روناکس کس پر..؟؟

ابھی ابھی ایک دوست نے پیچھے سے آواز لگائی اور سلام کے بعد کہنے لگے:
کیسے ہو بھائی، کہاں گم رہتے ہو، دکھائی ہی نہیں دیتے۔
پہلے تو مذاقاً عرض گزار ہوئے کہ جناب ہوں گے تو دکھائی دیں گے نا، پھر عرض کیا:
مصروفیت کچھ زیادہ ہو گئی ہے اس لیے اب یہاں ایسے دکھائی دیتا ہوں جیسے پانی۔
جہاں بندہ رہائش پذیر ہے وہاں پانی کا مسئلہ درد سر بنا ہوا ہے۔ اس لیے بے اختیار پانی کی تشبیہ ذہن میں آگئی۔ اس تکلیف کا پورا کریڈٹ پیپلز پارٹی کی ناکام حکومت کو جاتا ہے جس نے ہم عوام کے کروڑوں روپے خرچ کر کے علاقے میں برائے نام پانی کے پلانٹ گاڑ دیے۔

جی ہاں کڑوروں روپے۔۔۔ جن کا حصول بھی ہم سے زبردستی ہوتا ہے، میں بات کر رہا ہوں کراچی میں واقع مشرف کالونی ہاکس بے اسکیم 42 کی، جسے مشرف دور حکومت میں گارڈن، لسبیلہ، دھوبی گارڈ کی کچی آبادیوں کو لیاری ایکسپرے وے کے قیام کے لیے منہدم کر کے بنایا گیا۔ مشرف کالونی جس کے لیے پی اے ایف بیس (PAF BASE ) کراچی سے ہوتے ہوئے براستہ ٹرک اسٹینڈ، پھر گریس، ( گریس جہاں پاکستان میرین اکیڈمی واقع ہے ) پھر ماڑی پور، پھر بدهنی گوٹھ اور آخر میں جاوید بحریہ سے بالکل سیدھا راستہ لینا پڑتا ہے۔ شروع شروع میں اس کی آبادی کا حال سوسائٹی نما تھا۔ پختہ سڑکیں، اسٹریٹ لائٹس، پانی کی فراوانی، بجلی، گیس، گلی گلی میں کچرے کے ڈبے، اور انہیں اٹھانے کے لیے ہر ہفتے کے اختتام پر آنے والی گاڑی۔ مگر اب صورت حال یہ ہے کہ کچرے کے ڈبے کے پائپوں سے علاقے کے مکینوں نے چارپائیاں بنا لی ہیں۔ اسٹریٹ لائٹس کھاڑ اکھاڑ کر اپنے گھروں کے باہر گلی کی روشنی کے لیے نصب کردیے ہیں، بجلی دن بهر میں آٹھ گھنٹے غائب اور گیس ہر جمعے کے جمعے ہی میسر ہوتی ہے۔ مگر سردیوں میں گیس کی صورت حال نا قابل بیان ہوجاتی ہے۔

سڑکوں کا حال پی اے ایف بیس سے ہی شدید ابتری کا شکار ہے۔ خصوصاً ٹرک اسٹینڈ پر، جہاں مگر مچھ نما بیس بیس بائیس بائیس ویلرز ٹرکوں نے سڑکوں کی وہ حالت کر رکهی ہے جو آپ کو ڈھونڈنے سے بھی نہ مل سکے گی۔ (ان مگر مچھ نما ٹرکوں نے یہاں کے رہائشیوں کے لیے جو مشکلات کھڑی کی ہوئی ہیں اسے بھی کسی روز آپ سے بیان کروں گا)۔ اسی طرح مشرف کالونی میں واقع سڑکوں کا بھی یہی حال ہے۔ لوگوں کے آباد ہونے کے وقت کہا گیا تھا کہ ہر 8 سال بعد سڑکوں اور برساتی نالوں کو ازسرِنو تعمیر کیا جائے گا۔ مگر یہ وعدے صرف وعدے ہی رہے۔ کبھی پورے نہ ہوئے۔

ٹرانسپورٹ کی ابتر صورت حال کو دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ بے اختیار لاہور کی میٹرو بسوں میں کیے گئے سفر یاد آجاتے ہیں۔ رعایتی قیمتوں پر انتہائی پرسکون آرام دہ سفر، جو آپ کو ہمیشہ یاد رہے۔ اس کے مقابلہ میں یہاں کی منی بسوں پر چڑھتے ہی کبھی ڈنڈا ہاتھ میں آجائے تو کبھی بیٹھتے ہی سیٹھ نیچے چلی جائے اور بس کے ٹیپ سسٹم کا تو یہ حال ہوتا ہے کہ یہاں بس کسی کهڈے میں پھنسی تو ٹیپ کے منہ پر خودکار تالا لگ جاتا ہے۔ کچھ دیر بعد جب بس پھر سے پختہ سڑک پر دوڑنے لگے تو ٹیپ کی آواز معجزاتی طور پر لوٹ آتی ہے۔ "منزل ہے دور محبوب ہے پاس" خود ہی بتائیے کیا لطف ایسے گانے سننے کا جس میں ٹیپ بھی ہکلا رہا ہو!

یہ میرے پیارے شہر کے ایک نسبتا معروف علاقے کی پسماندگی کی کچھ ٹوٹی پھوٹی جھلکیاں ہیں۔ نجانے روشنیوں کے شہر کراچی میں ایسے کتنے علاقے ان مصائب میں مبتلا میری طرح کسی انقلاب کے انتظار میں فضا کو مستقل گھور رہے ہوں۔

عمیر اقبال
ابھی تعارف کے قابل نہیں ہوئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *