بڑا آدمی۔۔محمود چوہدری

دنیا میں ایسے لوگ کم ہی ہوتے ہیں جو مظلوم اور پسے ہوئے لوگوں کی آوازبغیر کسی لوب و لالچ کے اٹھاتے ہیں، ایسے لوگ نایاب ہوتے ہیں جو ان کے حقوق کے لئے باقاعدہ جدوجہد کا آغاز کرتے ہیں اور ایسے عظیم لوگ تو کئی صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں جوان لوگوں کو استحصال کے چنگل اورغلامی سے نکال کر آزاد فضاؤں  میں سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں بہت سے لیڈر کسی نظریہ پر ایک تحریک چلاتے ہیں لوگوں کو اپنا ہمنوا بناتے ہیں انہیں ایک خواب دکھاتے ہیں اور اس کی تکمیل وتعبیر کی جانب سفر کے لئے گامزن ہوتے ہیں لیکن راستے  کی مشکلات سے گھبرا کر راستہ ہی تبدیل کر لیتے ہیں کچھ لیڈر انقلاب کا دعوی ٰ کرتے ہیں لیکن سنگلاخ راستوں سے ڈر کر بیچ رستے میں اپنے ہم نواؤں  کو چھوڑ کر گوشہ نشین ہوجاتے ہیں اور پھر کچھ ایسے ہوتے ہیں جوتادم حیات اپنے فلسفہ پر کاربند تورہتے ہیں لیکن اپنے خواب کی تعبیر اپنی زندگی میں ممکن نہیں بنا سکتے لیکن ان کانظریہ ان کی سوچ بہت سے لوگوں کے لئے نشان منزل بنتی ہے،۔

قائداعظم محمد علی جناح کی ذات وہ عظیم ہستی ہے  جنہوں نے بستر مرگ پر ایڑیاں رگڑتی ہندوستان کی مسلم قوم کو نہ صرف خواب غفلت سے جگایابلکہ دنیا کا نقشہ تبدیل کرتے ہوئے ایک اسلامی مملکت قائم کر کے دکھا دی محمد علی جناح جیسا عظیم لیڈ ر امت مسلمہ گزشتہ صدی میں پیدا نہیں کر سکی انہوں نے غلامی کے سیاہ سمندر سے مسلمانان ہند کی ہچکولے کھاتی آزادی کی ناؤ  اس کمال سے نکال کرکنارے لگائی  کہ غلامی کے بھنور سے لے کر کنارے کے قذاق تک سب انگشت بدنداں رہ گئے۔

ہندوستان کی مسلم قوم 1857ءکی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد زخموں سے ایسی چُور ہوئی کہ غلامی اسے قسمت محسوس ہونے لگی کون جانتا تھا کہ 25دسمبر1876ءکو کراچی میں پیدا ہونے والاایک بچہ جس کے دل میں بچپن سے ہی بڑا آدمی بننے کاجنون بس گیا تھا وہ اس قوم کا مسیحا بن کر سامنے آئے گا اورغلامی کے اندھیروں سے نکال کر آزادی کی صبح سے روشناس کرائے گاوہ بچہ اتنا بڑا آدمی بنے گا کہ تاریخ میں اپنے اصلی نام سے کم اور قائد اعظم (بڑا راہنما)کے نام سے زیادہ جانا جائے گا۔ صرف 19سال کی عمر میں برطانیہ سے قانون کی ڈگری لینے والے کم سن ترین ہندوستانی کااعزاز حاصل کرنے والے اس طالبعلم نے یہ ثابت کیا کہ تعلیم کسی بھی جنگ کو پر امن طریقے سے جیتنے کی سب سے پہلی سیڑھی ہے، آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے اسی راہنما نے بڑا آدمی بننے کا پہلا مرحلہ اس وقت سَر  کیاجب 1916ءمیں کانگریس اور مسلم لیگ کامشترکہ اجلاس کروا کے ہندو مسلم اتحاد کا سفیر کا خطاب حاصل کر لیا۔

بڑے آدمی کی پہچان یہی ہوتی ہے کہ وہ فرقوں میں نہیں بٹتااور جوڑنے کی بات کرتا ہے ،اس کی سوچ یونیورسل ہوتی ہے اس کے  دل میں منافقت کا کوئی شائبہ تک نہیں ہوتا لیکن بڑا آدمی بے وقوف نہیں ہوتا وہ خود تو صاف دل ہوتا ہی ہے لیکن دوسرے  کی منافقت کو بھانپ لیتا ہے وہ ایک سوراخ سے بار بار نہیں ڈساجاتا،اسی لیے اس ہندو مسلم اتحاد کے سفیر کو جب اندازہ ہوا کہ اس کے حریف اس طینت کے ہیں کہ جن کی  ”بغل میں چھری اور منہ میں رام رام“ ہے اور جب اس نے دیکھا کہ آزادی کے بعد توحید کے پجاریوں کوبندے ماترم کا ترانہ بلند کرنا پڑے گا اوروطنیت کی منافقت کے پردے میں ان کی زبان ہی نہیں بلکہ ان کی تہذیب، ان کی ثقافت اور ان کی تاریخ تک پر نقب لگانے کی تیاری کر لی گئی ہے تو انہیں مستقبل کانقشہ سمجھ آگیا کہ کس طرح تاج برطانیہ سے آزادی کے بعدہندوستان کی مسلم قوم ہندو کی محکوم ہوکر رہ جائے گی۔

قائد اعظم کی زیرک شخصیت کئی سال پہلے ہی بھانپ گئی تھی کہ ایک وقت آئے گا کہ کروڑوں کی تعدادمیں ہونے کے باوجود بھی ان کے مذہبی عبادت گاہوں کو رام کی جنم بھومی کہہ کر گرا دیا جائے گا اور وہ کچھ نہیں کر سکیں گے کیونکہ غلام قومیں کچھ بھی نہیں کر سکتیں ۔اس لئے انہوں نے ایک نیا عزم اپنایا اور وہ عزم تھا آزادی کا، نہ صرف چھوڑ کر بھاگنے والے انگریز ی سامراج سے بلکہ اس کے بعد رہ جانے والی ہندو اکثریت سے بھی ۔بڑا آدمی اپنے عزم کا پکا بھی ہوتا ہے رستے  کی مشکلات اس کے ارادوں کو متزلزل نہیں کرتی وہ اپنے چاہنے والوں سے جو وعدہ کرلیتا ہے اسے وفا کرنے کی فکرمیں بھی متغرق رہتا ہے اسی لئے توزمانہ جس مملکت اور نظریہ کودیوانے کا خواب اور مجذوب کی بڑ کہتارہا وہ خواب جب شرمندہ تعبیر ہوا تو زمانے کی آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئیں۔

اس کی وجہ اس بڑے آدمی کا اٹل فیصلہ اور پکا عزم تھا، ایک دفعہ جب عیاروں نے اسے گھیر لیا اور اسے کہنے لگے کہ ”کونسا پاکستان ؟ ہم تمہیں یہ ملک کبھی لینے نہیں دیں گے “اس نے اپنی جیب سے ایک رومال نکالا اور کہا کہ وہ پاکستان ضرور حاصل کرکے رہے گا چاہے اس روما ل کے ٹکڑے جتنا ہی کیوں نہ ہو، بڑے آدمی کے اند ر بڑی خود داری ہوتی ہے۔ ایک دفعہ ایک مقدمہ کے دورانِ بحث متعلقہ جج نے کہاکہ مسٹر جناح آپ کسی تیسرے درجہ کے جج سے بات نہیں کر رہے ہیں، تو آپ نے فوراً جواب دیا ”یور آنر آپ بھی یاد رکھیں کہ آپ بھی کسی تیسرے درجہ کے وکیل سے مخاطب نہیں ہیں “

بڑا آدمی اپنے اصولوں میں بڑا ہوتا ہے وہ وقت اور قانون کاپابند ہوتا ہے قائداعظم جیسا قانون کا پابند کہاں سے ڈھونڈ کرلائیں کہ جو کبھی جیل نہ گیا ہو جس نے آزادی کے لئے بھی دلیل کا ہتھیار استعمال کیا ہو، جسے ڈائیلاگ کا فن آتا ہو، اسے تلوار اٹھانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اورقائد اعظم نے انگریز ،ہندواور سجدہ کی اجازت والوں کے ساتھ چومکھی جنگ بغیر کسی تیر اور تلوار کے لڑ کر ثابت کردیا کہ قلم کی طاقت سب جنگی ہتھیاروں سے زیادہ ہے مسلمانان ہند نے دو قومی نظریہ کو نعرہ دیا کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الااللہ ۔ لیکن اس کلمہ کی اصل روح سے واقفیت صرف قائد اعظم کو ہی تھی جنہوں نے مملکت کے قیام کے بعد اس کلمہ کی تشریح اتحاد ایمان اور تنظیم کے فلسفہ سے کی، آپ نے ایک طرف تواس عزم کا اظہا ر کیا کہ پاکستان اسلام کی ایک ایسی تجربہ گاہ ہوگی جہاں اس کے اصولوں کو لاگو کرو ایا جائے گا لیکن دوسری جانب ایک مذہب کی بنیاد پر بننے والی ریاست کے بارے میں انتہا پسندی کے لیبل کے سارے ابہام اپنے اس بیان سے ختم کر دیے کہ پاکستان ایک تھیوکریٹک اسٹیٹ نہیں ہوگی۔

بڑے آدمی کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہ تقسیم کے سارے بتوں کو پاش پاش کر دیتا ہے قائد اعظم کروڑوں مسلمانوں کے دل کی دھڑکن بن گئے تھے بلکہ یوں کہاجائے تو مبالغہ نہ ہوگا کہ قائدا عظم کی ذات ایک مرشد اور پیر کی ذات بن گئی تھی ان کا نظریہ ایک مسلک اوران کی جماعت ایک سلسلہ طریقت بن گئی تھی جو اس سلسلہ میں آجاتا تھا اس کی اپنی سابقہ پہچان ختم ہوجاتی تھی نہ وہ سنی رہتا تھا نہ شیعہ ، نہ دیوبندی نہ بریلوی ، وہ بس پاکستانی بن کہ رہ جاتا تھا ،بڑے آدمی کے کردار میں ایسی شفافیت ہوتی ہے کہ لوگ اس پر اندھا اعتماد کرتے ہیں قائد اعظم کے کردار میں ایسا اخلاص تھا کہ آپ کی تقریر جو انگریزی میں ہوتی تھی اس کا ایک ایک لفظ عام ان پڑھ دیہاتی بھی اتنی توجہ و انہماک سے سنتا تھا جیسے ساری بات سمجھ آرہی ہو وہ اس لئے کہ اسے یہ یقین محکم ہوتا تھا کہ یہ راہنمایہ پیر زبان جو بھی استعمال کرے لیکن بات میرے حقوق کی ہی کرے گا۔

بڑے آدمی میں تکبر نہیں ہوتا، وہ آمریت کا بت سینے میں نہیں پالتا۔ لوگوں نے محمد علی جناح کی محبت میں انہیں شہنشائے پاکستان اور بادشاہ کے نام سے مخاطب کرنے کی کوشش کی تو آپ نے فرمایا’ یاد رکھیں! کہ پاکستان ضرور بنے گا لیکن اس کا کوئی شہنشاہ یا بادشاہ نہیں ہوگا، وہ ایک جمہوری ریاست ہوگی او اسلام سے بڑا جمہوریت کو سمجھنے والا مذہب کون سا ہو سکتا ہے ۔بڑے آدمی کی پہچان یہی ہے کہ وہ انسانوں کو انسانوں کی بادشاہی اور شہنشاہی سے آزادی دلواکر کسی کی غلامی میں بھی نہیں جھونکتاکتاب جناح آف پاکستان کے مصنف مسٹر اسٹینلے قائد کے بارے لکھتے ہیں کہ ”بہت ہی کم لوگ ایسے دنیا میں پیدا ہوتے ہیں جو تاریخ کا دھارا بدل دیتے ہیں اور ایسے لوگ تو اور بھی کم ہوتے ہیں جو دنیا کانقشہ بدل دیتے ہیں اور ایسا تو کوئی کوئی ہوتا ہے جو ایک نئی مملکت قائم کر دیتا ہے ،محمد علی جناح وہ شخصیت ہیں جنہوں نے بیک وقت تینوں کارنامے کر دکھائے“!

Save

محمود چوہدری
محمود چوہدری
فری لانس صحافی ، کالم نگار ، ایک کتاب فوارہ کےنام سے مارکیٹ میں آچکی ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *