• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • مسلمان ‘جن کے پاس کچھ نہیں ہوتا وہ خطرناک ہوتے ہیں۔اسد مفتی

مسلمان ‘جن کے پاس کچھ نہیں ہوتا وہ خطرناک ہوتے ہیں۔اسد مفتی

یہ واقعہ لاہور کا ہے۔۔۔میرے ساتھ میرا دوست الطاف  تھا ہم ایک تیسرے دوست طارق کے گھر  مقررہ وقت سے ذرا پہلے پہنچ گئے ۔چونکہ اس کے گھر کی کنجی الطاف کے پاس تھی۔ اس لیے ہمیں کسی قسم کی فکر لاحق نہ تھی۔ وہ تالا  کھولنے کی کوشش کرنے لگا ۔اس کی  ناکام کوشش اب جھنجھلاہٹ میں تبدیل ہوچکی تھی۔وہ کافی دیر سے  تالے کے ساتھ زور آزمائی کررہا تھا۔”یقیناً”یہ تالے کی خرابی ہے جس کی وجہ سے یہ نہیں کھل رہا”۔ اس نے کہا!طارق کو بھی اس کے سوا کوئی تالہ نہیں ملا  تھا۔ ساری کفایت اس کو بس تالے ہی میں کرنی تھی۔ اس کے  بعد اس نے ملکی صنعت کو کوسنا  شروع کردیا۔ہمارے صنعتکار صرف چیزوں کی شکلیں بناتے ہیں   اور ان کو دکھا کر گاہک سے پیسے وصول کرتے ہیں   ۔ان کو اس سے غرض نہیں کہ گھر پہنچ کر وہ گاہک کو کام بھی دیں گی یا نہیں ۔جھنجھلاہٹ میں طرح طرح کے الفاظ اس کے منہ میں آرہے تھے۔ اس کا غصہ اب اس مقام پر پہنچ چکا تھا کہ اگلا مرحلہ یہ تھا کہ تالا کھولنے کے لیے وہ کنجی کے بجائے  اینٹ پتھر کا استعمال شروع  کردے۔

اتنے میں ہمارا دوست طارق آگیا۔ “کیا تالا کھل نہیں رہا”؟اس نے کنجی اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے پوچھا۔۔۔ اچھا آپ غلط  کنجی لگا رہے تھے۔ اصل میں آج ہی میں نے تالا بدل دیا ہے مگر کنجی چھلے میں ڈالنا بھول گیا۔۔۔ اس کی کنجی دوسری ہے۔اس کے بعد  اس نے جیب سے دوسری کنجی نکالی اور دم بھر میں تالا کھل گیا۔

میں نے سوچا  ایسا ہی کچھ حال موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا ہورہا ہے۔ موجودہ زمانے نے زندگی کے  دروازوں کے تالے بدل ڈالے ہیں اور جب پرانی کنجیوں سے نئے تالے نہیں کھلتے تو کبھی تالا بنانے والے پر  اور کبھی سارے ماحول پر خفا ہوتے ہیں ۔حالانکہ محض غصہ اور نفرت کی بنا پر ایسا  نہیں ہوسکتا  کہ پرانی کنجیوں  سے نئے تالے کھل جائیں ۔

ہمارے بیشتر  قائدین کا یہ حال ہے کہ  ہر ایک نے اپنے ذوق کے مطابق کچھ اسلام دشمن “اور کچھ  وطن دشمن”تلاش کررکھے ہیں اور ان مفروضہ  دشمنوں کی سازش کو مسلمانوں کی تمام مصیبتوں کا سبب سمجھتے ہیں مگر  خدا کی دنیا میں اس سے زیادہ بے معنی بات اور کوئی نہیں ہوسکتی ۔یہاں ہر قوم اور ہر  شخص کو  صرف اپنی کوتاہیوں کی سزا ملتی ہے اس دنیا میں ہر حادثہ جو کسی کے ساتھ پیش آتا ہے وہ  اس کی اپنی کسی کمزوری کی قیمت ہوتا ہے ۔

موجودہ زمانے میں ہماری اکثر مصیبتیں  زمانے سے عدم مطابقت کی قیمت ہیں ۔اگر ہم اس عدم مطابقت کو ختم کردیں  تو خودبخود  موجودہ حالات ختم ہوجائیں گے۔واقعیت پسندی اور حقیقت نگاری کے اس دور میں جذباتی تقریریں  اور تحریریں ،اہلیت کی بنا  پر حقوق حاصل کرنے کے دور میں رعایت اور  ریزرویشن کی باتیں، تعمیری استحکام کے ذریعے اوپر اٹھنے کے دور میں جلسوں اور جلوسوں کے ذریعے قوم کا مستقبل برآمد کرنے کی کوشش ،سماجی بنیادوں کی اہمیت کے زمانے میں  سیاسی سودے بازی کے ذریعہ ترقی کے منصوبے یہ سب باتیں اسی کی مثالیں  ہیں،

یہ ماضی کے معیاروں پر حال کی دنیا  سے اپنے لیے زندگی کا حق وصول کرنا ہے جو کبھی کامیاب نہیں ہوتا ۔آج کا ” نیا تالا” ان پرانی کنجیوں سے نہیں کھلتا۔اس لیے دوسرا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہم جھنجھلاہٹ  غصہ اور مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا اپنے ظلم اور تعصب کی وجہ سے ہمیں کچھ دینے  کے لیے تیار نہیں ہے۔آج پوری مسلم قوم ایک قسم کی نفسیاتی مریض ہوکر رہ گئی ہے۔اور اس المیے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے زمانے کے تقاضے پورے نہیں کیے،اس  لیے زمانے نے بھی ہمیں اپنے اندر جگہ نہیں دی ۔بدلے ہوئے زمانہ میں ہم ایک پس ماندہ قوم بن کر رہ گئے ہیں۔

اگر ہم  چائیں تو قومی زندگی کی تعمیر تھوڑے سے وقت میٰں بھی پوری ہوسکتی ہے اور اس کے لیے زیادہ مدت بھی درکار ہوتی ہے اس کا  انحصار اس پر ہے کہ آپ کس قسم کی قوم تعمیر کرنا چاہتے ہیں اگر قوم کے اندر فوری جوش پیدا  کرنا مقصود  ہے تو ،اگر محض کسی منفی نوعیت کے  کسی وقتی  ابال کو آپ  مقصد سمجھنے کی غلطی میں مبتلا ہیں  اگر عوامی نفسیات کو اپیل کرنے والے نعرے لگا کر تھوڑی دیر کے لیے ایک بھیڑ جمع کر لینے کو آپ کام سمجھتے ہیں ،اگر جلسوں کی دھوم دھام کا نام آپ کے نزدیک قوم کی تعمیر ہے تو اس قسم کی قومی تعمیر ‘اگر اتفاق سے اس کے حالات فراہم ہوگئے ہوں ،آناً فاناً ہوسکتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ قوم کی تعمیر سے زیادہ قیادت کی تعمیر ہے کہ اس قسم کےشور و شر سے وقتی  طور پر قائدین کو تو ضرور فائدہ ہوجاتا ہے مگر انسانیت کے اس مجموعی تسلسل کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا  جس کو قوم یا ملت کہتے ہیں۔

اس اعتبار سے دیکھیے تو اس قسم کے طریقے گویا ایک قسم کا استحصال ہیں جن سے فائدہ اٹھا کر وقتی طور پر کچھ لوگ اپنی قیادت جما لیتے ہیں،یہ سستی لیڈری حاصل کرنے کا  ایک کامیاب نسخہ ہے جس کو سطحی قسم کے لوگ نادانی کی بنا پر ذاتی حوصلوں کی تکمیل کے لیے اختیار کرتے ہیں ۔اگر ہم واقعی قوم یا ملت کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں  تو ہم کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ہم شاہ بلوط کا درخت اگانے اٹھے ہیں نہ کہ خربوزے کی بیل جمانے ۔یہ ایک ایسا کام ہے جو لازمی طور پر  طویل منصوبہ چاہتا ہے اور یہ کہ تھوڑی مدت میں  اس کو حاصل نہیں کیا جاسکتا ۔ اگر کوئی راہنما ایسے نعرے لگاتا ہے تو وہ یا تو اس کی سادہ لوحی  کی دلیل ہے یا اس کی استحصالی ذہنیت کی۔

اور اگر کوئی قوم ایسی ہے جو لمبے انتظار کے بغیر اپنی تعمیر و ترقی کا قلعہ بنا بنایا  دیکھنا  چاہتی ہے تو اس کو جان لینا چاہیے کہ ایسے قلعے صرف ذہنوں میں بنتے ہیں۔ عالم واقعی میں نہیں۔لوگوں میں طاقت کی اتنی کمی نہیں جتنی مستقل ارادے کی ،یہ ایک واقعہ ہے کہ اکثر لوگوں کےاندر صلاحیت موجود ہوتی ہے مگر اس کا فائدہ وہ اکثر صرف اس لیے نہیں اٹھا پاتے کہ   وہ استقلال  کے ساتھ دیر  تک جدو جہد نہیں کرسکتے اور کسی کامیابی کے لیے لمبی جدوجہد فیصلہ کن طور پر ضروری ہے ۔زندگی کا راز ایک لائن  میں یہ ہے ۔۔۔ جتنا زیادہ انتظار اتنی ہی زیادہ ترقی!

اسد مفتی
اسد مفتی
اسد مفتی سینیئر صحافی، استاد اور معروف کالم نویس ہیں۔ آپ ہالینڈ میں مقیم ہیں اور روزنامہ جنگ سے وابستہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *