یاریاں سلامت، یار باقی ۔۔۔۔ انعام رانا

راو شمشیر بچپن کا یار ہے۔ گو عمر ٹین ایج میں تھی مگر پھر بھی یار بچپن کا ہی گنتا ہوں کہ وہ بھی کچھ اور دوستوں کی مانند اس عمر میں دوست بنا جب دوستی فقط دل دیکھ کر ہوتی ہے، جیب یا مفاد دیکھ کر نہیں۔ شمشیر دبئی میں رہتا ہے، حالات کی بھٹی سے گزر کر ایک بڑی سی کمپنی کا سی ای او ہے۔ یہ جو اکثر آپ مجھے “دان پن” کرتے دیکھتے ہیں، اسکے پیچھے دراصل وہی ہوتا ہے۔ میں تو بس گلوگیر سی آواز میں کہتا ہوں کہ یار فلاں کام کرنا چاہیے، اور وہ کر دیتا ہے۔ خیر یہ تو ہم بہت آگے آ گئے،زرا پیچھے چلتے ہیں۔

کینٹ کی رانا اکیڈمی تھی جہاں لالہ اور میں انگریزی پڑھنے جاتے تھے،وہیں اک دن معدوم ہونے کی حد تک پتلے دو عدد “منڈے” اکیڈمی میں آئے۔ ایک شمشیر اور ایک دینار چوہدری۔ پہلے ہی دن سے ہمارا ایک ٹولہ بن گیا۔ شمشیر کی راجپوتی مان نہیں تھی اور چوہدری کے مطابق دنیا کی ہر ذات نکلی ہی گجر قوم سے تھی۔ انکی نوک جھونک میں سب سے مزیدار لمحہ وہ ہوتا تھا جب دینار چوہدری انتہائی معصومیت سے مجھے پوچھتا تھا کہ “رانے تو ایمانداری سے بتا راجپوت گجر سے بہتر قوم ہے؟” دینار کے والد صوبیدار میجر تھے اور انکے پاس رہ کر ہی پڑھ رہا تھا اور فوج کا راشن کھا کر بھی نازکی ایسی تھی کہ چھڑی اٹھاتے کلائی لچک جائے۔ شمشیر کے کپڑے وہ ہر اچھے ایونٹ پر مانگ لیتا تھا۔ ایک دن شمشیر کے کسی رشتہ دار نے انتہائی مہنگا کوٹ تحفہ دیا جسے پہلے ہی دن چوہدری کسی میس فنکشن کیلئیے مانگ لے گیا۔ اب بقول شمشیر جب دو دن بعد وہ کوٹ لینے میس پہنچا تو چوہدری شلوار کے ساتھ فقط بنیان کے اوپر وہ کوٹ پہنے،منہ میں برش دبائے ٹوائلٹ کی جانب رواں دواں تھا۔ چوہدری اکثر اس بات پہ حیرت کا اظہار کرتا تھا کہ اس دن شمشیر نے اسکو ماں بہن کی گالیاں کیوں دیں جب کہ اس نے تو کچھ کہا بھی نہیں تھا۔

رانا اکیڈمی کے مردانہ صحرا میں نخلستان بھی تھا جسکے پھول اودے اودے پیلے پیلے پیراہن پہنے ہم سے اگلے بینچز پہ براجمان ہوتے تھے۔ سلسلہ شروع کس نے کیا یاد نہیں پڑتا مگر اتنا معلوم ہے کہ کچھ ہی ہفتوں پر سات لڑکوں اور سات لڑکیوں کا ایک ٹرپ ٹیوٹا ہائی ایس کرا کے جلو میں پکنک منا رہا تھا۔ ان میں سے ہر لڑکی دوسرے لڑکے کی “بھابی” تھی اور یہ سب بھابھیاں مجھ سے تنگ تھیں کیونکہ میں پنجابی فوک گیتوں والا روایتی دیور تھا۔ سنا ہے آج بھی میرا نام سنیں تو ہنستے ہوے گالیاں دیتی ہیں۔ خیر، الحمداللہ ہر جوڑا ایسے ہی خوش تھا جیسے پنجرے سے نکلے ہرن قلانچیں بھرتے ہیں۔ اگلا ایک سال اس گروپ نے اکیڈمی میں وہ ادھم مچایا کہ ہمارے سر وہاب کو بلڈ پریشر ہو گیا۔ اور جلو پارک کے تو درختوں پر پرندے بیٹھنا بند ہو گئے کہ کہیں انکی آمد سے ہم ڈسٹرب ہی نا ہو جائیں۔ فلم اتنی سموتھ چل رہی تھی کہ بور ہو جاتی مگر اک ٹوئسٹ آ گیا۔

لیجئیے یاد آیا کہ یہ سب سلسلہ اسی خاتون کے چکر میں شروع ہوا تھا جو “بسلسلہ دینار چوہدری “ ہماری بھابھی تھیں۔ دینار کو اس سے شدت کا عشق ہوا اور بطور “بھائی” ہماری ذمہ داری ٹھہری کہ دلال بنیں۔ بقول چوہدری اچھا دوست فطری دلال ہوتا ہے وگرنہ دوست ہی نہیں ہوتا۔ چنانچہ اس خاتون کو نجانے کس نے،شاید میں نے ہی باجی کہنا شروع کیا۔ اس کے بعد اسے بتایا کہ کیسے چوہدری،جو گجروں کی مٹتی ہوئی شان کا متوقع نجات دہندہ اور مستقبل کا سر ظفر اللہ خان ہے اس کے چکر میں ضائع ہونے لگا ہے۔ “بھابھی” نے بتایا کہ وہ سید ہے اور کسی  امتی کے بارے میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتی۔ جس پر میں نے اسے سمجھایا اور اخیر منوایا کہ یہ ذات پات سب بکواس ہے، سب یہیں رہ جائے گا جب لاد چلے گا بنجارا۔ خیر میری کئی دن کی محنت کے نتیجے میں اس نے چوہدری کو موقع دینے کی حامی بھری۔ لیجئیے پھر “بھابھی” کی سب سہیلیاں بھی کسی نا کسی کی بھابھی بن ہی گئیں۔ ایسا کمال گروپ تھا جس میں ہر مسلک ہر ذات کا کڑی منڈا بس دوست تھا۔ خیر ٹوسئٹ تب آیا جب اچانک ایک دن “دینار والی بھابھی” نے دینار کو فارغ کروا دیا۔ حسب توقع اس “بریک اپ” کو روکنے مجھے ہی جانا تھا۔ خادم نے زندگی میں پہلی بار “طوطے اڑنے” کا محاورہ سمجھا جب بھابی نے بتایا کہ دینار انکو کبھی بھی پسند نہیں تھا بلکہ وہ تو مجھ سے محبت کرتی ہیں۔ خیر انکو کئی نفسیاتی گرہیں سمجھانے کے بعد اس بات پر منانے کی ناکام کوشش کی کہ دراصل یہ فقط انسیت ہے جو زیادہ قربت کی وجہ سے ہوتی ہے اور اتہاس کے پنوں پہ انکا پیار چوہدری ہی لکھا رہے گا۔

اس سب کے بعد میں پہنچا شمشیر کے گھر اور میرا پیلا چہرہ دیکھ کر اس نے پوچھا کہ کیا دینار نے خودکشی کر لی؟ چوہدری جتنا جذباتی اور بریک اپ سے جتنا آزردہ تھا،امکان یہی تھا سو شمشیر کا خدشہ بھی بجا تھا۔ مگر جب اسے اصل بات بتائی تو اسکا رنگ مجھ سے بھی زیادہ پیلا تھا۔ اگلے دو ہفتے ہم چوہدری سے گالیاں سنتے رہے کہ اتنی کوشش کے باوجود ہم “اپنی بھابھی” کو ابھی تک نہیں منا سکے۔ شکر خدا کا کہ بھابھی نے اکیڈمی چھوڑ دی اور چوہدری کو بھی ہماری “کونسلنگ” نے “صحت یاب” کر لیا۔ وقت گزرتا چلا گیا اور گروپ میں سے کئی لوگ بچھڑ گئے، ایسے کہ بس حال حوال پتہ چلتا رہتا تھا۔ جیسے کہ چوہدری گجرات کا نامور وکیل تھا، لالہ بہترین رن مرید تھا یا “بھابیاں” اب سب شادی شدہ اور خوشل منگل تھیں۔

پچھلے دنوں شمشیر کی کال آئی کہ یار کام کر کر کے ڈپریس ہو گیا ہوں، کل لندن آ رہا ہوں۔ چنانچہ اگلے کئی دن ہم بقول شخصے لندن کو “لال رنگ کرتے رہے”۔ آوارہ گردیاں، پرانے قصے، تو تڑاخ بلاوجہ کے قہقہے۔ شمشیر کی عادت ہے کہ ہر پرانے دوست کا اتہ پتہ رکھتا ہے سو اس سے کئی کے بارے میں پوچھتا رہا۔ اچانک چوہدری کی بات چل پڑی تو میں نے کہا یار دینہ بالکل ہی کمینہ ہے، بھول ہی گیا۔ شمشیر بولا کئی سال قبل بات ہوئی تھی جب الیکشن پہ اسے عمران کو ووٹ ڈالنے پہ منایا تھا۔ دو بچے تھے پتہ نہیں اب کتنے ہیں، لے ابھی اسکی کلاس لگاتے۔ پرانی محبت جاگی اور شمشیر نے اسکو فون ملا لیا۔ ھیلو بولتے ہی شمشیر نے ہر وہ گالی نکالنی شروع کر دی جو چوہدری کو فقط شمشیر ہی نکال سکتا تھا۔ اچانک سوال پوچھا گیا کہ سوری بھائی آپ کون؟ شمشیر نے چونکتے ہوے کہا جی یہ دینار چوہدری کا نمبر ہے؟ جی بھائی انکا ہی ہے مگر انکی پچھلے سال ڈیتھ ہو گئی۔ ایک دوسرے کو حیرانگی سے گھورتے ہوے ہم دونوں کے منہ سے نکلا کہ کیا ہوا؟ “بھائی بس گھریلو پریشانیاں تھیں، خودکشی کر لی”۔
میں آجکل اپنے ہر اس دوست کو باقاعدہ فون کرنے کی کوشش کرتا ہوں جسکو میرے سوا کوئی گالیاں نا دیتا ہو یا جسکی گالیاں میں سن سکوں۔

Avatar
انعام رانا
انعام رانا کو خواب دیکھنے کی عادت اور مکالمہ انعام کے خواب کی تعبیر ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”یاریاں سلامت، یار باقی ۔۔۔۔ انعام رانا

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *