درخواست برائے مدد ۔ حسیب حیات

اوپر کی سطح پر ہوئی  حرکت بتا رہی تھی کہ بس  اُبال آیا کہ آیا۔ اس بڑھتے ہوئے جوش کا اثر چائے کی پتی نے بھی قبول کیا اور اپنے اندر سنبھال رکھی رنگ وخوشبو بڑے پیار سے پانی کے حوالے کرنے لگی۔میں دودھ کا ڈبہ دائیں ہاتھ میں  اُٹھائے اُس لمحے کا منتظر تھا کہ جب دودھ کی تھوڑی سی مقدار میری چھُٹی کی صبح کو سہانابنا دے گی۔اسی دوران بائیں ران میں  مجھے جھنجھناہٹ محسوس ہوئی ۔میرا ہاتھ فوراً سے برمودا کی بے ڈھنگی سی جیب کی طرف بڑھا اس جیب کا خاصہ یہ کہ اس میں بڑی سی بڑی شے ڈالنا تو آسان مگر نکالنا ایک بڑا امتحان ہوا کرتا ہے  ۔مجبوری کا نام مگر شُکریہ ہی بھلا ہے  آج کل کے بچوں  کی پہنچ سے دوائیاں ہی نہیں موبائل بھی دور رکھنا پڑتا ہے ۔ روشن ہوئی موبائل سکرین پر جو نمبر اُبھرا وہ میرے بہت اپنے کا تھا۔
 
چھٹی کا دِن ،گرما گرم چائے کا تیار کپ اور ساتھ  یار کی کال جس سے سلام کی بجائے پہلا لفظ ہوتا “او کمینے توکہاں مرا کھپا پڑا ہے آج کل ؟”۔۔۔ کاش! یہ فارمیشن اُس روز بھی ایسی ہے سادی  ہوتی۔ میرے ہاتھ میں موبائل لرزتا رہا اور میں بے دید ہوئے سکرین تکتا رہا۔ میری بے حواسی دیکھتے ہوئے بیگم نے آگے بڑھ کر فون پر ایک نظر ڈالی ۔ ” میں کہتی ہوں اب اُٹھا بھی لیں۔ اللہ بہتر کرے گا اورانشااللہ اپنا  معجزہ دکھائے گا۔ بیگم کی بات سُن کر میری آنکھیں چمک اُٹھیں اور میں کہیں پیچھے جا پہنچا۔
وہ پانچ چھ  سال کا پیارا سا بچہ تھا جو ہم سے      مِلنے تین سو کِلومیٹر کا سفر طے کر کے آیا تھا۔ آتے ہی گھر میں اپنا کوئی ہم عمر ڈھونڈنے لگا۔ بچہ سمجھدار نکلا جلد ہی  جان گیا کہ یہاں اُس کا دوست ایک وہی ہو سکتا ہے وہ جو صحن میں بیٹھا ہے ۔ چاہتے ہوئے بھی دوستی کا ہاتھ  بڑھا نہ  پایا  تو مُجھے اپنا معاون بنائے  ساتھ لے آیا۔ “یہ کاٹے گا تو نہیں؟” خود پر طاری ہوتے  خوف پر آغاز میں ہی قابو پالینے کے لئے  اُس نے سوال کیا۔ میں نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے  کہا بیٹا یہ تو سب کا دوست ہے اور بچوں کوتومِنٹوں میں بیسٹ فرینڈ بنا لیتا ہے  ۔ دیکھو تو آپ پر نظر پڑتے ہی  چھلانگیں مارنے لگا ہے ۔ “پھِر جب اس نے  کاٹنا نہیں ہے تو اس کے اتنے بڑےبڑے دانت کیوں ہیں؟”۔
بچے کے سوال نے مُجھے سخت مُقابلے کے لئے ہوشیار کردیا میں نے اُس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا “بیٹا اس کے دانت  تو گندے لوگوں کو ڈرانے کے لئے ہیں آپ تو اچھے بچے ہو آپ کو کس بات کا  ڈر۔اُس کے چہرے سے خوف کے سائے دور ہٹنے لگے تھے مگر سوالوں کا سلسلہ اس نے توڑا نہیں ۔ “انکل یہ بتائیں کہ اگر میں اس کی دُم گھما گھما کر توڑ دوں تو کیا یہ پھر بھی مجھے نہیں کاٹے گا؟ ؟ دُم گھمانے کے اس معصومانہ سوال کے دوران بچہ عملی طور پر تین بار گھوما  اور چکرا گیا ۔ میں نے ایک ہاتھ سے اُسے  سنبھالتے ہوئے جواب دیا۔ دیکھو بیٹا یہ تو اپ کا فرینڈ ہے اور جب آپ فرینڈ کی دُم توڑو گے تو پتا ہے نا کیا ہوگا ،اللہ میاں سے آپ کا فرینڈ شکا یت کرے گا اور پتا ہے اللہ میاں کیا کریں گے۔ آپ کے پیچھے بھی ایک دُم لگا دیں گے اور ۔۔۔۔۔
ابھی میری بات مُکمل نا ہوئی تھی کہ اُس کے دونوں ہاتھ جھٹ اپنی تشریف سے جالگے چند لمحے وہ خاموشی سے لیسی کو دیکھتا رہا ، پھر اوپر آسمان کی طرف سر اُٹھا دیا ، نظریں گھماتا ہوا  مجھ تک پہنچا “اللہ میاں اس کی ہر بات مان لیتے  ہیں کیا ؟۔ اس سے پہلے کہ میں مزید کوئی کہانی گھڑتا لیسی گیند اُٹھا لائی اور خود ہی  بچے کے بہت قریب آگئی  تھی گیند اُس کے   قدموں میں رکھ کر کھیل کی دعوت دینے لگی ۔ لیسی تو کمال سیانی تھی  بچوں کی نفسیات ہم سے بہتر جانتی تھی اور ان معصوموں سے دوستی تو اس کی اکلوتی دُم کا کھیل تھا۔
مُجھے وہ دن بھی یاد آیا جب میں نے اُسے پہلی بار موٹر سائکل چلاتے ہوئے دیکھا تھا۔ اُس وقت غالباً وہ چھٹی جماعت میں تھا ۔ دو سال حفظ میں لگانے کی وجہ سے وہ چھٹی میں بارہ یا تیرہ سال کا تھا۔ انکل آئیں میں آپ کو بائیک پر سیر کرواؤں۔ میں نے اُسے کہاں نا بچے ابھی آپ بہت چھوٹے ہو۔ اوہو انکل ایک موقع تو دیں آپ حیران ہوجائیں گے کہ یہ بچہ بڑوں سے بھی  اچھی بائیک چلاتا ہے ۔ انکل صرف دس دِن ہوئے ہیں اور میں  چوتھے گئیر میں بھی ڈال لیتا ہوں بائیک ، ہاں جی۔۔ اچھا۔۔۔۔۔ میں چہرے پر حیرت کے تاثرات لاتے ہوئے بولا۔ تُمہارے ابا کو دو دو ماہ لگ گئے کلچ اور بریک کا فرق سمجھنے میں۔ جب بھی بریک لگانی ہوتی ان سے کلچ دب جاتا اور یہ بھی نہیں کہ پاؤں سے بریک لگادیں ایڑیاں زمین پر رگڑتے ہوئے بائیک روکا کرتے تھے، اور سُنو چھے ماہ لگے تھے آپ کے ابا کو بائیک کا چوتھا گئیر دریافت کرنے میں۔
اپنے اندر بنے مضبوط   باپ کے تصور کو کمزور دکھاتی کہانی سُن کر کھسیانی سی ہنسی ہنسا اورپوچھنے لگا ابا نے بائیک چلانی کب سیکھی تھی؟ میں نے بتایا بیٹے جب وہ پورے اٹھارہ سال کے ہوگئے تھے تب ۔ آپ کے ابا بہت اچھے انسان ہیں اور ہمیشہ قانون کا احترام کرتے ہیں اور آپ کو بھی بالکل اُن جیسا بننا ہے۔ اپنے ابا کی تعریف سُن کر کھِل اُٹھا ۔ انکل آ پ بالکل ٹھیک کہ رہےہیں، مُجھے بھی ابا جیسا اچھا انسان بننا ہے ۔
ذکر معجزے کا ہوا تھا جو مجھے ماضی میں گھسیٹ لے گیا۔وہ لڑکا اب ساڑھے سولہ سال کا ہوچکا ہے اور الائیڈ ہسپتال کے وارڈ میں دس دنوں سے بیہوش پڑا تھا اور مُجھ میں  اُس کے باپ کی  فون کال سُننے کا حوصلہ نہیں ہورہا۔ معجزہ کا سُن کر چند مِنٹ بعد میں نے دوست کا نمبر ملایا۔ دوسری طرف سے آواز سے  اُمید بندھی  محسوس ہوئی ۔ “یار میں حماد کو فیصل آباد سے لاہور  پرائیویٹ ہاسپٹل میں لے آیا ہوں کل صبح اس کا یہاں آپریشن ہے۔ ڈاکٹر نے  اچھی اُمید دلائی ہے بس تم سب دُعا کرو”۔
میرے دماغ میں تازہ پھول کی طرح لفظ معجزہ کھل اُٹھا۔ یہ بات تو رہنے دیجئے  کہ فیصل آباد الائیڈ ہسپتال میں کیا ہونا چاہیے تھا اور کیا ہوا۔ مگر وہاں دس دِن سے کومے میں پڑے ساڑھے سولہ سالہ حماد کے لئے بڑے سے لے کر  چھوٹے ڈاکٹر نے لفظ “دعا “بولنے کے اور کُچھ نہ  کیا تھا اور جو کیا تھا وہ۔۔۔۔ خیر چھوڑئیے۔اب مجبوراً اُسے لاہور علاج کے لئے لے جاناپڑا۔ یہ پرائیویٹ ہسپتال کی اصطلاح  بھی اپنے  معنی و مفہوم میں کیا خوب فِٹ بیٹھتی ہے ۔مطلب پرائی (مصیبت کا) ویٹ (وزن) تمام کا تمام  اُسی پر جِس پر وہ آن پڑی ہو۔
ابھی تین مہینے پہلے چنگے بھلے حماد کے سر میں ایک دن اچانک  درد ہوا تھا  ڈاکٹر کو دکھایا  تو خطرناک بیماری سے جنگ کی خبر ہوئی جو ابھی  تک  لڑی جارہی ہے ۔ اُسے تین  ماہ پہلے برین ٹیومر کی  تشخیص  ہوا تھا۔ تین اکتوبر کی شام وہ تیسری بار ایم آر آئی کروا کر واپس  گھر آتے وقت اُس نے باپ سے پوچھا ابا مُجھے ٹھیک ہونے میں اور کِتنے دِن لگ جائیں گے ؟۔ باپ نے ایک  زور دار جھٹکے سے تمام پریشانیاں  چہرے سے دور بھگائیں آنکھوں میں امید اور ہونٹوں پر مسکراہٹ سجا کر جواب دیا بس دو تین مہینوں میں میرا بیٹا بالکل ٹھیک ہوجائے گا۔ یہ سُن کر  حماد سوچ میں پڑ گیا ۔ باپ نے پوچھا بیٹا کیا سوچ رہے ہو؟ تو بولا ۔ سوچ رہا ہوں اس طرح تو میٹرک کی تیاری کے لئے میرے پاس بہت کم وقت بچے گا مگر میں پوزیشن ضرور لوں گا۔
گھر واپس آکر اس کی طبیعت بِگڑی اور وہ کومے میں چلا گیا۔ میں جب حماد کو دیکھنے فیصل آباد گیا تو اُس کےسرہانے استاد کو  نم آنکھوں میں اُمید سجائے کھڑے دیکھا۔ ایک اُستاد  کی کیفیت بھلاکوئی کیا سمجھے گا۔سال نہم میں ٹاپ کرنے والا بچہ اور  دہم جماعت میں اِس نام سےجُڑی اُمیدیں ہسپتال کےبیڈ پر بے حس و حرکت پڑی تھیں اور ایک اُستاد کُچھ نہ  کر سکتا تھا۔  اکتوبر کے مہینے کی  دس تاریخ  کو لاہور کے پرائیویٹ ہسپتال میں حماد کو  آپریٹ کیا گیا۔ آپریشن کامیاب ہوا ، ٹیومر نکال دیا گیا۔ ڈاکٹر کہتے ہیں ری کوری آہستہ آہستہ ہوگی ۔  اب تک کا ہسپتال کا بل ساڑھے آٹھ لاکھ بن چُکا ہے۔
آج کی تاریخ میں  شوکت خانم سے بائی آپسی رپورٹ بھی  آگئی ہے جس کے مُطابق رے ڈی ایشن لگائی جانی ہے اور اس کا علاج کراچی کے پرائیویٹ ہسپتال میں ساڑھے چھے لاکھ بتایا جارہا ہے ۔ مگر سوال یہ ہے  کہ حماد کا” نااہل” باپ اتنے پیسے کہاں سے لائے ؟ وہ باپ جو نام کا شریف نہ  ہوکر بھی عمر بھرشریفانہ زندگی سے  رومانس کرتا رہا ہو اُسے آئین کی کتاب نہ  سہی زمانے کےچلن کا سہارا لئے نا اہل ہی قرار دیا جانا چاہیے۔
نوٹ : احباب سے اپیل ہے کہ وہ حماد کے علاج واسطے اپنا حصہ ڈالیں۔
 ہمارا ٹارگٹ آٹھ لاکھ کا ہے ۔ اکاؤنٹ ڈیٹیل ذیل میں دی جارہی ہے ۔ ڈونیشنز کی تفصیل   بھی اپ ڈیٹ کی جائیں گی ٹارگٹ پورا ہوتے ساتھ
تعاون کا سلسلہ روک دیا جائے گا۔
Meezan Bank Limited (0402)
Kotwali Road Branch
Faisalabad Pakistan
Rana Shehzad Mehmood
Account no: 0004 0201 0042 5273
IBN PK06MEZN 0004 0201 0042 5273
 مزید تفصیل درکار ہوں  تو میرے نمبر پر رابطہ کیجئے 03334131404

Avatar
حسیب حیات
ایک پرائیویٹ بنک میں ملازم ہوں اسلام آباد میں رہائش رکھے ہوئے ہوں اور قلم اُٹھانے پر شوق کھینچ لاتا ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *