ناصر عباس نیّر کی تحاریر

پرانی استعماریت کی طرف مراجعت/ناصر عباس نیّر

دوسری جنگ عظیم کے بعد ، سولھویں صدی سے شروع ہونےو الی یورپی استعماریت از کاررفتہ ہونے لگی تھی۔ دوردراز کے خطوں پر براہ ِ راست حکومت کرنے کا عمل فرسودہ محسوس ہونے لگاتھا۔ اس کی جگہ ، بالواسطہ اور←  مزید پڑھیے

ناصر کاظمی کا فن: خالی پیالے کی جمالیات/ناصر عباس نیّر

کل لمز میں ناصر کاظمی کی شاعری پر گفتگو کی۔ ہجرت ، اداسی ، تنہائی ، رت جگا وغیرہ کے علاوہ ، ناصر کی شاعری کی جس پہلو پر بہ طور خاص بات ہوئی ، وہ ان کا فن شعر←  مزید پڑھیے

مقبولیت کی آرزو کسے نہیں؟-ناصر عباس نیّر

ایک تلخ سچ یہ ہے کہ یہ آرزو انھیں بھی ہے جو گم نامی کی زندگی کی مدح کیا کرتے ہیں؛ وہ اپنی گمنامی کی شہرت چاہتے ہیں۔ کچھ اپنی بد نامی کو بھی شہرت ومقبولیت کا ذریعہ بنالیتے ہیں۔←  مزید پڑھیے

“جب تک ہے زمین” کی پہلی سالگرہ/ناصر عباس نیّر

ہم اپنے بچوں، والدین، عزیزوں، دوستوں اور خود اپنی سالگرہ مناتے ہیں، تو کتابوں کی سالگرہ کیوں نہیں۔ ایک برس پہلے، آج ہی کے دن مجھے سنگ میل سے، اپنے پانچویں افسانوی مجموعے “جب تک ہے زمین” کے اعزازی نسخے←  مزید پڑھیے

میرے دل کا سرخ رجسٹر/ناصر عباس نیّر

لینن کے پاس نیلی نوٹ بک تھی، جس میں اس نے ریاست اور انقلاب کے اشارات لکھے۔ وہ نوٹ بک دنیا کے لیے تھی۔ میرے پاس سرخ رجسٹر ہے۔ مجھے معلوم ہے، میں کوئی انقلاب نہیں لاسکتا۔ میں اس رجسٹر←  مزید پڑھیے

فکشن میں ’اسرار، وہم و حقیقت کے امتزاج ‘ کی حقیقت اور نیّر مسعود کی ’’رویائی حقیقت نگاری

  فکشن میں ’اسرار، وہم و حقیقت کے امتزاج ‘ کی حقیقت اور نیّر مسعود کی ’’رویائی حقیقت نگاری؛اکثر کہا جاتا ہے کہ نیّر مسعود کے افسانوں کی فضا دھندلی ، خواب ناک اور پراسرارہے۔ ایک قسم کی مابعد الطبیعیات←  مزید پڑھیے

منٹو کی قبر ، کتبہ اور منٹو کا رت جگا/ناصر عباس نیّر

منٹو میانی صاحب قبرستان میں دفن ہیں۔ میانی صاحب قدیم اور گنجان قبرستان ہے۔ کوئی ڈیڑھ سو ایکڑ پر پھیلا ہوا۔ اس کے باوجود قبر پر قبر چڑھی ہے۔ کچھ نئی قبروں نے پرانی قبروں کو نگل لیا ہے۔ دفن←  مزید پڑھیے

لوگ ہماری مخالفت کیوں کرتے ہیں؟(میرا داغستان جدید )-ناصر عباس نیّر

میں، رسول حمزہ توف، خود ہی لوگوں کو مخالفت کا موقع دیتا ہوں۔ میں شاعری لکھتا ہوں، سناتا ہوں، شاعری پر گفتگو کرتا ہوں، اپنی زبان کی مدح کرتا ہوں، اپنے ابا کا ذکر کرتا ہوں۔ میں لوگوں کو ایک←  مزید پڑھیے

میری زبان ہی میری دنیا ہے /ناصر عباس نیّر

میں بتانا چاہ رہا تھا کہ میں لسانی فلسفے سے رغبت پیدا نہیں کرسکا، مگر آسٹریائی لسانی فلسفی ، وٹگنسٹائن کاقول، میرے ذہن میں اکثرگونجتا رہتا ہے۔ ’’میری دنیا کی حد وہی ہے ،جو میری زبان کی حد ہے‘‘۔ پہلی←  مزید پڑھیے

اروندھتی رائے کی آپ بیتی/ناصر عباس نیّر

وہ اپنی والدہ میری رائے کو اپنی کہا نی کا اہم کردار سمجھتی ہیں ، تاہم یہ کتاب خود ارون دھتی رائے کی بہ طور شخص اور بہ طور مصنف جدوجہد کی کہانی ہے۔ اپنی کہانی لکھنا آسان نہیں ہوتا۔،سب←  مزید پڑھیے

رنگوں کا بھی باطن ہوتا ہے/ناصر عباس نیّر

’’خواب اور آنسو ،وراثت میں منتقل نہیں ہوتے’’ اور ’’رنگوں کا بھی باطن ہوتا ہے’’ میں محسوس کرتاہوں کہ سدا کے ہر شخص کی آواز دوسرے سے جدا ہے۔باپ کی آواز بیٹے سے نہیں ملتی۔ جس طرح میری آواز، میرے←  مزید پڑھیے

کیا گھوڑے خطا نہیں کرتے ؟-ناصر عباس نیّر

بعض تخلیق کارکہتے ہیں کہ انھیں تنقیدی نظریات کیا فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ ان کے ذہن میں یہ خیال راسخ ہوتا ہے کہ وہ تو براہ راست رحمان کے شاگرد، یعنی تلمیذ الرحمٰن ہیں، اس لیے انھی کسی بندے بشر←  مزید پڑھیے

میں زینب کو نہیں بھول سکتا(میرا داغستان جدید سے اقتباس)- ناصر عباس نیّر

داغستان کا کوئی شخص ،زینب کو نہیں بھول سکتا۔ وہ سدا کی گلیوں میں پھرا کرتی ہے۔ جس وقت وہ سدا کی گلیوں میں دکھائی نہیں دیتی ، تب اس کی موجودگی زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ اس کے بغیر ،←  مزید پڑھیے

سیلاب، گھر ، چیزیں، یادیں/ناصر عباس نیّر

ان دنوں پنجاب، بدترین سیلاب کی زد میں ہے۔ پانی ،جو زندگی کی بنیاد اور ضمانت ہے، اب یہی پانی، زندگی سے بدترین عداوت پر اتر آیا ہے۔ (اس میں بڑا ہاتھ مقتدر طبقوں کی حماقتوں اور لالچ اور ترقی←  مزید پڑھیے

زبان کے پورے عالم کی سیر اور زبان کا قید خانہ(میرا داغستان جدید ‘سے اقتباس)-ناصر عباس نیّر

جب تک نام موجود ہیں، چیزوں کو حیات ابدی حاصل ہے۔ جنھیں نام نہیں ملے، وہ فنا کے ایک ہی تیز جھکڑ میں ،تنکے کی مانند معدوم ہوگئیں۔ لیکن ،رسول ، میرے شاعر،ابدیت پانے کے بعد چیزوں پر کیا گزرتی←  مزید پڑھیے

انا، توہین کا زخم اور جنگ/ناصر عباس نیّر

مجھے نیند کم آتی ہے۔ گہری ، مکمل بے خبری کی نیند تو میراسب سے بڑا خواب ہے۔ بڑے خواب کہاں پورا ہواکرتے ہیں۔ تھوڑی بہت نیند جو آتی ہے ،اس میں خیالات کے کئی سلسلے ہوتے ہیں۔ کچھ زنجیر←  مزید پڑھیے

انتھروپوسین، سیلِ بلا،فطرت کا جنون/ناصر عباس نیّر

کل بونیر، مینگورہ، سوات میں جو کچھ دیکھا اسے بیان کرنا آسان نہیں۔ یہ نہیں کہ دکھ اور مصیبت کے بیان کے الفاظ موجود نہیں ہیں، بلکہ یہ کہ یہ سب دکھ اور مصیبت کی معلوم صورتوں سے سوا تھا۔←  مزید پڑھیے

رسول حمزہ توف کی خیالی یادداشتیں/ناصر عباس نیّر

’’شکستہ دل کی دو صدائیں ہوتی ہیں’’ وہ آخری بارچھ ماہ پہلے مجھے ملا۔ ان دنوں وہ لوگوں کو ہنسانے کے لیے مسخرے کا کردار اپنائے ہوئے تھا۔ اس بار میں نے ا س کے رویے میں بے اعتنائی محسوس←  مزید پڑھیے

وطن اور جلاوطنی ، مشمولہ ’’عالمگیریت اور ارددو‘‘/ناصر عباس نیّر

’’جنگل کےشرفااورکہانی کاجواب کہانی ہے:جب تک شیر اپنے مئورخ نہیں پیدا کرتے “ جس زمانے میں ایلزپتھ ہکسلے اپنی کتاب White Man’s Country شایع کر رہی تھیں،انھی دنوں،لندن سکول آف اکنامکس و پولیٹیکل سائنس کے ممتاز پروفیسر برونسلا میلنوسکی کے←  مزید پڑھیے

ستیہ پا ل آنند کی یاد میں/ناصر عباس نیّر

آج صبح ستیہ پال آنند کے انتقال کی خبر ملی۔ موت کی ہر خبر پہلے ہمیں خاموش کرتی ہے،پھر ایک دم ہمارے اندر ، دنیا سے گزر جانے والی کی موجودگی بھر دیتی ہے۔ کئی بار ہم مرنے والے کو←  مزید پڑھیے