سیاست اور سیاستدان۔فضل رحیم آفریدی

کہتے ہیں کہ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے جبکہ سیاست ہی میں جمہوریت کا محور اور اس کی اصل روح پائی جاتی ہے۔ اگرکچھ لمحے کے لئے پاکستان کی سیاست کو ذہن سے نکالا جائے تو ہمیں سیاست کے وہ معنی نظر آئیں گے جسے بروئے کار لاتے ہوئے ہماری سیاست کے ان کھوکھلے نعروں کو عملی جامہ پہنایا جاسکتا ہے جو کہ ہم نصف صدی سے سنتے چلے آرہے ہیں۔ سیاست کا بنیادی مقصد ریاست کے اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے ایک مربوط نظام کے تحت عوام کی خدمت کرنا اور قومی تہذیب و ثقافت اور مذہبی اقدار کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر عوامی جذبات کی ترجمانی کرنا ہے۔ اگر ہم جمہوریت کے متبادل نظام خلافت میں بھی سیاست کی تعریف کو تلاش کرنے کی کوشش کریں تو وہاں بھی ہمیں سیاست کی تعریف میں عوامی خدمت ہی کے آثار غالب نظر آئیں گے۔ جمہوریت اور خلافت نظام حکمرانی کی   دو مختلف اقسام ہیں لیکن ان میں سیاست برائے خدمت ہی وہ پہلو ہے جو دونوں نظام میں مشترک اور یکساں دیکھنے کو ملے گا ،گو کہ جمہوریت میں امیر کا انتخاب رائے شماری یعنی مقدار جبکہ خلافت میں امارت کے منصب کے لئے متعین کردہ معیار پر کیا جاتا ہے۔

اگر ہم پاکستانی سیاست کا جائزہ لیں تو ہمیں ایسی چیزیں دیکھنے کو ملیں گی جس کا سیاست سے بالواسطہ یا بلا واسطہ کوئی تعلق ہی نہیں۔ کل کا ایک کمزور اور غریب شخص ایوانوں میں پہچنتے ہی تمام ان وعدوں کو ردی کی ایک ٹھوکری کی نظر کردیتا ہے جس کی بنیاد پر وہ اس ایوان میں بیٹھنے کا مستحق قرار پایا تھا۔ ہماری سیاست کے اس کھیل میں غریب غریب سے غریب تر جبکہ امیر امیر تر ہوتا چلاجاتا ہے اور پھر دولت کے انبار پر بیٹھے یہ سوداگر غریب عوام کی قسمت سے کھیلتے ہوئے ان کے ضمیر تک خریدنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جبکہ غریب عوام مسائل کی دلدل سے نکلنے کے لئے ان ہی بھیڑیوں کو اپنا مسیحا سمجھ کر ایک ایسے سراب کی چمک کے پیچھے بھاگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جس کا کوئی سرا یا وجود ہی نہیں ہوتا۔

میں تمام سیاسی پارٹیوں کے ورکرز اور قائدین سے نہایت معذرت کے ساتھ یہ سب کچھ لکھنے کی جسارت کررہا ہوں کہ اگر ایک ذی شعور انسان تمام ان موجودہ سیاسی پارٹیوں کا تجزیہ کرے تو بہت جلد انہیں ان سب پارٹیوں میں کرپشن، اقربا پروری ، اختلاف اور ذاتی مفادات کی وہ جھلک نظر آئے گی جس کا موصوف کو وہم وگمان ہی نہ ہوگا۔ سیاسی شخصیات کی اکثریت کسی نہ کسی ایسے واقعے میں ضرور ملوث ہوگی جس میں عوام کا حق غصب کیا گیا ہو یا انفرادی مفادات کو اجتماعی مفادات پر ترجیح دی گئی ہو۔ مفادات کے اس سیاہ گھناؤنے کھیل میں صرف چہرے ہی بدلتے چلے آرہے ہیں جبکہ اس کھیل کے اصول سیاستدانوں کے انہی  کالی کرتوتوں کی مرہون منت ہے جس میں ہمیشہ سے صرف عوام ہی کو بیوقوف بنا کر پیسا جارہا ہے۔ روٹی، کپڑا اور مکان کے جھوٹے وعدے کرکے عوام کو ان کے میسر شدہ روٹی ، کپڑے اور مکان سے بھی محروم کرنے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے۔

تعلیم کے معیار کو ابتر کرکے ہماری آنے والی نسلوں تک کو غلام بنائے جانے کے منصوبے بنائے جارہے ہیں۔ سڑکوں پر بچے کو جنم دینے، ریڑیوں کے سٹریچر اور گدھا گاڑی کی ایمبولینس سے ہمیں ہماری اوقات یاد دلائی جارہی ہے۔ صاحب اختیار کے تلوے نہ چاٹنے پر بجلی اور گیس کی بندش اور پولیس کے ذریعے ہماری عزتوں کو پامال کرتے ہوئے ہمیں اپنے ضمیر کے سودے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ جبکہ ہمارے اسی معاشرے کے بیشتر افراد چند سکوں یا تھوڑی سی شہرت کی خاطر ان کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔

اگر میں پاکستان کو چھوڑ کر صرف اپنے علاقے کی سیاسی شخصیات اور ورکرز پر نظر دوڑاؤں تو شاید آپ کو یہ بات ناگوار گزرے کہ اتنی چھوٹی سطح یعنی یونین کونسل یا ویلج کونسل کی سطح پر بھی کسی ایک پارٹی میں اتفاق نظر نہیں آرہا۔ ہر پارٹی گروہ بندی کا شکار ہے اور ہر گروہ اپنی ہی پارٹی کے گروہ سے سبقت لینے کی کوشش میں ہے۔ اگر بات گروہوں کے آپس میں سبقت لینے تک محدود ہوتی تو پھر بھی پارٹی میں اتفاق کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا تھا لیکن تشویش اس بات کی ہے کہ ایک ہی پارٹی کا ایک گروہ دوسرے گروہ کا راستہ روکنے اور اس کے پاؤں کاٹنے پر تلا ہوا ہے۔ جبکہ بقول ایک صاحب ،ایم این اے یا اپنے قائد سے ملاقات سے پہلے قائد وفد کے ارکان سے گروہ کا تعارف کروانے پر مجبور ہوتا ہے۔ اپنی پارٹی میں مخالف گروہ کا شکار کرنے کے بعد موصوف گروہ اپنی حریف پارٹی کو نیچا دکھانے کی کوشش میں مصروف ہو جاتا ہے اور یوں بات آگے بڑھتے ہوئے ایک دوسرے پر تہمت، بہتان اور تلخ کلامی تک پہنچ کر ایک دوسرے کے دلوں میں محبت کے پھولوں کو مسل کر نفرت کے بیج بو دیتا ہے۔

میری اس تمام تحریر کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ منفی سرگرمیوں اور غیر سود مند حربوں پر اپنی قیمتی توانائیاں صرف کرکے کیوں معاشرے کو نفرت کا گہوارہ بنایا جارہا ہے؟ ایک مثبت سرگرمی کو کیوں متنازع بناکر اس کے نیک مقصد کو سبوتاژ کیا جارہا ہے؟ ہمیں چاہیے کہ سیاست کو اس کی اصل روح کے مطابق عمل میں لائیں اور خدمت کی سیاست کے ذریعے محروم طبقے کی ترجمانی کرتے ہوئے عدل و انصاف، میرٹ اور مساوات کے اصولوں کو اپنا کر اس معاشرے کو امن، محبت، اتحاد، اتفاق اور خوشیوں کا گہوارہ بنائیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *