انقلاب کی خوں آشامی

انقلاب کی خوں آشامی

نو مولودی، کم سنی، بچپنا، لڑکپن، نوجوانی، شباب، ادھیڑ عمری، اور یک بیک اور دبے پاؤں آکر بدن کے بستر پر دراز ہونے والا بڑھاپا

بیج، کونپل، بوٹا، لچکیلی شاخ، پہلی ٹہنی، تنا، پہلا پھول، پہلا پھل اور لدتے پھلوں کے زور سے زمین کے لب چھونے والا گراں بار درخت،

سورج کی روپہلی کرن، بھاپ، بخارات، دھواں، بادل، سیاہ بادل، ہواؤں کی نرم ہتھیلیوں پر دُور کا سفر، اور پہلا قطرہ

خوشیوں کا استعارہ، توتلی باتیں، گڑیوں سے کھیلنے کی عمر، معصوم سہیلیاں، نوخیزی، الہڑپنا، مٹیار عمر، بھرپور جوانی، غمزہ عشوہ ناز و ادا اور ساغر حسن کی چھلکاہٹ،

فرد، کنبہ،عائلہ، خاندان، خانوادہ، قبیلہ، نسل، قوم اور اقوام کا عروج و زوال….

یہ سب انقلاب کی رواں دواں صورتیں ہیں. دنیا کی ہر بات، ہر کلیے، ہر قاعدے، تمام نظریات اور عقیدوں پر اختلاف امکان رکھتا ہے سوائے انقلاب اور موت کے… لیکن موت بھی تو انقلاب ہی ایک صورت ہے.
انقلاب اور تغیرحال کمزور اقوام کے حق میں جتنا خوش کن تصور رکھتا ہے. غالب اور مستحکم معیشتوں اور مذاہب کے لئے اسی تناسب سے ایک ڈراؤنے خواب کا عندیہ اپنے اندر رکھتا ہے.
کسی بھی کامیاب فرد یا قوم کیلئے اگر بہ ہر سمت مطمئن بھی ہے یہ سوچ ایک مسلسل اذیت کا سبب بنی رہی ہے. کہیں میری موجودہ حیثیت چھن نہ جائے… کہیں میرے گھر کے سامنے قرقی کا ڈھول نہ بجے.
لیکن ابھرتا سورج اور گھومتی زمین اپنے چکروں میں نہ صرف موسموں اور شب وروز کے ہیر پھیر کا سبب بنتی ہے. بلکہ حالات کے الٹ پھیر اور اقوامِ عالم کے عروج وزوال کے سندیسے بھی ابتدا میں دبے لفظوں میں دیتی رہتی ہے. اور اخیر مدت میں پھیر کے سفاک لشکروں کو بھیج کر اپنا فطری عمل انجام دینے پر مجبور ہوتی ہے.
قرآن مجید اس بات کو یوں بیان کرتا ہے
“تِلْکَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُہَا بَیْنَ النَّاسِ”
ترجمہ
یہ دن ہیں جنہیں ہم لوگوں میں بدلتے ہیں

تبدیلی، انقلاب، عروج کا زوال اور زوال کا عروج میں بدلنا تاریخ کا ایک اٹل اور غیر منقطع، عملِ مسلسل ہے. اگر کسی قوتِ جارحہ کی دخل اندازی سے تبدیلی کا یہ عمل رک جائے تو تبدیلی کا یہ عمل کمزور اور مغلوب اقوام کی طرف سے ردعمل کا انتظار کرتا ہے. تاریخ بھی دیگر فطری اور کائنات کو رواں رکھنے والے عوامل کی طرح اپنے تفویض کردہ عمل میں کسی دوسرے عامل سے مزاحم ہونا پسند نہیں کرتی. جب تک اس کا راستہ روکا نہ جائے. وہ پرامن طریقے سے انقلاب اورپھیر کا یہ فطری وظیفہ سرانجام دیتی ہے……
تاریخ کمزور قوم کو جدوجہد کا ایک طویل عرصہ دیتی ہے. جس میں وہ قوم برتری حاصل کرنے کے تین مسلمہ طریقوں سے استفادہ حاصل کرکے حالات کو اپنے حق میں پھیر سکتی ہے. اور وہ تین طریقے یہ ہیں
١.عسکری مہارت اور برتری
٢.فنی اور علمی مہارتیں. اور علوم میں معاصر زمانے سے سبقت لے جانا
٣..دعوتی میدان میں انتھک محنت اور ہمہ گیر جہت پر اپنے موقف کو پھیلانا.
تاریخ کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے. مغلوب اقوام نے جب بھی ان تینوں یا ان میں سے ایک دو کو بھی مستقل اور منہجی بنیادوں پر اپنایا ہے وہ اپنے مقاصد میں شادکام ہوئی ہیں.
پھر کمزور اور مغلوب اقوام عسکری اور اصلاحی سے عہدِ گم گشتہ اور زریں ماضی کے لوٹ لانے کا ایک عرصہ مہلت سے گزارتی ہے. تاریخ کی دی گئی مہلت میں اگر وہ قوم انقلاب کے عمل سے گزرچکی تو بہت خوب.!
ورنہ تاریخ دونوں آنکھیں بند کرکے تبدیلی اور تغیر حال کا وہ تیز آراء چلاتی ہے. جس میں بجا طور سے کشتوں کے پشتے لگ جاتے ہیں.
پھر غالب اور مغلوب، محمود و ایاز بن کر ہمہ گیر بربادی کے تابعِ مہمل بن جاتے ہیں.
اسلام اور پیروکارانِ اسلام پچھلی کئی صدیوں سے مغلوبیت اور بعد ازاں مہلت کے اس عہد سے گزر آئے ہیں. اب ایک ہمہ گیر بربادی ہی اسلام کو عہدِ رفتہ کا عروج دلاسکتی ہے. پچھلی چار صدیاں اسلام کے پر آشوب ادوار میں سے تاریک تر ادوار پر مشتمل صدیاں تھیں. ہمارے اجتماعی فخر کا محور پہلے ہزارئیے کے افراد اور ادارے ہیں. ان چار صدیوں میں ہم دنیا کو بہ حیثیت امت کے بہت کم ایسے افراد یا ادارے مہیا کرسکے جن کے اثرات عالمگیر حیثیت کے حامل ہوں.
عسکری امور میں ہماری زبوں حالی زبانِ حال سے اس حدیث مبارک کا مصداق ہے کہ غیر مسلم اقوام ہم کو ترنوالہ جانتے ہوئے ہم پر ٹوٹ ٹوٹ پڑتی ہیں.
اور دعوتی میدان میں گذشتہ صدی کے اوائل میں برپا ہونے والی دعوت تبلیغ اگرچہ شاندار اور وسیع اثرات کی حامل تحریک ہے. لیکن اس کے ثمرات افراد تک محدود رہے ہیں. مسلمانوں کے اجتماعی تشخص کو بدلنے میں اب تک یہ تحریک کامیاب نہ ہوسکی. دعوت تبلیغ فرد کو مخاطب بناتی ہے. اقوام کو نہیں.
اب لگتا ہے تاریخ کی دی گئی مہلت بھی ختم ہونے کو ہے. اب تاریخ اپنے خوئے انقلاب کے زیرِ اثر انگڑائی لینے کو ہے. اب جب تاریخ کے دھارے کی آری چلے گی تو بہت خون پئے گی. اسے سرخ خون چاہئے اور خون سبھی کا سرخ ہوتا ہے. خون مذہب کی طرح رنگوں میں بٹا ہوا نہیں ہوتا.
انسانیت کے سر پر شاید اب تک کی سب سے مہیب اور سب سے فتنہ پرور جنگ، تیسری جنگ کا خطرہ منڈلارہا ہے.

شاد مردانوی

شاد مردانوی
شاد مردانوی
خیال کے بھرے بھرے وجود پر جامہ لفظ کی چستی سے نالاں، اضطراری شعر گو

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *