بچوں کا جنسی استحصال۔کامریڈ فاروق بلوچ

بچوں کے جنسی استحصال کے معاملے نے گزشتہ چند دہائیوں میں عوامی توجہ حاصل کی ہے اور سب سے زیادہ ہائی پروفائل جرائم میں سے ایک بن گیا ہے. 1970ء کے بعد سے بچوں کے جنسی استحصال اور استعمال مجموعی طور پر معاشرے کے لئے نقصان دہ سمجھا گیا ہے. اور اس طرح ناقابل قبول جرم کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے. بچوں کا جنسی استحصال و استعمال تاریخ میں ہمیشہ سے موجود رہا ہے مگر افسوسناک بات یہ ہے کہ صرف حالیہ دنوں میں اہم عوامی توجہ کا مقصد بن سکا ہے. ایک بچے کے ساتھ جنسی سرگرمی کبھی بھی عام یا سماجی طور پر قابل قبول رویے کے طور  پر نہیں سمجھی جا سکتی ہے، یہ ایک مجرمانہ اور غیر اخلاقی کام و جرم ہے.

تاریخ میں پہلی بار خالصتاً بچوں کے جنسی استحصال متعلق تحریر “اگسٹ ایمبروز ٹارڈی” نے 1857  میں فرانس سے شائع کروائی. جبکہ تاریخ میں والد کی جانب سے اپنی حقیقی اور سوتیلی بیٹیوں کے خلاف جنسی استحصال جیسے موضوع پہ “جوڈت لیوس حرمین” کی کتاب 2007 میں شائع ہوئی.

عالمی ادارہ صحت کی جنسی استحصال پہ مبنی 2002ء کی ایک رپورٹ کے مطابق:
“کئی ممالک میں آج بھی دورانِ تعلیم ایک استاد اور طالب علم کے درمیان جنسی تعلق کو سنگین انضباطی جرم نہیں سمجھا جاتا. اگرچہ حالیہ برسوں میں بعض ممالک کے اساتذہ اور طلباء کے درمیان جنسی تعلقات پر پابندی کے قانون کو متعارف کرایا گیا ہے. اس طرح کے اقدامات سے سکولوں میں جنسی ہراسانی کے واقعات میں کمی واقع ہوئی ہے. مگر اساتذہ کی تربیت میں تبدیلیاں کرنا ہو ں گی. اساتذہ کی بھرتی میں اور نصاب میں اصلاحات کرنا ہوں گی. جبکہ سکولوں میں صنفی تعلقات کو تبدیل کرنے کی ضرورت پہ بھی زور دینا ہو گا.”

مارچ 2011ء میں یورپی پولیس نے “آپریشن ریسکیو” نامی مشن کے دوران 184 افراد کو گرفتار کیا جو کہ 670 افراد پہ مبنی ایک گروہ کا حصہ تھے، جو مل کر بچوں کے خلاف جنسی استحصال کا کام کرتے تھے. اس دوران 230 بچوں کو بھی بازیاب کرایا گیا تھا. اس نوعیت کا یہ سب سے بڑا کیس تصور کیا جاتا ہے. جبکہ 2010ء میں پاکستان کے “ثقافتی ورثہ” کے پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا جو برطانوی شہر رادھرم میں 1997ء سے لے کر 2013ء تک بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے مرتکب پائے گئے تھے. یہ اسکینڈل اپنے طویل مدتی دورانیے کی وجہ سے بہت اہم تصور کیا گیا.

اس کے علاوہ بچوں کے جنسی استحصال و استعمال کی ایک بہت بڑی بھیانک پرت پورن انڈسٹری سے وابستہ ہے. دنیا کے کچھ ممالک میں تو اس معاملے کو جرم ہی نہیں سمجھا جاتا. 2010ء میں پینٹاگون کے کچھ کارکن بچوں کی پورن انڈسٹری کے معاملے میں ملوث پائے گئے، مگر اِس سے زیادہ افسوسناک امر تو یہ ہے کہ پینٹاگون نے اِس معاملے پر تحقیقات کرنے سے ہی انکار کر دیا. اس معاملے پر 24 جولائی 2010ء میں عالمی جریدے “دی گارڈین” میں ایک رپورٹ بھی شائع ہوئی تھی. اور اسی معاملے پر “جان کوک” نے 16 ستمبر 2010ء میں “دی اپ شاٹ” جریدے میں اپنا مضمون شائع کروایا تھا.

 بچوں کا جنسی استحصال گھر، اسکول، یا کام کرنے کی جگہوں سمیت کہیں بھی ہو سکتا ہے. بچوں کی کم عمر میں شادی بھی بچوں کے جنسی استحصال کی بنیادی اقسام میں سے ایک ہے. یونیسف کے مطابق بچوں کی کم عمر میں شادی لڑکیوں کے جنسی استحصال کی سب سے زیادہ مقبول شکل کی نمائندگی کرتی ہے.

بچوں کا جنسی استحصال بچوں میں ڈپریشن، بعد از صدمہ ذہنی دباؤ، اضطراب، بے  چینی ، پیچیدہ پوسٹ  ٹرامیٹک تناؤ  کا عارضہ، بلوغت میں انتقام لینے کی کوشش کی بیماریاں پیدا کرتا ہے، اور ساتھ میں بچے کا جسمانی نظام بھی بگڑ سکتا ہے. اپنے ہی خاندان کے رکن کی جانب سے جنسی زیادتی زیادہ سنگین ہوتی ہے اور طویل مدتی نفسیاتی صدمے کا باعث بنتی ہے.

عالمی پیمانے پر 19.7 فیصد لڑکیاں اور 7.9 فیصد لڑکے بچپن میں جنسی استحصال و استعمال جیسے جرم کا سامنا کرتے ہیں. سب سے زیادہ بچے اپنے ہی جاننے والے لوگوں کی وجہ سے جنسی زیادتی کا شکار ہوتے ہیں. تقریباً 30 فیصد بچے اپنے سگے و سوتیلے بھائی، باپ، چچا یا کزن کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا شکار ہوتے ہیں۔ تقریباً 60 فیصد بچے اپنے دوسرے جاننے والوں مثلاً آیا، پڑوسی، خاندانی دوستوں کے ہاتھوں اس عذاب کا سامنا کرتے ہیں. جبکہ اجنبی مجرموں کے ہاتھوں جنسی استحصال کا شکار ہونے والے بچوں کی تعداد تقریباً 10 فیصد ہے۔ بچوں کے خلاف جنسی استحصال کے زیادہ تر واقعات مردوں کی طرف سے ہوتے ہیں مگر خواتین بھی اس جرم کی مرتکب پائی جاتی ہیں.

والدین اور بہن بھائیوں کی جانب سے بچوں کے جنسی استحصال کا تخمینہ لگانا مشکل ہے کیونکہ ایسے معاملات منظرِ عام پر آنے سے رہ جاتے ہیں، کیونکہ بچے خود تو اس معاملے کو اجاگر کرنے سے رہے اور بچوں کے وہ سرپرست جنہوں نے یہ معاملہ اٹھانا تھا وہ خود ہی مجرم ہوتے ہیں. ایک ریوٹ کے مطابق دو کروڑ امریکی بچے اپنے والدین یا بہن بھائیوں کی طرف سے جنسی استحصال کا شکار ہوتے ہیں.

 اقوام متحدہ کی جانب سے تخمینوں کے مطابق، 36 فیصد پاکستانی لڑکیاں اور 29 فیصد پاکستانی لڑکے بچپن میں جنسی استحصال کا سامنا کرتے ہیں. پاکستانی سماج میں بچوں کے جنسی استحصال و استعمال کے جرائم کی بہت کم شرح منظر عام پر آتی ہے، اور والدین کی جانب سے جنسی استحصال کے واقعات تو بالکل ہی کم تعداد میں منظر عام پر آ سکتے ہیں. یہی وجہ ہے کہ 2011ء میں پاکستانی قومی اخبارات میں رپورٹ ہونے والے بچوں کے جنسی استحصال کے واقعات کی تعداد 2303 بنتی ہے، جبکہ اِن میں سے 56 کیس ایسے تھے جن کا مجرم اپنے ہی گھر کا فرد تھا، یعنی والد، بھائی وغیرہ.

مگر حقیقت میں ایسے واقعات کی  تعداد بہت زیادہ ہے. بہت سے واقعات کا درد تو بچے اپنے اندر دفن کر دیتے ہیں. کیونکہ اُن کو سماج میں تحفظ اور خیر کی توقع کم ہوتی ہے. بعض بچے یا اُن کے سرپرست اپنے خاندان کی “ناک” بچانے کے لئے ایسے معاملات کو دفن کر دیتے ہیں. اور بہت سے واقعات ایسے علاقوں میں وقوع پذیر ہوتے ہیں کہ جہاں  ذرائع ابلاغ کی رسائی نہیں ہوتی  مگر حقیقت میں ایسے واقعات کی تعداد بہت زیادہ ہے.

مجھے لاہور میں نفسیاتی مسائل  کے  ایک  ڈاکٹر  نے بتایا کہ اکثر نفسیاتی مریض ایسے ہیں جو بچپن میں جنسی استحصال کے شکار ہوئے تھے. ڈاکٹر نے مزید یہ بتایا کہ وہ نفسانی مریض، جو بچپن میں جنسی استحصال کا شکار ہوئے تھے، کی بڑی تعداد ایسی ہے جو اپنے ساتھ ہونے والے واقعات کا اظہار ہی کر پائے.

بچوں کے جنسی استحصال کا تعلق کسی مذہب، مسلک، نظریئے یا مخصوص علاقے سے نہیں ہے. مگر کیتھولک اور پروٹسٹنٹ آج تک ایک دوسرے پر اُ ن کی مذہبی جگہوں پر بچوں کے جنسی استحصال کے حوالے سے شدید الزام تراشی کرتے ہیں. اِسی طرح اسلامی مدارس میں بھی بچے بچیوں کے خلاف جنسی استحصال کے واقعات سننے کو ملتے ہیں. اور ایسی جگہوں پہ ہونے والے ایسے واقعات منظرِ عام پہ بھی آتے رہتے ہیں.

کام کی جگہوں پہ بھی بچوں کو جنسی استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے. غربت کے ہاتھوں مجبور بچے ہوٹلوں، ورکشاپوں، فیکٹریوں، گھروں، بھٹہ جات پہ سخت کام کاج کرتے ہیں. ایسی جگہوں پہ بھی بچوں کا جنسی استحصال و استعمال کیا جاتا ہے. ایسے بچے مسلسل اِس اذیت سے گزرتے رہتے ہیں. گھروں میں کام کاج کرنے والی بچیوں کو مسلسل کئی سالوں تک مالکان کی جانب جنسی استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے.

بچوں کے جنسی استعمال کو دنیا کے بہت سے ممالک میں کاروبار کے طور پہ بھی لیا جاتا ہے. سیاحتی لوگوں کو “چائلڈ سیکس ٹورازم” ویسے تو تمام دنیا میں میسر آتی ہے مگر اِس حوالے سے ایسے سماج زیادہ بدنام ہیں جہاں سیاحت کے لئے آنے والوں کی تعداد نسبتاً زیادہ ہوتی ہے. چائلڈ سیکس ٹورازم جیسا کاروبار کئی ہزار ملین ڈالرز کا حجم رکھتا ہے. مائیکل بی فیرل نے “کرسچن سائنس مانیٹر” میں اپریل 2004ء کو ایک رپورٹ شائع کروائی جس کے مطابق دنیا بھر کے دو کروڑ بچے سیاحت کے لیے آنے والے لوگوں کی جنسی تسکین کے لئے پیش کیے جاتے ہیں. 27 جولائی 2007ء کو اے بی سی نیوز نے “برٹینی بیکن” کی رپورٹ میں ایسے ہی اعداد و شمار بتائے تھے. اِسی رپورٹ کے مطابق ایسے بچوں کی اکثریت کی عمریں بارہ سال سے کم ہوتی ہیں.

 “ایریل کے ایرینے” کی ایک رپورٹ جو 2009ء میں “سٹوڈنٹ پَلس” میں شائع ہوئی تھی کے مطابق چائلڈ سیکس ٹورازم کی بنیادی وجوہات میں غربت، مسلح تنازعات، تیزی سے بڑھتی ہوئی صنعت، اور آبادی میں غیرمنصوبہ بند اضافہ ہیں. اِسی رپورٹ کے مطابق لاطینی امریکہ  اور جنوب مشرقی ایشیا کے بچے سب سے زیادہ اِس دھندے میں شامل کیے جاتے ہیں.

آئی پی ایس نیوز کے مطابق تھائی لینڈ، کمبوڈیا، بھارت، برازیل اور میکسیکو بچوں کے جنسی استحصال کے معروف علاقوں کے طور پر شناخت کیے جاتے ہیں. تھائی لینڈ کے  نظامِ صحت کے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق تھائی لینڈ میں ہونے والی سیکس ٹورازم میں 40 فیصد تعداد بارہ سال سے کم عمر بچوں کی ہے. جبکہ CNN نے 11 مئی 2009ء کو ایک رپورٹ میں بتایا کہ 12 لاکھ بچے ہندوستان میں سیکس ٹورازم کے کاروبار سے منسلک ہیں. لیکن اِس حوالے سے سب سے بری حالت برازیل کی ہے، حتی کہ تھائی لینڈ سے بھی زیادہ. “ڈینا گزڈر” Pulitzer Center on Crisis Reporting کی ایک اشاعت میں بتایا کہ چائلڈ سیکس ٹورازم دن بہ دن بڑھتے ہوئے کاروبار کا روپ دھار رہی ہے.

بچوں کے جنسی استعمال کی ایک اور قسم “بچہ بازی” ہے جو کہ خاص طور پر افغانستان میں پائی جاتی ہے جبکہ عام طور پر پر پاکستان کے شمالی قبائلی علاقوں، ازبکستان، ترکمانستان، تاجکستان وغیرہ میں پائی جاتی ہے. خوبرو لڑکے امیر لوگوں کو بیچے جاتے ہیں. اِن بچوں( لڑکوں) کو رقص کی محفلوں میں پیش کیا جاتا ہے جس کے بعد اِن بچوں کو جنسی استعمال میں لایا جاتا ہے. طالبان دور میں “بچہ بازی” کے جرم کی سزا قتل مقرر کی گئی تھی، مگر اِس عمل کی مکمل روک تھام ممکن نہ ہو سکی تھی کیونکہ طاقتور ترین وار لارڈ اس معاملے میں ملوث تھے. سابقہ شمالی اتحاد کے بڑے بڑے نام اور موجودہ افغان پولیس کے اعلی ترین عہدیداران اس انسان دشمن دھندے میں ملوث پائے جاتے ہیں. امریکی و اتحادی فوج کو اس معاملے میں خاموش رہنے کی ہدایات کی گئیں تھیں.

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *