹی اچکتے دیکھتی رہی۔بے بے اندر سے کاکے کو اٹھائے ہوئے نکلی اور پیر کی ٹھوکر سے اسے پرے دھکیل کر باہر نکل گئی۔منی جانتی تھی کہ اب شام تک ابے کے آنے سے پہلے بے بے آنے کی نہیں۔وہ تھوڑی دیر مزید کچی مٹی میں رلتی رہی پھر اٹھ کر اندر کو چل دی۔باہر سے آتی آوازیں اب “بول میری مچھلی ” کا راگ الاپ رہی تھیں ۔

رات ہونے تک منی تو اس مار کٹائی کو تقریباً  بھول ہی چکی تھی مگر بےبے کو اچھی طرح  یاد  تھا لہذا ابے کے آنے پر ایک بار پھر کھیل دوہرایا گیا اور ابے نے رات کو بےبے کے ساتھ ہی سونا ہوتا تھا اس لیے منی کی کنڈ ایک بار پھر دھنکی گئی اور آخر پہ جب بےبے نے چٹخارہ بھرتے ہوئے کہا” حق نواز یہ تیری دھی حرافہ ہے حرافہ” تو منی کے کان لہو رنگ ہو کر تپنے لگے۔۔ابے کے سامنے ایسی گالی نے اسے زمین کا پیوند کر دیا تھا۔چھ سال کی بشریٰ  اور چار سالہ زرینہ بھی ڈیوڑھی کی دیوار سے لگی کھی کھی کرنے لگیں ۔
اور وہ میلے مٹی بھرے ناخن چبانے لگی۔۔

منی جس کا اصل نام تو کبریٰ  تھا مگر سب اسے تاحال منی ہی کہتے تھے،حق نواز کی پہلوٹھی کی اولاد تھی۔اور صغراں یعنی منی کی بےبے کہا کرتی تھی “اللہ جانے کس جنم کی سزا میں یہ میرے گھر جم پڑی” ۔دیکھنے سننے والے اگر ناواقف ہوتے تو ایسا برتاؤ دیکھ کر اسے سوتیلی ہی سمجھتے مگر صغراں منی کی سگی ماں تھی۔
حق نواز ایک عجیب بے حس لا تعلق مرد تھا۔دن بھر وہ اپنی سائیکل پر بیوپاریوں کا کھل اور ونڈا منڈی میں پہنچاتا رہتا اور رات کو تھکا ہارا اور کھل کی باس میں لتھڑا ہوا گھر کی دہلیز پہ قدم دھرتا ۔گھر کے سارے معاملات کی کرتا دھرتا اس کی بیوی صغراں تھی۔
تیکھی ناک اور چھوٹی چھوٹی آنکھوں والی صغراں نے گھر کے ساتھ ساتھ حق نواز کا نظام بھی اپنی مٹھی میں کر رکھا تھا۔جس دن کوئی بات منوانی ہوتی،شام کو ہی کنگھی پٹی کر کے دنداسہ رگڑ لیتی اور حق نواز کے سارے تانے پیٹے بان کی منجی پہ صغراں کے ہاتھوں بننے لگتے۔پھر چاہے ہفتہ بھر میکے کا قیام ہو یا بڑے بھائیوں کے منہ در منہ ہونا ہو۔۔سارے کام اس کی عین مرضی کے مطابق انجام پانے لگتے۔

وقت تھوڑا سا آگے سرکا اور منی بارہ برس کی ہو گئی۔ایک رات سو رہی تھی تو ایک عجیب الجھن بھرے احساس کے ساتھ اس کی آنکھ کھل گئی ۔بستر کچھ گیلا سا لگ رہا تھا۔اسے اس گیلاہٹ کی وجہ سمجھ نہ آئی۔گھبراہٹ میں اسے لگا شاید اس نے بستر پر پیشاب کر دیا ہے۔۔ مگر آج سے پہلے ایسا کبھی نہ ہوا تھا۔وہ اٹھ کر غسل خانے میں گئی اور بتی جلائی تو دھک سے رہ گئی۔زرد شلوار پر خون کے دھبے تھے۔ وہ خوفزدہ ہو کر رونے لگی تو صغراں جو شاید پانی پینے آئی تھی اس کی آواز سن کر دروازے تک آئی “اے حرافہ!آدھی رات کو کس خصم کا سوگ منا رہی ہے” وہ غرائی۔۔

” منی زرد چہرہ لیے باہر نکلی تو چال کی لڑکھڑاہٹ سے چالاک صغراں فوراً  معاملہ بھانپ گئی ۔فٹافٹ انگلیوں پہ منی کے سال گنے اور لطف لیتے انداز میں بولی” کیا جوان ہو گئی ہے؟؟” بول بھی!!

منی نے سر جھکائے رکھا اور کچھ نہ بولی۔صغراں نے اپنے کمرے سے کچھ ضروری سامان لا کر اسے دیا اور مارے بندھے اسے طریقہ کار بتا کر خود دوبارہ سونے چلی گئی

اس اچانک ہوئی واردات سے سہمی ہوئی منی دیوار کے ساتھ بیٹھتی چلی گئی۔دل کو جس تسلی دلاسے اور ہمدردی کے مرہم کی تمنا تھی اس پر ایک بار پھر سگی ماں کے ہاتھوں برچھی کھبوئی گئی تھی۔

صبح منی کے باہر نکلنے سے قبل اس کے بالغ ہونے کی اطلاع حق نواز سمیت آس پاس کے دو چار گھروں کو بھی ہو چکی تھی۔
حق نواز کے سامنے چائے کی پیالی رکھتے ہوئے اپنی پاٹ دار آواز میں وہ معصوم منی کے بخئیے ادھیڑ رہی تھی ” اب کچھ جمع جوڑ کا سوچ نوازے!! آج ایک جوان ہوئی ہے،سال پیچھے دوسری اور پھر تیسری بھی ہو جائے گی۔،لو!!اب ان کے بر بھی ڈھونڈو!! ” وہ تمسخر سے کہہ رہی تھی اور منی پہ آج الفاظ ایک نئی اذیت سے اتر رہے تھے۔شاید بالغ ہونے پر احساسات، جذبات اور عزت نفس بھی بالغ ہو جاتے ہیں ۔جبھی تو درد شدید تھا۔

گزرتا وقت بھی منی کو بےبے کی اس نفرت کی وجہ سمجھا نہ سکا اور ایک دن اپنے آپ ہی۔۔کسی خواہش کے بغیر ایک رمز منی کے کلیجے میں انی بن کرگڑ گئی۔۔بشری اور چھوٹی کاکے کے ساتھ کھیل رہی تھیں جو اب چار سال کا ہو گیا تھا۔صغراں دیوار پار ہمسائی سے بات چیت کر رہی تھی جب کسی بات پر اس نے گہری سانس بھری اور بولی” ہاہائے! !میری تو قسمت ہی خراب تھی آپاں !! الطاف تو شادی کے بعد بھی کہتا تھا صغراں کاغذ لے لے نوازے سے۔۔ میں بساؤں  گا تجھے’ پر اتنی دیر میں یہ حرافہ ہونے والی ہو گئی “نفرت بھری نظر اس نے منی پر ڈالی جو صحن میں جھاڑو لگا رہی تھی ۔”نہ یہ منحوس آتی دنیا میں ‘نہ اس کے پیچھے باقی میرا کلیجہ نوچنے کو آتے” ۔
تو یہ وجہ تھی!! منی نے رات منجی پر کروٹیں بدلتے سوچا۔۔صغراں کی نفرت حقارت کی اصل وجہ اس کی ناآسودہ خواہشات تھیں جن کا سبب وہ اپنی سگی اولاد کو سمجھتی تھی۔۔ کاکے سے اس کا لگاؤ شاید بیٹا ہونے کی بنیاد پر تھا ورنہ تینوں لڑکیاں اس کے لیے “حرافہ” تھیں ۔۔

قرآن پاک پڑھانے والی استانی جی ماں کے مقام مرتبے اور حقوق کے بارے میں بتاتیں اور ماں کی ممتا کے قصے سناتیں تو ان کو یہ سب جھوٹ لگتا۔”ساری مائیں بےبے جیسی ہی ہوتی ہیں، استانی جی جھوٹ بولتی ہیں ” ایک دن اس نے بشری کو چھوٹی سے کہتے سنا۔

وقت کا پہیہ کچھ اور آگے سرکا تو اپنے نیچے حق نواز کا بے معنی وجود اس نے گھاس کے تیلے کی طرح کچل ڈالا۔ ایک سرد شام میں جب وہ مال دے کر واپس آ رہا تھا وہ اور اس کی سائیکل دونوں ٹرک تلے آ کر مرونڈا بن گئے۔
گھر میت پہنچی تو صغراں بیٹیوں کو کوس کوس کر بین کرنے لگی” ہائے نوازے!! ان نامرادوں کے ٹوکرے میرے سر پہ رکھ کر تو خود چین سے سو گیا۔۔ہائے یہ کیوں نہیں مرتیں” وہ روتی دھوتی بیٹیوں کو جوتیوں سے پیٹنے لگی۔۔آس پڑوس کے لوگوں نے توبہ تلا کرتے ہوئے اسے ان سے دور کیا۔ وہ اب چھاتی کوٹتے ہوئے نواز کے سرہانے بین کر رہی تھی ۔منی کا دل گھبرانے لگا وہ خاموشی سے کوٹھے پر چلی آئی اور ایک دیوار سے ٹیک لگائے سیاہ آسمان گھورنے لگی۔اسے نہ رونا آیا نہ دکھ ہوا۔۔شاید خود پر ماتم کرتے کرتے وہ پتھر بن گئی تھی۔

نیچے سے اب ملی جلی آوازیں اس کے کانوں میں گھسے چلی آ رہی تھیں ۔۔”کافور منگوا۔۔۔۔۔پانی گرم کرو۔۔۔” بشری اور زرینہ کے رونے کی آوازیں بھی شامل ہو جاتیں ۔۔منی نے ٹانگیں سکوڑ کر ایک کہنی کو دہرا کیا اور کوٹھے پر لیٹ گئی۔۔” کیا مجھے بھی رونا چاہئے “؟؟ اس نے سوچا۔ اور رونے کی وجوہات یاد کرنے لگی۔”کوئی ایسا لمحہ جب ابے نے سر پہ ہاتھ رکھا ہو۔۔۔۔” ذہن پر زور ڈالا پر یاد نہ آیا۔۔۔”پیار دلار کا کوئی بول۔۔۔۔” تنگ آ کر اس نے بےبے کے ہاتھوں اٹھائی  ذلتوں اور اذیتوں کے بارے میں سوچا اور۔۔کھرے،لونے اور گرم آنسو اس کے گال بھگونے لگے۔۔روتے روتے ہچکی بندھ گئی اور جانے رات کے کس پہر منی مرے باپ کی میت پہ اپنے زندہ وجود کا ماتم کرتے کرتے گہری نیند سو گئی۔۔

عدت کے دن گزار کر صغراں نے جب آنگن میں پیر دھرا تو سارے محلے نے دیکھا وہ اپنی عمر سے دس برس آگے پھلانگ چکی تھی۔اور صرف وہی کیوں؟ ؟بشری اور زرینہ بھی تو۔۔کاکا بھی بڑا بڑا لگتا تھا۔۔ایک صرف منی تھی جو اٹھارہ برس کی عمر میں بھی اسی دوپہر میں رکی ہوئی تھی جب بےبے نے اس کے باہر جاتے قدم چوکھٹ کے اندر گھسیٹ لیے تھے۔اور “کیکلی کلیر دی ” اس کو بلاتی بلاتی چھپڑ میں کود گئی تھی ۔

زندگی کی اس بے ڈھنگی گاڑی کے آگے صغراں نے پرانی سلائی مشین جوت دی اور بشری اور زرینہ مقامی فیکٹری میں دھاگوں کی ریلیں پیک کرنے لگیں ۔صغراں کی زبان کی دھار خدا جانے کیسے کند ہو گئی تھی ۔۔چپ چاپ سارا دن اور آدھی رات تک وہ مشین کو اپنے ہڈوں کا تیل پلاتی رہتی ۔۔”اب کس لیے خاموش ہے بے بے ؟؟منی نے برتن مانجھتے ہوئے سوچا۔۔” اب تو ابا بھی نہیں رہا۔۔۔اب کیوں نہیں الطاف کو یاد کرتے ہوئے مجھے حرافہ کہتی”؟؟ اس نے ایک نظر سلائی ادھیڑتی صغراں پر ڈالی۔۔
جاتے جاتے حق نواز شاید صغراں کی آنکھیں اور زبان بھی ساتھ لے گیا تھا اور وقت کا پھیر بڑا ہی منصف ہے۔۔اوپر والے کو بھی نیچے آنا ہی ہوتا ہے۔۔

صغراں کو خبر بھی نہ ہوئی کہ کب بشری کی آنکھ سے خوف اترا اور بے باکی آن بسی۔۔بے حیا نہائے دھوئے دیدے لیے اس کے سامنے بنی ٹھنی کھڑی تھی۔۔” نکاح کر لیا ہے میں نے جاوید سے ۔ ” وہ بےبے سے کہہ رہی تھی۔منی کا دل حلق میں پھڑپھڑائے جا رہا تھا ۔صغراں اس کی اٹھان کے سامنے بونی بن گئی،جھک گئی اور اتنی کہ کبڑی ہوتے ہوتے زمین سے جا لگی ۔جاوید کہتا ہے بشری نوکری چھوڑ دے۔۔میں کھلاؤں گا تجھے۔پسند نہیں اسے کہ اتنے مردوں میں مَیں ایسے کام کروں ۔اور بےبے ۔۔تو نے تو مجھے فیکٹری میں یوں جھونکا جیسے میں پچاس سال کی بیوہ ہوں ۔” وہ فخر سے سر اٹھائے کواڑ کھلے چھوڑ کر اپنے گھر کو چل پڑی۔۔

وہ رو پیٹ کر چپ کر گئی اور اس سے پہلے کہ زرینہ بھی اپنے آپ کو ٹھکانے لگانے کا سوچتی اس نے اس کا بندوبست کر لیا۔۔
زیادہ تو کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔بس ایک دن وہ ٹوپی برقعہ سر پہ رکھ کر اور کواڑوں کو باہر سے تالا لگا کر نکلی اور شام ڈھلے لوٹی تھی۔۔
نہ منی نے کچھ پوچھا نہ اس نے بتایا اور بستر پر لیٹ رہی۔
دو دن بعد الطاف اپنے بیٹے کے ساتھ آیا اور محلے کی مسجد کے امام صاحب نے نکاح پڑھا دیا ۔
جب زرینہ الطاف اور اپنے شوہر کے ساتھ رخصت ہو رہی تھی تو اس نے دیکھا اس کے چہرے پر آزادی کا احساس تھا۔۔۔
چائے والے برتن دھو کر وہ اس چھوٹے سے کمرے میں آئی جو اٹھارہ برس اسے بانٹنا پڑا تھا اور صرف چار مہینوں میں وہ یہاں کی تنہا مالکن بن گئی تھی۔

اگلے دن صغراں نے اسے اپنے پاس بلایا اور بشری کا پرانا برقعہ اس کے سامنے پھینک دیا ۔” یہ پہن اور آج سے بشری والی فیکٹری میں کام پہ لگ” بڑے دنوں بعد وہ پہلے والی صغراں لگ رہی تھی۔منی نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے اسے دیکھا۔۔” سمجھ نہیں آئی تجھے حرافہ ” وہ حلق کے بل چیخی ۔۔۔منی ڈر کر دیوار سے جا لگی اور پھنسی پھنسی آواز میں بولی۔۔

“کیوں بےبے؟ ؟میں نہیں جاؤں گی ۔۔”

اور صغراں جوتی لے کر اس پہ پل پڑی۔۔۔

“کیا کہا؟؟نہیں جائے گی۔۔؟؟،کیسے نہیں جائے گی حرام کی جنی۔۔۔”

وہ اس کے منہ پر پلاسٹک کی جوتی مار رہی تھی ۔

“ارے جائے گی نہیں تو خصم کہاں سے ڈھونڈے گی۔۔رانڈ ۔۔۔”

اس نے ہانپتے ہوئے اسے بازو سے پکڑا اور دروازے کی طرف گھسیٹنے لگی۔۔دروازے کے قریب پہنچ کر اس نے نفرت سے اس پر تھوکا اور بولی” میں تو پہلے تجھ سے چھٹکارا پاتی۔۔ پر کیا کروں ۔۔۔تو الطاف کی ہے” ۔

منی صغراں کے دھکے سے گلی میں گری تھی یا جملے سے ۔۔وہ فیصلہ نہ کر پائی ۔

بودے کواڑ ایک جھٹکے سے بند ہوئے تھے۔۔

“کیکلی کلیر دی ” اس پر ہنس رہی تھی ۔۔

شاداں ۔۔پینو۔۔کاکی ۔۔۔سب کی سب قہقہے لگا رہی تھیں

“تو الطاف کی ہے۔۔۔تو الطاف کی ہے۔۔۔” سب کہہ رہی تھیں ۔۔۔

اس نے دھندلائی نظروں سے دیکھا تو چینی والی روٹی کوے نوچ کھسوٹ رہے تھے اور ان کی کائیں کائیں کہہ رہی تھی

” تو الطاف کی ہے۔۔” ۔۔

قریب کی مسجد میں امام صاحب نے سپیکر ناخن سے کھٹکھٹایا اور “حرافہ” کی گونج ساری گلیوں میں پھیلنے لگی۔۔۔۔!!!

مریم مجید
مریم مجید
احساس کے موتیوں میں تحریر کا دھاگہ پرو کر مالا بناتی ہوئی ایک معصوم لڑکی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *