صحرائے تھر یا پھر گریٹ انڈین ڈیزرٹ دنیا کا نواں بڑا گرم اور قدرے خشک صحرا ہے جو لگ بھگ 7 ہزار مربع میل رقبے پر پاکستان و بھارت میں پھیلا ہوا ہے۔ اسے دنیا کا واحد سرسبز صحرا بھی← مزید پڑھیے
حویلی فتح سنگھ، جامعہ پنجاب ؛ اکتوبر 1882 میں قائم ہونے والی جامعہ پنجاب، لاہور کی سب سے بڑی اور قدیم ترین یونیورسٹی ہے جو اب ایک سو تینتالیس سال کی ہو چکی ہے۔ یونیورسٹی کی سینیٹ کا پہلا اجلاس← مزید پڑھیے
کوئی بھی شخص آج تک یہ دعویٰ نہیں کر سکا کہ اس نے لاہور کی تاریخ، ثقافت، تہذیب، ورثے اور اقدار کا حق ادا کر دیا ہے۔ یہ شہر اپنے آپ میں ایک سلطنت ہے۔ اس کا ورثہ اس کی← مزید پڑھیے
اُوچھالی جھیل ؛ ہجرتی پرندوں، دھند سے ڈھکے پانیوں اور سحر انگیز تصاویر کا کہیں ذکر آئے تو میرے ذہن میں اوچھالی کا نام خود بخود آ جاتا ہے۔ اوچھالی جھیل وادئ سون میں انگہ اور نوشہرہ کے پاس واقع← مزید پڑھیے
سیاحت کے حوالے سے جھیل کا نام آتے ہی ہماری نظر شمال کی طرف اٹھ جاتی ہے جہاں دنیا کی چند حسین ترین جھیلیں موجود ہیں۔ خیبرپختونخواہ اور گلگت بلتستان میں پاکستان کی بہت سی بڑی اور مشہور جھیلیں واقع← مزید پڑھیے
سیاحت اور آثارِ قدیمہ کے تحفظ کو فروغ دینے کے کئی طریقے ہیں جن میں سیاحتی دوروں کے ساتھ ساتھ سیمینار، کانفرنسز ، تصویری نمائشوں اور سیاحتی و ثقافتی میلوں کا انعقاد شامل ہیں۔ تصویری نمائش کا یہ فائدہ ہے← مزید پڑھیے
محمد یعقوب خان اور معاہدہ گندمک ؛ محمد یعقوب خان، اپنے بھائی ایوب خان کی طرح امیرِ افغانستان اور صوبہ ہرات کے گورنر رہ چکے ہیں۔ یعقوب خان کو ان کے والد شیرعلی نے کم عمری میں ہی ہرات کی← مزید پڑھیے
قسمت ایک بار پھر مجھے پشاور لے آئی تھی جس کی بنیادی وجہ خیبر پاس ریلوے اور لنڈی خانہ کا اسٹیشن تھا۔ یہ داستان آپ کو بعد میں سناؤں گا پہلے چلتے ہیں اس تاریخ کی طرف جو ہم نے← مزید پڑھیے
انگریزوں کا خواب پورا ہو جاتا تو آج یہ بڑا جنکشن ہوتا۔ رُک جانا ہے، مجھے رُک جانا تھا، مجھے رُک ہی تو جانا تھا، جب سے رضا علی عابدی کی کتاب ”ریل کہانی“ پڑھی تھی، مجھے رُک ریلوے اسٹیشن← مزید پڑھیے
لگ بھگ آٹھ کنال پر محیط قدیمی مبارک حویلی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ لگ بھگ ایک سو ستر سال قبل نہ صرف لاہور بلکہ ملک کا سب سے قدیم محرم کا جلوس یہاں سے شروع ہوا اور کئی← مزید پڑھیے
حصّہ اوّل؛ضلع اٹک کے ایک سفر کی دلچسپ داستان/ڈاکٹر محمد عظیم شاہ بخاری شمشان گھاٹ ؛ خیبر پختونخواہ میں داخل ہوتے ہی دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر ایک پرانی عمارت نظر آئے گی۔ یہ پرانا شمشان گھاٹ ہے جہاں← مزید پڑھیے
بھئی پوٹھوہار کے بھی کیا کہنے ہیں۔۔۔ تاریخ کا مارا ہوا یہاں آ کر کبھی بور نہیں ہوتا۔ کہیں قلعے ہیں تو کہیں بارہ دری اور مندر۔ کہیں ڈٰیم ہیں تو کہیں خوبصورت وادیاں، جھیلیں اور مقبرے۔ یہ علاقہ جتنا← مزید پڑھیے
ملکوال شاید کوئی بہت مشہور شہر نہیں ہے نا آپ میں سے بیشتر اسے جانتے ہوں گے لیکن میرے لے کچھ حوالوں سے یہ شہر بہت خاص ہے اور اسے پسند کرنے کے لیے وہ حوالے ہی کافی ہیں۔ ضلع← مزید پڑھیے
ملک کے طول و عرض میں بچھائے جانے والے نیرو گیج اور میٹر گیج ٹریکس کی کہانی داؤد خیل سے ماڑی انڈس تک کا دس کلومیٹر ٹریک اب بھی فعال ہے جبکہ اس سے آگے کا تمام نیرو گیج ٹریک← مزید پڑھیے
ملک کے طول و عرض میں بچھائے جانے والے نیرو گیج اور میٹر گیج ٹریکس کی کہانی 1850 میں جب تاجِ برطانیہ نے سر ہنری بارٹلے فریئر کو سندھ کا چیف کمشنر بنا کے بھیجا، تو وہ اپنے ساتھ ساتھ← مزید پڑھیے
یہ تین سے چار ٹریکس کا مجموعہ ہے جو سندھ ساگر دوآب کے شہروں کو چج دوآب کے جنکشن ملکوال سے ملاتا ہے۔ شروع میں یہ ٹریک لالہ موسیٰ سے ملکوال تک میٹر گیج کے طور پہ تعمیر کیا گیا← مزید پڑھیے
آج کتابوں کے عالمی دن پر ہم ذکر کریں گے ریاست بہاول پور کے سب سے بڑے اور قدیمی نجی کتب خانے کا جو صودق آباد کے ایک دیہات میں واقع ہے۔ یہ مبارک اردو لائبریری ہے جس کی بنیاد← مزید پڑھیے
چونکہ زندگی کا سفر جاری و ساری رہتا ہے سو اس رمضان بھی کچھ سفر درپیش رہے اور ہم بھوکے پیاسے در در کی خاک چھانتے رہے۔ اِن میں سے ایک سفر ایسا ہے جو میں آپ سب سے لازمی← مزید پڑھیے
1991 کی بات ہے جب پاکستان ریلویز نے ٹرانسپورٹ مافیا اور مختلف سیاسی و سازشی عناصر کی بدولت بہاولپور ریجن کا ایک خوبصورت اور بہترین جنکشن ختم کر کے اسے بے آسرا کر دیا۔ یہ بات ہے خان پور جنکشن← مزید پڑھیے
سندھ دھرتی کے بارے میں کیا لکھوں۔۔۔؟ سمندر کو کوزے میں بند کرنا ہمیشہ سے ہی مشکل رہا ہے پھر یہاں تو اس خطے کا ذکر ہے جس کی ثقافت اتنی زرخیز ہے کہ لکھنے پہ آئیں تو کئی قلم← مزید پڑھیے