یہ سب تمہارا کرم ہے آقا۔۔۔حسن رضا چنگیزی

1987 کی بات ہے۔ بلوچستان یونیورسٹی کے شعبہ کیمیا میں وہ میرا پہلا سال تھا۔ سردیوں کی طویل چٹھیاں قریب آ رہی تھیں اور مختلف شعبوں کے طلبا حسب روایت مطالعاتی دوروں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔  ہماری کلاس میں تقریباً چالیس طالب علم تھے جن میں لڑکیوں کی تعداد  دس کے قریب تھی۔ طویل غور و خوص کے بعد طے پایا کہ ہم بھی سٹدی ٹور پر جائیں گے اور کچھ دن لاہور  میں گزار کر سوات کی سیر کو نکلیں گے۔ منتظمین کی طرف سے لاہور میں ہماری رہائش کا بندوبست پنجاب یونیورسٹی میں کروایا گیا جہاں لڑکیوں کو گرلز ہاسٹل میں جگہ دی گئی جب کہ ہم لڑکوں کے لیے ایک پرانا گودام خالی کرو اکر اسے رہنے کے قابل بنایا گیا۔ سردیوں کے دن تھے لیکن ہمارے لیے موسم خوشگوار تھا۔ ہم رات دیر تک آپس میں گپیں ہانکتے رہے اور تاش کھیلتے رہے۔ صبح آنکھ کھلی تو کمرے میں دو نوجوانوں کو کھڑا پایا جنہوں نے سوات کی گرم شالیں اوڑھ رکھی تھیں۔ ان کے بال بے ترتیب جبکہ چہروں پر ہلکی خشخشی داڑھیاں تھیں۔ ہمیں جاگتے دیکھا تو ایک نے خشک لہجے میں اپنا تعارف کرواتے ہوئے بتایا کہ اس کا تعلق ایک طلبہ تنظیم سے ہے اور اس کا کام ہاسٹل سے متعلق معاملات کی نگرانی کرنا ہے۔ پھر ڈانٹنے کے انداز میں کہنے لگا کہ سنا ہے کہ آپ لوگ رات دیر تک جاگتے اور قہقہے لگاتے رہے ہیں۔ آئندہ اس بات کا خیال رہے کہ رات بارہ بجے کے بعد آپ کے “کمرے” کی لائٹ بند ہونی چاہیے اور کسی قسم کا شور شرابہ بھی نہیں ہونا چاہیے۔ ہمارے دوستوں کو “ناظم صاحب” کی بات کچھ اچھی نہیں لگی۔ لیکن سب نے اسے ہنسی میں ٹال دیا۔

 

 

 

 

 

 

دوپہر کو ایک اور واقعہ رونماء ہوا جب ہم سارے لڑکے اور لڑکیاں یونیورسٹی کی ایک کینٹین میں کھانے کے لیے اکٹھے ہوئے۔ ہمارے نگران، مہربان پروفیسر ڈاکٹر شیر اکبر بھی ہمارے ساتھ تھے۔ ابھی ہم نے کھانے کا آرڈر بھی نہیں دیا تھا جب “ناظمین اور نائب ناظمین” کا ایک گروہ بڑے غصے میں کینٹین کے اندر گھس آیا اور آتے ہی  بدتمیزی شروع کردی۔”آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہاں لڑکے اور لڑکیوں کا ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا منع ہے۔ اس لیے یا تو آپ الگ الگ کھانے کا انتظام کرلیں یا یونیورسٹی چھوڑ کر کہیں اور شفٹ ہو جائیں”۔ ایک ناظم صاحب نے غصے سے کہا!پھر اس سے پہلے کہ نوبت  ہاتھا پائی تک آ پہنچتی، پروفیسر صاحب نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ دیکھیں یہ سب میرے بچے بچیاں ہیں، یہ آپس میں کلاس فیلوز ہیں، سب نے اکٹھے یہاں تک سفر کیا ہے۔ اس سفر کے لیے ان سب کو ان کے والدین  کی اجازت اور آشیرواد حاصل ہے۔ اور ابھی ہم نے پندرہ بیس دن کا مزید سفر کرنا ہے۔ پھر ان کا خیال رکھنا میری ذمہ داری ہے اور میں اپنی ذمہ داری نبھانا اچھی طرح جانتا ہوں۔ اس کے باوجود ناظمین اپنی بات پر ڈٹے رہے جس کی وجہ سے لڑکیوں کے لیے کینٹین کے باہر میزیں لگانی پڑیں۔یہ پنجاب کے ایک بڑے تعلیمی ادارے میں رائج سوچ کا ایک ایسا رخ تھا جو میرے لیے نیا اور حیران کن تھا۔

چار سال بعد یعنی 1991 میں میرا ایک بار پھر لاہور جانے کا اتفاق ہوا۔ اس مرتبہ میں اکیلا تھا اور مجھے لاہور میں نسبتاً ایک لمبے عرصے کے لیے رہنا تھا۔ لہٰذا میں نے این سی اے (نیشنل کالج آف آرٹس) میں پڑھنے والے دوستوں سے مدد مانگی۔ میرے دوست لیاقت علی تب اسی کالج میں پڑھتے تھے جبکہ کالج سے تھوڑی دوری پر واقع ایک پرانے ہاسٹل میں ان کی رہائش تھی۔ ٹرین سے اتر کر میں سیدھا ان کے پاس پہنچا۔ کمرے میں ان کے ساتھ ایک اور لڑکا بھی رہتا تھا جو اتفاق سے میرا پرانا کلاس فیلو نکل آیا۔ اسے کسی اور کمرے میں شفٹ کروایا گیا اور یوں میرے لیے ہاسٹل میں سونے کی گنجائش نکال لی گئی۔ میرا خیال تھا کہ یہاں کا ماحول بھی پنجاب یونیورسٹی جیسا ہوگا جہاں صبح سویرے منہ اٹھائے کوئی ناظم آ دھمکے گا اور ڈانٹ پلا کر چلا جائے گا۔ لیکن یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ ہاسٹل کا انچارج وہاں کا لمبا تڑنگا چوکیدار تھا جو ہر ایک سے بڑی خندہ پیشانی سے پیش آتا تھا اور جسے کسی کی ذاتی زندگی میں دخل دینے کا کوئی شوق نہیں تھا۔ اگلے دن سے مجھے ہاسٹل میں موجود لڑکوں سے ملنے اور گفتگو کے مواقع ملنے لگے تو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ یہاں کی دنیا کچھ اور ہی تھی۔ اکثر لڑکے بڑے  زندہ دل اور جلد گھل مل جانے والے تھے۔ ان میں سے بہت کم لڑکوں کو میں نے کوئی “ڈھنگ” کا لباس پہنتے دیکھا۔ جینز تو سب کی جگہ جگہ سے پھٹی ہوتیں۔ خصوصاً گھٹنے تو سب کے جھانک رہے ہوتے۔ بال بھی شاید خود ہی ایک دوسرے کے تراش لیا کرتے تھے کیونکہ ہر ہیئر سٹائل سے آرٹ کا کوئی نہ کوئی نمونہ ضرور جھلک رہا ہوتا۔

 

 

 

 

 

 

 

یہی پر میری ملاقات آج کے معروف کارٹونسٹ صابر نذر سے ہوئی۔ مجھے وہ اپنی دنیا میں گم رہنے والے ایک سنجیدہ اور کم گو نوجوان لگے۔ وہ “پنجاب لوک رہس”  نامی ایک عوامی تھیٹر سے وابستہ تھے جو کسی بھی گلی، کوچے یا سڑک پر سٹیج لگا کر لائیو ڈرامے پیش کیا کرتا تھا۔ پنجابی زبان و ثقافت کی ترویج  کے علاوہ اس تھیٹر کا بنیادی مقصد ڈراموں کے ذریعے عوامی مسائل کو اجاگر کرنا تھا۔ جبکہ ان ڈراموں کے سامعین و ناظرین بھی گلی کوچے کے عام  مرد، عورتیں اور بچے ہوتے جو سڑک پر کھڑے ہوکر یا گھر کی بالکنیوں سے جھانک کر یہ ڈرامے دیکھتے۔ نہ ٹکٹیں، نہ کرسیاں اور نہ ہی وی آئی پیز کے جھمیلے۔ صابر نذر کے ساتھ ہی ایک دن ہم پنجاب لوک رہس کے دفتر گئے جہاں کئی لڑکے اور لڑکیاں کسی ڈرامے کی ریہرسل میں مصروف نظر آئے۔ یہی پر اس گروپ کے لیڈر سے بھی ملاقات ہوئی۔ ان کا نام لخت پاشا تھا۔ شاید یہ ان کا کوئی قلمی نام ہوگا لیکن چونکہ بہت منفرد نام تھا اس لیے ہمیشہ کے لیے میرے حافظے میں محفوظ ہو گیا۔ تب وہ شاید چالیس یا پیتالیس کے پیٹے میں ہوں گے۔ بکھرے بال، آنکھوں پر موٹا چشمہ اور بدن پر دھوتی! پہلی نظر میں وہ مجھے پنجاب کے کسی علاقے کے ایک عام کسان لگے لیکن جب گفتگو شروع ہوئی تو لگا کہ ان کے منہ سے علم و دانش کے موتی جھڑ رہے ہوں۔ وہ مجھے ایک بہت ہی سچے انسان لگے جو اپنی ٹیم کے ساتھ کسی انعام یا لالچ کی پرواہ کیے بغیر گلی گلی جاکر تھیٹر کی صورت میں لوگوں کو ان کے حقوق اور مسائل سے آگاہ کرتے تھے۔یہ پنجاب کے تعلیم یافتہ طبقے کی سوچ کا ایک دوسرا رخ تھا جو پہلے والے سے بھی زیادہ حیران کر دینے والا تھا۔

ہاسٹل کے پاس ہی جہاں میری رہائش تھی، ایک پرچون کی دکان تھی جہاں سے ہم روزمرہ کا سودا سلف لیا کرتے تھے۔ اس دوکان کی ایک خوبی یہ تھی کہ یہاں سے سستے داموں نہ صرف ملک بھر بلکہ ملک سے باہر بھی ٹیلی فون کال کرنے کی سہولت موجود تھی۔ لہٰذا ہم بھی  کبھی کبھار گھر فون کرنے یہی جایا کرتے تھے۔ پرچون کی دوکان کے مالک غالباَ کوئی حمید بھائی تھے جو انتہائی ملنسار شخص تھے۔ چونکہ وہ پاکستان بھر میں کسی بھی نمبر پر صرف پچیس فیصد نرخ میں کال کروادیا کرتے تھے، اس لئے شام کے وقت ان کی دکان پر لمبی لائن لگی رہتی تھی۔ پھر ہفتے بھر بعد سستے فون کالز کی حقیقت بھی سمجھ میں آگئی۔ اصل قصہ کچھ یوں تھا کہ حمید بھائی نے ٹی اینڈ ٹی (حالیہ پی ٹی سی ایل) کے کسی اہلکار کے ساتھ گٹھ جوڑ کررکھا تھا جو انہیں غیر قانونی طریقے سے پاکستان بھر میں مفت ٹیلی فون کالیں کرواتا تھا، جن سے ہونے والی آمدنی  دونوں “بھائی” مہینے کے اختتام پر منصفانہ طریقے سے آپس میں برابر بانٹ لیا کرتے تھے۔
حمید بھائی انتہائی ملنسار شخص تھے۔ وہ اپنے اس کاروبار سے بڑے مطمئن تھے اور ہمیشہ اللہ کا شکر ادا کیا کرتے تھے۔ انہوں نے دکان میں ایک خوبصورت فریم آویزاں کر رکھا تھا جس میں خوبصورت نقش و نگار کے درمیان لکھا ہوا تھا کہ
” یہ سب تمہارا کرم ہے آقا، کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے”

مزے کی بات یہ کہ سوچ کا یہ  رخ دیکھ کر مجھے کوئی حیرت نہیں ہوئی۔ کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ ہم پاکستانیوں کی اکثریت ایسی ہی سوچ رکھتی ہے۔ ایسا ہی فریم میں اس سے قبل پاکستان میں اور بھی بہت ساری دکانوں پر دیکھ چکا تھا۔

حسن رضا چنگیزی
حسن رضا چنگیزی
بلوچستان سے تعلق رکھنے والا ایک بلاگر جنہیں سیاسی اور سماجی موضوعات سے متعلق لکھنے میں دلچسپی ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *