ستیہ پال آنند بنام مرزا اسد اللہ خان غالب
(ایک نظم جس میں صرف ستیہ پال آنند ہی محو کلام ہیں۔ مرزا غالب شاید عالمِ لاہوت میں ان کی شکائتیں سن رہے ہیں) اسدؔ کو بت پرستی سے غرض درد آشنائی ہے نہاں ہیں نالۂ ناقوس میں، در← مزید پڑھیے
