• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • سنتھیا ڈی رچی کے سنگین الزامات ، کیا ٹائمنگ ہے؟۔۔ غیور شاہ ترمذی

سنتھیا ڈی رچی کے سنگین الزامات ، کیا ٹائمنگ ہے؟۔۔ غیور شاہ ترمذی

پیپلز پارٹی کا دور حکومت تھا۔ مانسہرہ کے علاقہ اوگی سے تعلق رکھنے والے تحریک انصاف کے راہنما اور وفاقی وزیر نارکوٹکس اعظم خان سواتی ان دنوں جمعیت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمٰن سے وابستہ تھے ۔ مخلوط حکومت میں جمعیت کے کوٹہ پر انہیں وفاقی وزیر سائینس و ٹیکنالوجی لگایا گیا تھا مگر وہ وزارت پٹرولیم کے دعوے دار تھے۔ ایسا وہ اس لئے چاہتے تھے کہ وہ ماضی میں امریکہ اور میکسیکو کے لئے خام تیل سپلائی کرنے والے ایک بحری جہاز کے مالک رہ چکے تھے اور پٹرولیم کی لاجسٹک میں تجربہ رکھنے کے دعوے دار تھے۔ امریکہ میں ہی ان کی ملکیت میں سٹورز کی ایک چین (chain) بھی تھی۔ ضمناً  عرض ہے کہ سواتی سنہ 2000ء میں امریکہ سے مانسہرہ واپس آئے تو ڈاڈر میں سیلاب متاثرین کو 10 ملین کا جعلی چیک دینے کے تنازعہ میں ملوث ہو گئے۔ بعد ازاں مقدمہ کے اندراج کے بعد گورنر سرحد افتخار خان کی مداخلت کے بعد ہزارہ یونیورسٹی کی چاردیواری کے لیے نقد رقوم ادا کرکے مقدمہ سے جان چھڑائی اور معافی کے بعد معاملہ ختم ہو سکا۔

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور صدر آصف علی زارداری سے سواتی اکثر کہتے کہ ان کا پورٹ فولیو تبدیل کیا جائے۔ انہی دنوں سواتی نے ایک 38 سالہ خوبرو امریکی سوشل میڈیا بلاگر سنتھیا ڈی رچی کو رحمن ملک سے متعارف کروایا۔ یہ سواتی ہی تھے جو سنتھیا کو بعد ازاں مخدوم شہاب الدین اور یوسف رضا گیلانی سے ملوانے لے گئے۔ رحمن ملک نے سنتھیا کا امریکہ میں بیک گراؤنڈ چیک کروایا تو انہیں یہ خاتون مشکوک لگی۔ انہوں نے فوری طور پر مخدوم شہاب الدین اور یوسف رضا گیلانی کو اس خاتون سے دور رہنے کا مشورہ دیا۔ یوسف رضا گیلانی حیران رہ گئے کہ سواتی نے یہ کیا حرکت کی کہ وزیر اعظم پاکستان کی ملاقات ایک مشکوک سرگرمیوں والی خاتون سے کروا دی۔ اسی دوران اعظم خاں سواتی ایک اور غلطی کر گئے کہ انہوں نے اپنی ہی حکومت پر تنقید کر دی جس کی بڑی وجہ وزارت حج کی طرف سے سعودیہ میں ناقص انتظامات تھے۔ اسی بنیاد پر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے انہیں وزارت سے برطرف کردیا۔ سواتی تو بعد ازاں جمعیت علماء اسلام سے بھی علیحدگی   اختیار کر نے ے  بعد پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے لیکن سنتھیا ڈی رچی کو سیاسی راہنماؤں میں پذیرائی نہ ملنے پر “بڑے لوگوں” سے متعارف کروا گئے۔

سنہ 2011ء سے اب تک خاموش سنتھیا نے یکایک سنگین الزامات کی تیز دھاری تلوار نکال کر پیپلز پارٹی کے عہدیداران کے کانوں سے دھواں نکال دیا ہے۔ گزشتہ کچھ ہفتوں سے پیپلزپارٹی اور سنتھیا رچی کے درمیان سوشل میڈیا پر جاری الفاظ کی جنگ میں اب ریپ اور جنسی تشدد بھی شامل ہوگیا ہے،۔ موصوفہ نے گزشتہ روز ایک فیس بک ویڈیو میں یہ الزام لگایا ہے کہ سنہ 2011 ء میں جب وہ اپنے پاکستانی ویزے کی تجدید کروا رہی تھیں، اس سلسلے میں انہیں اس وقت کے وزیرِداخلہ رحمان ملک کے سرکاری گھر جانا پڑا، جہاں انہیں بیہوشی کا مشروب پلایا گیا اور رحمان ملک نے ان سے زیادتی کی، جبکہ کچھ دیگر مواقع پر اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور ایم این اے مخدوم شہاب الدین نے بھی انہیں جنسی طور پر حراساں کیا۔ اس وقت تک سواتی حکومت سے الگ ہو چکے تھے اور اسی لئے سنتھیا اپنے طور پر ہی وفاقی وزراء سے راہ و رسم بڑھاتی رہی۔ ، سنتھیا کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ واقعات اس وقت امریکن سفارت خانے میں موجود افسران کے سامنے بیان کئے لیکن چونکہ عین اسی وقت ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کا آپریشن ہوا تھا اور پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات خراب ترین تھے، لہذا سفارت خانے کے افسران نے ان کی بات پر کوئی خاص توجہ نہ دی اور یوں یہ معاملہ وقتی طور پر حالات کی نظر ہو کر دب گیا۔

سنتھیا امریکی شہری ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی رہائشی بھی ہیں اور ان کے بقول انہیں 2009ء میں آصف زرداری حکومت میں ہی پاکستان آنے کی دعوت دی گئی تھی مگر یہ دعوت کیوں دی گئی تھی، اس بارے میں سنتھیا کچھ نہیں بتا رہیں۔ کچھ عرصہ قبل سنتھیا کی طرف سے بینظیر بھٹو شہید اور زرداری کے کردار پر کئے گئے ٹویٹس کی وجہ سے پی پی نے پہلے ہی ایف آئی اے کے سائبر کرائم سیل میں ایک درخواست جمع کروائی ہوئی ہے، جس پر تحقیقات جاری ہیں، ۔ اب سنتھیا نے بھی ایف آئی اے میں درخواست جمع کروا دی ہے جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ سعودی عرب اور یو اے ای میں رجسٹر فون نمبروں سے انہیں قتل، ریپ اور سبق سکھانے والی دھمکیوں پر مبنی کالز آرہی ہیں، ان کی جان کو خطرہ ہے، لہذا انہیں تحفظ فراہم کیا جائے۔

سنتھیا رچی کی طرف سے لگائے گئے الزامات میں اتنی دیر کیوں؟۔

سنہ 2013ء کے انتخابات کے دوران جب پیپلز پارٹی پر سخت ترین دباؤ تھا کہ پنجاب میں اپنے امیدوار نہ کھڑا کرے اور نہ انتخابی مہم چلائے، اس وقت سنتھیا کیوں سامنے نہیں آئی؟۔ اگر اس وقت سنتھیا کو سامنے لا کر یہ الزامات لگوا دئیے جاتے تو ممکن ہے کہ پیپلز پارٹی سندھ میں بھی الیکشن نہ جیت پاتی۔ پھر سنہ 2013ء سے سنہ 2018ء کے دوران نون لیگی حکومت میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار تھے جو پیپلز پارٹی کے سخت مخالف ہیں۔ سنتھیا نے ان سے رابطہ کر کے اپنے اوپر ہوئے مبینہ “ظلم” کی کہانی کیوں نہ سنائی؟۔ چوہدری نثار تو ایسی خبر کے دیوانے ہوتے اور وہ سنتھیا کو مکمل تحفظ بھی فراہم کرتے اور پیپلز پارٹی لیڈروں کے خلاف ہر طرح کی تحقیقات بھی یقینی بناتے۔ کچھ واقفان حال کہہ رہے ہیں کہ اتنے سالوں کی خاموشی کے بعد سنتھیا کی طرف سے اس وقت ان الزامات کی ٹائمنگ کچھ ایسی ہے جس سے لگ رہا ہے کہ پیپلز پارٹی اور نون لیگ نے ابھی تک 18ویں ترمیم میں این ایف سی ایوارڈ کی تقسیم نو پر تعاون نہیں کیا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سنتھیا نے مسلم لیگ نون کو بھی دھمکی لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اگلا نمبر ان کا ہے۔

اگلے مالی سال کے لئے بجٹ کی آمد آمد ہے جس میں ذرائع کہہ رہے ہیں کہ سرکاری ملازمین اور پنشنروں کی تنخواہوں میں 20٪ کٹوتی کے لئے آئی ایم ایف کی طرف سے شدید دباؤ ہے۔ سٹیل مل کو فروخت کرنے کی بھی خبریں چل رہی ہیں جس سے حکومت کو 1500 ارب روپے سے زائد کی آمدنی متوقع ہے مگر اس کے لئے سٹیل مل کے 9 ہزار سے زائد ملازمین کی نوکریاں ختم کرنا ہوں گی جس سے شدید بے چینی پھیلنے کا خدشہ ہے۔ کورونا وائرس کی وجہ سے 40 لاکھ لوگ روزگار کھو چکے ہیں اور اگلے مہینے کے اختتام تک یہ تعداد ایک کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔ ایسے شدید بحرانوں کے عین بیچ سنتھیا ڈی رچی کے الزامات ۔۔ کیسے کر لیتے ہوں گے یہ سکرپٹ لکھنے والے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پی پی پی اور سنتھیا کی طرف سے ایک دوسرے پر لگائے جانے والے الزامات کی سچائی کے بارے میں تحقیقات تو اب ایف آئی اے نے کرنی ہے اور عدالتوں نے اس پر فیصلے دینے ہیں، لیکن ایک چیز نظر آرہی ہے کہ گندے الزامات اور دھمکیوں کا یہ سلسلہ فی الحال جلدی تھمنے والا نہیں ہے، کیونکہ دونوں اطراف سے ایک دوسرے پر لفظی بمباری کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *