وادیِ مہران

( 6000 years old History of Sindh)
سندھ کی تاریخ
وادیِ مہران صوفیاء کرام کی سرزمین “سندھ” کی تاریخ چھ ہزار سال پرانی ہے جس میں بہت سے نشیب و فراز آتے ہیں۔ سندھ ہمیشہ سے مختلف جنگجووں کی طرف سے میدانِ جنگ بنا رہاہے، آئیں اس وادی کے گمشدہ حقائق کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
انڈس وادی چھ ہزار سال قبل مسیح پہلے وجود میں آئی، پانچ ہزار سال قبل مسیح یہ وادی کھیتی باڑی کا مرکز بنی، اس سے پیشتر “نیولیتھک” دور میں سندھ کی ابتدا ہوئی جو کہ ترکی کی آزاد ترقی یافتہ تہذیب ” کپیٹل ہیوک” کی شکل تھی اور 3700 قبل مسیح تک رہی۔ تین ہزار قبل مسیح پہلی “امری تہذیب” وجود میں آئی اور نیولیتھک تہذیب کے دور کا خاتمہ ہوا۔2500 قبل مسیح کے” کانی کورٹ تہذیب” کے کھنڈرات کی موجودگی بھی سندھ کی تاریخ کا حصّہ ہیں۔ جدید تہذیب کا اعلیٰ نمونہ 2300 قبل مسیح کی تہذیب موئن جوڈرو کی صورت میں ہیں۔

1500 قبل مسیح سویستان “سہیون” شیوا ہندووْں کے دیوتا کا مرکز رہا اسکے بعد 810 قبل مسیح میں مصر کے بادشاہ نے سندھ پر حملہ کیا اور اسکو اپنی سلطنت کا حصّہ بنا لیا۔ 566-490 قبل مسیح تک سندھ “ہینز” کے زیر تسلط رہا ۔بعد ازاں فارسی حکمران 125 سال تک سندھ کے حاکم رہے۔ 325-326 قبل مسیح سکندر اعظم سندھ ہر حملہ آور ہوا اور سندھ کے ساحلی علاقوں سے ہی واپسی کا سفر اختیار کیا۔ 313 قبل مسیح میں اشوکا جو کہ جنوبی ہندوستان کا باسی تھا حاکم سندھ کی مسند پر فائز ہوا اسکے دور میں بدھ مت کو بہت ترقی ملی۔ 280-400 عسیوی تک فارسی حکمران دوبارہ سندھ پر حکومت کرتے ہے، 410 عسیوی میں گجرات کے رائے سہراس اور اسکے بیٹے رائے ساہاسی نے رائے حکومت کی بنیاد ڈالی اور 550 عسیوی تک سندھ کو اپنے قبضے میں رکھا۔

550 عیسوی میں کچ رائے نے برہمن خاندان کی بنیاد ڈالی اور کچ رائے کے بیٹے راجہ داھر نے اپنے چچا چندر سے جنگ کی جسکے نتیجے میں سندھ کا تاج راجہ داھر کے سر پر سج گیا۔ 711 عیسوی تک راجہ داھر سندھ کا حاکم رہا لیکن عربوں کے ہاتھوں شکست کھا کر اپنی جان گنواء بیٹھا۔ مسلمان خلیفہ حجاج بن یوسف کے داماد محمد بن قاسم نے سندھ میں اسلامی مملکت کی بنیاد ڈالی جو تین سو سال تک قائم رہی۔ 1026ء میں “سومرا” نے سندھ پر قبضہ کرلیا جسے 1054ِء میں سلطان محمود غزنوی اور علاوْالدین خلجی کی جارحیت نے پسپائی پر مجبور کردیا۔ 1353 میں “ساما” خاندان جو بعد ازاں جام آف لسبیلہ کہلائے سندھ پر قابض ہوئے، ساما خاندان کا تختہ 1521 میں “ارغون خاندان” کے شاہ بیگ نے الٹا جوکہ چنگیز خان کے خاندان سے تھا۔

1554ء میں جنرل عیسیٰ بیگ نے “ترکھان” خاندان کا نام سندھ کے حاکموں کی فہرست میں لکھوایا جو ایک ترکی نسل تھا۔ اسکے دورِ حکومت میں سندھی زبان کی ترویج ہوئی اور شاہ عبدالکریم 1538ء تا 1625ء نے سندھی زبان میں موسیقی اور شاعری کا آغاز کیا۔ بلا آخر 1591ء کو مغل بادشاہ اکبر نے مرزا عیسیٰ بیگ سے پورا سندھ چھین لیا اور 1700ء تک بلا شرکت غیرئے مغلوں کی حکومت رہی، 110 سالہ دورِحکومت میں مغل بادشاہوں نے 40 گورنر تبدیل کئے، 1701 میں مغلوں کے کمزور ہونے پر بلوچ حاکم کلہوڑو نے سندھ پرقبضہ کر لیا اور 80 سال تک بارہ کلہوڑو حکمران سندھ کی تقدیر پر براجمان رہے،کلہوڑو دور کو سندھی زبان کے سنہرے دور سے تشبیہ دیں تو کوئی بعید نہ ہوگا اسی دور میں شاہ عبدالطیف بھٹائی اور سچل سرمست جیسے عظیم سندھی شاعر گزرے جنہوں نے سندھی زبان کو حقیقی معنیٰ میں ایک زبان کی شکل دی۔

1782ء میں بلوچ حاکم تالپور خاندان سندھ میں قابض ہوا اور کلہوڑو دور اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ تالپوروں نے سندھ کو تین ریاستوں میں تقسیم کردیا تھا جس میں ریاست حیدرآباد، ریاست خیرپور اور ریاست میرپورخاص شامل ہیں، تالپور سندھ اور بلوچستان پر حاکم تھے 1843 میں انگریز جنرل سر چارلس نیپئر سے شکست کھا گئے اور سندھ انگریزوں کے قبضے میں چلا گیا۔ 1847ء میں سندھ کو بمبئی کا حصّہ بنا دیا گیا۔ 1851ء میں سندھ میں پہلی بار سندھی زبان کو سرکاری حثیت دی گئی 1853ء میں سندھی رسم الخط کو سندھ اور بمبئی میں برطانوی حکومتی زبان کے رسم الخط میں شامل کیا گیا۔

1908ء میں بریسٹر غلام محمد بھڑگڑی اور ھرچندرنےوشینداس نے سندھ کو بمبئی سے الگ کرنے کا مطالبہ کیا بعد ازاں آل انڈیا مسلم لیگ اور قائد اعظم کی کوششوں کے بعد 1936ء میں سندھ کو بمبئی سے الگ کرکے صوبے کا درجہ دیا گیا۔ 1947ء میں پاکستان بننے کے بعد سندھ پاکستان کا حصّہ بنا اور تقریبا” 11 لاکھ ہندو سندھی سندھ چھوڑ کر ہندوستان چلے گئے۔

پاکستان بننے کے بعد ایوب کھوڑو سندھ کا وزیر اعلیٰ بنا لیکن ون یونٹ بننے کے بعد سندھ کی صوبائی حثییت ایک بار پھر ختم ہوگئی 1971ء میں پاکستان کے دولخت ہونے کے بعد صوبائی حثیت کی بحالی ہوئی اور سندھ میں سندھی حکمران ممتاز بھٹو وزیراعلیٰ بنے جوکہ تادم تحریر بقید حیات ہیں۔ 1971ء میں ہی کراچی کو پہلی بار سندھ میں شامل کرکے دارالحکومت بنایا گیا۔ اگر ہم سندھ کی پوری تاریخ کا جائزہ لیں تو ایک خاص بات علم میں آئے گی کہ سندھ کی چھ ہزار سالہ تاریخ میں 1971ء سے پہلے کبھی کوئی سندھی حاکم نہیں رہا۔ یہ سندھی قوم کی بدقسمتی رہی ہے کہ ہمیشہ اس قوم کو غلامی کی زنجیر میں جکڑکر رکھا گیا، تاحال سندھی قوم غلاموں کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے اور آج کل انکے اپنے ہی وڈیرے جاگیردار غلام بنائے بیٹھے ہیں۔

حمزہ حنیف مساعد
حمزہ حنیف مساعد
مکالمے پر یقین رکهنے والا ایک عام سا انسان

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *