داستان عالمی کتاب میلے کی۔۔۔تنویر احمد تہامی

عجلت میں کام نمٹایا بھاگتے ہوئے چائے ختم کی اور چھٹی سے پہلے چھٹی کر کے دفتر کے باہر آن کھڑا ہواـ ۔شارجہ جانے والے ایک کولیگ کے ساتھ نتھی ہوا، گاڑی عجمان کو پیچھے چھوڑتی شارجہ کی شاہراؤں پہ فراٹے بھرنے لگی ـ ذرا اور آگے گئے تو وہی ہوا جسکا ڈر تھاـ ،شام ہو چکی تھی اور اس وقت شارجہ کی ٹریفک صبرِ ایوب سکھاتی ہے، ہم بھی درس لینے لگےـواقعہ کچھ یوں ہے کہ یکم نومبر سے گیارہ نومبر تک شارجہ میں عالمی کتاب میلہ چل رہا ہے،ـ پہلے دن سے جانے کی خواہش مچل رہی تھی مگر، “تجھ سے بھی دلفریب ہیں غم روزگار کے”، وقت کی ترتیب ایسی چلتی رہی کہ جا نہ پایاـ دو ایک دوستوںکو بھی اکسایا کہ چل میلے نوں چلئیے مگر وہ بھی غمِ روزگار لئے بیٹھے رہے۔
ـ سوچا اکیلا ہی چلتا ہوں جانبِ منزل کہ مبادہ لوگ ملتے جائیں اور کارواں بنتا جائے۔ـ ایک کولیگ سے ذکر کیا تو فوراً حامی بھر لی کہ ساتھ میں چلیں گےـ جب ہم ٹریفک میں پھنسے تھے تو جانے کہاں سے اسے ایک مشکوک سی کال آئی اور ملائلم میں راز و نیاز ہونے لگےـ کال بند کی تو معذرت خواہانہ انداز میں بولا بھائی میں نہیں آ پائے گاـ میں نے بے فکری سے کندھے اچکائے مگر دل ہی دل میں صلواتیں سنا کر کلیجے کو ٹھنڈک پہنچائی ـ
 منزل پہ پہنچے تو میں اکیلا ہی اندر کی جانب چل پڑاـ بچپن میں اپنے گاؤں کے دربار پیر عبدالرحمٰن پہ لگنے والے سالانہ میلے پہ جاتے ہوئے جو اشتیاق ہوتا تھا وہی اس وقت بھی محسوس کر رہا تھاـ ایکسپو ہال میں داخل ہوا تو برقی قمقوں کی روشنی سے دن کا گمان ہوتا تھاـ ضیافت کے اسٹالوں سے آگے بڑھا تو سامنے سائنسی کارنامے سجائے گئے تھے جن میں ترتیب وار رکھے تین روبوٹ سب سے نمایاں تھے جن کے گرد بچوں نے بھیڑ لگا رکھی تھی۔ سرسری سی نگاہ ڈالے آگے بڑھا کہ میں تو یہاں کتابوں کی چاہت میں آیا تھاـ۔
 مختلف ممالک نے اپنے اپنے اسٹال لگا رکھے تھےـ ایک جانب عربی کتب کو جگہ دی گئی تھی. ان میں بھی ایک حصہ قرآنِ حکیم کے نسخہ جات اور دیگر مذہبی کتب کیلئے تھا جبکہ باقی تمام جگہ عربی لٹریچر کی کتب سے بھری پڑی تھی. دوسری جانب دیگر زبانوں کے اسٹال لگائے گئے تھےـ انواع و اقسام کی کتب دمک رہی تھیں. ٹائٹل پڑھتے ہوئے ایک اسٹال سے دوسرے پہ جاتے جاتے میں ایک کونے میں پہنچا تو ہندوستانی کتب کے اسٹال پہ نظر پڑی. پوری ایک قطار ہندوستانی اسٹالوں نے گھیر رکھی تھی جن میں نہ صرف ہندی بلکہ علاقائی زبانوں مثلاً ملائلم، تامل اور تیلگو کی کتب کھچا کھچ بھری پڑی تھیں. ایک دم سے خیال گزرا کہ ہو نہ ہو پاکستانی اسٹال بھی موجود ہوں گے اور اردو کی کتب بھی دستیاب ہوں گی. بس پھر تو نظریں اردو ڈھونڈنے لگیں۔
 کافی تلاش کے بعد بھی جب کوئی سراغ نہ ملا تو مایوسی چھانے لگی، قدم سست پڑنے لگےـ بے دلی سے چلتے ہوئے جو نگاہ اٹھا کے دیکھا تو دور ایک کونے میں سبز ہلالی  پرچم پہ نظر ٹھہر گئی. قدموں میں عقابی روح بیدار ہوئی اور میں پل بھر میں پاکستانی اسٹال کے سامنے موجود تھاـ اسٹال پہ کھڑے لڑکے کو سلام کیا تو اس نے پان زدہ دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے سلام کا جواب دیا اور خوش آمدید کہاـ میں نے اپنی تسلی کیلئے پوچھا کہ کہاں سے آئے ہو تو جواب توقع کے عین مطابق تھا؛ “جی کرانچی سے”ـ
کتابوں کی جانب متوجہ  ہوا تو ایک طرف بچوں کیلئے انگریزی کتب نظر آئیں، دوسری طرف ایمان و یقین کو پختہ بنانے کے نسخے سجے تھےـ فضائلِ اعمال، مجموعۂ وظائف، مسنون دعائیں، سکونِ قلب، بہشتی زیور، جنتی عورت، بکھرے موتی اور سب سے نچلے دو شیلفوں پر قرآنِ حکیم کے کچھ نسخے سجے تھےـ پورے اسٹال پہ ایک بار پھر سے نگاہ ڈال کر ڈرتے ڈرتے پوچھا، اردو کی کتابیں نہیں ہیں؟ بھائی جان یہ سب اردو میں ہی ہیں. میں نے کہا یہ اردو میں ہیں، اردو کی نہیں ہیں. ہمارے پاس تو بس یہی ہیں. دل ٹوٹ گیا، امید کا دیا ٹمٹمانے لگاـ آپ ان میں سے ہی کوئی دیکھ لیجئےـ دل سے آواز نکلی حضور نہ کیجئے، بس رہنے دیجئےـ
 بجھے دل سے پوچھا کوئی اور پاکستانی اسٹال نہیں ہے کیا؟ ہے نا، یہاں سے سیدھا جائیے اور بائیں جانب دیکھئے سامنے ہی پاکستانی اسٹال ہےـ امید کے دیے میں پھر سے رمق پیدا ہوئی، تیز قدموں سے دوسرے اسٹال پہ پہنچا تو دل دھک سے رہ گیا، امید کا دیا دم توڑ گیاـ وہاں تو اردو میں لکھی کوئی کتاب بھی نہ تھی، صرف انگریزی کتب اور وہ بھی بچوں کیلئے۔ـ دل ایسا ٹوٹا کہ واپسی کا قصد کر لیاـ راہ چلتے ایک اسٹال کے پاس سے گزرا تو “ودرنگ ہائٹس” پہ نظر پڑ گئی، اسے ساتھ لیا اور باہر کی جانب چل پڑاـ تبھی ایک طرف سے شور اٹھا کہ ہیما مالینی آرہی ہیں، مگر کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو، میں چپ چاپ سر جھکائے باہر نکل آیاـ۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *