• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • پیارے ہم وطنو! اپنی آپ دیکھنا، کورونا سے جنگ میں حکومت پر نہ رہنا(حصّہ اوّل)۔۔ غیور شاہ ترمذی

پیارے ہم وطنو! اپنی آپ دیکھنا، کورونا سے جنگ میں حکومت پر نہ رہنا(حصّہ اوّل)۔۔ غیور شاہ ترمذی

امیر المومنین مولا علی مشکل کشاء علیہ السلام کا فرمان ہے کہ 3 کاموں سے بےوقوف کی پہچان ہوتی ہے۔
1: وہ اپنے ضروری کاموں سے لاپرواہ رہتا ہے۔
2: جس چیز سے کچھ حاصل نہ ہو، اس کے بارے گفتگو کرتا ہے,یعنی لایعنی اور سمجھ میں نہ آ سکنے والی گفتگو کرتا ہے۔
3:جس چیز کے بارے میں پوچھا نہ گیا ہو، اس کا جواب دینے کی کوشش کرتا ہے۔ یا کسی معاملہ کو حل کرنے کے لئے جن اقدامات کی ضرورت ہو، وہ اٹھانے کی بجائے ہر معاملہ کو اپنی نااہلی سے ہینڈل کرے۔

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام اور اس کے علاج کے ضمن میں ہماری حکومت نے یہ تینوں کام کیے۔ کورونا وائرس کے آغاز سے ہی اسے مناسب حکمت عملی بنا لینی چاہیے تھی مگر وہ اس میں بری طرح ناکام ہوئے۔ جب تک کور کمانڈرز کانفرنس میں کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے اور حفاظتی اقدامات کے لئے بحث نہیں کی گئی، ہماری حکومت سوئی ہوئی تھی۔ مزے کی بات یہ ہے کہ وفاقی حکومت کا دعویٰ یہ ہے کہ اس نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ پر 10 جنوری سے نظر رکھی ہوئی تھی جبکہ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ انہوں نے کورونا ٹاسک فورس کے قیام کے لئے 3 جنوری کو ہی احکامات جاری کر دئیے تھے ۔۔۔ حالانکہ خود چین میں کورونا وائرس کے پہلے مریض میں موجودگی کی اطلاع 7 جنوری کو ہوئی تھی۔ عالمی منظرنامہ پر کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی خبریں بھی فروری کے پہلے عشرہ سے ہی زیادہ زور وشور سے شروع ہوئی تھیں مگر ہمارے وسیم اکرم پلس کو چین میں،اس کے پھیلاؤ سے پہلے ہی سب پتہ چل چکا تھا۔ روزنامہ ڈان اسلام آباد کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر فہد حسین لکھ چکے ہیں کہ جب کورونا وائرس کے حوالہ سے پنجاب کے وزیر اعلی عثمان بزدار کو بریفنگ دی گئی تو انہوں نے معصومانہ سوال کیا کہ “کورونا وائرس کاٹتا کیسے ہے”؟۔ اس خبر کے خلاف پنجاب حکومت نے فہد حسین کو 10 ارب ہرجانہ کا قانونی نوٹس بھجوا دیا ہے تو دوسری طرف فہد حسین نے بھی اپنی خبر پر قائم رہنے کا اعلان کر دیا ہے۔ جس قدر یہ راقم فہد حسین کو جانتا ہے، اس کے حساب سے یہ کنفرم ہے کہ فہد حسین شہرت حاصل کرنے کے لئے اس قسم کی جھوٹی خبر کبھی نہیں دے سکتے کیونکہ مشہور تو وہ پہلے ہی بہت ہیں اور میڈیا میں جتنی بڑی پوزیشنوں پر وہ کام کر چکے ہیں اور اب بھی کر رہے ہیں، اس کے بعد تو انہیں قطعا ایسی کسی جعلی خبر کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ عثمان بزدار نے جس سیکریٹری سے یہ سوال کیا، وہ ہی اس کی تردید کر دے کہ اس سے یہ سوال نہیں ہوا۔ (آخر نوکری بھی تو کرنی ہے نا)۔

کورونا وائرس پر پارلیمانی لیڈروں سے اہم ترین قومی سطح کی میٹنگ میں ایک اہم ترین لیول کی شخصیت کی گفتگو سے کچھ اقتباسات نوٹ فرمائیں۔

’’لاک ڈاؤن جو ہوتا ہے یہ بڑی سنجیدہ بات ہے۔لاک ڈاؤن کئی قسم کا ہوتا ہے۔جو لوگ لاک ڈاؤن کا مطالبہ کرتے ہیں، انہیں اس کی سنجیدگی کا علم نہیں ہے کہ اس سے کس قدر افراتفری پھیل سکتی ہے۔ لاک ڈاؤن کرفیو نہیں ہوتا۔ لاک ڈاؤن میں ٹرانسپورٹ کو نہیں روکیں گے۔ اگر ہم ٹرانسپورٹ کو روک دیں گے تو افراتفری پھیل جائے گی۔ اگر ہم لوگوں کو خوف زدہ کریں گے تو بھی افراتفری پھیل جائے گی۔ اگر لوگ خوفزدہ نہیں ہوں گے تو وہ گھروں پر نہیں بیٹھیں گے۔ اگر لوگ آئسولیشن میں نہیں جائیں گے اور گھر پر نہیں بیٹھیں گے تو بیماری پر قابو پانا ممکن نہیں ہے۔ اگر ٹرانسپورٹ چلتی رہے گی تو لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے رہیں گے اور بیماری پھیلتی رہے گی۔ لیکن اگر ہم ٹرانسپورٹ کو روکیں گے تو اس افراتفری مچ جائے گی۔ اور افراتفری پھیل گئی تو پھر لوگوں کو بچانا بہت مشکل ہو جائے گا۔ اگر ہم لاک ڈاؤن کریں گے تو دیہاڑی دار تو مر جائے گا اس کی روزی روٹی کا بندوبست کیسے ہوگا؟۔ اگر ہم لوگوں کو کھانا مہیا کریں گے تو پھر لوگ قطار در قطار کھڑے ہوجائیں گے اور بیماری پھیلے گی ۔ دراصل لاک ڈاؤن کئی قسم کا ہوتا ہے تو ابھی ہم سنجیدگی سے اس کی اقسام پر غور کر رہے ہیں ہم نے کئی کمیٹیاں بنا دی ہیں جو لاک ڈاؤن کی نئی اقسام دریافت کریں گی۔ جب ہم لاک ڈاؤن کی بابت یکسو ہو جائیں گے اور کوئی فیصلہ کر لیں گے تو پھر ہم کورونا وائرس کی بابت ایک کمیٹی بنائیں گے‘‘۔

مجال ہے جو اس لایعنی گفتگو سے کسی کے پلے کچھ پڑا ہو۔ یہ وہ گفتگو ہے جس سے کسی کو کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔

پارلیمانی پارٹی اور صحافیوں کے ساتھ جس طرح کی گفتگو وزیر اعظم اور دیگر لیڈروں نے کی ہے اور اب تک مسلسل کر رہے ہیں، اُس سے یہ خدشہ پیدا ہو چکا ہے کہ شاید وزیراعظم کو اس سنگین صورتحال کے بارے میں صحیح معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں، اور اُن کے مشیر جان بوجھ کر اُن سے حقائق چھپا رہے ہیں۔ ہماری وفاقی حکومت اور وزیر اعظم عمران خاں کو شاید علم ہی نہیں ہے کہ:۔
1. پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریض اصل میں کتنے ہیں؟۔ کیونکہ ہمارے پاس کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کو ٹیسٹ کرنے کی سہولتیں ہی مہیا نہیں ہیں۔ یہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ جیسے ترقی یافتہ اور سپر پاور ملک کے پاس بھی کورونا وائرس کے تمام متشبہ مریضوں کو ٹیسٹ کرنے کے لئے ٹیسٹ کٹس موجود نہیں ہیں۔ اسی لئے ترکی نے ہمیں نظر انداز کرتے ہوئے امریکہ کو 5 لاکھ ٹیسٹ کٹس بھجوائی ہیں۔ بظاہر تو طیب اردگام مسلم امہ کا نعرہ ہر وقت لگاتے رہتے ہیں مگر جب پاکستان، ایران اور ملائیشیا کو ان ٹیسٹ کٹس کی سب سے زیادہ ضرورت تھی تو انہوں نے یہ امریکہ بھجوا دیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ امہ وغیرہ کے نعرے صرف چورن ہوا کرتے ہیں۔ اصل معاملہ اور بات مفادات کی ہوتی ہے۔ پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی اصلی تعداد جاننے کے لئے یہ ضروری ہے کہ وزیر اعظم صاحب اپنی کورونا ٹاسک فورس سے دریافت کریں کہ انہوں نے کتنے کورونا وائرس ٹیسٹ کئے ہیں اور اُن میں کتنے مثبت آئے اور کتنے منفی۔ آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ آپ کی بنائی کورونا ٹاسک فورس مشتبہ  لوگوں کو چیک کرنے کے لئے لفظ ’’سکریننگ‘‘ استعمال کر رہی ہے جو کہ لوگوں کے جسم کا درجہ حرارت چیک کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ سکریننگ کے ذریعہ درجہ حرارت تو چیک کیا جا سکتا ہے لیکن وائرس کی متاثرہ شخص کے جسم میں موجودگی کا پتہ نہیں چلایا جا سکتا۔ اس لئے جناب وزیر اعظم صاحب آپ کا مسلسل یہ دہراتے رہنا انتہائی قبل از وقت اور بہت زیادہ تصدیق طلب ہے کہ دوسری دنیا کے مقابلہ میں ہمارے یہاں کورونا وائرس کا پھیلاؤ بہت کم ہے اور اس کا کریڈٹ آپ کی کورونا ٹاسک فورس کو جاتا ہے۔

2. مرغی کے انڈے سینے کے عمل کو جس طرح incubation پیریڈ کہا جاتا ہے، بالکل اُسی طرح میڈیکل اصطلاح میں incubation سے مراد وہ وقت ہوتا ہے جس کے دوران وائرس متاثرہ شخص کے جسم میں رہ کر اپنا حملہ کرنے کی تیاری میں مصروف ہوتا ہے اور اس دوران متاثرہ شخص کے جسم میں کسی طرح کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ اس لئے اس تمام عرصہ کے دوران متاثرہ شخص دوسروں کو وائرس پھیلانے والا کیرئیر تو بنا ہوتا ہے مگر خود اُس کے جسم میں ایسی کوئی علامات طاہر نہیں ہوتیں۔ (جناب وزیر تعلیم سندھ حکومت سعید غنی صاحب، آپ بہت حیران تھے کہ آپ کا کورونا ٹیسٹ پازیٹو آیا ہے مگر آپ کے جسم میں ایسی کوئی علامات نہیں ہیں تو امید ہے کہ آپ کو اب اس وجہ کا علم ہو گیا ہو گا)۔ بظاہر مکمل سحت یاب رہتے ہوئے اور کسی طرح کی علامات ظاہر ہوئے بغیر بھی متاثرہ شخص کے جسم میں کورونا وائرس کی موجودگی کا عرصہ 13 دنوں تک ہو سکتا ہے جس کے بعد یک دم علامات ظاہر ہوتی ہیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس سے صرف 24 گھنٹوں یعنی ایک دن کے بعد ہی مریض کی موت واقع ہو جائے۔

3. جناب وزیر اعظم صاحب، اس incubation پیریڈ کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ سوچیں کہ اب تک اگر صرف 1000 (ایک ہزار) سے کچھ زیادہ لوگوں میں کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہوئی ہیں تو دراصل پاکستان میں کتنے لوگ اس جان لیوا وائرس سے متاثر ہو چکے ہوں گے؟۔ دنیا کے دوسرے ممالک میں اس وائرس کے پھیلاؤ کے حوالہ سے ہونے والی اب تک کی تحقیقات کی روشنی میں یہ عرض ہے کہ کسی بھی طرح اس تعدداد کو آپ 20 ہزار سے کم مت سمجھیں۔ یاد رہے کہ اگر 20 ہزار لوگ اس کورونا وائرس کو جسم میں لئے گھوم رہے ہیں تو کم از کم دس لاکھ لوگ پاکستان میں چلتے پھرتے کورونا وائرس خودکش بمبار بن چکے ہوں گے.

4. ہماری وفاقی حکومت اور وزیر اعظم کو یہ سمجھنا ہو گا کہ اب ہمارے پاس وقت گزر چکا ہے۔ معاملہ اب لاک داؤن کا نہیں بلکہ کرفیو لگانے کی حدود تک پہنچ چکا ہے۔ اگر ہم اُس وقت کا انتظار کرتے رہیں کہ کب لوگوں میں علامات طاہر ہوں اور پھر ہم کرفیو لگائیں، تو یاد رہے کہ اُس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہو گی۔

5. وفاقی حکومت اور وزیر اعظم اگر یہ سمجھ رہے ہیں کہ مکمل لاک ڈاؤن یا کرفیو لگانے سے لوگ بھوک اور خوراک کے نہ ہونے سے مر جائیں گے، تو وہ ٹھیک سوچ رہے ہیں مگر انہیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ اس وقت ایک خوفناک جنگ جاری ہے جس میں اگر لوگ باہر نکلیں گے تو مارے جائیں گے اور اگر گھر میں رہیں گے تو ہمارے سوشل سیٹ اپ کی وجہ سے متمول افراد اور چیریٹی تنظیمیں ضرورت مندوں کو خوراک اور زندگی کی لازمی اشیاء پہنچانے کی کسی قدر کوششیں کریں گی۔ اگر ہم خوراک کے نہ پہنچ سکنے اور افراتفری پھیلنے کے خوف میں اصلی والا لاک داؤن کرنے سے گریز کرتے رہیں گے تو یاد رہے کہ 14 دنوں بعد جب کورونا وائرس سے متاثرہ مکمل مریضوں میں علامات ظاہر ہوں گی تو لاکھوں لوگ بیک وقت ہسپتالوں کا رخ کریں گے اور ہمارے پاس ہر گز اتنی سہولتیں اور وسائل نہیں ہیں کہ ہم اس یلغار کو ہینڈل کر سکیں جبکہ اُن کے علاج کے لئے ہمیں انہیں مکمل تنہائی میں بھی رکھنا ہو اور دوسروں کو اُن سے بچانا بھی ہو۔

6. یہ بہت بڑی غلط فہمی اور دھوکہ ہے جو ہمارے غبی اور عقل سے محروم ماہرین وزیر اعظم صاحب کو دے رہے ہیں کہ پاکستان کی زیادہ آبادی نوجوانوں اور جوانوں پر مشتمل ہے جن کے جسم میں وائرس اور جراثیم سے مقابلے کا مدافعاتی نظام مضبوط ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں ہم اپنی نئی نسل کو سب سے بری خوراک اور مضر اشیاء کھلانے میں سرفہرست ممالک میں شامل ہیں۔ تحریک انصاف تو ماضی میں یہ مسلسل دہراتی رہی ہے کہ پاکستان کے بچے اور عورتیں کم خوراکی اور ناقص خوراکی کا شکار ہیں۔ اس ضمن میں آپ کے ماہرین کتنے زیادہ ڈیٹا بھی فراہم کرتے رہے ہیں۔ یہ واضح ہے کہ جراثیموں اور وائرس کا مقابلہ کرنے کے لئے مضبوط مدافعاتی نظام اُس وقت حاصل ہوتا ہے جب ہم اچھی اور صحت بخش غذا کھائیں، ورزش اور سیر کو اپنا معمول بنائیں۔ بدقسمتی سے بحیثیت قوم ہم مجموعی طور پر ان دونوں سے محروم ہیں۔ اس لئے کورونا وائرس سے ہونے والی ممکنہ ہلاکت خیزیوں کا چین اور یورپ سے مقابلہ مت کیجیے۔ اگر وہاں کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کا تناسب تین سے چار فی صد تک رہا ہے تو ہمارے یہاں یہ کسی بھی طرح 10% سے کم نہیں ہو گا۔

7. کورونا وائرس سے لڑنے کے لئے سب سے ضروری ہے کہ ہم اپنے میڈیکل اور پیرا میڈیکل سٹاف کو محفوظ کریں۔ جب سے کورونا وائرس کی شروعات ہوئی ہے، تب سے ڈاکٹرز اور طبی عملہ مسلسل حکومت کو خبردار کر رہا ہے کہ اس وباء سے نمٹنے کے لئے انہیں پرسنل پروٹیکشن ایکویپمنٹ (Personal Protection Equipment) فراہم کئے جائیں۔ مگر ہماری صورتحال یہ ہے کہ جیسے جیسے کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ویسے ویسے ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکس سمیت سرکاری ہسپتالوں میں کام کرنے والے ملازمین کی بے چینی اور اضطراب میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کی بنیادی وجہ حکومتی بے حسی اور نا اہلی ہے۔ حکومت تاحال کرونا کا مقابلہ کرنے والے ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرامیڈیکس کو حفاظتی سامان فراہم کرنے میں ناکام ہے جس کی وجہ سے ان کا کرونا سے متاثر ہونے کا شدید خطرہ موجود ہے۔

بدقسمتی سے اب تک ہسپتالوں کی نجکاری کرنے میں پیش پیش وزیر اعظم عمران خاں کے فرسٹ کزن نوشیروان برکی اور شوکت خانم ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر فیصل سلطان جیسے افراد اس بحران میں غائب ہیں۔ کسی ہسپتال میں نئے وینٹی لیٹر اب تک فراہم نہیں کیے گئے۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ بلا تاخیر پورے پاکستان میں تمام ہیلتھ ملازمین کو حفاظتی سامان فراہم کیا جائے تاکہ وہ پوری توجہ اور ذمہ داری کے ساتھ مریضوں کا علاج کرسکیں۔ فوری طور پر نئے وینٹی لیٹر خریدے جائیں۔ عالمی ادارہ صحت کی ہدایات کے مطابق بڑے ہوٹلوں، خالی پڑے عالیشان بنگلوں، ہاسٹلوں اور دیگر جگہوں کو ریاستی تحویل میں لیتے ہوئے قرنطینہ مراکز بنائے جائیں۔ عملے کی کمی پوری کرنے کے لیے فوری نئے ڈاکٹر، نرسیں اور پیرامیڈیکس بھرتی کیے جائیں۔ کرونا کو پھیلنے سے روکنے کے لئے فوری طور پر بڑے پیمانے پر مفت ٹیسٹنگ شروع کی جائے اور اس استعداد کار کو کم ازکم 20ہزار ٹیسٹ فی دن تک بڑھایا جائے۔ استعداد کار بڑھانے کے لئے نجی ہسپتالوں اور لیبارٹریوں کو پابند کیا جائے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر کتنے مریضوں کے مفت ٹیسٹ انجام دیں گے۔ مجال ہے جو حکومت نے ان پہلوؤں میں سے کسی پر بھی سنجیدگی سے عمل کیا ہو۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ راقم کیوں بار بار اپنے دوستوں اور عزیزوں اور اپنے پڑھنے والوں سے کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنے بل بوتے پر تیار ہونے کی درخواستیں کر رہا ہے؟۔ جواب یہ ہے کہ کورونا وائرس کے پاکستان میں اب تک ہونے والے پھیلاؤ میں عمران خان اور اُن کی حکومت کی متذبذب پالیسی ایک اہم عنصر ہے۔ حکومت ایک ہی وقت میں سرد اور گرم دو طرح کی پھونکیں مارتے ہیں۔ کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے سندھ حکومت کی واضح ترین پالیسی سے پورے ملک میں شعور بیدار ہوا اور کورونا کے کیریئرز کی شناخت اور ان تک انتظامی اداروں کی رسائی ممکن ہوسکی۔ اس لئے گزشتہ 3 روز سے کورونا کے پھیلاؤ میں جو عمودی ابھار آیا تھا، وہ بظاہر قابو میں نظر آرہا ہے۔ اب حکومتی وزراء اور اُن کے غبی حامیان اچھلتے پھر رہے ہیں کہ کورونا وائرس کنٹرول ہو رہا ہے۔ مگر سچائی یہ ہے کہ اگر سندھ حکومت نہ ہوتی اور پورے پاکستان میں پی ٹی آئی کے مجہولوں جیسی حکومت ہوتی تو کورونا کیسی تباہی مچا چکا ہوتا، اس کے تصور سے بھی جھرجھری آ جاتی ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ حقیقی سیاستدان ہی اس طرح کے مسائل کے ادراک اور اُن پر قابو پانے کے لئے واضح ترین حتمی پالیسی مرتب کرسکتا ہے جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ ملک بھر میں کورونا وائرس کو روکنے کے لئے سندھ حکومت کے علاوہ کسی بھی حکومتی ادارہ نے اس قدر واضح حکمت عملی اور پالیسی مرتب نہیں کی۔ سندھ حکومت کے ترجمان صحافیوں کی جانب سے کیے جانے والے ہر سوال کا واضح اور حتمی جواب دیتے ہیں اور کورونا وائرس کنٹرول پر مؤثر پرفارمنس دکھا رہے ہیں۔ کاش جس روز پہلی بار بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم سے متفقہ حکمت عملی اختیار کرنے کا مطالبہ کیا تھا تو اُسی دن اس مطالبہ کو حیثیت دی جاتی اور وزیراعظم کے گردونواح کے لوگ کچھ اچھا کرنے کا موقع حاصل کر پاتے۔