ٹرمپ کا جو تو نے ذکر کیا ہم نشیں

شنید ہے کہ اس نابغے نے پینتالیسویں امریکی صدر کے طور پر عہدہ سنبھال لیا ہے اور لگے ہاتھوں خاتون اول کے ہمراہ دو دو ٹھمکے بھی لگا لیے ہیں تاکہ سند رھے – حالانکہ ہمارے دل پر جو گزری ہمیں جانتے ہیں، لمحہ لمحہ گھلتے رہے ہیں نامعلوم وجوہ کی بنا پر – چونکہ ہمارے دوست یاروں میں اکثر اوقات ہمارے فرمائے ہوئے کی کوئی اوقات نہیں رہتی اور کوئی ہماری سخن طرازیاں سننے کو ہرگز تیار نہیں ہوتا تو اسی کارن ہم نے آج معقول بین الاقوامی سیاست پر خامہ فرسائی کا نامعقول فیصلہ کر لیا-ٹرمپ کی انتخابی مہم پر ہم اپنا گیان پہلے ہی بانٹ چکے ہیں اور اس میں پنہاں درد دل کی وجہ بھی احباب کے گوش گزار کر دی تھی-
میلانے کا جو تو نے ذکر کیا ہمنشیں
اک تیر میرے سینے پہ مارا کہ ہائے ہائے
میں تو بطور ایک خیر خواہ دور بیٹھا بس پھدکتا جا رہا ہوں(گویا جہاں بھی ہوں بس پھدکتے جاویں) چونکہ آپکی پالیسیوں کا مجھ پر براہ راست اثر پڑنے والا ہے اور میں آپ کی عقل سلیم سے زیادہ اپنی دانش کا قائل ہوں تو اب کہے بنا رہا بھی نہیں جاتا کیجیے تو آخر کیا کیجیے – حضور والا آپ سے ایک بنتی ہے کہ پہلی فرصت میں اپنا وسیع کاروبار ہمارے گلچھروں کے لیے وقف کر دیجیے تاکہ عوام کو آپکی درویشی کا یقین ہو جاءے اور بعد ازاں آپکے قصیدے لکھنے میں آسانی ہو – اگر آپ ایسا نہیں کر سکتے جو کہ یقینا آپ نہیں کریں گے تو پھر ہمارا آپکے بارے وہی خیال ہو گا جو بی بی شہید کے متعلق تھا کہ ایک رئیس باپ کی بیٹی کو دولت سے مزید کیا غرض ہو گی اور وہ فقط عوام پر لگائے گی مگر -پہلی فرصت میں اگر آپ یہ کام نہیں کر سکتے تو از راہ کرم اسرائیلی ریاست کو کالعدم ہی قرار دے دیجیے اور ساتھ ہی ساتھ آپ فلسطین کا مسئلہ حل کر دیں بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے ہم کو آپ یہ کر کے ہی رہیں گے تاکہ راقم آپکی انصاف پروری کا قائل ہو سکے – یقینا آپ میرے خطوط پر ہی فکر آزمائی کر رھے ہوں گے تو آپ فورن سے پیشتر اپنی دولت امریکہ سے باہر منتقل کرنے کا حیلہ کریں تاکہ آپکی آل اولاد کل کلاں اگر امریکی دیار سے کوچ کرے تو انکے پلے صندوق در صندوق ہوں – حضور والا آپ اپنی بین الاقوامی پالیسی میں دنیا کو سر نگوں کرنے کا معاملہ سر فہرست رکھیے گا ہم نے مذھبی طور پر یہ ٹھیکہ لے رکھا ھے آپ البتہ طاقتور کھلاڑی کے طور پر یہ ٹھیکہ ہم سے پہلے لیے ھوءے ہیں اسی کی تجدید چاہتے ہیں ہم آپ سے – پہلی فرصت میں امریکہ میں بسنے والے مسلمانوں کو آپ نکال دیں گے اس لیے ہم آپکے خلاف دفاع مسلمانان امریکہ کونسل بنانے کا نیک ارادہ کیے بیٹھے ہیں – مجھے ایک اور اندیشہ لاحق ھے کہ آپ کے نکمے مخالفین نے اگر آپ پر دھاندلی کے الزامات چسپاں کر دیے اور چار حلقے “کھول دو” والا معاملہ اپکو پیش آگیا تو کیا امریکی الیکشن کمیشن آپکے ساتھ تعاون کرے گا یا پھر آپکی انتظامیہ اتنی چستی سے کام کر سکے اگر وہ سستی کا مظاہرہ کریں تو آپ ہم سے کچھ لوگ مستعار لے سکتے ہیں، چونکہ ہم دنوں کا کام سالوں میں کرنے کے ماہر ہیں آپ بھی استفادہ فرمائیے – میرے حالیہ تجربات کی روشنی میں آپ اپنی سرکاری اداروں میں، عدالتوں میں، پولیس میں اپنے” بندے “اہم پوزیشنز پر لگوا کر ان سے آنے والے وقتوں میں من چاھے کام لیا کیجیے گا – آپ کی توجہ چونکہ امریکہ کے معاشی مسائل پر ھےاور آپکے ہاں اس قسم کے ہوشیار باش لوگ اگر کم ہوں تو ہم سے رابطہ کر لیں اور نت نئی پالیسیوں(حکومتی مفاد) سے عوام کو روشناس کروانا ہمارے ان یار باش لوگوں کے ذمے ہو گا – ایک قیمتی مشورہ ارزاں کیے دیتا ہوں کہ اگر آپ پر کوئی سوال اٹھتا ھے تو آپ فورا سے کانگریس میں صفائی دے کر، بعد میں اس سے منکر ہو کر، اپنی عدالت سے استثنی بھی مانگ سکتے ہیں- میں آپ سے درخواست گزار ہوں کے آپ بھی اب ہماری طرح ہوش کے ناخن لیں اور کوئی ادارہ سلامت نہ رہنے دیں، خاص کر تمام بڑے سرکاری ادارے۔ اگر آپکا کوئی کاروباری دوست ھے بینکوں کا مالک، فرمز کا مالک تو اسکے حوالے کر دیں اور اگر خوش قسمتی سے نہیں ھے ایسا کوئی، تو ہمیں خدمت کا موقع دیجیے کہ یہاں ایسے ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں والا معاملہ ہے – حضرت ایسے معاملات کی فہرست طویل ھے جن میں احقر آپکی توجہ دلا کر کسی ریاست کا مئیر وغیرہ لگ سکتا ہے مگر بے نیازی کا یہ عالم ھے کہ تمام مشورے مفت (ساقیا لٹائے جا لٹائے جا) کی مانند عنایت کیے جا رہا ہوں – آپ سے ایک درخواست مزید کرنی تھی کہ مسلم دنیا میں اپنا لچ اگر آپ نے تلے ہی رکھنا ھے تو برائے مہربانی ہمیں اس سے اس بار کم از کم استفادے کا موقع ہرگز نہ دیں اور جہاد کے نعرے کسی دوسرے وطن میں لگوانا پسند کریں تو فدوی آپکا اور محترمہ کا شکر گزار ہو گا۔ اب آپ پوچھیں گے بیٹھے بٹھائے محترمہ کے صدقے واری کاھے جا رھے اور انکا شکریہ کس چکر میں ادا کیے چلے جا رھے ہو؟ تو بندہ عرض اتنا کرے گا جی میں یہ نیک کام بلاوجہ کر رہا ہوں بلکہ خواہ مخواہ کر رہا ہوں –

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *