کابل دہلی کے نقش قدم پر

کابل دہلی کے نقش قدم پر
طاہر یاسین طاہر
دنیا میں افغانوں سے بڑھ کر بے وفا کوئی نہیں،نہ ہی ان سے بڑا لٹیرا اس خطے میں کوئی اور ہے۔وہ جن کا اپنا دماغ ہی نہیں؟نہ کوئی ریاستی ڈھانچہ،نہ کوئی تھینک ٹینک،مدتوں اس ملک نے جدید ریاستی نظام کا منہ نہیں دیکھا۔جس کے پاس طاقت اور لڑنے والے موجود ہیں وہ ہی اس علاقے کا حکمران رہا۔ بلکہ مختلف جتھے ۔تاریخی اعتبار سے برصغیر پر حملہ آور ہونے والے لوٹ مار کے لیے یہاں آتے تھے نہ کہ کسی ارفع الہٰی مقصد کی خاطر۔یہی ان کی افتاد طبع ہے اور یہی تاریخ کا کڑوا سچ۔ہم نے مگر انھیں ہیرو کا درجہ دے دیا۔ حتیٰ گلبدین حکمت یاراور دیگر کمانڈروں تک کو،جنھوں نے روسی فوجوں کی واپسی کے بعد اپنے ہی بھائی بندوں کو ذبح کرنا کار ثواب سمجھا۔ملا عمر کو بھی ہیرو تراشا گیا،ملا منصور کو بھی۔
افغانستان کی موجودہ سیاسی و عسکری صورتحال یک بیک نہیں بلکہ اس کے پیچھے افغانوں کی صدیوں کی معاشرتی،تہذیبی اور قبائلی و عائلی تاریخ ہے۔یہ ان کی طبع ہے۔ نہ خود امن سے رہتے ہیں،نہ پڑوس والوں کو امن سے رہنے دیتے ہیں۔محسن کشی ان کی طبیعت کا لازمی حصہ ہے۔جب سے پاکستان معرض وجود میں افغانستان کی طرف سے پاکستان کے خلاف سازشیں جاری ہیں۔ جنھیں مسلم برادری کا بہت درد ہے وہ تاریخ کے اوراق کو عقیدے کی عینک اتار کر پڑھیں۔سلامتی کونسل میں ہماری مخالفت کرنے والا افغانستان ہی ہے۔کیا یہ سچ نہیں کہ بلوچ علیحدگی پسندوں اور پختونستان کا خواب دیکھنے والوں کی محفوظ معاشی ،سیاسی اور عسکری پناہ گاہ افغانستان ہی رہا۔جمعہ خان صوفی کی کتاب اس پر گواہ ہے۔ہر وہ گروہ جس نے ریاست پاکستان کے خلاف مسلح کارروائیوں کا آغاز کیا اس کی قیادت کو افغانوں نے پناہ دی۔ بلوچ فراریوں سے لے کر اجمل خٹک اور ریاض بسرا سے لے کر ملا فضل اللہ تک ،ریاست کے مطلوب دہشت گردوں کو افغانستان نے پناہ بھی دی اور پیسہ بھی۔اسلحہ بھی اور ٹریننگ بھی۔
اس کے باوجود پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں امن اور متحارب گروہوں کے درمیان صلح کے لیے کردار ادا کیا۔ خود کو” فاتح ماسکو “سمجھنے والے افغانوں کو یاد رہے کہ ان بہادری ایک افسانوی داستان سے زیادہ نہیں۔ان کی فتح کے پیچھے امریکی ڈالرز،کافروں کا اسلحہ اور پاکستان کی منصوبہ بندی تھی۔آئی ایس آئی کی جدو جہد ہی روس کی شکست کا باعث بنی۔ افغانی کمانڈر فقط کرائے کے جہادی تھے،یہ ایک تلخ مگر تاریخی حقیقت ہے۔ہمیں امر میں کلام نہیں کہ افغان قبائلیوں کو نجی جہاد کے دورے پڑتے رہتے ہیں اور ان کے اسی فہم نے پورے خطے سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کو بند گلی میں لا کھڑا کیا ہے۔ ان کے اس فہم کو پذیرائی دینے والی عالمی و علاقائی مسلم طاقتوں کا کردار بھی قابل ِ گرفت ہے۔افغانستان کی کٹھ پتلی حکومتیں ہوں یا ملا عمر والی دنیا بیزار حکومت۔سب اس بات کا ادراک کرنے سے عاری ہیں کہ ریاستیں اپنی حفاظت کی خود ضامن ہوتی ہیں۔اس کے لیے انھیں عالمی و علاقائی طاقتوں اور پڑوسی ممالک سے اچھے دفاعی و معاشی تعلقات استوار کرنا ہوتے ہیں۔افغان مگر اپنی تاریخ کو دہرانے میں فخر محسوس کرتے ہیں ۔وہ راکٹ لانچر اٹھا کر پاکستان جیسے محسن اور ایٹمی طاقت ملک کے سفارت خانے چڑھ دوڑتے ہیں۔
30لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ مہاجروں کے علاوہ پاکستان میں غیر رجسٹرڈ افغانوں کی بھرمار ہے۔یہ پاکستان ہی ہے جس نے افغانوں کے لیے اپنے معاشرے کو خون آلود کر لیا۔افغانوں کی وجہ سے پاکستانی معاشرے میں کلاشنکوف اور ہیروئن کلچر عام ہوا۔پاکستان کی معیشت کو کئی سو ارب ڈالر کا نقصان تو حالیہ پندرہ برسوں میں صرف افغانستان کی جنگ کے باعث ہوا۔افغانستان کے عاقبت نا اندیش کٹھ پتلی حکمران اپنی داخلی کمزوریوں اور اپنے قبائلی رویوں کا ذمہ دار بھی پاکستان کو سمجھتے ہیں۔کابل میں قائم پاکستانی سفارت خانے پر شر پسندوں کی جانب سے حملہ کی قیادت افغان انٹیلی جنس ادارے کے سابق چیف کی جانب سے کرنا،پاکستان کے اس موقف کو درست ثابت کرتا ہے کہ بھارت اور افغان ایجنسیاں پاکستان میں تخریب کاری کرواتی ہیں۔سادہ بات یہی ہے کہ افغانستان میں امن سے خطے کے امن کی راہ ہموار ہو تی ہے،اور یہی پاکستان کے مفاد میں ہے۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ پاکستان شر پسندوں کی حمایت کرے؟دہن دریدہ افغانوں کو الزام تراشی سے پہلے کئی بار سوچنا چاہیے۔ کیا وقت نہیں آگیا کہ پاکستانی معاشرت و معیشت پہ بوجھ بننے والے افغانوں کو ان کے حمایتیوں سمیت سر حدسے پرے دھکیل دیا جائے۔ کب تک پاکستان ،افغانوں کی محسن کشی کو برداشت کرتا رہے گا؟یہ آشکار ہے کہ بھارت اور افغانستان کی تخریبی ایجنسیوں کا گہرا ربط ہے۔لیکن افغانستان کو تاریخ سے سبق سیکھتے ہوئے اپنے داخلی انتشار کی جانب توجہ دینی چاہیے۔اگر افغان ادارے اور عوام وہی کرتے رہے جو دہلی چاہتا ہے تو یاد رہے کہ ان کے نتائج خطے سمیت دنیا کے لیے بھی مثبت نہیں ہوں گے۔

طاہر یاسین طاہر
طاہر یاسین طاہر
صحافی،کالم نگار،تجزیہ نگار،شاعر،اسلام آباد سے تعلق

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *